حضرت موسى علیہ السلام -3

گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صرف تیرا ہى دودھ كیوں پیا
جس وقت حضرت موسى علیہ السلام ماں كا دودھ پینے لگے،فرعون كے وزیر ہامان نے كہا: مجھے لگتا ہے كہ تو ہى اسكى ماں ہے۔بچے نے ان تمام عورتوں میں سے صرف تیرا ہى دودھ كیوں قبول كرلیا؟
ماں نے كہا:اس كى وجہ یہ ہے كہ میں ایسى عورت ہوں جس كے دودھ میں سے خوشبو آتى ہے۔میرا دودھ نہ آیت شیریں ہے۔اب تك جو بچہ بھى مجھے سپرد كیا گیا ہے۔وہ فوراً ہى میرا دودھ پینے لگتا ہے۔
حاضرین دربار نے اس قول كى صداقت كو تسلیم كرلیا اور ہر ایك نے حضرت موسى علیہ السلام كى ماں كو گراں بہا ہدیے اور تحفے دیے۔
ایك روایت  سے مروى ہے اس میں منقول ہے كہ:”تین دن سے زیادہ كا عرصہ نہ گزرا تھا كہ خدانے كے بچے كواس كى ماں كے پاس لوٹا دیا”۔
بعض اہل دانش كا قول ہے كہ حضرت موسى علیہ السلام كے لیے یہ’
‘تحریم تكوینی”(یعنى دوسرى عورتوں كا حرام كیا جانا)اس سبب سے تھاكہ خدا یہ نہیں چاہتا تھا كہ میرا فرستادہ پیغمبر ایسا دودھ پیئے جو حرام سے آلودہ ہو اور ایسا مال كھاكے بنا ہو جو چوری،نا جائز ذرائع،رشوت اور حق الناس كو غصب كركے حاصل كیا گیا ہو۔
خدا كى مشیت یہ تھى كہ حضرت موسى علیہ السلام اپنى صالحہ ماں كے پاك دودھ سے غذا حاصل كریں _تاكہ وہ اہل دنیا كے شر كے خلاف ڈٹ جائیں اور اہل شروفساد سے نبردآزمائی كرسكیں ۔
”ہم نے اس طرح موسى علیہ السلام كو اس كى ماں كے پاس لوٹا دیا_تاكہ اس كى آنكھیں روشن ہوجائیں اور اس كے دل میں غم واندوہ باقى نہ رہے اور وہ یہ جان لے كہ خدا كا وعدہ حق ہے۔اگر چہ اكثر لوگ یہ نہیں جانتے”
_( سورہ قصص آیت 13)
اس مقام پر ایك سوال پیدا ہوتا ہے اور وہ یہ ہے كہ:كیا وابستگان فرعون نے موسى علیہ السلام كو پورے طور سے ماں كے سپرد كردیا تھا كہ وہ اسے گھر لے جائے اور دودھ پلایا كرے اور دوران رضاعت روزانہ یا كبھى كبھى بچے كو محل میں لایا كرے تا كہ ملكہ مصر اسے دیكھ لیا كرے یا یہ كہ بچہ محل ہى میں رہتا تھا اور موسى علیہ السلام كى ماں معین اوقات میں آكر اسے دودھ پلاجاتى تھی؟
مذكورہ بالا دونوں احتمالات كے لیے ہمارے پاس كوئی واضح دلیا نہیں ہے۔لیكن احتمال اول زیادہ قرین قیاس ہے۔
ایك اور سوال یہ ہے كہ:
آیا عرصہ شیر خوارگى كے بعد حضرت موسى علیہ السلام فرعون كے محل میں چلے گئے یا ان كا تعلق اپنى ماں اور خاندان كے ساتھ باقى رہا اور محل سے وہاں آتے جاتے رہے؟
اس مسئلے كے متعلق بعض صاحبان نے یہ كہا ہے كہ شیر خوار گى كے بعد آپ كى ماں نے انھیں فرعون اور اس كى بیوى آسیہ كے سپرد كردیا تھا اور حضرت موسى علیہ السلام ان دونوں كے پاس پرورش پاتے رہے۔
اس ضمن میں راویوں نے فرعون كے ساتھ حضرت موسى علیہ السلام كى طفلانہ
(مگر با معنى )باتوں كا ذكر كیا ہے كہ اس مقام پر ہم ان كو بعذر طول كلام كے پیش نظر قلم انداز كرتے ہیں ۔لیكن فرعون كا یہ جملہ جے اس نے بعثت موسى علیہ السلام كے بعد كہا:
”كیا ہم نے تجھے بچپن میں پرورش نہیں كیا اور كیا تو برسوں تك ہمارے درمیان نہیں رہا”
_( سورہ شعراء آیت 18)
اس جملے سے معلوم ہوتا ہے كہ جناب موسى علیہ السلام چند سال تك فرعون كے محل میں رہتے تھے۔
على ابن ابراھیم كى تفسیر سے استفادہ ہوتا ہے كہ حضرت موسى علیہ السلام تازمانہ بلوغ فرعون كے محل میں نہ آیت احترام كے ساتھ رہے_مگر ان كى توحید كے بارے میں واضح باتیں فرعون كو سخت ناگوار ہوتى تھیں ۔
یہاں تك كہ اس نے انھیں قتل كرنے كا ارادہ كرلیا۔حضرت موسى علیہ السلام اس خطرے كو بھاپ گئے اوربھاگ كر شہر میں آگئے۔یہاں وہ اس واقعے سے دوچار ہوئے كہ دو آدمى لڑرہے تھے جن میں سے ایك قبطى اور ایك سبطى تھا
_( اس واقعہ كى تفصیل آئندہ آئے گی)
موسى علیہ السلام مظلوموں كے مددگار كے طورپر
اب ہم حضرت موسى علیہ السلام كى نشیب و فراز سے بھرپور زندگى كے تیسرے دور كو ملاحظہ كر تے ہیں ۔
اس دور میں ان كے وہ واقعات ہیں جو انھیں دوران بلوغ اور مصر سے مدین كو سفر كرنے سے پہلے پیش آئے اور یہ وہ اسباب ہیں جو ان كى ہجرت كا باعث ہوئے۔
”بہر حال حضرت موسى علیہ السلام شہر میں اس وقت داخل ہوئے جب تمام اہل شہر غافل تھے”
_( سورہ قصص آیت 18)
یہ واضح نہیں ہے كہ یہ كونسا شہر تھا_لیكن احتمال قوى یہ ہے كہ یہ مصر كا پایہ تخت تھا۔بعض لوگوں كا قول ہے كہ حضرت موسى علیہ السلام كو اس مخالفت كى وجہ سے جو ان میں فوعون اور اس كے وزراء میں تھى اور بڑھتى جارہى تھی،مصر كے پایہ تخت سے نكال دیا گیا تھا۔مگر جب لوگ غفلت میں تھے ۔موسى علیہ السلام كو موقع مل گیا اور وہ شہر میں آگئے۔
اس احتمال كى بھى گنجائش  ہے كہ حضرت موسى علیہ السلام فرعون كے محل سے نكل كر شہر میں آئے ہوں كیونكہ عام طور پر فرعونیوں كے محلات شہر كے ایك كنارے پر ایسى جگہ بنائے جاتے تھے جہاں سے وہ شہر كى طرف آمدورفت كے راستوں كى نگرانى كرسكیں ۔
شہر كے لوگ اپنے مشاغل معمول سے فارغ ہوچكے تھے اور كوئی بھى شہر كى حالت كى طرف متوجہ نہ تھا۔مگر یہ كہ وہ وقت كونسا تھا؟بعض كا خیال ہے كہ”ابتدائے شب”تھی،جب كہ لوگ اپنے كاروبار سے فارغ ہوجاتے ہیں ،ایسے میں كچھ تو اپنے اپنے گھروں كى راہ لیتے ہیں _كچھ تفریح اور رات كوبیٹھ كے باتیں كرنے لگتے ہیں ۔
بہر كیف حضرت موسى علیہ السلام شہر میں آئے اور وہاں ایك ماجرے سے دوچار ہوئے دیكھا :” دو آدمى آپس میں بھڑے ہوئے ہیں اور ایك دوسرے كو مار رہے ہیں _ان میں سے ایك حضرت موسى علیہ السلام كا طرف دار اور ان كا پیرو تھا اور دوسراان كا دشمن تھا”
_( سورہ قصص آیت 15)
كلمہ ”شیعتہ” اس امر كا غماز ہے كہ جناب موسى علیہ السلام اور بنى اسرائیل میں اسى زمانے سے مراسم ہوگئے تھے اور كچھ لوگ ان كے پیرو بھى تھے احتمال یہ ہوتا ہے كہ حضرت موسى علیہ السلام اپنے مقلدین اور شیعوں كى روح كو فرعون كى جابرانہ حكومت كے خلاف لڑنے كے لئے بطور ایك مركزى طاقت كے تیار كررہے تھے ۔
جس وقت بنى اسرائیل كے اس آدمى نے موسى علیہ السلام كو دیكھا:” تو ان سے اپنے ،دشمن كے مقابلے میں امداد چاہی”
۔(سورہ قصص آیت 15)
حضرت موسى علیہ السلام اس كى مدد كرنے كےلئے تیار ہوگئے تاكہ اسے اس ظالم دشمن كے ہاتھ سے نجات دلائیں بعض علماء كا خیال ہے كہ وہ قبطى فرعون كا ایك باورچى تھا اور چاہتاتھا كہ اس بنى اسرائیل كو بیكار میں پكڑكے اس سے لكڑیاں اٹھوائے” حضرت موسى علیہ السلام نے اس فرعونى كے سینے پر ایك مكامارا وہ ایك ہى مكے میں مرگیا اور زمین پر گر پڑا ”
_( سورہ قصص آیت 15)
اس میں شك نہیں كہ حضرت موسى كا اس فرعونى كو جان سے ماردینے كا ارادہ نہ تھا قرآن سے بھى یہ خوب واضح ہوجاتاہے ایسا اس لئے نہ تھا كہ وہ لوگ مستحق قتل نہ تھے بلكہ انھیں ان نتائج كا خیال تھا جو خود حضرت موسى اور بنى اسرائیل كو پیش آسكتے تھے ۔
لہذا حضرت موسى علیہ السلام نے فوراً كہا:” كہ یہ كام شیطان نے كرایا ہے كیونكہ وہ انسانوں كا دشمن اور واضح گمراہ كرنے والاہے ”
_( سورہ قصص آیت 15)
اس واقعے كى دوسرى تعبیر یہ ہے كہ حضرت موسى علیہ السلام چاہتے تھے كہ بنى اسرئیلى كا گریبان اس فرعونى كے ہاتھ سے چھڑا دیں ہر چند كہ وابستگان فرعون اس سے زیادہ سخت سلوك كے مستحق تھے لیكن ان حالات میں ایسا كام كر بیٹھنا قرین مصلحت نہ تھا اور جیسا كہ ہم آگے دیكھیں گے كہ حضرت موسى اسى عمل كے نتیجے میں پھر مصر میں نہ ٹھہرسكے اور مدین چلے گئے ۔
پھر قرآن میں حضرت موسى علیہ السلام كا یہ قول نقل كیا گیا ہے اس نے كہا:”پروردگار امیں نے اپنے اوپر ظلم كیا تو مجھے معاف كردے ،اور خدا نے اسے بخش دیا كیونكہ وہ غفورو رحیم ہے ”
_( سورہ قصص آیت 15)
یقینا حضرت موسى علیہ السلام اس معاملے میں كسى گناہ كے مرتكب نہیں ہوئے بلكہ حقیقت میں ان سے ترك اولى سرزد ہوا كیونكہ انہیں ایسى بے احتیاطى نہیں كرنى چاہیئے تھى جس كے نتیجے میں وہ زحمت میں مبتلا ہوں حضرت موسى نے اسى ترك اولى كے لئے خدا سے طلب عفو كیا اور خدا نے بھى انھیں اپنے لطف وعن آیت سے بہرہ مند كیا ۔
حضرت موسى علیہ السلام نے كہا: خداوندا تیرے اس احسان كے شكرانے میں كہ تونے میرے قصور كو معاف كردیا اور دشمنوں كے پنجے میں گرفتار نہ كیا اور ان تمام نعمتوں كے شكریہ میں جو مجھے ابتداء سے اب تك مرحمت كرتا رہا،میں عہد كرتا ہوں كہ ہر گز مجرموں كى مدد نہ كروں گا اور ظالموں كا طرف دار نہ ہوں گا ”
_( سورہ قصص آیت 17)
بلكہ ہمیشہ مظلومین اور ستم دیدہ لوگوں كا مددگارر ہوں گا _(مفسرین نے ، اس قبطى اور بنى اسرائیل كى باہمى نزاع اور حضرت موسى كے ہاتھ سے مرد قبطى كے مارے جانے كے بارے میں بڑى طویل بحثیں كى ہیں _)
موسى علیہ السلام كى مخفیانہ مدین كى طرف روانگی
فرعونیوں میں سے ایك آدمى كے قتل كى خبر شہر میں بڑى تیزى سے پھیل گئی قرائن سے شاید لوگ یہ سمجھ گئے تھے كہ اس كا قائل ایك بنى اسرائیل ہے اور شاید اس سلسلے میں لوگ موسى علیہ السلام كا نام بھى لیتے تھے۔
البتہ یہ قتل كوئی معمولى بات نہ تھى اسے انقلاب كى ایك چنگارى یا اس كا مقدمہ شمار كیا جاتاتھا اور درحقیقت یہ معاملہ كوئی اہم اور بحث طلب تھا ہى نہیں كیونكہ ستم پسند وابستگان فرعون نہ آیت بے رحم اور مفسد تھے انہوں نے بنى اسرائیل كے ہزاروں بچوں كے سرقلم كیے اور بنى اسرائیل پر كسى قسم كا ظلم كرنے سے بھى دریغ نہ كیا اس جہت سے یہ لوگ اس قابل نہ تھے كہ بنى اسرائیل كےلئے ان كا قتل احترام انسانیت كے خلاف ہو ۔
البتہ مفسرین كے لئے جس چیزنے دشواریاں پیدا كى ہیں وہ اس واقعے كى وہ مختلف تعبیرات ہیں جو خود حضرت موسى نے كى ہیں چنانچہ وہ ایك جگہ تو یہ كہتے ہیں :
”ھذا من عمل الشیطان ” ”یہ شیطانى عمل ہے ”۔
اور دوسرى جگہ یہ فرمایا:
”رب انى ظلمت نفسى فاغفرلى ” ”خدایامیں نے اپنے نفس پر ظلم كیا تو مجھے معاف فرمادے ”۔
جناب موسى علیہ السلام كى یہ دونوں تعبیرات اس مسلمہ حقیقت سے كیونكر مطابقت ركھتى ہیں كہ :
عصمت انبیا ء كا مفہوم یہ ہے كہ انبیا ء ماقبل بعثت اور ما بعد عطائے رسالت ہر دو حالات میں معصوم ہوتے ہیں ” ۔
لیكن حضرت موسى علیہ السلام كے اس عمل كى جو توضیح ہم نے آیات فوق كى روشنى میں پیش كى ہے ، اس سے ثابت ہوتا ہے كہ حضرت موسى سے جو كچھ سرزد ہوا وہ ترك اولى سے زیادہ نہ تھا انھوں نے اس عمل سے اپنے آپ كو زحمت میں مبتلاكرلیا كیونكہ حضرت موسى كے ہاتھ سے ایك قبطى كا قتل ایسى بات نہ تھى كہ وابستگان فرعون اسے آسانى سے برداشت كرلیتے۔
نیز ہم جانتے ہیں كہ ”ترك اولى ”كے معنى ایسا كام كرنا ہے جو بذات خود حرام نہیں ہے۔بلكہ اس كا مفہوم یہ ہے كہ ”عمل احسن ”ترك ہوگیا بغیر اس كے كہ كوئی عمل خلاف حكم الہى سرزد ہوا ہو؟
حكومت كى مشینرى اسے ایك معمولى واقعہ سمجھ كراسے چھوڑنے والى نہ تھى كہ بنى اسرائیل كے غلام اپنے آقائوں كى جان لینے كا ارادہ كرنے لگیں ۔
لہذا ہم قرآن میں یہ پڑھتے ہیں كہ” اس واقعے كے بعد موسى شہر میں ڈررہے تھے اور ہر لحظہ انہیں كسى حادثے كا كھٹكا تھا اور وہ نئی خبروں كى جستجو میں تھے ”
_( سورہ قصص آیت 15)
ناگہاں انہیں ایك معاملہ پیش آیا آپ نے دیكھا كہ وہى بنى اسرائیلى جس نے گزشتہ روز ان سے مدد طلب كى تھى انھیں پھر پكاررہا تھا اور مدد طلب كررہاتھا
(وہ ایك اور قبطى سے لڑرہا تھا) ۔
”لیكن حضرت موسى علیہ السلام نے اس سے كہا كہ تو آشكارا طور پر ایك جاہل اور گمراہ شخص ہے”
_( سورہ قصص آیت 16)
توہر روز كسى نہ كسى سے جھگڑ پڑتا ہے اور اپنے لئے مصیبت پیدا كرلیتا ہے اور ایسے كام شروع كردیتا ہے جن كا ابھى موقع ہى نہیں تھا كل جو كچھ گزرى ہے میں تو ابھى اس كے عواقب كا انتظار كرہا ہوں اور تونے وہى كام از سر نو شروع كردیا ہے ۔
بہر حال وہ ایك مظلوم تھا جو ایك ظالم كے پنجے میں پھنسا ہو تھا
( حواہ ابتداء اس سے كچھ قصور ہوا ہو یانہ ہوا ہو ) اس لئے حضرت موسى كے لئے یہ ضرورى ہوگیا كہ اس كى مدد كریں اور اسے اس قبطى كے رحم وكرم پر نہ چھوڑدیں لیكن جیسے ہى حضرت موسى نے یہ اراداہ كیا كہ اس قبطى آدمى كو (جو ان دونوں كا دشمن تھا )پكڑ كر اس بنى اسرائیل سے جدا كریں وہ قبطى چلایا، اس نے كہا :
اے موسى : كیا تو مجھے بھى اسى طرح قتل كرنا چاہتا ہے جس طرح تو نے كل ایك شخص كو قتل كیا تھا”
_( سورہ قصص آیت 19)”تیرى حركات سے تو ایسا ظاہر ہوتا ہے كہ تو زمین پر ایك ظالم بن كررہے گا اور یہ نہیں چاہتا كہ مصلحین میں سے ہو ”_( سورہ قصص آیت 19)
اس جملے سے یہ معلوم ہوتا ہے كہ حضرت موسى علیہ السلام نے فرعون كے محل اور اس كے باہر ہر دو جگہ اپنے مصلحانہ خیالات كا اظہار شروع كردیا تھا بعض روایات سے یہ بھى معلوم ہوتا ہے كہ اس موضوع پر ان كے فرعون سے اختلافات بھى پیدا ہوگئے تھے اسى لئے تو اس قبطى آدمى نے یہ كہا :
یہ كیسى اصلاح طلبى ہے كہ تو ہر روز ایك آدمى كو قتل كرتاہے ؟
حالانكہ اگر حضرت موسى كا یہ ارادہ ہوتا كہ اس اس ظالم كو بھى قتل كردیں تو یہ بھى راہ اصلاح میں ایك قدم ہوتا ۔
بہركیف حضرت موسى كو یہ احساس ہوا كہ گزشتہ روز كا واقعہ طشت ازبام ہوگیا ہے اور اس خوف سے كہ اور زیادہ مشكلات پیدا نہ ہوں ، انھوں نے اس معاملے میں دخل نہ دیا ۔
حضرت موسى علیہ السلام كے لیے سزا ئے موت
اس واقعے كى فرعون اور اس كے اہل دربار كو اطلاع پہنچ گئی انھوں نے حضرت موسى سے اس عمل كے مكرر سرزد ہونے كو اپنى شان سلطنت كے لئے ایك تہدید سمجھا ۔وہ باہم مشورے كے لئے جمع ہوئے اور حضرت موسى كے قتل كا حكم صادر كردیا ۔
(جہاں فرعون اور اس كے اہل خانہ رہتے تھے)وہاں سے ایك شخص تیزى كے ساتھ حضرت موسى كے پاس آیا اور انھیں مطلع كیا كہ آپ كو قتل كرنے كا مشورہ ہورہا ہے ، آپ فورا شہرسے نكل جائیں ، میں آپ كا خیر خواہ ہوں _” (سورہ قصص آیت 19)
یہ آدمى بظاہر وہى تھا جو بعد میں ”مومن آل فرعون ”كے نام سے مشہور ہوا ،كہا جاتاہے كہ اس كا نام حزقیل تھا وہ فرعون كے قریبى رشتہ داروں میں سے تھا اور ان لوگوں سے اس كے ایسے قریبى روابط تھے كہ ایسے مشوروں میں شریك ہوتا تھا ۔
اسے فرعون كے جرائم اور اس كى كرتوتوں سے بڑا دكھ ہوتا تھا اور اس انتظار میں تھا كہ كوئی شخص اس كے خلاف بغاوت كرے اور وہ اس كار خیر میں شریك ہوجائے ۔
بظاہر وہ حضرت موسى علیہ السلام سے یہ آس لگائے ہوئے تھا اور ان كى پیشانى میں من جانب اللہ ایك انقلابى ہستى كى علامات دیكھ رہا تھا اسى وجہ سے جیسے ہى اسے یہ احساس ہوا كہ حضرت موسى خطرے میں ہیں ، نہ آیت سرعت سے ان كے پاس پہنچا اور انھیں خطرے سے بچالیا ۔
ہم بعد میں دیكھیں گے كہ وہ شخص صرف اسى واقعے میں نہیں ، بلكہ دیگر خطرناك مواقع پر بھى حضرت موسى كے لئے بااعتماد اور ہمدرد ثابت ہواحضرت موسى علیہ السلام نے اس خبر كو قطعى درست سمجھا اور اس ایماندار آدمى كى خیرخواہى كو بہ نگاہ قدر دیكھا اور اس كى نصیحت كے مطابق شہر سے نكل گئے_”اس وقت آپ خوف زدہ تھے اور ہر گھڑى انہیں كسى حادثے كا كھٹكا تھا ”_
( سورہ قصص آیت 21)
حضرت موسى علیہ السلام نے نہ آیت خضوع قلب كے ساتھ متوجہ الى اللہ ہوكر اس بلا كو ٹالنے كےلئے اس كے لطف وكرم كى درخواست كى :”اے میرے پروردگار : تو مجھے اس ظالم قوم سے رہائی بخش ”_
( سورہ قصص آیت 21)
میں جانتاہوں كہ وہ ظالم اور بے رحم ہیں میں تو مظلوموں كى مدافعت كررہاتھا اور ظالموں سے میرا كچھ تعلق نہ تھا اور جس طرح سے میں نے اپنى توانائی كے مطابق مظلوموں سے ظالموں كے شركو دور كیا ہے تو بھى اے خدائے بزرگ ظالموں كے شركو مجھ سے دور ركھ ۔
حضرت موسى علیہ السلام نے پختہ ارادہ كرلیا كہ وہ شہرمدین كو چلے جائیں یہ شہر شام كے جنوب اور حجاز كے شمال میں تھا اور قلم رو مصر اور فراعنہ كى حكومت میں شامل نہ تھا ۔

 

جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: