محدثِ کبیر:سیّدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ

حدیث اور محدثین کی تاریخ اتنی ہی پرانی ہے جتنی بعثت انبیاء علیہم السلام کی تاریخ َ۔امم سابقہ کو انبیا ء علیہم السلام کے ذریعے سے آسمانی کتب ملتی رہیں اور اس امت کو بھی نبی کریم ﷺ کے واسطہ سے قرآن ملا ۔قرآن وحدیث جمع ہوئے تو تعلیمات اسلامی کا آغاز ہوگیا۔
رسول کریم ﷺ پر وحی اول   اِقْرَأْ بِاسْمِ رَبِّكَ الَّذِي خَلَقَ   ۔سورۃ علق آیت ۱۔
غارِحراء میں آئی تو آپ نے اس کی خبر ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا کو دی ۔ ام المومنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ عنہا نے نبی کریم ﷺ کی اس خبر وحدیث کو ورقہ بن نوفل کے سامنے بیان کیا تو یہیں سے امت محمدیہ میں حدیث اور محدثین کا آغاز ہوا۔امام محمد بن اسماعیل البخاری رحمہ اللہ نے صحیح بخاری کا آغاز اسی باب  کیف کان بدء الوحی الیٰ رسول اللہ سے کیا کہ حضوراقدس ﷺ پر وحی کا آغاز کیسے ہوا؟
یہ وحی کا پہلا دن تھا اور یہیں سے حدیث اور محدثین کا بھی آغاز ہوا ۔یہ بات بالکل صحیح اور تاریخی ہے کہ حدیث ومحدثین اور بعثت نبوی ﷺ کی تاریخ ایک ہے۔
آنحضرت ﷺ نے اپنے آخری خطبہ میں روایت حدیث کی تاکید  فیبلغ الشاہد الغائب کے الفاظ سےفرمائی۔ حضرات صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم نے جو رسول عربی ﷺ کے ایک ایک حکم پر اپنی جانوں کے نذرانے پیش کردیتے تھے ،فرمان نبوی ﷺ کو سنتے ہی پوری محنت، خلوص، شوق محبت اور انتہائی احتیاط کے ساتھ اس علمِ نبوی کو دوسروں تک پہنچانا شروع کردیا۔ان پاکیزہ شخصیات اور محتاط محدثین میں سے ایک شخصیت صاحب السواک والنعلین ، خادم رسول ،فقیہ الامت ، قاری و مفسر قرآن محدث کبیر امام ربانی سیدنا عبداللہ بن مسعود الہذلی المکی، المہاجری، البدری،الکوفی رضی اللہ عنہ کی ہے جن کا تذکرہ پیش خدمت ہے۔
نام و نسب
نام عبداللہ ،کنیت ابوعبدالرحمن اور قبیلہ ہذیل سے تعلق رکھتے تھے۔ پورا نسب یوں ہے عبداللہ بن مسعود بن غافل بن حبیب بن شمع بن فار ابن مخزوم بن صاہلہ بن کاہل بن الحارث بن تمیم بن سعد بن ہذیل بن مدرکہ بن الیاس بن مضر بن نزار ابو عبدالرحمٰن الہذلی۔
(اسد الغابہ لابن الاثیر الجزری ج۳ ص ۱۶۷،الاصابہ لابن حجر عسقلانی ج۲ ص ۱۱۲۲،سیر اعلام النبلاء للذہبی ج۳ ص ۲۰۴۔)
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ قدیم الاسلام صحابی ہیں۔بعض روایات کے مطابق چھٹے فرد ہیں جو حلقہ اسلام میں داخل ہوئے ۔(اسد الغابہ ج۳ ص ۱۶۷،الاصابہ ج۲ ص۱۱۲۳،سیر اعلام النبلاء ج۳ ص۲۰۶)ایک اور روایت کے مطابق آپ نے حضور ﷺ کے دار ارقم میں داخل ہونے سے پہلے اسلام قبول کرلیا تھا ۔ (سیر اعلام النبلاء للذہبی ج۳ ص ۲۰۷)
اسلام لانے کا سبب
امام ابن العماد الحنبلی ابن الاثیری جزری رحمہ اللہ اور دیگر حضرات نے آپ کے اسلام لانے کا سبب یہ بیان کیاہے کہ آپ عقبہ بن معیط کی بکریاں چرایاں کرتے تھے۔ ایک دن آنحضرت ﷺ اور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ان کے پاس آئے۔ آپ بکریاں چرارہےتھے۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا  اے غلام! کیا تمہارے پاس دودھ والی بکری ہے؟ عرض کیا   جی ہاں، لیکن مجھے اجازت نہیں ۔یہ بکریاں امانت ہیں۔  آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ کوئی ایسی بکری لے آؤ جو دودھ نہ دیتی ہو۔ چنانچہ حضرت عبداللہ بن مسعود ایسی بکری لے کر حاضر خدمت ہوئے۔ آپ ﷺ نے اس کے شیردان پہ ہاتھ پھیرا اور دعا کی تو دودھ اتر آیا۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک پتھر لائے، اس میں دودھ نکالا گیا۔ آپ ﷺ نے حضرت ابوبکر کو دودھ پینے کا فرمایا، پھر خود پیا اورعبد اللہ بن مسعود کو بھی پلایا۔ عبداللہ بن مسعود آپ کا یہ معجزہ دیکھ کر بول پڑے کہ مجھے بھی یہ بات یا اس قرآن سے سکھا دیجئے۔تو آپ ﷺ نے ان کے سر کو مسلا اور فرمایا   انک غلام معلم ۔تو ایسا نوجوان ہے جو سیکھنے کے لائق ہے ۔۔قبول اسلام کے بعد حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے کلام اللہ اور کلام رسول اللہ کو ایسا سیکھا کہ امت کے امام بن گئے۔
خود فرماتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم ﷺ سے ستر سورتیں سیکھی ہیں رسول اللہ ﷺ کے بعد بلند آواز سے قرآن مجید پڑھنے والے سب سے پہلے شخص سیدنا عبداللہ بن مسعود ہیں۔(اسد الغابہ ج۳ ص ۱۶۷،سیر اعلام النبلاء ج۳ ص ۲۰۸)
حلیہ مبارک
حضرت عبداللہ بن مسعود چھوٹے قد ،گندمی رنگ،باریک پنڈلیوں ،کمزور اور لطیف جسم والے لیکن علم کے کوہ گراں تھے۔ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت عبداللہ بن مسعود کو پھل لانے کے لئے درخت پر چڑھنے کا حکم دیا ۔حضرت عبداللہ بن مسعود درخت پر چڑھے ۔صحابہ کرام ان کی پنڈلیاں دیکھ کرہنس پڑے ۔تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا   عبداللہ کی ٹانگ قیامت کے دن میزان میں احد پہاڑ سے زیادہ وزنی ہوں گی
(مجمع الزوائد ج۹ ص ۷۳ حدیث ۱۵۵۶۱کتاب المناقب)
حضرت عبداللہ بن مسعود رسول اللہ ﷺ کی نظر میں
نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ وما حدثکم ابن مسعود فصدقوہ عبداللہ بن مسعود تمھیں جو بیان کریں اس کی تصدیق کرو (جامع الترمذی ج۲ ص۲۲۰ مناقب عمار بن یاسر)
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا تمسکوا بعھد ابن مسعودکہ عبداللہ بن مسعود کے پختہ عزم کو تھام لو (جامع الترمذی ج ۲ ص ۷۰۱مناقب عبداللہ بن مسعود)
حضرت عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نےفرمایا اقرؤا القرآن من اربعۃ نفر من ابن ام عبد فبدأ بہ کہ قرآن چار آدمیوں سے پڑھو ،ان چار میں سےپہلا نام حضرت عبداللہ بن مسعود کا لیا  (صحیح مسلم ج۲ ص ۲۹۳،جامع الترمذی ج۲ ص ۷۰۱)
حضرت عمار بن یاسر سے روایت ہےکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا
 من احب ان یقرأ القراٰن غضا کما انزل فلیقرء علی قراء ۃ ابن ام عبدکہ جس شخص کو پسند ہو کہ وہ قرآن اس لہجے میں پڑھے جس لہجے میں نازل ہوا تو وہ عبداللہ بن مسعود کی قرأت کے مطابق پڑھے۔(مجمع الزوائد ج۹ ص ۴۷۱ حدیث ۱۵۵۵۶،مستدرک حاکم ج۴ص۳۷۹حدیث ۵۴۴۱)
حضرت علی المرتضیٰ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایالوکنت مؤمرا احدا من غیرمشورۃ لامرت ابن ام عبد اگر میں کسی کو بغیر مشورہ کے امیر بناتا تو عبداللہ بن مسعود کو بناتا(جامع الترمذی ج۲ ص۷۰۱)
Advertisements
4 comments
  1. ہم جیسے جاہلوں کے لئے بہت قیمتی معلومات آپ کا یہ بلاگ فراہم کر رہا ہے ۔ ۔ ۔ اسے جاری رکھئے گا ۔ ۔ ۔

    اللہ تعالی آپ کی اس کاوش کو قبول فرمائے ۔ ۔ اور اجر عظیم عطا کرے ۔

    آمین

    • شکریہ بھائی
      آپ لوگوں کی دلچسپی رہی تو مزید مضامین منظر پر جلوہ گر ہوتے رہیں گے

  2. Muhammad Jaweed said:

    Jazakallahu khair

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: