اِمام ابنُ الصَّلاحؒ کی کتاب ’’علوم الحدیث‘‘

مولانا محمد خالد سیف (اثریؔ)
اصولِ حدیث کا کون سا طالب علم ہے جو امام ابن الصلاحؒ اور آپ کی شہرۂ آفاق تصنیف ’’علوم الحدیث‘‘ المعروف بہٖ ’’مقدمہ ابن الصلاح‘‘ سے ناواقف ہے؟ حقیقت یہ ہے کہ جو شرفِ قبولیت ’’علوم الحدیث‘‘ کو حاصل ہوا، اس فن کی کسی دوسری کتاب کو حاصل نہ ہو سکا۔ قبل اس کے کہ ’’علوم الحدیث‘‘ کے ساتھ علماء کے اعتناء، اس کی اہمیت و عظمت اور اس پر نقد و تبصرہ کو پیش کیا جائے، مناسب معلوم ہوتا ہے کہ اس شاہکار کے مصنف کی حیاتِ علمیہ کی چند جھلکیاں پیش کر دی جائیں۔
نام و نسب:
آپ کا اسمِ گرامی عثمان، لقب تقی الدین اور کنیت ابو عمرو ہے۔ سلسلۂ نسب اس طرح ہے:
’’ابو عمرو تقی الدین عثمان بن عبد الرحمان بن عثمان بن موسی الکردی الشہر زوری الشرخانی۔‘‘
آپ کے والدِ محترم عبد الرحمان کا لقب چونکہ صلاح الدین تھا اس لئے ان کی طرف انتساب کے پیشِ نظر آپ ابن الصلاح کے نام سے علمی دنیا میں معروف ہیں۔
ولادت و نشأت:
حضرت الامام شیخ الاسلام ابن الصّلاح ۵۷۷ھ بمطابق ۱۱۸۱ء کو شہر زور کے قریب ایک بستی شرخان میں پیدا ہوئے۔ کسے خبر تھی کہ جنم لینے والا یہ بچہ بعد میں شیخ الاسلام، مفتی الانام، الامام، الحافظ، المحدث، الحجۃ، الفقیہ اور الاصولی جیسے معزز القاب سے نوازا جائے گا اور فلکِ رشد و ہدایت پر ماہِ شبِ چہار دہم بن کر چمکے دمکے گا؟
خوبیٔ قسمت کہ آپ نے خاندانِ علم و فضل میں آنکھ کھولی، آپ کے والدِ ماجد ایک جلیل القدر فقیہ اور متجر عالم تھے۔ فقہ شافعی میں تو آپ کو یدِ طولیٰ حاصل تھا۔ امام ابن الصّلاحؒ نے ہوش سنبھالتے ہی اپنے مشفق والد سے ہی تربیت کے ساتھ تعلیم کی بھی ابتداء کی اور چند ہی سالوں میں فقہِ شافعی میں عبور حاصل کر لیا، ابھی آپ کی مسیں بھی نہ بھیگی تھیں کہ فقہِ شافعی کی مشہور اور متداول کتاب ’المہذب‘‘ از بر کر لی۔ پھر والدِ محترم نے مزید اکتسابِ علم و ضیاء کے لئے آپ کو سوئے موصل روانہ فرما دیا۔ وہاں آپ نے شب و روز ایک کر کے مختلف انواع و اقسام کے علوم و فنون کی تحصیل کی اور بہت جلد اس عبقریٔ زماں اور نابغۂ عصر شخصیت نے فقہ، اصول، تفسیر، حدیث اور لغت میں مہارتِ تامہ حاصل کر لی۔
اس کے بعد علمی تشنگی کو مزید تسکین بخشنے کے لئے آپ نے بغداد، خراسان اور شام کے صافی چشموں کا رُخ کیا اور بہت سے جلیل القدر علماء سے علوم و فنون میں استفادہ کیا۔ ان رحلات کے دوران آپ نے حدیث اور علومِ حدیث میں خصوصی دل چسپی لے کر بہت زیادہ رسوخ حاصل کر لیا۔
اساتذۂ کرام:
آپ نے جب جلیل القدر علماء سے کسبِ فیض کیا، ان کی ایک مختصر سی فہرست پیش کرتے ہوئے علامہ ذہبی فرماتے ہیں:
’’آپ نے موصلؔ میں عبید اللہ بن سمین، نصر بن سلامہ، محمود بن علی اور عبد المحسن بن طوسی، بغدادؔ میں ابو احمد بن سکینہ اور عمر بن طبرزد، ہمدانؔ میں ابو الفضل بن معزم، نیسا بورؔ میں منصور اور مؤید، مردؔ میں ابو المظفر بن سمعانی اور دیگر، دمشقؔ میں جما الدین عبد الصمد، شیخ موفق الدین مقدسی اور فخر الدین بن عساکر، حلبؔ میں ابو محمد بن علوان، اور حسران میں حافظ عبد القادر سے علم حاصل کیا۔
علوم و فنون میں رسوخ حاصل کرنے کے بعد خلق خدا کی خدمت کے لئے آپ نے دمشق میں علوم و فنون کی نشر و اشاعت شروع کر دی اور اس کے بعد مسندِ تدریس کو رونق بخشی اور مدینہ قدس کی مشہور درسگاہ ’’الناصریہ‘‘ میں جو بادشاہ النصار صلاح الدین یوسف بن ایوب کی طرف منسوب ہے، درس دینا شروع کیا۔ ایک مدت تک یہاں فروکش رہے اور علماء و طلبہ کے ایک جم غفیر نے آپ سے فیضان حاصل کیا، بعد ازیں آپ نے پھر دمشق کو قدومِ میمنت لزوم سے نوازا اور مدرسہ روحیہ میں علم و فضل کے دریا بہانے شروع کر دیئے۔
جب بادشاہ اشرف بن عادل نے دمشق میں ایک ’’دار الحدی‘‘ کی تاسیس و تشکیل کی تو اس میں تدریس کے فرائض سر انجام دینے کے لئے ان کی نگاہِ انتخاب آپ ہی پر پڑی۔ چنانچہ آپ نے کچھ عرصہ یہاں بھی علمِ حدیث کا درس دیا۔ چنانچہ علامہ ذہبیؒ فرماتے ہیں:
ودرس بالرواحية وولی شیخة دار الحدیث ثلاث عشرۃ سنۃ
اس کے علاوہ ایک دو اور درس گاہوں میں بھی آپ نے تعلیم و تدریس کے فرائض سر انجام دیئے، غرضیکہ آپ جس مقام پر بھی رونق افروز مسندِ تدریس ہوئے۔ تشنگانِ علوم اس شمع فروزا کی طرف پروانوں کی طرح لپکتے چلے آئے۔
تلامذہ:
جیسا کہ ذکر کیا جا چکا ہے ایک خلقِ کثیر اور انبوہِ کبیر نے آپ سے اکتسابِ علم کیا۔ مشتے نمونہ ازخروارے چند ایک تلامذہ کے اسماء گرامی لکھنے پر اکتفاء کیا جاتا ہے جو کہ درجِ ذیل ہیں:
کمال الدین سلار، کمال الدین اسحاق، تقی الدین بن رزین عبد الرحمان بن نوح، شیخ تاج الدین عبد الرحمان، شیخ زین الدین فاروقی، قاضی شہاب الدین، خطیب شرف الدین فخر الدین الکرجی، مجد الدین بن المہتار، احمد بن عفیف، قاضی ابو العباس احمد بن علی اور بہت سے دیگر حضرات۔‘‘
وفاتِ حسرت آیات:
حضرت امام ابن الصّلاحؒ پوری زندگی شمع علم و رشد کو روشن رکھنے کے بعد بوقت صبح بروز بدھ مؤرخہ ۲۵؍ ربیع الاوّل ۶۴۳ھ بمطابق ۱۲۴۵ء کو اپنی جان جانِ آفریں کے سپرد کر کے راہی ملکِ عدم ہوئے۔ دمشق میں باب النصر کے باہر مقا بر صوفیہ میں آپ کا مرقد ہے۔ سقی اللہ ثراہ وجعل الجنة شواہ۔
تالیفات و تصنیفات:
آپ نے بہت سی کتب تصنیف فرمائیں جو ہمیشہ کے لئے آپ کا صدقۂ جاریہ اور یاد گار ہیں۔ موضوع کے اعتبار سے ان میں کافی تنوع پایا جاتا ہے۔ نیز سب تالیفات تحقیقاتِ راسخہ اور فوائدِ نافعہ پر مشتمل ہیں۔ آپ کی تصنیفات میں سے اہم ترین درج ذیل ہیں۔
(۱) شرح الوسیط فی فقہ الشافعیہ                         (۲) فوائد الرحلہ
(۳) صلۃ الناسک فی صفۃ المناسک                       (۴) الامالی
(۵) ادب المفتی والمستفتی                                                (۶) شرح صحیح مسلم
(۷) الموتلف والمختلف                                                (۸) طبقات الفقہاء الشافعیہ
(۹) الفتاوی                                                              (۱۰) علوم الحدیث
موخر الذکر آپ کی جملہ تصنیفات میں سے اہم ترین ہے۔ لہٰذا اس کے متعلق ہم قدرے تفصیل سے کچھ عرض کرتے ہیں:
علوم الحدیث:
حافظ ابن الصلاحؒ سے پہلے بھی بہت سے ائمہ کرام نے علومِ حدیث میں خامہ فرسائی فرمائی تھی۔ ان میں سے اکثر نے تو اپنی تالیفات کی تدوین کتبِ حدیث کے طریقے پر کی۔ یعنی ایک عنوان قائم کر کے ہر مسئلہ کے متعلق ائمہ فن کے اقوال کو اسانید سمیت ذکر کیا اور بعض نے فن کے قواعد کو ضبط تو کیا لیکن وہ احسن پیرایہ میں عبارتوں کی تنقیح و تہذیب نہ کر سکے۔ اول الذکر کی مثال علامہ خطیب بغدادی کی کتاب ’الکفایہ‘‘ اور ثانی الذکر کی مثال کے طور پر امام حاکم کی کتاب ’’مقدمہ علوم الحدیث‘‘ کا نام لیا جا سکتا ہے۔
حافظ ابن الصّلاح نے ان علمی ذخائر کا عمیق نظر سے جائز لیا، کتابوں کی عبارتوں کو اصول کے میزان میں تولا اور تعریفات و قواعد کو فہم و استنباط کی کسوٹی پر پرکھا اور سا طرح فن کے منتشر موتیوں کو احسن انداز میں سلک مرد ارید میں پرو کر ایک نئے انداز بیان کی طرح ڈالی۔ او فن میں دلچسپی رکھنے والوں کی ایک شدید ضرورت کو پورا فرما دیا۔ چنانچہ علوم الحدیث کے مقدمہ میں فرماتے ہیں:
فحین کاد الباحث عن مشکله لا يلفي له كاشفا والسائل عن علمه لا يلقي به عارفا من الله الكريم تبارك و تعاليٰ علي وله الحمد ان اجمع بكتاب معرفة انواع علم الحديث، ھذا الذي باح باسراره الخفية وكشف عن مشكلاته الابية
اس کے بعد آپ نے ان پینسٹھ انواع کا ذِکر کیا ہے جن کے متعلق کتاب میں بحث کی ہے۔ یہ گویا کتاب کے مضامین کی فہرست ہے۔ اس طرح وہ امتیازات و خصوصیات جو آپ کی کتاب کو دیگر کتب سے ممتاز کرتی ہیں، درج ذیل ہیں:
آپ نے فن کے مسائل کی تعریفات کے ضبط کا اہتمام کیا اور کچھ ایسی تعریفات کا اضافہ بھی کیا جو سابقہ ائمہ سے منقول نہ تھیں۔
سابقہ علماء کی عبارات کی تہذیب و تنقیح فرمائی اور محل نظر مقامات کی نشاندہی کی۔
علومِ حدیث کے مسائل میں ائمہ حدیث سے منقول نصوص و روایات سے قواعد کا استنباط کیا۔
اپنی تحقیق اور اجتہاد سے علماء فن کے اقوال پر تعاقب کیا۔
چنانچہ انہی خصوصیات کے پیشِ نظر علماء کرام نے آپ کی اس تصنیف پر تحسین و آفرین کے پھول نچھاور کیے ہیں۔ چنانچہ شیخ الاسلام حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں:
واعتني بتصانيف الخطيب المتفرتة فجمع شتات مقاصدھا وضم اليھا من غيرھا نخب فوائدھا فاجتمع في كتابه ما تفرق في غيره فلھذا عكف الناس عليه                         (نزھة النظر ص ۳)
حافظ برہان الدین ابناسیؒ فرماتے ہیں:
انّ كتابه ھذا احسن تصنيف فيه يعني علوم الحديث
علامہ حافظ عراتیؒ رقم طراز ہیں:
فان احسن ما صنف اھل الحديث في معرفة الاصطلاح كتاب علوم الحديث لابن الصلاح (فتح المغيث)
عناية العُلماء:
علماء کرام نے جس قدد ’’علوم الحدیث‘‘ کے ساتھ عنایت و اعتناء سے کام لیا۔ اس فن کی اس سے پہلے یا بعد کی کوئی کتاب اس کی سہیم و شریک نہیں۔ چنانچہ شیخ الاسلام حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں:
فلھذا عكف الناس عليه وساروا بسيره فلا يحصي كم ناظم له ومختصر ومستدرك عليه ومقتصر ومعارض له ومنتصر
شیخ ابن حجرؒ کے اس اجمالی قول کی تفصیل یہ ہے کہ علوم الحدیث پر علامہ عراقیؒ، علامہ زرکشیؒ اور خود حافظ ابن حجرؒ نے نکت لکھے ہیں۔ علامہ عراقیؒ کا نکت التقیید والایضاح لما اطلق واغلق من کتاب ابن الصلاح کے نام سے موسوم ہے اور مطبوع ہے اور حافظ ابن حجرؒ کا نکت الافصاح عن نکت ابن الصلاح کے نام سے مشہور ہے اور تاحال غیر مطبوع ہے۔ پاکستان میں اس کے چند قلمی نسخے موجود ہیں۔ ایک نسخہ حضرت پیر بدیع الدین صاحب پیر آف جھنڈا۔ سندھ، کے گراں قدر کتب خانہ میں موجود ہے اور اس کی ایک ایک کاپی ہمارے دوست مولانا ارشاد الحق صاحب فاضل (اثری) اور مولانا عبد الحمید صاحب فاضل اثری کے پاس بھی موجود ہے۔ اے کاش اللہ تعالیٰ کسی کو توفیق بخشے کہ وہ اس مبارک کتاب کو زیورِ طباعت سے آراستہ کر سکے۔
حافظ بلقینیؒ نے علوم الحدیث کو مختصر کیا اور کچھ اضافے بھی کیے اور اس کا نام ’’محاسن الاصطلاح و تضمین کاب ابن الصّلاح‘‘ رکھا۔ امام نوویؒ نے اپنی کتاب ’’الارشاد‘‘ میں اس کا اختصار کیا اور اس کا نام رکھا۔ ’’التقریب والتیسیر لمعرفة سنن البشیر النذیر۔‘‘ امام سیطی نے ’’تدریب الراوی فی شرح تقریب النووی‘‘کے نام سے اس اختصارِ کی شرح کی۔ اسی طرح علامہ عراقیؒ، سخاویؒ اور مقدسیؒ نے بھی اس کی شروحات لکھیں۔ امام سیطیؒ نے ایک اور کتاب لکھی جس کا نام ’’التہذنیب فی الزائد علی التقریب‘‘ ہے۔
امام بدر بن جماعہؒ نے بھی اس کا اختصار کیا اور ’’المنہل الروی فی الحدیث النبوی‘‘ نام رکھا۔ عز الدین محمد بن جماعہ نے بھی’’المنہج السوی فی شرح المنہل الروی‘‘ کے نام سے اس کی شرح لکھی۔ حافظ ابن کثیر نے بھی اپنی کتاب ’’الباعث الحثیث‘‘ میں اس کا اختصار کیا۔ اسی طرح علامہ علاؤ الدین المار دینی اور بہاء الدین اندلسی وغیرہ بہت سے علماء نے بھی اس کا اختصار کیا۔
علامہ عراقیؒ نے اسے اپنے ايضہ ميں منظوم کیا اور اس کی مطول و مختصر دو شرحیں لکھیں۔ مختصر کا نام ’’فتح المغیث بشرح الفیۃ الحدیث‘‘ ہے۔ اس شرح پر بہان الدین بقاعیؒ اور قاسم بن قطلو بنانے حواشی بھی لکھے۔ اول الذکر کے حاشیہ کا نام النکت الوفية بما فی شرح الالفية ہے۔ یہ مکمل نہیں بلکہ نصفِ کتاب ہے۔
اسی طرح علامہ سخاویؒ نے بھی الفیہ عراقی کی شرح لکھی اور اس کا نام بھی ’’فتح المغیث فی شرح الفیۃ الحدیث‘‘ ہے۔ اس کے متعلق حاجی خلیفہ فرماتے ہیں: وھو شرح حسن لعله احسن الشروح
الشیخ زکریا انصاریؒ نے بھی الفیہ کی شرح لکھی اور اس کا نام ’’فتح الباقی بشرح الفیۃ العراقی‘‘ ہے۔ اس شرح پر علی بن احمد عدوی کا حاشیہ بھی ہے۔ علامہ سیوطیؒ نے بھی الفیہ کی شرح ’’قطر الدرر‘‘ کے نام سے لکھی ہے۔ علامہ سیوطیؒ نے علامہ عراقیؒ کے مقابلہ میں ایک اپنا الفیہ بھی لکھا ہے اور اس کو انہوں نے ۵ روز میں منظوم کیا تھا اور پھر انہوں نے ’’البحر الذی زخر فی شرح الفیۃ الاثر‘‘ کے نام سے اس کی شرح لکھی۔ نیز اس کی ایک شرح محمد محفوظ ترمسی نے بھی لکھی ہے جس کا نام ’’منہج ذوی النظر فی شرح منظومۃ علم الاثر‘‘ ہے۔
الفیہ عراقی کی ایک شرح قطب الدین خیفری نے ’’صعود المراتی‘‘ کے نام سے لکھی۔ اسی طرح علامہ زین الدین عینی، ابراہیم بن محمد حلبی اور ابو الفداء اسمٰعیل بن جماعہ نے بھی اس کی شروحات لکھیں۔ ’’علوم الحدیث لابن الصلاح‘‘ کے گرد گردش کرتے ہوئے کتابوں کے اس انبار سے بخوبی اندازہ ہو جاتا ہے کہ یہ کتاب کس قدر عظمت اور اہمیت کی حامل ہے۔                  
’’علومُ الحدیث‘‘ پر ایک ناقدانہ نظر:
اگرچہ امام ابن الصلاحؒ کو تفسیر، حدیث، فقہ، اصول اور لغت وغیرہ مختلف علوم و فنون میں یدِ طولےٰ حاصل ہے اور خصوصاً اصولِ حدیث میں تو آپ امامت و اجتہاد کے بلند درجہ پر فائز ہیں اور آپ کی اس شہرۂ آفاق تصنیف کو اس فن میں ایک ممتاز مقام حاصل ہے لیکن بفحوائے ’’لکل جواد کبوۃ ولکل صارم نبوۃ ولکل عالم ھفوۃ‘‘ جلیل القدر امام ابن الصلاحؒ سے بھی کچھ فروگزاشتیں ہوئی ہیں جن میں سے چند ایک کی نشاندہی کی جاتی ہے۔ چنانچہ آپ النوع الاول کے فوائد مہمہ میں سے دوسرا فائدہ بیان کرتے ہوئے رقم طراز ہیں۔
اذا وجدنا فیما یروی من اجزاء الحدیث وغيرھا حديثا صحيح الاسناد ولم نجده في احد الصحيحين ولا منصوصًا علي صحته في شيء من مصنفات ائمة الحديث المعتمدة المشھورة فانا لا نتجاسر علي جزم الحكم بصحته فقد تعذر في ھذه الاعصار الاستقلال بادراك الصحيح بمجرد اعتبار الاسانيد الخ
يعنی آپ كے نزديك متاخرين كے لئے كسی حديث كی تصحیح جائز نہیں اور اس سلسلہ میں صرف متقدمین پر ہی انحصار کرنا چاہئے لیکن علماءِ کرام نے آپ کی اس رائے سے اختلاف کیا ہے۔ چنانچہ شیخ الاسلام حافظ ابن حجرؒ اس پر نقد کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’ثم ما اقتضاه كلام ابن الصلاح من قبول التصحيح من المتقدمين ورده من المتاخرين قد يستلزم رد ما ھو صحيح وقبول ما ليس بصحيح فكم من حديث حكم بصحته امام متقدم اطلع المتاخر فيه علٰي علة قادحة تمنع من الحكم بصحته ولا سيما ان كان ذلك المتقدم ممن لا يري التفرقة بين الصحيح والحسن كابن خزيمة وابن حبان‘‘
امام نوویؒ فرماتے ہیں:
’’والاظھر عندی جوازہ لمن تمکن وقویت معرفته‘‘ 
علامہ عراقیؒ امام نوویؒ کی تائید کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’وما رجحه النووی ھو الذی علیہ عمل اھل الحدیث فقد صح جماعة من المتاخرین احادیث لم نجد لمن تقدمھم فیما تصحیحا‘‘
اور علامہ ابن جماعۃ فرماتے ہیں:
’’قلت مع غلبة الظن انه لوصح لما اھمله ائمة الاعصار المتقدمة لشدة فحصھم واجتھادھم فان بلغ واحد في ھذه الاعصار اھلية ذٰلك والتمكن من معرفته احتمل استقلاله‘‘
چنانچہ حافظ ابن الصلاح کے معاصرین نے ہی کئی ایسی احادیث کی تصحیح کی ہے جن کی متقدمین سے صحت ثابت نہیں تھی اور آپ سے متاخر ائمہ نے بھی کئی ایک احادیث پر صحت کا حکم لگایا ہے۔ مثلاً آپ کے معاصر علماء میں سے صاحب ’’الوہم والایہام‘‘ حافظ ابو الحسن بن قطانؒ نے حضرت ابن عمرؓ کی درجِ ذیل روایت پر صحت کا حکم لگایا ہے:
انه یتوضا ونعلاه في رجليه ويقول كان رسول الله ﷺ يفعل ذلك
اسی طرح انہوں نے حضرت انسؓ کی درج ذیل روایت پر صحت کا حکم لگایا ہے جسے قاسم بن اصبغ نے روایت کیا ہے:
کان اصحاب رسول اللہ ﷺ ینتظرون الصلاۃ فیضعون جنوبھم فمنھم من ينام ثم يقوم الي الصلوٰة
اسی طرح حافظ ضیاء الدین المقدسی صاحب ’’المختارۃ‘‘ نے اپنی اس کتاب میں کئی ایسی احادیث کی تصحیح کی ہے جن کی صحت ائمہ متقدمین سے منقول نہیں تھی۔ حافظ منذریؒ نے حدیث ابی ہریرۃ فی غفران ما تقدم من ذنبه وما تأخر کی تصحیح کی ہے۔ حافظ دمیاطیؒ حدیثِ جابرؓ ماء زمزم لما شرب لهکی تصحیح کی ہے اور شیخ تقی الدین السبکیؒ نے اپنی کتاب شفاء السقام فی زیادۃ خیر الانام میں حدیث ابن عمرؓ من زار قبری وجبت له شفاعتی پر صحت کا حکم لگاتے ہیں۔ مختصر یہ کہ حافظ ابن الصلاحؒ کا متاخر علماء کو اس منصبِ جلیلہ سے محروم و معزول کر دینا درست نہیں بلکہ صحیح یہی ہے کہ ہر عالم کو خواہ متقدم ہو یا متاخر اس کا حق پہنچتا ہے بشرطیکہ وہ اہلیت رکھتا ہو۔ تفصیل کے لئے ’’فتح المغیث للعراتیؒ، فتح المغیث للسخاویؒ اور تدریب الراوی للسیوطیؒ ملاحظہ فرمائیے۔
اسی طرح حافظ ابن الصلاحؒ، امام حاکم اور ان کی متدرک کا ذِکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
وھو واسع الحظو في شرط الصحيح متاھل في القضاء به فالاولٰي ان نتوسط في امره فنقول ما حكم بصحته ولم نجد ذلك فيه لغيره من الائمة ان لم يكن من قبيل الصحيح فھو من قبيل الحسن يحتج به ويعمل به الا ان تظھر فيه علة توجب ضعفه
امام ابن الصلاح کے اس قول پر بھی تعاقب کیا گیا ہے۔
الصواب ان یتبع ویحکم علیہ بما یلیق من الحسن او الصحة او الضعف
یعنی یہ ضروری نہیں کہ امام حاکم نے جس حدیث پر صحت کا حکم لگایا ہو اور اس کے متعلق کسی دوسرے امام کی تصریح موجود نہ ہو تو وہ اگر صحیح نہیں قولا محالہ حسن ہو گی بلکہ تتبع کیا جائے گا اور اس کے حسبِ حال صحت حسن یا ضعف کا حکم لگایا جائے گا۔ قاضی ابن جماعۃ کے اس تعاقب کو علامہ سخاویؒ و انصاریؒ نے بھی ذِکر فرمایا ہے اور علامہ عراقی نے ’’النکت‘‘ میں اسے ذِکر کر کے صحیح قرار دیا ہے۔
اور اس مذکورہ عبارت کے متصل ہی حافظ ابن الصلاحؒ فرماتے ہیں:
ویقاربه فی حکمه صحیح ابی حاتم بن حبان البستیؒ
لیکن آپ کا صحیح ابن حبان کو مستدرک حاکم کے ہم پلہ قرار دینا بھی صحیح نہیں کیونکہ امام ابن حبانؒ کا حدیث میں امام حاکم کی نسبت مقام بلند ہے۔ چنانچہ علامہ عراقی، امام حازمیؒ سے نقل کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
ابن حبان امکن فی الحدیث من الحاکم
امام سیوطیؒ فرماتے ہیں:
قیل ما ذکر من تساھل ابن حبان لیس بصحیح غایته ان یسمی الحسن صحیحا فان کانت نسبته الی التساھل باعتبار وجدان الحسن فی کتابه فھی شاحة فی الاصطلاح
اسی طرح حافظ ابن الصلاحؒ فرماتے ہیں:
ثم ان الزیادۃ فی الصحیحین علی ما فی الکتابین یتلقاھا طالبھا مما اشتمل علیه احد المصنفات المعتمده المشتھرة وسائر من جمع في كتابه بين الصحيح وغيره ويكفي مجرد كونه موجوداً في كتب من اشترط منھم الصحيح فيما جمعه ككتاب ابن خزيمة
اس کے متعلق پہلی گزارش تو یہ ہے کہ ’’من اشترط منھم الصحیح‘‘ کے ضمن میں تو صحیح ابن حبان بھی آتی ہے اور اسے آپ خود ہی مستدرک حاکم کے متقارب قرار دے چکے ہیں اور مستدرک کے مقام و مرتبہ اور محتویات سے حدیث کا ہر طالب علم واقف ہے۔
اور دوسری گزارش صحیح ابن خزیمہ کے متعلق ہے جسے آپ نے بطور مثال بیان فرمایا ہے کہ اس پر مطلقاً یہ حکم کیسے لگایا جا سکتا ہے جبکہ اس میں اور اس جیسی دیگر کتب میں ضعیف روایات بھی ہیں، مثلاً صحیح ابن خزیمہ کی ہم تین روایات پیش کرتے ہیں:
قال رسول اللہ ﷺ اذا توضأ احدکم ثم یخرج المسجد فلا یشبکن یدیه فانه في صلاة
اس حدیث کی سند میں اختلاف ہے جس کے سبب بعض ائمہ نے اسے ضعیف قرار دیا ہے اور اس کی سند میں راوی ابو شمامہ الحجازی مجہول الحال ہے جیسا کہ حافظ نے ’’تقریب‘‘ میں فرمایا ہے اور ’’تہذیب‘‘ میں امام دار قطنی کے حوالہ سے لکھا ہے لا یعرف یترک
سئل رسول اللہ ﷺ عن ھذہ الاية ’’قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّٰي وَذَكَرَ اسْمَ رَبِّه فَصَلّٰي‘‘ قال انزلت في زكوٰة الفطر
اس کی سند میں کثیر بن عبد اللہ ہے جس کے متعلق امام منذری نے فرمایا ہے ’’والا‘‘ اور امام ذہبیؒ نے اس کی اس حدیث کو مناکیر سے شمار کیا ہے۔
من صلی بعد المغرب ست رکعات لم یتکلم فیما بینھن بسوء عدلن له بعبادۃ اثنتٰي عشرة سنة
اس حدیث کے سلسلۂ اسناد میں عمر بن عبد اللہ بن ابی خثعم ہے جس کے متعلق امام بخاری فرماتے ہیں:
منکر الحدیث ذاھب (میزان جلد ۲۔ ص ۲۶۴)
تو حافظ ابن الصلاحؒ کے مذکورہ ارشاد کو کیسے تسلیم کیا جا سکتا ہے جبکہ صحیح ابن خزیمہ میں ان جیسی روایات بھی ہیں۔ منکر حدیث کی بحث میں امام ابن الصّلاح منکر اور شاذ کو مترادف قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:
والصواب فیہ التفصیل الذی بیناہ انفا فی شرح الشاذ وعند ھذا نقول المنکر ینقسم قسمین علی ما ذکرناہ فی الشاذ فانه بمعناہ (علوم الحدیث ص ۷۲)
لیکن آپ کا منکر اور شاذ کو مترادف قرار دینا صحیح نہیں کیونکہ تحقیق یہ ہے کہ منکر اور شاذ ایک نہیں، شیخ الاسلام ابن حجرؒ فرماتے ہیں:  ’’وقد غفل من سوی بینھا‘‘ (شرح نخبۃ الفکر)
اور امام سیوطی فرماتے ہیں:
المنکر الذی روی غیر الثقه               مخالفا فی نخبة قد حققه
قابله المعروف والذی رأی                       ترادف المنکر والشاذ نأی
حدیثِ مرسل کی صورِ مختلفہ بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
’’احدٰھا اذا انقطع الاسناد قبل الوصول الی التابعی فکان فیه رواية
ولم يسمع من المذكور فوقه ۔۔۔۔۔۔۔ لا يسمي مرسلا‘‘ (علوم الحديث ص ۴۷)
علامہ عراقیؒ اس پر تعاقب کرتے ہوئے فرماتے ہیں:
قولہ قبل الوصول الی التابعی لیس بجید بل الصواب قبل الوصول الی الصحابی فانه لوسقط التابعی ایضه کان منقطعا لا مرسلا عند ھٰولاء‘‘ (التقیید والایضاح ص ۵۵)
’’معرفۃ الاسماء والکنٰی‘‘Lesson میں ان رواۃ پر بحث کرتے ہوئے جن کے نام کنیت جیسے ہیں اور ان کی کنیت بھی ہے۔ ایک یہ نام بھی بتلاتے ہیں۔ ابو بکر بن عبد الرحمان یعنی جو فقہاءِ سبعہ میں سے ہیں۔ ان کے متعلق فرماتے ہیں کہ ان کا نام ابو بکر اور کنیت ابو عبد الرحمان تھی۔ لیکن انہیں یہاں بطور مثال پیش کرنا صحیح نہیں کیونکہ صحیح یہ ہے کہ ان کا نام اور کنیت ایک ہی تھی جیسا کہ امام ابن ابی حاتم  اور علامہ عراقی نے فرمایا ہے۔
یہ اور اس طرح کے چند دیگر مقامات ہیں جن میں ائمہ فن نے امام ابن الصّلاحؒ سے اختلاف کیا ہے۔ تاہم اس سے ’’علوم الحدیث‘‘ کی اہمیت و عظمت پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا بلکہ اس کی امتیازی و انفرادی شان بدستور قائم رہتی ہے۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: