حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا

https://i0.wp.com/sphotos-a.xx.fbcdn.net/hphotos-ash3/554634_449804585031022_1185525248_n.jpg
حضور پاک ﷺ کو مرد صحابہ میں سے سب سے زیادہ محبت اور تعلق خاطر حضرت ابو بکر صدیق کے ساتھ تھا ۔ امہات المو منین میں سے سب سے زیادہ قلبی محبت اور طبعی میلان حضرت عائشہ صدیقہ کی طرف تھا ۔ آنحضور ﷺ اپنے برتاؤ کے لحاظ سے اپنی ازواج کے درمیان مکمل عدل و مساوات قائم رکھتے تھے ۔جہاں تک طبعی میلان کا تعلق ہے اس بارے میں آپ اللہ سے دعا کیا کرتے تھے کہ اس پر آپ کا اختیار نہیں اس لیے اس پر مواخذہ نہ کیا جائے ۔ یہ حقیقت ہے کہ طبعی میلان پر انسان کا زور و اختیار نہیں ہوتا ۔ ظاہری معاملات میں بھی وہی شخص انصاف کا مظاہرہ کر سکتاہے جو اللہ کے خوف سے مالا مال ہو ۔
حضرت عائشہ صدیقہ بہت خوب صورت بھی تھیں اور نہایت زیرک و سمجھ دار بھی ۔ وہ آنحضور ﷺ کے نکاح میں تحقیق شدہ روایات کے مطابق12 یا15 سال کی عمر میں آئیں ۔ان کی ذہانت کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتاہے کہ جب وہ بالکل چھوٹی بچی تھیں اور اپنی ہم عمر بچیوں کے ساتھ کھلونوں سے کھیل رہی تھیں تو آنحضور ﷺ کا ان بچیوں کے پاس سے گزر ہوا ۔ بچیوں کے کھلونوں میں حضرت عائشہ کے پاس ایک گھوڑا تھا جس کے پر تھے ۔ آنحضور ﷺ نے پوچھا عائشہ یہ کیاہے تو انھوں نے جواب میں کہایا رسول اللہ ﷺ یہ گھوڑا ہے۔ آپ نے فرمایا” گھوڑا کیسے ہے ؟ گھوڑوں کے تو پر نہیں ہوتے “۔اس پر بنت ِ صدیق نے نہایت معصومانہ انداز میں ایک پتے کی بات کہی ۔ عرض کیا ”اے اللہ کے نبی حضرت سلیمان علیہ السلام کے گھوڑوں کے تو پر تھے ۔ “ اس ذہانت بھرے جواب پر آنحضور ﷺ خوش ہوئے اور چہرہ انور متبسم ہو گیا۔
https://i0.wp.com/a3.sphotos.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-snc6/228978_201450679914996_172357419490989_542009_5625385_n.jpg
روایات میں آتاہے کہ مہاجرین مکہ کو مدینہ آ کر آب و ہوا کی تبدیلی کی وجہ سے آغاز میں کئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ۔ حضرت ابو بکر صدیق اور ان کی بیٹی عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنمھا بھی شدید بیمار پڑ گئے ۔ جب حضرت عائشہ صحت یاب ہو ئیں تو حضرت ابو بکر نے آنحضور ﷺ سے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ اب آپ اپنی اہلیہ کو اپنے گھر کیوں نہیں لے جاتے ۔ نکاح اس سے پہلے ہو چکا تھا ، رخصتی ابھی عمل میں نہیں آئی تھی ۔ نکاح کے وقت حق مہر طے ہو گیا تھا جو پانچ سو درہم تھا مگر ابھی تک اس کی ادائیگی نہیں ہو ئی تھی ۔ آنحضور ﷺ نہیں چاہتے تھے کہ مہر کی ادائیگی کے بغیر زوجہ مطہرہ کی رخصتی عمل میں
آئے ۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کو بھی اس بات کا علم تھا کہ آنحضور ﷺ فقر و فاقہ کا شکار ہیں چنانچہ انہوں نے آنحضور ﷺ کو خود رضا کارانہ طور پر پانچ سو درہم قرض حسنہ کے طور پر پیش کیے ۔ آپ نے اپنے یار غار کی پیش کش قبول کی اور قرض کی یہ رقم لے کر حضرت عائشہ کو ادا کر دی ۔ نکاح اور رخصتی کے درمیان تقریباً دو سال کا عرصہ گزرا ۔ حضرت عائشہ ؓ کی عمر اس وقت سولہ یا سترہ سال تھی ۔
https://i2.wp.com/a2.sphotos.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-ash4/299793_201450769914987_172357419490989_542011_8085477_n.jpg
بیت نبوی میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے ماہ و سال میں کئی نشیب و فراز نظر آتے ہیں ۔ سب سے بڑا واقعہ جس نے آنحضور ﷺ کو بھی پریشانی میں مبتلا کیے رکھا واقعہ افک ہے ۔ یہ غزوہ بنی المصطلق کے سفر میں پیش آیا ۔ حکم نبوی کے مطابق منہ اندھیرے قافلہ چل پڑا ۔اس وقت حضرت عائشہ رفع حاجت کے لیے جنگل کی طرف نکلی ہوئی تھیں ۔ کجاوہ اٹھا کر اونٹ پر رکھنے والے صحابہ یہ سمجھے کہ شایدزوجہ مطہرہ اس میں تشریف فرما ہیں لیکن وہ اس میں موجود نہ تھیں ۔اس بے خبری میں فوج کوچ کر گئی ۔ آپ رضی اللہ عنہا واپس آئیں تو اس خیال سے وہیں مقیم ہو گئیں کہ جب قافلے کو معلوم ہوگا کہ میں ہودج میں نہیں ہوں تو واپس پلٹیں گے ۔ اس وقت رات ابھی باقی تھی اس لیے بیٹھے بیٹھے انہیں نیند آ گئی ۔ وہیں زمین پر لیٹیں اور سو گئیں ۔حضرت صفوان رضی اللہ عنہ جن کی دربار ِ رسالت کی طرف سے یہ ذمہ داری ہوا کرتی تھی کہ رات کو کوچ کی صورت میں وہ قیام گاہ پررک جایا کریں اور صبح روشنی ہونے پر ساری قیام گاہ کا جائزہ لے لیا کریں کہ کسی کی کوئی چیز تو پیچھے نہیں رہ گئی ۔ اس صبح جب وہ اٹھے تو ام المومنین کو وہاں موجود پایا ۔ انہوں نے اپنااونٹ قریب لا کر بٹھا دیا اور دوسری طرف منہ کر کے بلند آواز سے انا للہ پڑھا۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی آنکھ کھل گئی۔ حضرت صفوان بن معطل ایک بہت نیک سیرت انسان تھے ۔ حضرت عائشہ بلا خوف و خطر اونٹ پر سوار ہو گئیں ۔ صحابی رسول نے اونٹ کی نکیل پکڑی اور ام المومنین کو ساتھ لے کر فوج کے پیچھے پیچھے روانہ ہوئے۔اس واقعہ کو بنیاد بنا کر منافقین نے ایک طوفان اٹھایا ۔ عبداللہ بن ابی ّ اس سارے فتنے کا سرغنہ تھا۔ پاکدامن صدیقہ پر یہ تہمت اتنی بڑی جسارت تھی کہ اس کا تصور بھی ناممکن ہے لیکن بہر حال یہ واقعہ افک رونما ہوا اور جھوٹے پراپیگنڈے سے تین مخلص صحابہ بھی متاثر ہوگئے یعنی حضرت حسان بن ثابت ، حضرت مسطح بن اثاثہ اور حضرت حمنہ بنت ِ جحش رضی اللہ تعالی عنھم۔ منافقین کئی دنوں تک اس اذیت ناک صورتحال کو ہوا دیتے رہے ۔ اللہ کے رسول اور حضرت ابو بکر صدیق پر یہ لمحات کس قدرگراں تھے اس کا تصور کر کے ہی رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ حضرت عائشہ صدیقہ کو اس سارے طوفان کا پتہ کئی دن بعد چلا جب ان کی رشتے کی خالہ اور مسطح کی والدہ نے اپنے بیٹے کو بد دعا دی ۔ انہیں تعجب ہوا کہ اتنے اچھے بیٹے کو بد دعا کیوں دی جارہی ہے ۔ اس موقع پر ان کی خالہ کی زبانی ان کے سامنے حقیقت حال کھلی ۔
https://i0.wp.com/a8.sphotos.ak.fbcdn.net/hphotos-ak-ash4/297988_201450719914992_172357419490989_542010_417667_n.jpg
یہ اس وقت کی بات ہے جب وہ اپنی والدہ اور خالہ کے ساتھ قضائے حاجت کے لیےگھر سے باہر جارہی تھیں ۔ اس بات کا سننا تھاکہ عائشہ صدیقہ پر سکتہ طاری ہو گیا ۔ وہ ہر چیز کو بھول گئیں اور پریشانی کے عالم میں وہیں سے واپس اپنے والد کے گھر لوٹ گئیں ۔ فتنے کے یہ سارے ایام ان کے لیے سوہان روح تھے ۔ وہ بستر سے لگ گئیں ۔ کسی سے بولتی چالتی بھی نہیں تھیں ۔ اللہ کے نبی جانتے تھے کہ ان کی زوجہ بالکل بے گناہ ہیں اور سیدنا ابو بکر صدیق کو بھی یقین تھاکہ ان کی بیٹی میں کوئی عیب نہیں ۔ عام صحابہ بھی اس بات پہ مطمئن تھے کہ صدیقہ پر لگنے والا الزام جھوٹ ہے لیکن ابھی تک ہر جانب خاموشی تھی تاآنکہ خود رب کائنات نے اس خاموشی کو توڑا ۔ سورہ نور میں وہ آیات نازل ہوئیں جنھوں نے منافقین کے منہ میں خاک ڈال دی ۔ بہک جانے والے مسلمانوں کو کذب کی سزا بھگتنا پڑی اور پورے معاشرے کو سرزنش کی گئی کہ کیوں نہ مسلمان مرد اور عورتیں اس افترا کو سنتے ہی پکار اٹھے کہ یہ افک مبین ہے ۔ یوں حضرت عائشہ صدیقہ کا بے داغ کردار قرآن کے صفحات کی زینت بن گیا ۔
حضرت عائشہ کی برات کا حکم آیا تو ان کے والدین نے کہاکہ چلو آنحضور ﷺ کا شکریہ ادا کرو ۔ انہوں نے بے ساختہ کہاکہ میں تو اللہ کے سامنے سجدہ شکر اداکرتی ہوں جس نے میری برات کا اعلان کیاہے ۔ آنحضور ﷺ حضرت عائشہ سے بڑی محبت کیا کرتے تھے ۔آپ ﷺکا مشہور قول ہے کہ عائشہ کو خواتین پر ویسی ہی فضیلت حاصل ہے جیسے تمام کھانوں پر ثرید کو ۔ حضرت عائشہ صدیقہ کے حجرے میں آنحضور ﷺ مرض الموت میں مقیم تھے ۔ان دنوں چونکہ آپ ﷺکا دوسری امہات المومنین کے حجروں میں منتقل ہونا تکلیف کا باعث ہو سکتا تھا لہذا آپ نے سب سے اجازت لے لی کہ عائشہ کے حجرے میں ہی آپ مقیم رہیں ۔ ان ایام میں حضرت عائشہ دن رات آنحضور ﷺ کی خدمت اور تیمار داری کرتی رہیں۔ حضرت عائشہ کا یہ بھی اعزاز ہے کہ آنحضور ﷺ کی رحلت انہی کے حجرے میں ہوئی اور پھر یہیں آنحضور ﷺ کی آخرم آرام گاہ بنی ۔ آنحضور ﷺ کا سر مبارک حضرت عائشہ کی گود میں تھا جب آپ کی روح رفیق اعلیٰ کی جانب محو پرواز ہو گئی ۔
حضرت عائشہ بہت عالم و فاضل خاتون تھیں۔وہ مفسرہ قرآن اور محدثہ بھی تھیں اور اس کے ساتھ ساتھ اعلیٰ درجے کی فقاہت بھی انہیں حاصل تھی ۔ ان کی عظمت کے کیا کہنے کہ حضرت حسان جنہوں نے واقعہ افک میں غلط فہمی کی بنیاد پر غلطی کر لی تھی انہیں نہ صرف معاف کر دیا بلکہ اگر کوئی انہیں اس واقعہ کے حوالے سے برا بھلا کہتا تو اسے سختی سے منع فرما دیا کرتیں ۔ ان کے مناقب بیان کرتے ہوئے کہتیں کہ یہ وہ عظیم شخص ہے جس نے اسلام اور پیغمبر اسلام کی طرف سے اپنے لازوال اشعار میں کفار کے زہریلے اشعار کا مسکت جواب دیا تھا ۔ اسی طرح انہوں نے حضرت حمنہ اور حضرت مسطح کو بھی معاف کر دیا تھا۔
حضرت ابو بکر مسطح کی غربت کی وجہ سے ان کے پورے گھرانے کی کفالت کیا کرتے تھے ۔ اس واقعہ کے بعد انہوں نے قسم کھا لی کہ اس شخص کی مدد نہیں کریں گے لیکن جب صدیقہ کی برات و پاکدامنی کی گواہی وحی میں آئی اور ساتھ ہی سورہ نور کی آیت نمبر22 میں یہ حکم آیا ” تم میں سے جو لوگ صاحب فضل اور صاحب مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھا بیٹھیں کہ اپنے رشتے دار ، مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے ۔ انہیں معاف کر دینا چاہیے اور در گزر کرنا چاہیے ۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کر دے اور اللہ کی صفت یہ ہے کہ وہ غفورا ور رحیم ہے۔“ تو انہوں نے فوراً رجوع کر لیا ۔ قسم کا کفارہ ادا کیا اور حضرت مسطح کی حسب سابق امداد بحال کر دی۔ یہ بڑے دل والے لوگ تھے ۔ عظمت کی ہر چوٹی انہوں نے سر کر لی ۔
حضرت عائشہ صدیقہ اگرچہ جنگ جمل میں حضرت علی کے مقابلے پر نکل کھڑی ہوئی تھیں لیکن بعد میں انہیں اس غلطی کا افسوس ہوا ۔اس جنگ کو یاد کر کے بے ساختہ رونے لگتیں اور کہا کرتیں اے کاش میں اپنے گھر سے نہ نکلی ہوتی ۔ اے کاش میں بیس سال پہلے فوت ہو گئی ہوتی ۔ حضرت علی کی شہادت کے بعد ہمیشہ ان کا ذکر خیر کیا اور ا ن کی اسلامی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا ۔حضرت عائشہ نے مدینہ منورہ میں وفات پائی تو ا ن کی عمر تقریباً73 سال تھی ۔ ان کی وفات پر پورے عالم اسلام میں غم کی لہر دوڑ گئی ۔ روایات میں آتاہے کہ رات کے وقت ان کا جنازہ اٹھا تو مدینے کی گلیوں میں ہجوم تھا اور جنت البقیع میں ہر جانب انسان ہی انسان تھے محدث صحابی حضرت ابو ہریرہ نے ان کی نماز جنازہ پڑھائی اور وہ جنت البقیع میں آسودہ خاک ہوئیں۔ حضرت عائشہ کی کوئی اولاد نہیں تھی ۔ وہ ام عبداللہ کی کنیت سے معروف تھیں لیکن یہ عبداللہ ا ن کے بیٹے نہیں بھانجے عبداللہ بن زبیر تھے ۔ یہ کنیت بھی انہوں نے آنحضور ﷺ کی اجازت سے اختیار کی تھی ۔ ان کے اٹھ جانے سے علم و عرفان کا سورج غروب ہو گیا اور فقہ و اجتہاد کا بڑا دریا خشک ہو گیا ۔ انہوں نے صحابہ و تابعین کی صورت میں ہزاروں مرد و خواتین شاگرد اپنے پیچھے چھوڑے ۔
https://i0.wp.com/qadri-attari.webs.com/photos/TABARUKAT/Mazar%20Of%20Hazrat%20Bibi%20Ayesha%20Siddiqa%20and%20Other%20Azwaj.jpg
Advertisements
2 comments
  1. kauserbaig said:

    ماشاء اللہ بہت زبردست شیئرنگ ہے ۔۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: