شوال27ہجری5:غزوۂ احزاب/غزوہ خندق-1

تاریخی پس منظر :
غزوۂ اُحْد (شوّال  3 ھ) میں نبی ﷺکے مقرر کیے ہوئے تیر اندازوں کی غلطی سے لشکر اسلام کو جو فتح نصیب  نہ ہوسکی اس کی وجہ سے مشرکین عرب ، یہود اور مُنافقین کی ہمّتیں بہت بڑھ گئی تھیں اور انہیں اُمید بندھ چلی تھی کہ وہ اسلام اور مسلمانوں کا قلع قمع کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ ان بڑھتے ہوئے حوصلوں کا اندازہ ان واقعات سے ہو سکتا ہے جو اُحْد کے بعد پہلے ہی سال میں پیش آئے۔غزوۂ اُحْد پر دو مہینوں سے زیادہ نہ گزرے تھے کہ نجد کے قبیلۂ بنی اَسَدْ نے مدینہ طیّبہ پر چھاپا مارنے کی تیاریاں کیں اور نبی ﷺکو ان کی روک تھام کے لیے سَرِیَّۂابو سَلَمہ(اصطلاح میں سَرِیہَّ اس فوجی مہم کو کہتے ہیں جس میں نبی ﷺخود شریک نہ ہوتے تھے۔ اور غزْوہ اُس جنگ یا مہم کو کہا جاتا ہے جس میں حُضورﷺخود قیادت فرماتے تھے )  بھیجنا پڑا۔ پھر صفر 4ھ میں قبائل عَضَل اور قارَہ نے حضُورﷺسے چند آدمی مانگے تاکہ وہ ان علاقہ میں جا کر لوگوں کو دینِ اسلام کی تعلیم دیں۔ حُضورﷺنے 6 اصحاب کو ان کے ساتھ کر دیا۔مگر رَجیع(جدّہ اور رابِغ کے درمیان ) پہنچ کر وہ لوگ قبیلۂ ھُذَیل کے کفّار کو ان بے بس مبلّغین پر چڑھا لائے ، ان میں سے چار کو قتل کر دیا ، اور دو صاحبوں (حضرت خُبَیب بن عَدِی اور حضرت زید بن الدَّثِنَّہ ) کو لے جا کر مکّۂ معظمہ میں دشمنوں کے ہاتھ فروخت کر دیا۔ پھر اسی ماہِ صفر میں بنی عامر کے ایک سردار کی درخواست پر حضورﷺنے ایک اور وفد جو 40(یا بقول بعض 70)انصاری نوجوانوں پر مشتمل تھا ، نجد کی طرف روانہ کیا۔مگر ان کے ساتھ بھی غدّاری کی گئی اور بنی سُلیم کے قبائل عُصَیَّہ اور رِعْل اور ذکْو ان نے بِئر مَعُونہ کے مقام پر اچانک نرغہ کر کے ان سب کو قتل کر دیا۔ اسی دوران میں مدینے کا یہودی قبیلہ بنی النَّضِیر دلیر ہو کر مسلسل بد عہدیاں کرتا رہا ، یہاں تک کہ ربیع الاوّل 4 ھ میں اُس نے خود نبی ﷺکو شہید کر دینے کی سازش تک کر ڈالی۔ پھر جمادی الاولیٰ 4ھ  میں بنی غَطَفان کے دو قبیلوں ، بنو ثَعْلَبَہ اور بنو مُحَارِب نے مدینہ پر حملے کی تیاریاں کیں اور حضُورﷺکو خود ان کی روک تھام کے لیے جانا پڑا۔ اس طرح غزوۂ اُحْد کی شکست سے جو ہَوا اُکھڑی تھی وہ مسلسل 7،8 مہینے تک اپنا رنگ دکھاتی رہی۔
لیکن وہ صرف محمد ﷺکا عزم و تدبّر اور صحابۂ کرام کا جذبۂ فدا کاری تھا جس نے تھوڑی مدّت کے اندر ہی حالات کا رُخ بدل کر رکھ دیا۔ عربوں کے معاشی مقاطعہ نے اہل مدینہ کے لیے جینا دشوار کر رکھا تھا۔گرد و پیش کے تمام مشرک قبائل چیرہ دست ہو رہے تھے۔ خود مدینہ کے اندر یہود اور منافقین مارِ آستین بنے ہوئے تھے۔ مگر ان مٹھی بھر مومنین صادقین نے رسولﷺخُدا کی قیادت میں پے درپے ایسے اقدامات کیے جن سے عرب میں اسلام کا رعب صرف بحال ہی نہیں ہو گیا ، بلکہ پہلے سے زیادہ بڑھ گیا۔
غزوۂ احزاب سے پہلے کے غزوات:
 ان میں سے اوّلین اقدام وہ تھا جو غزوۂ اُحْد کے فوراً ہی بعد کیا گیا۔جنگ کے ٹھیک دوسرے روز جبکہ بکثرت مسلمان زخمی تھے اور بہت سے عزیز ترین اقارب کی شہادت پر کہرام برپا تھا اور رسول ﷺخود بھی زخمی اور حضرت حمزہؓ کی شہادت پر دِلفگار تھے ، حضُورﷺنے اسلام کے فِدائیوں کو پُکارا کہ لشکر کفّار کے تعاقب میں چلنا ہے تاکہ وہ کہیں راستے سے پلٹ کر پھر مدینے پر حملہ آور نہ ہو جائیں۔ حضورﷺکا اندازہ بالکل صحیح تھا کہ کفّار قریش ہاتھ آئی ہوئی فتح کا کوئی فائدہ اُٹھائے بغیر واپس تو چلے گئے ہیں ،لیکن راستے میں جب کسی جگہ ٹھیریں گے تو اپنی اس حماقت پر نادم ہوں گے اور دوبارہ مدینے پر چڑھ آئیں گے۔ اس بناء پر آپ نے ان کے تعاقب کا فیصلہ کیا اور فوراً 360 جاں نثار آپﷺکے ساتھ چلنے کے لیے تیار ہو گئے۔ مکّہ کے راستے میں جب حَمْرأالاسد پہنچ کر آپﷺنے تین روز تک پڑاؤ کیا تو ایک ہمدرد غیر مسلم کے ذریعہ سے آپ کو معلوم ہو گیا کہ ابو سُفْیان اپنے 2978 آدمیوں کے ساتھ مدینے سے 36 میل دور الرَّوحأ کے مقام پر ٹھیرا ہوا تھا اور یہ لوگ فی الواقع اپنی غلطی کو محسوس کر کے پھر پلٹ آنا چاہتے تھے ، لیکن یہ سُن کر ان کی ہمت ٹوٹ گئی کہ رسول اللہ ﷺایک لشکر لیے ہوئے ان کے تعاقب میں چلے آ رہے ہیں۔اس اس کارروائی کا صرف یہی فائدہ نہیں ہوا کہ قریش کے بڑھے ہوئے حوصلے پست ہو گئے ، بلکہ گرد و پیش کے دشمنوں کو بھی یہ معلوم ہو گیا کہ مسلمانوں کی قیادت ایک انتہائی بیدار مغز اور اولوالعزم ہستی کر رہی ہے اور مسلمان اس کے اشارے پر کٹ مرنے کے لیے ہر وقت تیا رہیں۔
پھر جوں ہی بنی اسد نے مدینے پر چھاپہ مارنے کی تیاریاں شروع کیں ، حضورﷺکے مخبروں نے بروقت آپ کو اُن کے اِرادوں سے با خبر کر دیا۔قبل اس کے کہ وہ چڑھ آتے ، آپ نے حضرت ابو سَلَمہ (اُمّ المومنین حضرت اُم سلَمہؓ کے پہلے شوہر)کی قیادت میں 150آدمیوں کا ایک لشکر ان کی سرکوبی کے لیے بھیج دیا۔ یہ فوج اچانک ان کے سَر پر پہنچ گئی۔ بدحواسی کے عالم میں وہ اپنا سب کچھ چھوڑ کر بھاگ نکلے اور ان کا سارا مال اسباب مسلمانوں کے ہاتھ لگ گیا۔
 اس کے بعد بنی النَّضیر کی باری آئی۔ جس روز انہوں نے نبی ﷺکو شہید کرنے کی سازش کی اور اس کا راز فاش ہوا اُسی روز آپﷺنے ان کو نوٹس دے دیا کہ دس دن کے اندر مدینے سے نِکل جاؤ ، اس کے بعد تم میں سے جو یہاں پایا جائے گا قتل کر دیا جائے گا۔ منافقین مدینہ کے سردار عبداللہ بن اُبیّ نے ان کو تَڑی دی کہ ڈٹ جاؤ اور مدینہ چھوڑنے سے انکار کر دو ، میں 2 ہزار آدمیوں کے ساتھ تمہاری مدد کروں گا، بنی قُرَیظہ تمہاری مدد کریں گے اور نجد سے بنی غَطَفان بھی تمہاری مدد کے لیے آئیں گے۔ ان باتوں میں آ کر اُنہوں نے حضورﷺکو کہلا بھیجا کہ ہم اپنا علاقہ نہیں چھوڑیں گے ، آپ سے جو کچھ کر لیجئے ،حضورﷺنے نوٹس کی میعاد ختم ہوتے ہی ان کا محاصرہ کر لیا اور ان کے حامیوں میں سے کسی کی یہ ہمت نہ پڑی کہ مدد کو آتا۔ آخر کار انہوں نے اس شرط پر ہتھیار ڈال دئے کہ ان میں سے ہر 3 آدمی 1اونٹ پر جو کچھ لاد کر لے جا سکتے ہیں لے جائیں اور باقی سب کچھ مدینہ ہی میں چھوڑ جائیں گے۔ اس طرح مضافات مدینہ کا وہ پورا محلہ جس میں بنی نَضیر رہتے تھے ، ان کے باغات اور گَڑھیوں اور سر و سامان سمیت مسلمانوں کے ہاتھ آگیا اور اس بد عہد قبیلے کے لو گ خیبر ، وادی القُریٰ اور شام  میں تتّر بتّر ہو گئے۔
پھر آپﷺنے بنی غَطَفان کی طرف توجہ کی جو مدینے پر حملہ آور ہونے کے لیے پر تول رہے تھے۔ آپ 4 سو کا لشکر لے کر نکلے اور ذات الرِّقاع کے مقام پر اس کو جالیا۔ اس اچانک حملے نے ان کے حواس باختہ کر دیے اور کسی جنگ کے بغیر وہ اپنے گھر بار اور مال اسباب چھوڑ کر پہاڑوں میں منتشر ہو گئے۔
اس کے بعد شعبان 4 ہجری میں آپ ابو سفیان کے اُس چیلنج کا جواب دینے کے لیے نکلے جو اس نے اُحد سے پلٹتے ہوئے دیا تھا۔ خاتمۂ جنگ پر اُس نے نبی ﷺ اور مسلمانوں کی طرف رُخ کر کے اعلان کیا تھا کہ  ان موعد کم بد رللعام المقبل(آئندہ سال بدرکے مقام پر ہمارا تمہارا پھر مقابلہ ہو گا)اور حضورﷺنے جواب میں ایک صحابی  کے ذریعہ سے یہ اعلان کرا دیا  تھا کہ نعم ، ھی بیننا وبینیک موعد(ٹھیک ہے ، یہ بات ہمارے اور تیرے درمیان طے ہو گئی )۔ اس قرار داد کے مطابق طے شدہ وقت پر آپ 15 سو صحابیوں کو لے کر بدر کے مقام پر پہنچ گئے۔ اُدھر سے ابو سُفیان  2 ہزار کا لشکر لے کر چلا مگر مُرَّالظَّہران (موجودہ وادیِ فاطمہ ) سے آگے بڑھنے کی ہمّت نہ کر سکا۔ حضورﷺنے بدر میں 8 دن اس کا انتظار کیا اور اس دوران میں مسلمان تجارت کر کے 1 درہم کے 2درہم کماتے رہے۔ اس واقعہ سے وہ دھاک جو اُحُد میں اُکھڑی تھی پہلے سے زیادہ جم گئی۔اس نے پورے عرب پر یہ بات کھول دی کہ اب تنہا قریش محمد ﷺکے مقابلے کی طاقت نہیں رکھتے۔
 اس دھاک میں ایک اور واقعہ نے مزید اضافہ کیا۔ عرب اور شام کی سرحد پر دُدمتہ الجَنْدَل (موجودہ الجَوف )ایک اہم مقام تھا جہاں اے عراق اور مصر و شام کے درمیان عرب کے تجارتی قافلے گزرتے تھے۔ اس مقام کے لوگ قافلوں کو تنگ کرتے اور اکثر لوٹ لیتے تھے۔ نبی ﷺربیع الاوّل 5 ھ میں 1 ہزار کا لشکر لے کر ان کی تادیب کے لیے خود تشریف لے گئے۔وہ آپﷺکے مقابلے کی ہمت نہ کر سکے اور بستی چھوڑ کر بھاگ نکلے۔اس سے پورے شمالی عرب پر اسلام کی ہیبت بیٹھ گئی اور قبائل نے یہ سمجھ لیا کہ مدینے میں جو زبردست طاقت پیدا ہوئی ہے اس کا مقابلہ اب ایک دو قبیلوں کے بس کا کام نہیں ہے۔
جاری ہے۔۔۔۔
 
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: