شوال27ہجری5:غزوۂ احزاب/غزوہ خندق-2

گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔
 احوالِ غزوۂ احزاب:
یہ حالات تھے جن میں غزوۂ احزاب  یا غزوۂ خندق پیش آیا ۔(غزوۂ خندق سنہ 5 ہجری ماہ شوال میں ہوئی تھی ،جبکہ بعض لوگ کہتے ہیں غزوۂ خندق سنہ 4 ہجری میں ہوئی تھی) یہ غزوہ دراصل عرب کے بہت سے قبائل کا ایک مشترک حملہ تھا جو مدینے کی اس طاقت کو کچل دینے کے لئے کیا گیا تھا۔۔۔اس کے تحریک بنی النَّضِیر کے اُن لیڈروں نے کے تھی جو جلا وطن ہو کر خیبر میں مقیم ہو گئے تھے۔انہوں نے دَورہ کر کے قریش اور غَلْطفان اور ہُذَیل اور دوسرے بہت سے قبائل کو اس بات پر آمادہ کیا کہ اب مِل کر بہت بڑی جمیعت کے ساتھ مدینے پر ٹوٹ پڑیں۔ چنانچہ ان کی کوششوں اے شوال 5 ھ میں قبائل عرب کی اتنی بڑی جمیعت اس چھوٹی سی بستی پر حملہ آور ہو گئی جو اس سے پہلے عرب میں کبھی جمع نہ ہوئی تھی۔ اس میں شمال کی طرف  بنی النَّضِیر اور  قَیْنقُاع کے وہ یہودی آئے جو مدینے سی جلا وطن ہو کر خیبر اور وادی القُریٰ میں آباد ہوئے تھے۔ مشرق کی طرف سے غَطَفان کے قبائل(بنو سُلَیم،فَزارہ،مُرَّہ،اَشجع،سَعد اورا َسَد وغیرہ)نے پیش قدمی کی۔ اور جنوب کی طرف سے قریش اپنے حلیفوں کی ایک بھاری جمیعت لے کر آگے بڑھے۔ مجموعی طور پر ان کی تعداد 10،12ہزار تھی۔      یہ حملہ اگر اچانک ہوتا تو سخت تباہ کُن ہوتا۔لیکن نبی ﷺمدینہ طیّبہ میں بے خبر بیٹھے ہوئے نہ تھے بالکہ آپ کے خبر رساں اور تحریک اسلامی کے ہمدرد اور متاثرین جو تمام قبائل میں موجود تھے ، آپ کو دشمنوں کی نقل و حرکت سے برابر مطلع کرتے رہتے تھے،قبل اس کے کہ یہ جمِّ غفیر آپ کے شہر پہنچتا۔
دوسری جانب حضور ﷺ نے  حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کی ایک تجویز متفقہ طور پر منظور کی ۔ یہ تجویز حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ نے ان لفظوں میں پیش کی تھی کہ اے اللہ کے رسول ﷺ! فارس میں جب ہمارا محاصرہ کیا جاتا تھا تو ہم اپنے گرد خندق کھود لیتے تھے ۔چنانچہ ہر دس آدمی کو چالیس ہاتھ خندق کھودنے کاکام سونپ دیا ، اس خندق کے کھودنے میں تمام صحابہ مہاجرین وانصار رضی اللہ تعالٰی عنہم شامل تھے اور خود آپﷺ بھی بہ نفس نفیس اس کے کھودنے اور مٹی ڈھونے میں بھی حصہ لیتے تھے۔ مدینے شریف کی مشرقی سمت میں 6 دن کے اندر مدینہ کے شمال غربی رُخ پر ایک خندق کھُدوا لی گئی اور کوہ سَلْع کو پشت پر لے کر 3 ہزار فوج کے ساتھ خندق کی پناہ میں مدافعت کے لیے تیار ہو گئے۔ مدینہ کے جنوب میں باغات اس کثرت سے تھے (اور اب بھی ہیں ) کہ اس جانب سے کوئی حملہ اس پر نہ ہو سکتا تھا۔ مشرق میں حَرّات (لادے کی چٹانیں ) ہیں جن پر سے کوئی اجتماعی فوج کشی آسانی کے ساتھ نہیں ہو سکتی۔ یہی کیفیت مغربی جنوبی گوشے کی بھی ہے۔ اس لیے حملہ صرف اُحُد کے مشرقی اور مغربی گوشوں سے ہو سکتا تھا اور اسی جانب حضورﷺنے خندق کھدوا کر شہر کو محفوظ کر لیا تھا۔
صحیح بخاری میں حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ رسول اللہ ﷺکے ساتھ خندق میںتھے ۔ لوگ کھدائی کررہے تھے اور ہم کندھوں پر مٹی ڈھو رہے تھے کہ (اسی اثناء میں ) رسول اللہ ﷺنے فرمایا:اللھم لا عیش الا عیش الآخرۃ فاغفر للمہاجرین والانصَار اے اللہ ! زندگی تو بس آخرت کی زندگی ہے ۔ پس مہاجرین اور انصار کو بخش دے
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے رسول اللہ ﷺخندق کی طرف تشریف لائے تو دیکھا کہ مہاجرین و انصار ایک ٹھنڈی صبح میں کھودنے کا کام کررہے ہیں ۔ ان کے پاس غلام نہ تھے کہ ان کی بجائے غلام یہ کام کردیتے ۔ آپ ﷺنے ان کی مشقت اور بھوک دیکھ کر فرمایا:اللھم ان العیش عیش الاٰخرۃ فاغفر للانصار والمہاجرۃاے اللہ ! یقیناً زندگی تو آخرت کی زندگی ہے پس انصار و مہاجرین کو بخش دے ۔
انصار و مہاجرین نے ا سکے جواب میں کہا ۔
نحن الذین بایعوا محمدا علی الجہاد ما بقینا ابدا ہم وہ ہیں کہ ہم نے ہمیشہ کے لیے جب تک کہ باقی رہیں محمد ﷺسے جہاد پر بیعت کی ہے
صحیح بخاری ہی میں ایک روایت حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے رسول اللہ ﷺکو دیکھا کہ آپ ﷺخندق سے مٹی ڈھو رہے تھے یہاں تک کہ غبار نے آپ ﷺکے شکم کی جلد ڈھانک دی تھی ۔ آپ ﷺکے بال بہت زیادہ تھے ۔ میں نے ( اسی حالت میں ) آپ ﷺکو عبداللہ بن رواحہ رضی اللہ عنہ کے رجزیہ کلمات کہتے ہوئے سنا ۔ آپ ﷺمٹی ڈھوتے جاتے تھے اور یہ کہتے جاتے تھے:
اَلّٰھُم لولا اَنتَ مَا اھتَدَینَا وَلا تَصدَّقنَا وَلَا صَلَّینَا
فَاَنزِلَن سَکِْینَۃً عَلَینَا وَثَبِّتَ الاَقدَامَ اِنْ لّا قَینَا
اِنَّ الا ولی رَغِبُوا عَلَینَا وَاِن اَرادُوا فِتنَۃً اَبَینَا
اے اللہ اگر تو نہ ہوتا تو ہم ہدایت نہ پاتے۔ نہ صدقہ دیتے نہ نماز پڑھتے ۔ پس ہم پر سکینت نازل فرما ۔ اور اگر ٹکراؤ ہو جائے تو ہمارے قدم ثابت رکھ ۔ انہوں نے ہمارے خلاف لوگوں کوبھڑکایا ہے ۔ اگر انہوں نے کوئی فتنہ چاہا تو ہم ہرگز سر نہیں جھکائیں گے۔
حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ آپ ﷺآخری الفاظ کھینچ کر کہتے تھے ۔ ایک روایت میں آخری شعر اس طرح ہے ۔
اِنَّ الا ولی قَد بَغَوا عَلَینَا وَاِن اَرادُوا فِتنَۃً اَبَینَا
یعنی انہوں نے ہم پر ظلم کیا ہے ۔ اور اگر وہ ہمیں فتنے میں ڈالنا چاہیں گے تو ہم ہرگز سرنگوں نہ ہوں گے ۔
مسلمان ایک طرف اس گرم جوشی کے ساتھ کام کررہے تھے تو دوسری طرف اتنی شدت کی بھوک برداشت کررہے تھے کہ اس کے تصور سے کلیجہ شق ہوتا ہے ۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ (اہل خندق) کے پاس دو مٹھی جو لایاجاتا تھا اور بُو دیتی ہوئی چکنائی کے ساتھ بنا کر لوگوں کے سامنے رکھ دیاجاتا تھا ۔ لوگ بھوکے ہوتے تھے اور اس کا ذائقہ حلق کے لیے ناخوش گوار ہوتا تھا ۔ اور اس سے بدبو اٹھ رہی ہوتی تھی۔
ابو طلحہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ہم نے رسول اللہ ﷺسے بھوک کا شکوہ کیا اور اپنے شکم کھول کر ایک ایک پتھر دکھلایاتو رسول اللہ ﷺنے اپنا شکم کھول کر دو پتھر دکھلائے ۔
خندق کی کھدائی کے دوران نبوت کی کئی نشانیاں بھی جلوہ فگن ہوئیں۔ صحیح بخاری کی روایت ہے کہ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ نے نبی ﷺکے اندر سخت بھوک کے آثار دیکھے تو بکری کا ایک بچہ ذبح کیا اور ان کی بیوی نے ایک صاع (تقریباً ڈھائی کلو ) جو پیسا ، پھر رسول اللہ ﷺسے رازداری کے ساتھ گزارش کی کہ اپنے چند رفقاء کے ہمراہ تشریف لائیں ۔ لیکن نبی ﷺتمام اہل خندق کو جن کی تعداد 1 ہزار تھی، ہمراہ لے کر چل پڑے ۔ اور سب لوگوں نے اسی ذرا جتنے کھانے سے شکم سیر ہوکر کھایا ۔ پھر بھی گوشت کی ہانڈی اپنی حالت پر برقرار رہی اور بھری کی بھری جوش مارتی رہی اور گوندھا ہوا آٹا اپنی حالت پر برقرار رہا ۔ اس سے روٹی پکائی جاتی رہی۔
حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ عنہ کی بہن خندق کے پاس دو مٹھی کھجور لے کر آئیں کہ ان کے بھائی اور ماموں کھا لیں گے لیکن رسول اللہ ﷺکے پاس سے گزریں تو آپ ﷺنے ان سے وہ کھجوریں لے لیں اور ایک کپڑے کے اوپر بکھیر دیں ۔ پھر اہل خندق کو دعوت دی ۔ اہل خندق انہیں کھا تے گئے اور وہ بڑھتی گئیں ۔ یہاں تک کہ سارے اہل خندق کھا کھا کر چلے گئے اور کھجوریں تھیں کہ کپڑے کے کناروں سے باہر گر رہی تھیں ۔
انہیں ایام میں ان دو واقعات سے کہیں بڑھ کر ایک اور واقعہ پیش آیا جسے امام بخاری نے حضرت جابر رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔ حضرت جابر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ ہم لوگ خندق کھد رہے تھے کہ ایک چٹان نما ٹکڑا آڑے آگیا ۔ لوگ نبی ﷺکی خدمت میں حاضر ہوئے اور عرض کی کہ یہ چٹان نما ٹکڑا خندق میں حائل ہو گیا ہے ۔ آپ ﷺنے فرمایا : ’’میں اتر رہا ہوں ‘‘۔ اس کے بعد آپ ﷺاٹھے ، آپ ﷺکے شکم پر پتھر بندھا ہوا تھا  ۔ہم نے 3روز سے کچھ چکھا نہ تھا پھر نبی ﷺنے کدال لے کر مارا تو وہ چٹان نما ٹکڑا بھر بھرے تودے میں تبدیل ہو گیا ۔
پھر حضرت براء رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ جنگ خندق کے موقع پر کھدائی کے دوران ایک سخت چٹان آپڑی جس سے کدال اچٹ جاتی تھی کچھ ٹوٹتا ہی نہ تھا ۔ ہم نے رسول اللہ ﷺسے اس کا شکوہ کیا ۔ آپ ﷺتشریف لائے ، کدال لی اور بسم اللہ کہہ کر ایک ضرب لگائی ( تو ایک ٹکڑا ٹوٹ گیا ) اور فرمایا : اللہ اکبر ! مجھے ملک شام کی کنجیاں دی گئی ہیں ۔ واللہ ! میں اس وقت وہاں کے سرخ محلوں کے دیکھ رہا ہوں ‘‘۔ پھر دوسری لگائی تو ایک دوسرا ٹکرا کٹ گیا ، اور فرمایا :’’ اللہاکبر ! مجھے فارس دیاگیا ہے ۔ واللہ ! میں اس وقت مدائن کا سفید محل دیکھ رہا ہوں ‘‘۔ پھر تیسری ضرب لگائی اور فرمایا :’’ بسماللہ ‘‘۔ تو پھر باقی ماندہ چٹان بھی کٹ گئی ۔ پھر فرمایا : ’’اللہاکبر ! مجھے یمن کی کنجیاں دی گئیں ہیں ۔ واللہ ! میں اس وقت اپنی اس جگہ سے صنعاء کے پھاٹک دیکھ رہا ہوں ۔
مشرکین کا لشکر بلامزاحمت مدینے شریف تک پہنچ گیا اور مدینے کے مشرقی حصے میں احد پہاڑ کے متصل اپنا پڑاؤ جمایا یہ تھا مدینے کا نیچا حصہ اوپر کے حصے میں انہوں نے اپنی ایک بڑی بھاری جمعیت بھیج دی جس نے اعالی مدینہ میں لشکر کا پڑاؤ ڈالا اور نیچے اوپر سے مسلمانوں کو محصور کرلیا۔ حضور ﷺاپنے ساتھ کے صحابہ کو جو 3ہزار سے نیچے تھے اور بعض روایات میں ہے کہ صرف 700تھے لے کر ان کے مقابلے پر آئے۔ سلع پہاڑی کو آپ نے اپنی پشت پر کیا اور دشمنوں کی طرف متوجہ ہو کر فوج کو ترتیب دیا۔ خندق جو آپ نے کھودی اور کھدوائی تھی اس میں پانی وغیرہ نہ تھا وہ صرف ایک گڑھا تھا جو مشرکین کے ریلے کو روکے رکھنے کے لئے تھا۔ خندق کی ٹِرک سرے سے کفّار کے جنگی نقشے میں تھی ہی نہیں کہ انہیں مدینے کے باہر خندق سے سابقہ پیش آئے گا، کیونکہ اہل عرب اس طریقِ دفاع سے نا آشنا تھے،چنانچہ خندق کو دیکھ کرکفّار و مشرکین  متحیّر ہوئے اور کہنے لگے کہ یہ ایسی تدبیر ہے جس سے عرب لوگ اب تک واقف نہ تھے ۔ نا چار انہیں جاڑے کے زمانے میں ایک طویل محاصرے کے لیے تیار ہونا پڑا جس کے لیے وہ گھروں سے تیار ہو کر نہیں آئے تھے۔
مشرکین خندق کے پاس پہنچ کر غیظ و غضب سے چکر کاٹنے لگے ۔ انہیں ایسے کمزور نقطے کی تلاش تھی جہاں سے وہ اتر سکیں ۔ ادھر مسلمان ان کی گردش پرپوری پوری نظر رکھے ہوئے تھے اور ان پر تیر برساتے رہتے تھے تاکہ انہیں خندق کے قریب آنے کی جراءت نہ ہو ۔ وہ اس میں نہ کود سکیں اور نہ مٹی ڈال کر عبور کرنے کے لیے راستہ بنا سکیں ۔
اس کے بعد کفّار کے لیے صرف ایک ہی تدبیر باقی رہ گئی تھی ، اور وہ یہ کہ بنی قُر یظہ کے یہودی قبیلے کو غدّاری پر آمادہ کریں جو مدینہ طیّبہ کے جنوب مشرقی گوشے میں رہتا تھا۔ چوں کہ اس قبیلے سی مسلمانوں کا باقاعدہ حلیفانہ معاہدہ تھا جس کی رو سے مدینہ پر حملہ ہونے کی صورت میں وہ مسلمانوں کے ساتھ مل کر مدافعت کرنے کا پابند تھا ، اس لیے مسلمانوں نے اس طرف سے بے فکر ہو کر اپنے بال بچّے اُن گڑھیوں میں بھجوا دیے تھے جو بن قریظہ کی جانب تھیں اور اُدھر مدافعت کا کوئی انتظام نہ کیا تھا۔ کفّار نے اسلامی دفاع کے اس کمزور پہلو کو بھانپ لیا۔اُن کی طرف سے بنی النَّضیر کا یہودی سردار حُیّی بن اخْطَب بنی قُریظہ کے پاس بھیجا گیا تاکہ انہیں معاہدہ توڑ کر جنگ میں شامل ہونے پر آمادہ کرے۔ ابتداءً اُنہوں نے اس سے انکار کیا اور صاف صاف کہہ دیا کہ ہمارا محمد(ﷺ)سے معاہدہ ہے اور آج تک کبھی ہمیں ان سے کوئی شکایت پیدا نہیں ہوئی ہے۔ لیکن جب ابنِ اخطب نے ان سے کہا کہ :دیکھ تو سہی میں تو تجھے عزت کا تاج پہنانے آیا ہوں۔ قریش اور انکے ساتھی غطفان اور ان کے ساتھی اور ہم سب ایک ساتھ ہیں۔ ہم نے قسم کھا رکھی ہے کہ جب تک ایک ایک مسلمان کا قیمہ نہ کرلیں یہاں سے نہیں ہٹنے کے کعب چونکہ جہاندیدہ شخص تھا اس نے جواب دیا کہ محض غلط ہے۔ یہ تمہارے بس کے نہیں تو ہمیں ذلت کا طوق پہنانے آیا ہے ۔ تو بڑا منحوس شخص ہے میرے سامنے سے ہٹ جا اور مجھے اپنی مکاری کا شکار نہ بنا لیکن حی پھر بھی نہ ٹلا اور اسے سمجھاتا بجھاتا رہا۔ آخر میں کہا سن اگر بالفرض قریش اور غطفان بھاگ بھی جائیں تو میں مع اپنی جماعت کے تیری گڑھی میں آجاؤں گا اور جو کچھ تیرا اور تیری قوم کا حال ہوگا۔ وہی میرا اور میری قوم کا حال ہوگا۔ بالآخر کعب پر حی کا جادو چل گیا اور بنو قریظہ نے صلح توڑ دی۔ نبی ﷺاس معاملے سے بھی بے خبر نہ تھے۔ آپﷺکو بر وقت اس کی اطلاع مل گئی تھی اور آپﷺنے فوراً انصار کے سرداروں (سعد بن غُبّادہ،سعد بن مُعاذ ،عبداللہ بن رواعہ اور خَوّات بن جُبیر )کو ان کے پاس تحقیقِ حال کے لیے بھیجا۔ چلتے وقت آپﷺنے اُن کو ہدایت فرمائی کہ اگر بنی قُریظہ عہد پر قائم رہیں تو آ کر سارے لشکر کے سامنے علی ا لاعلان یہ خبر سُنا دینا۔ لیکن اگر وہ نقضِ عہد پر مُصر ہوں صرف مجھ کو اشارۃً اس کی اطلاع دے دینا تاکہ عام مسلمان یہ بات سُن کر پست ہمّت نہ ہو جائیں۔ یہ حضرات وہاں پہنچے تو بنی قریظہ کو پوری خباثت پر آمادہ پایا اور انہوں نے برملا ان سی کہہ دیا کہ لا عقد بیننا وبین محمد ولا عھد۔ ’’ہمارے محمدﷺکے درمیان کوئی عہد پیما نہیں ہے ‘‘،۔اس جواب کو سن کر وہ لشکرِ اسلام میں واپس آئے اور اشارۃً حضورﷺسے عرض کر دیا :عَضَل وقارَہ۔ یعنی قبیلہ عَضَل وقارَہ نے رَجیع کے مقام پر مبلّغین اسلام کے وفد سے جو غدّاری کی تھی ، وہی کچھ اب بنی قریظہ کر رہے ہیں۔ یہ وقت تھا جس کا نقشہ قرآن کریم نے کھینچا ہے کہ آنکھیں پتھرا گئیں دل الٹ گئے طرح طرح کے خیالات آنے لگے۔ جھنجھوڑ دئیے گئے اور سخت امتحان میں مبتلا ہوگئے۔
       یہ خبر بہت جلد ی مدینہ کے مسلمانوں میں پھیل گئی اور ان کے اندر اس سے سخت اضطراب پیدا ہو گیا۔ کیوں کہ اب وہ دونوں طرف سے گھیرے میں آ گئے تھے اور ان کے شہر کا وہ حصّہ خطرے میں پڑ گیا تھا جدھر دفاع کا بھی کوئی انتظام نہ تھا اور سب کے بال بچّے بھی اسی جانب تھے۔ اس پر منافقین(بنو قریظہ ) کی سرگرمیاں اور تیز ہو گئیں اور انہوں نے اہل ایمان کے حوصلے پست کرنے کے لیے طرح طرح کے نفسیاتی حملے شروع کر دیے۔ معتب بن قشیر کہنے لگا کہ آنحضرت ﷺتو ہمیں کہہ رہے تھے کہ ہم قیصر وکسریٰ کے خزانوں کے مالک بنیں گے اور یہاں حالت یہ ہے کہ پاخانے کو جانا بھی دو بھر ہو رہا ہے۔ یہ مختلف گمان مختلف لوگوں کے تھے مسلمان تو یقین کرتے تھے کہ غلبہ ہمارا ہی ہے جیساکہ فرمان ہے آیت (ولما را المومنون)، لیکن منافقین کہتے تھے کہ اب کی مرتبہ سارے مسلمان مع آنحضرت ﷺگاجر مولی کی طرح کاٹ کر رکھ دئیے جائیں گے ۔ کسی نے یہ کہہ کر خندق کے محاذ سے رخصت مانگی کہ اب تو ہمارے گھر ہی خطرے میں پڑ گئے ہیں ہمیں جا کر اُن کی حفاظت کرنی ہے۔ کسی نے یہاں تک خفیہ پروپگنڈا شروع کر دیا کہ حملہ آوروں سے اپنا معاملہ درست کر لو اور محمد ﷺکو ان کے حوالے کر دو۔ یہ ایسی شدید آزمائش کا وقت تھا جس میں ہر اس شخص کا پردہ فاش ہو گیا جس کے دِل میں ذرّہ برابر بھی نفاق موجود تھا۔ صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہم اجمعین نے عین اس گبھراہٹ اور پریشانی کے وقت رسول اللہ ﷺسے کہا کہ حضور ﷺاس وقت ہمیں اس سے بچاؤ کی کوئی تلقین کریں۔ آپ نے فرمایا یہ دعامانگو (اللہم استرعوراتنا وامن روعاتنا) اللہ ہماری پردہ پوشی کر اللہ ہمارے خوف ڈر کو امن وامان سے بدل دے۔
ابن اسحاق کا بیان ہے کہ حضرت صفیہ بنت عبدالمطلب رضی اللہ عنہا ، حضرت حسان بن ثابت رضی اللہ عنہ کے فارع نامی قلعے کے اندر تھیں ۔ حضرت حسان رضی اللہ عنہ عورتوں اور بچوں کے ساتھ وہیں تھے ۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہمارے پاس سے ایک یہودی گزرا اور قلعے کا چکر کاٹنے لگا ۔ یہ اس وقت کی بات ہے جب بنو قریظہ رسول اللہ ﷺسے کیا ہوا عہدوپیمان توڑ کر آپ ﷺسے بر سر پیکار ہو چکے تھے اور ہمارے اور ان کے درمیان کوئی نہ تھا جو ہمارا دفاع کرتا  رسول اللہ ﷺمسلمانوں سمیت دشمن کے بالمقابل پھنسے ہوئے تھے ۔ اگر ہم پر کوئی حملہ آور ہوجاتا تو آپ انہیں چھوڑ کر آ نہیں سکتے تھے ۔ اس لیے میں نے کہا : ’’ اے حسان ! یہ یہودی  جیسا کہ آپ رضی اللہ عنہ دیکھ رہے ہیں ، قلعے کا چکر لگا رہا ہے اور مجھے خدا کی قسم اندیشہ ہے کہ یہ باقی یہود کو بھی ہماری کمزوری سے آگاہ کردے گا ۔ ۔ ادھر رسول اللہ ﷺاور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اس طرح پھنسے ہوئے ہیں کہ ہماری مدد کو نہیں آسکتے لہٰذا آپ جائیے اور اسے قتل کر دیجئے ‘‘ ۔ حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے کہا واللہ آپ جانتی ہیں کہ میں اس کام کا آدمی نہیں ۔ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہ کہتی ہیں اب میں نے خود اپنی کمر باندھی ۔ پھر ستون کی ایک لکڑی لی ۔ اور اس کے بعد قلعے سے اتر کر اس یہودی کے پاس پہنچی اور لکڑی سے مار مار کر اس کا خاتمہ کردیا۔ اس کے بعد قلعے میں واپس آئی اور حسان رضی اللہ عنہ سے کہا : ’’ جائیے اس کے ہتھیار اور اسباب اتار لیجئے ۔ چونکہ وہ مرد ہے اس لیے میں نے اس کے ہتھیار نہیں اتارے ۔ حسان رضی اللہ عنہ نے کہا ، مجھے اس کے ہتھیار اورسامان کی کوئی ضرورت نہیں ۔
حقیقت یہ ہے کہ مسلمان بچوں اور عورتوں کی حفاظت پر رسول اللہ ﷺکی پھوپھی کے اس جانبازانہ کارنامے کا بڑا گہرا اور اچھا اثر پڑا ۔ اس کاروائی سے غالباً یہود نے سمجھا کہ ان قلعوں اور گڑھیوں میں بھی مسلمانوں کا حفاظتی لشکر موجود ہے ۔  حالانکہ وہاں کوئی لشکر نہ تھا – اسی لیے یہود کو دوبارہ اس قسم کی جراءت نہ ہوئی ۔ البتہ وہ بت پرست حملہ آوروں کے ساتھ اپنے اتحاد اور انضمام کا عملی ثبوت پیش کرنے کے لیے انہیں مسلسل رسد پہنچاتے رہے حتیٰ کہ مسلمانوں نے ان کی رسد کے بیس اونٹوں پر قبضہ بھی کرلیا ۔
       نبی ﷺنے اس نازک موقع پر بنی غطفان سے صلح کی بات چیت شروع کی اور ان کو اس بات پر آمادہ کرنا چاہا کہ مدینے کے پھلوں کی پیداوار کا تیسرا حصّہ لے کر واپس چلے جائیں۔ لیکن جب انصار کے سرداروں (سعدؓبن عُبادہ اور سعدؓ بن مُعاذ) سے آپﷺنے اِن شرائط صلح کے متعلق مشورہ طلب کیا تو انہوں نے عرض کیا ’’ یا رسول اللہ ، یہ آپﷺکی خواہش ہے کہ ہم ایسا کریں ؟ یا یہ اللہ کا حکم ہے کہ ہمارے لیے اسے قبول کرنے کے سوا چارہ نہیں ہے ؟ یا آپﷺہمیں بچانے کے لیے یہ تجویز فرما رہے ہیں ؟ آپﷺنے جواب دیا ’’ میں صرف تم لوگوں کو بچانے کے لیے ایسا کر رہا ہوں ، کیوں کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ سارا عرب متحد ہو کر تم پر پِل پڑا ہے ، میں چاہتا ہوں کہ ان کو ایک دوسرے سے توڑ دوں۔‘‘اس پر دونوں سرداروں نے بالاتفاق کہا کہ ’’ اگر آپﷺہماری خاطر یہ معاہدہ کر رہے ہیں تو اسے ختم کر دیجیے۔ یہ قبیلے ہم سے اُس وقت بھی ایک حبّہ خراج کے طور پر کبھی نہ لے سکے تھے جب ہم مشرک تھے۔ اور اب تو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لانے کا شرف ہمیں حاصل ہے۔ کیا اب یہ ہم سے خراج لیں گے ؟ ہمارے اور ان کے درمیان اب صرف تلوار ہی ہے ،یہاں تک کہ اللہ ہمارا اور ان کا فیصلہ کر دے ‘‘۔ یہ کہہ کر انہوں نے معاہدے کے اس مسودے کو چاک کر دیا جس پر ابھی دستخط نہ ہوئے تھے۔
        اسی دوران میں قبیلۂ غَطَفا ن کی شاخ اشجَع کے ایک صاحب نَعیم بن مسعُود مسلمان ہو کر حضورﷺکے پاس حاضر ہوئے اور عرض کیا کہ ابھی تک کسی کو بھی میرے قبول اسلام کا علم نہیں ہے ، آپﷺمجھ سے اس وقت جو خدمت لینا چاہیں میں اسے انجام دے سکتا ہوں۔ حضورﷺنے فرمایا ، تم جا کر دشمنوں میں پھوٹ ڈالنے کی کوئی تدبیر کرو(بھی ایک جنگی حکمتِ عملی ہی ہوتی ہےّ) اس پر حضرت نُعیم رضی اللہ عنہ فوراًہی بنو قریظہ کے ہاں پہنچے ۔ جاہلیت میں ان اسے ان کا بڑا میل جول تھا ۔ وہاں پہنچ کر انہوں نے کہا ، آپ لوگ جانتے ہیں کہ مجھے آ پ لوگوں سے محبت اور خصوصی تعلق ہے ۔ انہوں نے کہا ، جی ہاں ۔ نعیم رضی اللہ عنہ نے کہا ، اچھا تو سنیے کہ قریش کا معاملہ آپ لوگوں سے مختلف ہے ۔ یہ علا قہ آپ کا اپنا علاقہ ہے ۔ یہاں آپ کا گھر بار ہے ، مال ودولت ہے ، بال بچے ہیں ۔ آپ اسے چھوڑ کر کہیں اور نہیں جا سکتے مگر جب قریش و غطفان محمد ﷺسے جنگ کرنے آئے تو آپ نے محمد ﷺکے خلاف ان کا ساتھ دیا ۔ ظاہر ہے ان کا یہاں نہ گھر بار ہے ، نہ مال و دولت ہے نہ بال بچے ہیں اس لیے انہیں موقع ملا تو کوئی قدم اٹھائیں گے ورنہ بوریا بستر باندھ کر رخصت ہو جائیں گے ۔ پھر آپ لوگ ہوں گے اور محمد ﷺہوں گے ۔ لہٰذا وہ جیسے چاہیں گے آپ سے انتقام لیں گے ۔ اس پر بنو قریظہ چونکے اوربولے نعیم ! بتائیے اب کیا کیا جا سکتا ہے ؟ انہوں نے کہا ، دیکھئے ! قریش جب تک آپ لوگوں کو اپنے کچھ آدمی یرغمال کے طور پر نہ دیں ، آپ ان کے ساتھ جنگ میں شریک نہ ہوں ۔ قریظہ نے کہا ، آپ نے بہت مناسب رائے دی ہے ۔
اس کے بعد حضرت نُعَیم رضی اللہ عنہ سیدھے قریش کے پاس پہنچے اور بولے : ’’ آپ لوگوں سے مجھے جو محبت اور جذبۂ خیر خواہی ہے اسے تو آپ جانتے ہی ہیں؟ ‘‘ انہوں نے کہا: ’’ جی ہاں ! ‘‘ حضرت نعیم رضی اللہ عنہ نے کہا : ’’ اچھا تو سنیے کہ یہود نے محمد ﷺاور ان کے رفقاء سے جو عہد شکنی کی تھی اس پر وہ نادم ہیں اور اب ان میں یہ مراسلت ہوئی ہے کہ وہ ( یہود ) آپ لوگوں سے کچھ یرغمال حاصل کرکے ان ( محمد ﷺ) کے حوالے کر دیں گے اور پھر آپ لوگوں کے خلاف محمد ﷺسے اپنا معاملہ استوار کر لیں گے ۔ لہٰذا اگروہ یرغمال طلب کریں تو آپ ہرگز نہ دیں ‘‘ ۔ اس کے بعد غطفان کے پاس جا کر بھی یہی بات دہرائی (اور ان کے بھی کان کھڑے ہوگئے )۔
اس کے بعد جمعہ اور سینچر کی درمیانی رات کو قریش نے یہود کے پاس یہ پیغام بھیجا کہ ہمارا قیام کسی سازگار اور موزوں جگہ پرنہیں ہے ۔
گھوڑے اور اونٹ مر رہے ہیں ۔ لہٰذا اِدھر سے آپ لوگ اور اُدھر سے ہم لوگ اٹھیں اور محمد ﷺپر حملہ کردیں ۔ لیکن یہود نے جواب میں کہلایاکہ آج سینچر کا دن ہے اور آپ جانتے ہی کہ ہم سے پہلے جن لوگوں نے اس دن کے بارے میں حکمِ شریعت کی خلاف ورزی کی تھی انہیں کیسے عذاب سے دوچار ہونا پڑا تھا ۔ علاوہ ازیں آپ لوگ جب تک اپنے کچھ آدمی ہمیں بطور یرغمال نہ دے دیں ہم لڑائی میں شریک نہ ہوں گے ۔ قاصد جب یہ جواب لے کر واپس آئے تو قریش اور غطفان نے کہا : ’’ واللہ نُعیم نے سچ ہی کہا تھا ‘‘۔ چنانچہ انہوں نے یہود کو کہلا بھیجا کہ خدا کی قسم ! ہم آپ کو کوئی آدمی نہ دیں گے ، بس آپ لوگ ہمارے ساتھ ہی نکل پڑیں اور ( دونوں طرف سے ) محمد ﷺپر ہلہ بول دیا جائے ۔ یہ سن کر قریظہ نے باہم کہا ، واللہ نعیم نے ہم سے سچ ہی کہا تھا ، اس طرح دونوں فریق کا اعتماد ایک دوسرے سے اٹھ گیا ۔ ان کی صفوں میں پھوٹ پڑ گئی اور ان کے حوصلے ٹوٹ گئے ۔
 جاری ہے۔۔۔۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: