مکروہ : بارہواں حصّہ

گزشتہ سے پیوستہ
 جب گناہ و ثواب کا فرق مٹ جائے تو انسان کو بدلتے کیا دیر لگتی ہے۔محرم نا محرم کا فرق ہی مٹ گیا وہ وحشی بن گئے ۔بستیوں کی بستیاں اجڑ گئیں کوئی عورت اپنے گھر میں محفوظ نہ رہی امان صرف ان لوگوں کے لئے تھی جو قلعے میں تھے سو کئی لوگ قلعے میں جان بچانے کی غرض سے آگئے۔رات ہوتے ہی قلعے کے دروازے بند ہو جاتے پھر عورتوں کی چینخیں ہوتی یا قہقہے۔ شاہراہیں محفوظ تھیں نہ ہی کوئی گزرتا قافلہ مرد قتل اور عورتیں باندی بنا لی جاتیں۔مجرب کا سراغ ہی نہیں مل رہا تھا۔کش کے ناظم تک شکایات پہنچ رہی تھیں اور وہ بھی حالات سےبا خبر تھا ۔ ابن مقنع کی شرارتیں دیکھ کر بھی آنکھیں بند کئے بیٹھا تھا۔وہ ابن مقنع کو اپنی حکومت کے لئے خطرہ نہیں سمجھ رہا تھا سو خاموش رہا۔
ابن مقنع نے 2قلعے مزید تعمیر کروائے ،ایک کا نا م "وثیق "اور دوسرے کا نام "صیام”رکھا ۔صیام کے قلعے مین پہاڑی محل وقوع کا خیال رکھا گیا تھا۔یہ جگہ پر پیچ پہاڑیوں میں قائم کی گئی تھی۔کوئی معمولی فوج یہاں پہنچنے کا تصور بھی نہیں کر سکتی تھی۔اس کی دیواروں کی تعمیر کے وقت خاص کیمیا گری کے جو ہر دکھائے گئے تھے کہ ایسی دھاتیں پگھلا کر ڈالی گئیں تھی جن پر کسی بھی قسم کے حملے کا اثر نہ ہو سکے۔
قلعے کی تعمیر کے بعد اسے آراستہ کیا گیا ۔اس میں جنت و دوزخ کے مناظر کو مّد نظر رکھا گیا۔ایک طرف باغات ،نہریں اور حوریں تھیں تو دوسری جانب منکروں کو سزا دینے کے لئے آگ دھکائی گئی تھی۔قلعہ کو غذائی اجناس سے بھر دیا گیا اور ابن مقنع خود وہاں منتقل ہو گیا ۔قلعہ فروکش کو لشکر کے لئے خاص بنا دیا گیا۔
اس عرصہ میں لوٹ مار کا بازار سرد ہو چکا تھا ابن مقنع اسے اپنے لوگوں کی نا اہلی سمجھ رہا تھا اس نے حالت غصہ میں انہیں طلب کیا اور لوٹ مار نہ کرنے کی وجہ دریافت کی۔
انہوں نے جواب دیا ہم تو جاتے ہیں پر کچھ ہاتھ نہیں آتا ۔ ابن مقنع نے کہا کہ تلواروں میں زنگ لگا ہے کیا اسے استعمال کیا کرو،یا کیا لوگ بہت بہادر ہو گئے ہیں کہ ان کا مقابلہ نہیں کیا جا سکتا ؟ ابن مقنع کی فوج نے جواب دیا کہ ان میں سے کوئی بات درست نہیں دراصل قافلے ہوشیار ہو چکے ہیں اب دن کی روشنی میں نکلتے ہیں ۔
ابن مقنع نے انہیں جانے کو کہا اور خود سوچ میں پڑگیا کہ اس کا کیا حل نکالا جائے۔کچھ ہی دیر میں اس کے عیار ذہن میں عیارانہ چال آ ہی گئی۔اس نے اپنے لوگوں کو بلا کر حکم دیا کہ شاہراؤں سے ہت کر مساجد کی تعمیریں کرواؤ اور وہاں مؤذن بھی مقرر کرو نیز ایک ایک سرائے ہر مسجد سے فاصلے پر بھی بنواؤ ۔اس کے پیروکار حیرت زدہ رہ گئے اور پھر پوچھا کہ ہمارے دین میں نمازوں کا تو ذکر نہ تھا آپ ہی نے تو سب کچھ معاف کر دیا تھا۔
ابن مقنع نے جواب دیا کہ یہ سہولت تو تمہارے لئے خاص ہے،کیونکہ میں تمہارے سامنے ہوں اور تم نے میری رضا خرید لی ہے دوسروں کو تو مشقت کرنا ہی ہو گی۔
ابن مقنع نے دلیل دے تو دی پر پیرو کاروں کو اس کی منطق سمجھ نہ آئی ،لیکن جلد ہی یہ معمہ بھی حل ہو گیا۔مساجد کی تعمیر کے بعد ابن مقنع نےانہیں حکم دیا کہ اب یہاں سے جو قافلے گزریں اور مسجد دیکھ کر نماز کے آئیں تو انہیں مجبور کرو کے وہ سرائے میں قیام کریں اور پھر موقع دیکھ کر میرے پاس لےآنا خبر دار کہ خون کا 1قطرہ بھی سرائے کے فرش پر نہ گرے۔اس طرح لوٹ مار کا ایک نیا طریقہ وضع کیا گیا۔جس میں کئی لوگوں کو جان سے ہاتھ اور وافر مال و دولت گنوانی پڑئی ۔خوبصورت خواتین کو وہ اپنی خواب گاہ کے لئے رکھ لیتا باقی کو پیرو کاروں کو بانٹ دیا کرتا تھا۔ایک وقت آیا کہ یہ علاقہ پھر سے سنسان ہو گیا ابن مقنع اب مکمل طور پر ایک پراسرار شخصیت بن چکا تھا جو چاہتا کر گزرتا تھا۔
اب اس نے مختلف بڑے بادشاہوں کے نام خطوط روانہ کئے جس کہ خلاصہ کچھ یوں تھا:
"خدا میری ذات میں منتقل ہو گیاہے،جیسے آدم کی ذات میں منتقل ہوا تھا پھر نوح کی ذات میں اور پھر ہر پیغمبر کی ذات میں ، اسی لئے میں خدائی کا دعویٰ کرتا ہوں،اب کوئی پیغمبر نہیں آئے گا اس لئے میں خود آگیا ہوں۔میں زمین پر بطور انسان ہوں اس لئے میری کچھ ضروریات بھی ہیں ۔آپ کو چاہئے کہ مجھے خدا تسلیم کریں اور میری ذات کے لئے نذرانے بھیجئے۔”
خلیفہ بخداد کو ایسا ہی ایک خط موصول ہوا ۔پہلے تو اسے بے اختیار ہنسی آئی پھر اسے فتنے کا احساس ہوا کہ شروع میں نظر انداز کر کے غلطی کی تبھی تو مجھے للکارا گیا ۔
 
جاری ہے۔۔۔۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: