اسلام میں حدیث کی اہمیت-1

اﷲ کے نزدیک دین کیا ہے ؟
اﷲ تعالیٰ فرماتا ہے:ان الدین عنداﷲ الاسلام بے شک اﷲ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے (آل عمران:19)
کیا اسلام کے علاوہ کسی اور دین پر عمل جائز ہے؟
اﷲ تعالیٰ کا حکم ہے:اتبعوا ما انزل الیکم من ربکم ولا تتبعوا من دونہ اولیاء لوگو تمہارے رب کی طرف سے جو نازل ہوا ہے اس کی پیروی کرو اور اس کے علاوہ اولیاء کی پیروی نہ کرو (الاعراف:3)
یہ بھی فرمایا:ومن یبتغ غیر الاسلام دینا فلن یقبل منہ وھو فی الاخرۃ من الخسرین اور جو شخص اسلام کے علاوہ کسی اوردین کا طلبگار ہوگاتو وہ اس سے ہر گز قبول نہیں کیاجائیگا اور ایسا شخص آخرت میں نقصان اٹھانیوالوں میں سے ہوگا (آل عمران :85)
اﷲ تعالیٰ نے رسول اﷲ ﷺ  کو رسالت کے ساتھ مخصوص فرماکر آپ پر اپنی کتاب نازل فرمائی اور اسکی مکمل تشریح کا حکم دیا۔
و انزلنا الیک الذکر لتبین للناس مانزل الیہم اور ہم نے آپ پر یہ کتاب نازل کی ہے تاکہ جو(ارشادات) نازل ہوئے ہیں وہ لوگوں سے بیان کر دو (النحل :44)
آیت کریمہ کے اس حکم میں دو باتیں شامل ہیں:
1-الفاظ اور ان کی ترتیب کا بیان یعنی قرآن مجید کا مکمل متن امت تک اس طرح پہنچا دینا جس طرح اﷲ تعالیٰ نے نازل فرمایا
2-الفاظ، جملہ یا مکمل آیت کا مفہوم و معانی بیان کرنا تاکہ امت مسلمہ قرآن حکیم پر عمل کرسکے۔
قرآن مجید کی جو شرح رسول اﷲ ﷺ  نے فرمائی اسکی کیا حیثیت ہے؟
دینی امو رمیں رسول اﷲ ﷺ  کے فرامین اﷲ کے حکم کے مطابق ہوتے ہیں:
وما ینطق عن الھوی ان ھو الا وحی یوحی اور وہ ﷺ  ) اپنی خواہش سے کچھ نہیں بولتے جو کہتے ہیں وہ وحی ہوتی ہے (النجم:3-4)
اسی لئے فرمایا:من یطع الرسول فقدااطاع اﷲ جس نے رسول کی اطاعت کی پس تحقیق اس نے اﷲ کی اطاعت کی (النساء :80)
یہی وجہ ہے کہ دینی امور مین فیصل کن حیثیت اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول اﷲ ﷺ  کو حاصل ہے۔
فان تنازعتم فی شئی فردوہ الی اﷲ والرسول ان کنتم تومنون باﷲ والیوم الاخر پس اگر کسی بات میں تم میں اختلاف واقع ہو تو اگر تم اﷲ تعالیٰ اور روزِ آخرت پر ایمان رکھتے ہو تو اﷲ اور اس کے رسول کی طرف رجوع کرو (النساء :59)
معلوم ہوا کہ اسلام اﷲ تعالیٰ اور اس کے رسول اﷲ ﷺ  کی پیروی کانام ہے۔
انبیاء کو کتب سماوی کے علاوہ بھی وحی آتی ہے۔
یقینا انبیاء کو کتب سماوی کے علاوہ بھی وحی آتی ہے اور اس وحی پر عمل بھی اتنا ہی ضروری ہے جتنا اﷲ کے کلام پر۔ (جس کی کچھ وضاحت شروع میں بھی کی گئی ہے)
کتاب اﷲ کے علاوہ وحی کی اقسام میں سے ایک قسم انبیاء کے خواب ہیں ۔
ابراہیم علیہ السلام کا خواب ملاحظہ فرمائیں:فلما بلغ معہ السعی قال یبنی انی اری فی المنام انی اذبحک فانظر ماذا تری قال یابت افعل ماتومر ستجدنی ان شاء اﷲ من الصبرین فلما اسلما و تلہ للجبین و نادینہ ان یاابرہیم قد صدقت الرؤیا انا کذلک نجزی المحسنین ابراہیم علیہ السلام نے کہا اے بیٹے میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ تم کو ذبح کر رہا ہوں تم بتاؤ تمہارا کیاخیال ہے ؟؟؟ اس نے کہا ابا جان جو آپ کو حکم ہوا وہ کر گزرئیے اﷲ نے چاہا تو آپ مجھے صابر پائیں گے جب دونوں نے حکم مان لیا اور باپ نے بیٹے کو ماتھے کے بل لٹا دیا تو ہم نے ان پکارا کہ ابراہیم تم نے اپنا خواب سچا کر دکھایا ہم نیکوکاروں کو ایسا ہی بدلہ دیاکرتے ہیں (الصافات :102۔105)
اس آیت میں خواب میں بیٹے کو ذبح کئے جانے والے عمل کو اﷲ کا حکم کہاگیا ہے ۔
جاری ہے
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: