قانونِ توہینِ رسالت ﷺ پر چند علمی اعتراضات -2

عبداللہ ابن ابی کی شانِ رسالت میں گستاخی پر سزا کا نہ دیا جانا
عبداللہ ابن ابی نے رسول اللہ ﷺ کی شان میں انتہائی گستاخی کی۔ اس گستاخی پر نہ رسول اللہ ﷺ نے اسکے قتل کا حُکم دیا اور نہ ہی وہاں پر موجود مسلمانوں نے اسے قتل کیا۔ اور اللہ نے بھی اسکے قتل کا حُکم نہیں دیا اور آیت تو
نازل ہوئی مگر وہ اسے قتل کرنے کی نہیں تھی بلکہ یہ تھی کہ اگر مسلمانوں کے دو گروہ آپس میں لڑ پڑیں تو ان میں صلح کروا دو۔(صحیح بخاری، کتاب الصلح)
ہم سے مسدد نے بیان کیا کہا ہم سے معتمر بن سلیمان نے بیان کیا کہا میں نے اپنے باپ سے سنا کہ انسؓ نے کہا لوگوں نے نبی ﷺ کو رائے دی اگر آپ عبداللہ بن ابی کے پاس تشریف لے چلیں تو بہتر ہے یہ سن کر آپؐ ایک گدھے پر سوار ہو کر اس کے پاس گئے مسلمان آپؐ کے ساتھ چلے وہاں کی زمین کھاری تھی جب آپ اس (عبداللہ ابن ابی) کے پاس پہنچے تو وہ رسول ﷺ کو کہنے لگا کہ چلو پرے ہٹو تمہارے گدھے کی بد بو نے میرا دماغ پریشان کر دیا ہے۔ یہ سن کر ایک انصاری (عبداللہ بن رواحہ) بولے خدا کی قسم رسول اللہ ﷺ کا گدھا تجھ سے زیادہ خوشبودار ہے اس پر عبداللہ کی قوم کا ایک شخص (صحابی) غصے ہوا۔ دونوں میں گالی گلوچ ہوئی اور دونوں طرف
کے لوگوں کو غصہ آیا اور وہ چھڑیوں ، ہاتھوں اور جوتوں سے آپس میں لڑ پڑے۔ انسؓ نے کہا ہم کو یہ بات پہنچی کہ (سورت حجرات کی آیت
وَ اِن طَائِفَتَانِ ِمنَ المُؤمِنِینَ اقتَتَلُوافَاصلحُوا بَینھمَا(مسلمانوں کے دو گروہ لڑ پڑیں تو ان میں صلح کروا دو) اسی بات میں اتری۔ ۔عبداللہ ابن ابی نے رسول اللہ ﷺ کی شانِ اقدس میں براہ راست یہ گستاخی کی، مگر رسول اللہ ﷺ نے پھر بھی صبر و ضبط کا مظاہرہ کیا اور فوراً ہی اسکے قتل کے در پے نہیں ہو گئے اور اگرچہ کہ دو مسلمان گروہوں میں ابتدائی طور پر جھگڑا ہوا، مگر رسول اللہ ﷺ کی اس صبر و تحمل کی وجہ سے یہ جھگڑا ختم ہو گیا۔
Advertisements
3 comments
  1. Most of the Islamic laws were imposed gradually e.g. Offereing of 5 times Salat, Rooza, Hajj, Prohibition of Interest, Prohibition of Alcohol, Sacrifice of animals on Eid etc. At the time of Fatah e Makkah when Islam became dominent religion of whole Arab the Law of Blasphamy was imposed. We can not take inference of an incident happened before Fatah e Makkah.

  2. سہل بن عمرو ، عکرمہ بن ابوجھل اور عبد اللہ ابن ابی ابن سلول نے بھی آپ صل اللہ علیہ و علی اٰلہ و صحبہ و سلم کی شان میں گستاخیاں کی تھی لیکن انکو کچھ نہیں کہا گیا ۔بلکہ عبد اللہ ابن ابی ابن سلول کا جنازہ بھی حضور نے بذات خود پڑھایا، تو انکو کیوں قتل نہیں کیا گیا؟

    جواب:

    اس اعتراض کا جواب دینے سے پہلے ایک مشہور قاعدہ بیان کرتا ہوں اور وہ یہ ہے کہ ایک آدمی نے کسی دوسرے آدمی کو بے گناہ قتل کردیا۔ اب قاتل کیلئے سزائے موت ہے، اور اسکا خون مباح ہے۔ قتل ثابت ہونے پر اسکو ضرور قتل کیا جائے گا۔ لیکن مقتول کےوارث کے پاس یہ حق ہے کہ وہ اس قاتل کو معاف کردے ،

    اور مقتول کے وارث کے معاف کرنے کے بعد اس قاتل کو سزائے موت دینا جائز نہیں ہے۔ لیکن یہ حق صرف مقتول کے وارث کے پاس ہے ، کسی اور کے پاس نہیں۔لھذا اگر مقتول کے وارث موجود نہ ہوں تو کوئی دوسرا آدمی اس قاتل کے سزاے موت کو نہیں بدل سکتا۔

    بالکل ایسے ہی چونکہ شاتم رسول نے نبی کی توہین کی ہوتی ہے تو یہ گستاخ سزاے موت کا حقدار بن گیا ہے۔لیکن اگر نبی کسی حکمت کے سبب اس گستاخ کی اس گستاخی کو معاف کردے تو ظاہر ہے کہ اس شاتم رسول کو سزاے موت نہیں ہوگی۔

    اور جس طرح صرف مقتول کے وارث کے پاس قاتل کو معاف کرنے کا حق ہوتا ہے۔بالکل ایسے ہی گستاخ رسول کو معافی کا حق صرف رسول کو ہی ہوتا ہے۔نبی کے علاوہ کسی کو بھی یہ حق حاصل نہیں کہ وہ اہانت رسول کے مرتکب شخص کو معاف کردے۔

    ظاہر ہے نبی کی عزت کو اس نے مجروح کیا ہوتا ہے تو معافی کا اختیار بھی صرف نبی کوحاصل ہوگا۔

    اور یہی امت مسلمہ کا معمول ہے کہ نبی پاک صل اللہ علیہ و علی اٰلہ و صحبہ و سلم کے وفات کے بعد صحابہ کرام رضی اللہ تعالیٰ عنھم سے لے کر آج کے دور تک امت کا اس مسئلے پر اجماع ہے کہ گستاخ رسول کو سزاے موت دی جاے گی۔ اور اسی قاعدے کی بنیاد پر ان علماء کا فیصلہ ہے جو کہ گستاخ رسول کی سزاے موت کو توبہ کے بعد بھی بحال رکھتے ہیں۔

    نیز نبی پاک صل اللہ علیہ و علی اٰلہ و صحبہ و سلم صاحب شریعت تھے اور صاحب حکمت تھے۔ انکو معلوم تھا کہ کس کے قتل کرنے میں حکمت ہے اور کس کے قتل نہ کرنے میں۔ لھذا ابن خطل اور اور حویرث کے سزاے موت کو نبی صل اللہ علیہ و علی اٰلہ و صحبہ و سلم نے بحال رکھااور سہل بن عمرو اور عکرمہ بن ابی جھل کو معاف کیا۔اور بعد میں یہ دونوں سچے دل سے اسلام لائے تھے۔

    رہا یہ سوال کہ عبد اللہ ابن ابی ابن سلول کا جنازہ نبی صل اللہ علیہ و علی اٰلہ و صحبہ و سلم نے خود پڑھایا تھا ، تو یہ بات درست ہے اور عبد اللہ ابن ابی ابن سلول کی منافقت کا علم نبی صل اللہ علیہ و علی اٰلہ و صحبہ و سلم کو بھی ہوا تھا۔لیکن عبد اللہ ابن ابی ابن سلول مدینہ میں ایک قبیلہ کا سردار تھا اور مدینہ میں اگر نبی صل اللہ علیہ و علی اٰلہ و صحبہ و سلم تشریف نہ لاتے تو اسکی سرداری یقینی تھی۔لیکن نبی پاک صل اللہ علیہ و علی اٰلہ و صحبہ و سلم کی تشریف آوری سے اسکو سرداری نہ مل سکی، اور حضور صل اللہ علیہ و علی اٰلہ و صحبہ و سلم اس کوشش میں ہوتے تھے کہ کسی طرح عبد اللہ ابن ابی ابن سلول سچے دل سے مسلمان ہوجاے، اور منافقت کی چادر اتار پھینکے۔

    اور اسکی گستاخیوں کو بھی صرف اسلئے معاف کیا کہ معافی کا اختیار نبی صل اللہ علیہ و علی اٰلہ و صحبہ و سلم کو حاصل تھا۔

    نیز حضور صل اللہ علیہ و علی اٰلہ و صحبہ و سلم امت پر مہربان تھے اور چاہتے تھے کہ یہ لوگ جہنم کی آگ سے بچ جائیں ،لھذا اسی لئےنبی پاک صل اللہ علیہ و علی اٰلہ و صحبہ و سلم نے عبد اللہ ابن ابی ابن سلول کا جنازہ پڑھا۔

    لیکن اس واقعے کے بعد اللہ تعالیٰ نے حضور صل اللہ علیہ و علی اٰلہ و صحبہ و سلم کو منافقین کے جنازے پڑھنے سے منع کردیا۔اور یہ حکم نازل ہوا کہ نہ تو ان منافقین کیلئے مغفرت کی دعاء کی جاے اور نہ ہی انکا جنازہ پڑھا جاے۔اور یہ حکم آج تک قائم ودائم ہے۔

    • بھائی خراسانی
      تحریر کہ عنوان کو ہی سب کچھ نہ سمجھئے
      اعتراض تو وہ کرتے ہیں کہ جو اتنا ہی جانتے ہیں
      ابھی آپ نے اعتراضات پڑھے ہیںجو اکثر غیر مسلموں ، ملحدوں اور بے وقوفون کی جانب سے کئے جاتے ہیں
      ان کے اعتراضات کی چند مثالیں دی جا رہی ہیں
      پھر ان کا جواب
      اور پھر اعماء کرام کی دلیلیں بھی دی جائیں گی
      حوصلہ رکھیے

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: