حضرت موسى علیہ السلام -4

گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
مدین كہاں تھا؟
”مدین ” ایك شہر كانام تھا جس میں حضرت شعیب اور ان كا قبیلہ رہتا تھا یہ شہر خلیج عقبہ كے مشرق میں تھا (یعنى حجاز كے شمال اور شامات كے جنوب میں )وہاں كے باشندے حضرت اسماعیل علیہ السلام كى نسل سے تھے وہ مصر، لبنان اور فلسطین سے تجارت كرتے تھے آج كل اس شہر كانام معان ہے (بعض لوگ كلمہ ” مدین ” كا اطلاق اس قوم پر كرتے ہیں جو خلیج عقیہ سے كوہ سینا تك سكونت پذیر تھى توریت میں بھى اس قوم كو ” مدیان ”كہا گیا ہے ۔
بعض اہل تحقیق نے اس شہر كى وجہ تسمیہ بھى لكھى ہے كہ حضرت ابراہیم علیہ السلام كا ایك بیٹا جس كا نام ” مدین ” تھا اس شہر میں رہتا تھا۔)

نقشے كو غور سے دبكھیں تو معلوم ہوتا ہے كہ اس شہر كا مصر سے كچھ زبادہ فاصلہ نہیں ہے،اسى لئے حضرت موسى علیہ السلام چند روز میں وہاں پہنچ گئے۔
ملك اردن كے جغرافیائی نقشہ میں ، جنوب غربى شہروں میں سے ایك شہر” معان ” نام كا ملتا ہے ، جس كا محل وقوع ہمارے مذكورہ بالا بیان كے مطابق ہے ۔
لیكن وہ جوان جو محل كے اندار نازو نعم میں پلا تھا ایك ایسے سفر پر روانہ ہو رہا تھا جیسے كہ سفر اسے كبھى زندگى بھر پیش نہ آیا تھا۔
اس كے پاس نہ زادراہ تھا، نہ توشہ سفر، نہ كوئی سوارى ، نہ رفیق راہ اور نہ كوئی راستہ بتانے والا ،ہردم یہ خطرہ لاحق تھا۔
كہ حكومت كے اہلكار اس تك پہنچ جائیں اور پكڑكے قتل كردیں اس حالت میں ظاہر ہے كہ حضرت موسى علیہ السلام كا كیا حال ہوگا ۔
لیكن حضرت موسى علیہ السلام كے لئے یہ مقدر ہوچكا تھا كہ وہ سختى اور شدت كے دنوں كو پیچھے چھوڑدیں اور قصرفرعون انھیں جس جال میں پھنسانا چاہتا تھا۔
اسے توڑكر باہر نكل آئیں اور وہ كمزور اور ستم دیدہ لوگوں كے پاس رہیں ان كے درد وغم كا بہ شدت احساس كریں ور مستكبرین كے خلاف ان كى منفعت كے لئے بحكم الہى قیام فرمائیں ۔
اس طویل ، بے زادو راحلہ اور بے رفیق ورہنما سفر میں ایك عظیم سرمایہ ان كے پاس تھا اور وہ تھا ایمان اور توكل برخدا ۔
”لہذا جب وہ مدین كى طرف چلے تو كہا : خدا سے امید ہے كہ وہ مجھے راہ راست كى طرف ہد آیت كرے گا”
_( سورہ قصص آیت 22)
ایك نیك عمل نے موسى علیہ السلام پر بھلائیوں كے دروازے كھول دیئے
اس مقام پر ہم اس سرگزشت كے پانچوں حصے پر پہنچ گئے ہیں اور وہ موقع یہ ہے كہ حضرت موسى علیہ السلام شہرمدین میں پہنچ گئے ہیں ۔
یہ جوان پاكباز انسان كئی روز تك تنہا چلتا رہا یہ راستہ وہ تھا جو نہ كبھى اس نے دیكھا تھا نہ اسے طے كیا تھا بعض لوگوں كے قول كے مطابق حضرت موسى علیہ السلام مجبور تھے كہ پابرہنہ راستہ طے كریں ، بیان كیا گیا ہے كہ مسلسل آٹھ روز تك چلتے رہے یہاں تك كہ چلتے چلتے ان كے پائوں میں چھالے پڑگئے ۔
جب بھوك لگتى تھى تو جنگل كى گھاس اور درختوں كے پتے كھالیتے تھے ان تمام مشكلات اور زحمات میں صرف ایك خیال سے ان كے دل كوراحت رہتى تھى كہ انھیں افق میں شہرمدین كا منظر نظر آنے لگا ان كے دل میں آسود گى كى ایك لہر اٹھنے لگى وہ شہر كے قریب پہنچے انہوں نے لوگوں كا ایك انبوہ دیكھا وہ فورا سمجھ گئے كہ یہ لوگ چرواہے ہیں كہ جو كنویں كے پاس اپنى بھیڑوں كو پانى پلانے آئے ہیں ۔
”جب حضرت موسى علیہ السلام كنویں كے قریب آئے تو انھوں نے وہاں بہت سے آمیوں كو دیكھا جو كنویں سے پانى بھر كے اپنے چوپایوں كو پلارہے تھے،انھوں نے اس كنویں كے پاس دو عورتوں كو دیكھا كہ وہ اپنى بھیڑوں كو لئے كھڑى تھیں مگر كنویں كے قریب نہیں آتى تھیں ”۔
(سورہ قصص آیت 23)
ان باعفت لڑكیوں كى حالت قابل رحم تھى جو ایك گوشے میں كھڑى تھیں اور كوئی آدمى بھى ان كے ساتھ انصاف نہیں كرتا تھا چرواہے صرف اپنى بھیڑوں كى فكر میں تھے اور كسى اور كو موقع نہیں دیتے تھے حضرت موسى علیہ السلام نے ان لڑكیوں كى یہ حالت دیكھى تو ان كے نزدیك آئے اور پوچھا :
” تم یہاں كیسے كھڑى ہو”_
( سورہ قصص آیت 23)
تم آگے كیوں نہیں بڑھتیں اور اپنى بھیڑوں كو پانى كیوں نہیں پلاتیں ؟
حضرت موسى علیہ السلام كے لئے یہ حق كشى ، ظلم وستم ، بے عدالتى اور مظلوموں كے حقوق كى عدم پاسدارى جو انھوں نے شہر مدین میں دیكھی، قابل برداشت نہ تھى ۔
مظلوموں كو ظالم سے بچانا ان كى فطرت تھى اسى وجہ سے انھوں نے فرعون كے محل اور اس كى نعمتوں كو ٹھكرادیا تھا اور وطن سے بے وطن ہوگئے تھے وہ اپنى اس روش حیات كو ترك نہیں كرسكتے تھے اور ظلم كو دیكھ كر خاموش نہیں رہ سكتے تھے ۔
لڑكیوں نے حضرت موسى علیہ السلام سے جواب میں كہا :” ہم اس وقت تك اپنى بھیڑوں كو پانى نہیں پلاسكتے، جب تك تمام چرواہے اپنے حیوانات كو پانى پلاكر نكل نہ جائیں ”
_( سورہ قصص آیت 24)
ان لڑكیوں نے اس بات كى وضاحت كے لئے كہ ان باعفت لڑكیوں كے باپ نے انھیں تنہا اس كام كے لئے كیوں بھیج دیا ہے یہ بھى اضافہ كیا كہ ہمارا باپ نہ آیت ضعیف العمرہے ۔
نہ تو اس میں اتنى طاقت ہے كہ بھیڑوں كو پانى پلاسكے اور نہ ہمارا كوئی بھائی ہے جو یہ كام كرلے اس خیال سے كہ كسى پر بارنہ ہوں ہم خود ہى یہ كام كرتے ہیں ۔
حضرت موسى علیہ السلام كو یہ باتیں سن كر بہت كوفت ہوئی اور دل میں كہا كہ یہ كیسے بے انصاف لوگ ہیں كہ انھیں صرف اپنى فكر ہے اور كسى مظلوم كى ذرا بھى پرواہ نہیں كرتے ۔
وہ آگے آئے ،بھارى ڈول اٹھایا اور اسے كنوئیں میں ڈالا، كہتے ہیں كہ وہ ڈول اتنا بڑا تھا كہ چند آدمى مل كر اسے كھینچ سكتے تھے لیكن حضرت موسى علیہ السلام نے اپنے قوى بازوئوں سے اسے اكیلے ہى كھینچ لیا اور ان دونوں عورتوں كى بھیڑوں كو پانى پلادیا ”_
( سورہ قصص آیت 24)
بیان كیا جاتاہے كہ جب حضرت موسى علیہ السلام كنویں كے قریب آئے اورلوگوں كو ایك طرف كیا تو ان سے كہا:” تم كیسے لوگ ہو كہ اپنے سوا كسى اور كى پرواہ ہى نہیں كرتے ”۔
یہ سن كر لوگ ایك طرف ہٹ گئے اور ڈول حضرت موسى كے حوالے كركے بولے :
” لیجئے، بسم اللہ، اگرآپ پانى كھینچ سكتے ہیں ،انھوں نے حضرت موسى علیہ السلام كو تنہاچھوڑ دیا،لیكن حضرت موسى علیہ السلام اس وقت اگرچہ تھكے ہوئے تھے،اور انھیں بھوك لگ رہى تھى مگر قوت ایمانى ان كى مدد گار ہوئی ، جس نے ان كى جسمانى قوت میں اضافہ كردیا اور كنویں سے ایك ہى ڈول كھینچ كر ان دنوں عورتوں كى بھیڑوں كو پانى پلادیا ۔
اس كے بعد حضرت موسى علیہ السلام سائے میں آبیٹھے اور بارگاہ ایزدى میں عرض كرنے لگے :” خداوند اتو مجھے جو بھى خیراور نیكى بخشے ، میں اس كا محتاج ہوں ”_
( سورہ قصص آیت 24)
حضرت موسى علیہ السلام
( اس وقت ) تھكے ہوئے اور بھوكے تھے اس شہر میں اجنبى اور تنہاتھے اور ان كے لیے كو ئی سرچھپانے كى جگہ بھى نہ تھى مگر پھر بھى وہ بے قرار نہ تھے آپ كا نفس ایسا مطمئن تھا كہ دعا كے وقت بھى یہ نہیں كہا كہ” خدایا تو میرے لیے ایسا یاویسا كر” بلكہ یہ كہا كہ : تو جو خیر بھى مجھے بخشے میں اس كا محتاج ہوں ” ۔
یعنى صرف اپنى احتیاج اور نیاز كو عرض كرتے ہیں اور باقى امور الطاف خداوندى پر چھوڑدیتے ہیں ۔
لیكن دیكھو كہ كار خیر كیا قدرت نمائی كرتا ہے اور اس میں كتنى عجیب بركات ہیں صرف ”لوجہ اللہ” ایك قدم اٹھانے اور ایك نا آشنا مظلوم كى حم آیت میں كنویں سے پانى كے ایك ڈول كھیچنے سے حضرت موسى كی زندگى میں ایك نیاباب كھل گیا اور یہ عمل خیران كے لیے بركات مادى اور روحانى دنیا بطور تحفہ لایا اور وہ ناپیدا نعمت
(جس كے حصول كےلئے انھیں برسوں كوشش كرنا پڑتى ) اللہ نے انھیں بخش دى حضرت موسى علیہ السلام كے لئے خوش نصیبى كا دور اس وقت شروع ہوا جب انھوں نے یہ دیكھا كہ ان دونوں بہنوں میں سے ایك نہ آیت حیاسے قدم اٹھاتى ہوئی آرہى ہے اس كى وضع سے ظاہر تھا كہ اسكوایك جوان سے باتیں كرتے ہوئے شرم آتى ہے وہ لڑكى حضرت موسى علیہ السلام كے قریب آئی اور صرف ایك جمكہ كہا : میرے والد صاحب آپ كو بلاتے ہیں تاكہ آپ نے ہمارى بكریوں كے لئے كنویں سے جو پانى كھینچا تھا ، اس كا معاوضہ دیں ”_( سورہ قصص آیت 25)
یہ سن كر حضرت موسى علیہ السلام كے دل میں امید كى بجلى چمكى گویاانھیں یہ احساس ہوا كہ ان كے لئے ایك عظیم خوش نصیبى كے اسباب فراہم ہورہے ہیں وہ ایك بزرگ انسان سے ملیں گے وہ ایك ایسا حق شناس انسان معلوم ہوتا ہے جو یہ بات پسند نہیں كرتا كہ انسان كى كسى زحمت كا، یہاں تك كہ پانى كے ایك ڈول كھیچنے كا بھى معاوضہ نہ دے یہ ضرور كوئی ملكوتى اور الہى انسان ہوگا یا اللہ یہ كیسا عجیب اور نادر موقع ہے ؟
بیشك وہ پیر مرد حضرت شعیب علیہ السلام پیغمبر تھے انہوں نے برسوں تك اس شہر كے لوگوں كو” رجوع الى اللہ”كى دعوت دى تھى وہ حق پرستى اور حق شناسى كا نمونہ تھے ۔
جب انھیں كل واقعے كا علم ہوا تو انھوں نے تہیہ كرلیا كہ اس اجنبى جوان كو اپنے دین كى تبلیغ كریں گے ۔
حضرت موسى علیہ السلام جناب شعیب علیہ السلام كے گھر میں
چنانچہ حضرت موسى علیہ السلام اس جگہ سے حضرت شعیب كے مكان كى طرف روانہ ہوئے ۔
بعض روایات كے مطابق وہ لڑكى رہنمائی كے لئے ان كے آگے چل رہى تھى اور حضرت موسى علیہ السلام اس كے پیچھے چل رہے تھے اس وقت تیز ہوا سے اس لڑكى كا لباس اڑرہا تھا اور ممكن تھا كہ ہوا كى تیزی لباس كو اس كے جسم سے اٹھادے حضرت موسى علیہ السلام كى پاكیزہ طبیعت اس منظر كو دیكھنے كى اجازت نہیں دیتى تھی،اس لڑكى سے كہا:میں آگے آگے چلتا ہوں ،تم راستہ بتاتے رہنا۔
جب جناب موسى علیہ السلام حضرت شعیب علیہ السلام كے گھر پہنچ گئے ایسا گھر جس سے نور نبوت ساطع تھا اور اس كے ہر گوشے سے روحانیت نمایاں تھى انھوں نے دیكھا كہ ایك پیر مرد، جس كے بال سفید ہیں ایك گوشے میں بیٹھا ہے اس نے حضرت موسى علیہ السلام كو خوش آمدید كہا اور پوچھا:
” تم كون ہو ؟ كہاں سے آرہے ہو ؟ كیا مشغلہ ہے ؟ اس شہر میں كیا كرتے ہو ؟ اور آنے كا مقصد كیا ہے ؟ تنہا كیوں ہو ؟
حضرت موسى علیہ السلام نے حضرت شعیب علیہ السلام كے پاس پہنچے اور انھیں اپنى سرگزشت سنائی تو حضرت شعیب علیہ السلام نے كہا مت ڈرو، تمہیں ظالموں كے گروہ سے نجات مل گئی ہے _”
(سورہ قصص آیت 25)
ہمارى سرزمین ان كى حدود سلطنت سے باہر ہے یہاں ان كا كوئی اختیار نہیں چلتا اپنے دل میں ذرہ بھر پریشانى كو جگہ نہ دینا تم امن وامان سے پہنچ گئے ہو مسافرت اور تنہائی كا بھى غم نہ كرو یہ تمام مشكلات خدا كے كرم سے دور ہوجائیں گى ۔حضرت مو سى علیہ السلام فورا ًسمجھ گئے كہ انھیں ایك عالى مرتبہ استاد مل گیا ہے، جس كے وجود سے روحانیت ، تقوى ، معرفت اور زلال عظیم كے چشمے پھوٹ رہے ہیں اور یہ استاد ان كى تشنگى تحصیل علم ومعرفت كو سیراب كرسكتا ہے ۔
حضرت شعیب علیہ السلام نے بھى یہ سمجھ لیا كہ انھیں ایك لائق اور مستعد شاگرد مل گیا ہے، جسے وہ اپنے علم ودانش اور زندگى بھر كے تجربات سے فیض یاب كرسكتے ہیں ۔
یہ مسلم ہے كہ ایك شاگرد كو ایك بزرگ اور قابل استاد پاكر جتنى مسرت ہوتى ہے استاد كو بھى ایك لائق شاگرد پاكر اتنى ہى خوشى ہوتى ہے۔
جناب موسى علیہ السلام حضرت شعیب علیہ السلام كے داماد بن گئے
اب حضرت موسى علیہ السلام كى زندگى كے چھٹے دور كا ذكر شروع ہوتا ہے حضرت موسى علیہ السلام جناب شعیب علیہ السلام كے گھر آگئے یہ ایك سادہ سادیہاتى مكان تھا، مكان صاف ستھرا تھا اور روحانیت سے معمور تھا جب حضرت موسى علیہ السلام نے جناب شعیب علیہ السلام كو اپنى سرگزشت سنائی تو ان كى ایك لڑكى نے ایك مختصر مگر پر معنى عبارت میں اپنے والد كے سامنے یہ تجویز پیش كى كہ موسى علیہ السلام كو بھیڑوں كى حفاظت كے لئے ملازم ركھ لیں وہ الفاظ یہ تھے :
اے بابا : آپ اس جوان كو ملازم ركھ لیں كیونكہ ایك بہترین آدمى جسے آپ ملازم ركھ سكتے ہیں وہ ایسا ہونا چاہئے جو قوى اور امین ہو اور اس نے اپنى طاقت اور نیك خصلت دونوں كا امتحان دے دیا ہے”
_( سورہ قصص آیت 26)
جس لڑكى نے ایك پیغمبر كے زیرسایہ تربیت پائی ہوا سے ایسى ہى مو دبانہ اور سوچى سمجھى بات كہنى چاہئے نیز چاہئے كہ مختصر الفاظ اور تھوڑى سى عبارت میں اپنا مطلب ادا كردے ۔
اس لڑكى كو كیسے معلوم تھا كہ یہ جوان طاقتور بھى ہے اور نیك خصلت بھى كیونكہ اس نے پہلى باركنویں پر ہى اسے دیكھا تھا اور اس كى گزشتہ زندگى كے حالات سے وہ بے خبر تھی؟
اس سوال كا جواب واضح ہے اس لڑكى نے اس جوان كى قوت كو تو اسى وقت سمجھ لیا تھا جب اس نے ان مظلوم لڑكیوں كا حق دلانے كے لئے چرواہوں كو كنویں سے ایك طرف ہٹایا تھا اور اس بھارى ڈول كو اكیلے ہى كنویں سے كھینچ لیا تھا اور اس كى امانت اور نیك چلنى اس وقت معلوم ہوگئی تھى كہ حضرت شعیب علیہ السلام كے گھر كى راہ میں اس نے یہ گوارا نہ كیا كہ ایك جوان لڑكى اس كے آگے آگے چلے كیونكہ ممكن تھا كہ تیز ہوا سے اس كا لباس جسم سے ہٹ جائے ۔
علاوہ بریں اس نوجوان نے اپنى جو سرگزشت سنائی تھى اس كے ضمن میں قبطیوں سے لڑائی كے ذكر میں اس كى قوت كا حال معلوم ہوگیا تھا اور اس امانت ودیانت كى یہ شہادت كافى تھى كہ اس نے ظالموں كى ہم نوائی نہ كى اور ان كى ستم رانى پر اظہار رضا مندى نہ كیا ۔
حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنى بیٹى كى تجویز كو قبول كرلیا انھوں نے موسى علیہ السلام كى طرف رخ كركے یوں كہا :”میرا ارادہ ہے كہ اپنى ان دولڑكیوں میں سے ایك كا تیرے ساتھ نكاح كردوں ، اس شرط كے ساتھ كہ تو آٹھ سال تك میرى خدمت كرے ”_
( سورہ قصص آیت 27)
اس كے بعد یہ اضافہ كیا:” اگر تو آٹھ سال كى بجائے یہ خدمت دس سال كردے تو یہ تیرا احسان ہوگا مگر تجھ پر واجب نہیں ہے :”
(سورہ قصص آیت 27)
بہرحال میں یہ نہیں چاہتا كہ تم سے كوئی مشكل كام لوں انشاء اللہ تم جلد دیكھو گے كہ میں صالحین میں سے ہوں ، اپنے عہدوپیمان میں وفادار ہوں تیرے ساتھ ہرگز سخت گیرى نہ كروں گا اور تیرے ساتھ خیراور نیكى كا سلوك كروں گا
_( سورہ قصص آیت 27)
حضرت موسى علیہ السلام نے اس تجویزاور شرط سے موافقت كرتے ہوئے اور عقد كو قبول كرتے ہوئے كہا : ” میرے اور آپ كے درمیان یہ عہد ہے ” ۔البتہ” ان دومدتوں میں سے (آٹھ سال یا دس سال ) جس مدت تك بھى خدمت كروں ، مجھ پر كوئی زیادتى نہ ہوگى اور میں اس كے انتخاب میں آزاد ہوں ”
۔(سورہ قصص آیت 28)
عہد كو پختہ اور خدا كے نام سے طلب مدد كے لئے یہ اضافہ كیا : ”جو كچھ ہم كہتے ہیں خدا اس پر شاہد ہے ”_( سورہ قصص آیت 28)
اوراس اسانى سے موسى علیہ السلام داماد شعیب علیہ السلام بن گئے حضرت شعیب علیہ السلام كى لڑكیوں كا نام ” صفورہ ”( یا صفورا ) اور ” لیا ”بتایا جاتاہے حضرت موسى علیہ السلام كى شادى ” صفورہ ” سے ہوئی تھى ۔
حضرت موسى علیہ السلام كى زندگى كے بہترین ایام
كوئی آدمى بھى حقیقتاً یہ نہیں جانتا كہ ان دس سال میں حضرت موسى علیہ السلام پر كیا گزرى لیكن بلاشك یہ دس سال حضرت موسى علیہ السلام كى زندگى كے بہترین سال تھے یہ سال دلچسپ، شیریں اور آرام بخش تھے نیز یہ دس سال ایك منصب عظیم كى ذمہ دارى كے لئے تربیت اور تیارى كے تھے ۔
درحقیقت اس كى ضرورت بھى تھى كہ موسى علیہ السلام دس سال كا عرصہ عالم مسافرت اور ایك بزرگ پیغمبر كى صحبت میں بسر كریں اور چرواہے كاكام كریں تاكہ ان كے دل ودماغ سے محلول كى ناز پروردہ زندگى كا اثر بالكل محوہوجائے حضرت موسى كو اتنا عرصہ جھونپڑیوں میں رہنے والوں كے ساتھ گزارنا ضرورى تھا تاكہ ان كى تكالیف اور مشكلات سے آگاہ ہوجائے اور ساكنان محلول كے ساتھ جنگ كرنے كے لئے آمادہ ہوجائیں ۔
ایك اور بات یہ بھى ہے كہ حضرت موسى علیہ السلام كو اسرار آفرینش میں غور كرنے اور اپنى شخصیت كى تكمیل كے لئے بھى ایك طویل وقت كى ضرورت تھى اس مقصد كے لئے بیابان مدین اور خانہ شعیب سے بہتر اور كو نسى جگہ ہوسكتى تھى ۔
ایك اولوالعزم پیغمبر كى بعثت كوئی معمولى بات نہیں ہے كہ یہ مقام كسى كو نہ آیت آسانى سے نصیب ہوجائے بلكہ یہ كہہ سكتے ہیں كہ پیغمبر اسلام ﷺ كے بعد تمام پیغمبروں میں سے حضرت موسى علیہ السلام كى ذمہ دارى ایك لحاظ سے سب سے زیادہ اہم تھى اس لئے كہ :
روئے زمین كے ظالم ترین لوگوں سے مقابلہ كرنا، ایك كثیر الا فراد قوم كى مدت اسیرى كو ختم كرنا ۔
اور ان كے اندر سے ایام اسیرى میں پیدا ہوجانے والے نقائص كو محو كرنا كوئی آسان كام نہیں ہے ۔
حضرت شعیب علیہ السلام نے موسى علیہ السلام كى مخلصانہ خدمات كى قدر شناسى كے طور پر یہ طے كرلیا تھا كہ بھیڑوں كے جو بچے ایك خاص علامت كے ساتھ پیداہوں گے، وہ موسى علیہ السلام كو دیدیں گے،اتفاقاًمدت مو عود كے آخرى سال میں جبكہ موسى علیہ السلام حضرت شعیب علیہ السلام سے رخصت ہو كر
مصر كو جانا چاہتے تھے تو تمام یا زیادہ تر بچے اسى علامت كے پیدا ہوئے اور حضرت شعیب علیہ السلام نے بھى انھیں بڑى محبت سے موسى علیہ السلام كو دےدیا
یہ امر بدیہى ہے كہ حضرت موسى علیہ السلام اپنى سارى زندگى چرواہے بنے رہنے پر قناعت نہیں كرسكتے تھے ہر چند ان كے لئے حضرت شعیب علیہ السلام كے پاس رہنا بہت ہى غنیمت تھا مگر وہ اپنا یہ فرض سمجھتے تھے كہ اپنى اس قوم كى مدد كے لئے جائیں جو غلامى كى زنجیروں میں گرفتارہے اور جہالت نادانى اور بے خبرى میں غرق ہے ۔
حضرت موسى علیہ السلام اپنا یہ فرض بھى سمجھتے تھے كہ مصر میں جو ظلم كا بازار گرم ہے اسے سرد كریں ،طاغوتوں كو ذلیل كریں اور توفیق الہى سے مظلوموں كو عزت بخشیں ان كے قلب میں یہى احساس تھا جو انھیں مصر جانے پر آمادہ كررہا تھا ۔
آخركار انھوں نے اپنے اہل خانہ، سامان واسباب اور اپنى بھیڑوں كو ساتھ لیا اوراس وقت موسى علیہ السلام كے ساتھ ان كى زوجہ كے علاوہ ان كا لڑكا یا كوئی اور اولاد بھى تھی، اسلامى روایات سے بھى اس كى تائید ہوتى ہے تو ریت كے ” سفر خروج ” میں بھى ذكر مفصل موجود ہے علاوہ ازیں اس وقت ان كى زوجہ امید سے تھى ۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: