حجراسود تاریخ کے آئینے میں

کعتبہ اللہ کے جنوب مشرقی گوشے کی دیوار میں تقریباً چار فٹ کی بلندی پر ایک قدیم اور مقدس ترین آسمانی پتھر نصب ھے جسکےگرد چاندی کا چاکھٹا ھے۔ یہی پتھر حجراسود کہلاتا ھے۔ مرکز کعبہ اور کروڑوں فرزند ان اسلام کی عقیدتوں کا محور کعبے کا یہ پتھر صرف مسلمانوں ہی کیلئے نہیں بلکہ دنیا کے تمام مذاہب کے پیروکار اسے مقدس مانتے ہیں۔ اور اس پتھر کو اللہ کی نشانی قرار دیتے ہیں۔
تاریخ کے آئینے میں حجراسود کا جائزہ لیتے ہیں کہ حالات کے نشیب و فراز اور دنیاوی انقلاب حجراسود پر کس طرح اثر انداز ھوئے اور تمام تر طاغوتی حملوں اور سازشوں کے باوجود اللہ تعالی نے زمانے کے سر گرم سے حجراسود کو کس طرح محفوظ رکھا۔
حجراسود کی تاریخ یہ ھے کہ جب حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے خانہ کعبہ کی بنیادوں کو بلند کرتے ھوئے جب ایک خاص مقام تک پہنچے تو انہوں نے اپنے بیٹے اسماعیل علیہ اسلام سے فرمایا سنک اسود تلاش کر کے لاو۔ حضرت اسماعیل علیہ اسلام ایک پتھر اٹھا کر لائے تو انہوں نے رکن کے پاس حجراسود کو ماجود پایا تو تعجب سے پدر سے پوچھا اس کو کون لایا تو حضرت ابراہیم علیہ اسلام نے فرمایا تم سے چاک و چوبند [اشارہ فرشتے کی طرف تھا] یہ کہہ کر اسے اس رکن پر لگا دیا جہاں طواف کا آغاز مقصود تھا۔
دور جاہلیت میں ایک بار کعبے کو خشبو کی دھونی دی گئی تو غلاف کعبہ کو آگ لگ گئی جس سے حجراسود بھی جھلس گیا 64ھ میں حضرت عبداللہ بن زبیر اور اموی فوج سے لڑائی میں ایک بار پھر خوفناک آگ سے حجراسود کے تین ٹکڑے ھوگئے۔ عبداللہ بن زبیر نے چاندی کے موٹے خول میں ان ٹکڑوں کو محفوظ کر کے خانہ کعبہ کی دیوار میں لگا دیا۔ 180ھ میں خلیفہ ہارون الرشید نے حجراسود کے ان ٹکڑوں میں سوراخ کروا کر چاندی سے مربوط کر دیا۔317 ھ میں مکہ پر قرامطہ قابض ھوگئے انہوں نے حرم میں خون بہایا بہت سے حجاج شہیدان کا مقصد میزاب رحمت[سونے کا پرنالہ] مقام ابراہیم اور حجراسود کو چوری کرنا تھا ۔ ابو طاہر کے حکم سے جعفر بن معمار نے14 ذی الحج 317 ھ کو کدال مار کر حجراسود کو اکھاڑ لیا اور بحرین لے گیا۔ تقریباً 22  سال تک رکن اسود پر جگہ خالی رہی اور حجاج صرف خالی جگہ کو ہاتھ لگا کر بوسہ کرتے تھے۔
بالاآخر10 ذی الحج 339 ھ کو بحرین سے سبز بن کرامطی حجراسود کو واپس لایا۔ اور دوبارہ خانہ کعبہ کی زینت بنایا 368 ھ میں ایک رومی نے حجراسود کو چرانے کی کوشش کی لیکن پکڑا گیا۔ 414 ھ میں ایک عجمی نے کدال سے حجراسود پر حملہ کردیا1315 ھ میں ایک افغانی نے حجراسود کا کچھ حصہ توڑ لیا۔ اب یہ 30 سینٹی میڑ کا غیر منظم چمکدار سرخی مائل رنگ کا بیضوی پتھر ھے۔ جو چاندی کے مضبوط بیضوی حلقے ھے۔ اگرچہ زمانے کے بدلتے رنگوں میں طاغوتی و شیطانی قوتوں نے اللہ کی نشانی کو مٹانے کی بھرپور کوشش کی لیکن بقول شاعر

                  فانوس بن کر جسکی حفاظت خدا کرے                            وہ شمع کیا بجھے جسے روشن خدا کرے

حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت ھے کہ اللہ کی قسم بروز قیامت حجراسود کو اس طرح اٹھایا جائے گا کہ اسکی دو آنکھیں ھونگی جن سےوہ دیکھے گا اور زبان ھوگی۔ جس سے یہ بالے گا اور گواہی دیگا اس شخص کے حق میں جس نے اسکو حق کیساتھ بوسہ دیا ھوگا۔[ترمزی وابن ماجہ] یہ پتھر حضرت آدم علیہ اسلام کے ساتھ جنت سے اتارا تو یہ دودھ سے زیادہ سفید تھا۔ بنی آدم کے گناہوں نے اسے سیاہ کردیا [مشکوۃ شریف]
روایتوں میں آتا ھے کہ خلیفہ دوئم حضوت عمر فاروق رضی اللہ عنہ جب عمرے کی ادائیگی کیلئے حجرواسود پر بوسہ دینے پہنچے تو فرمایا کہ میں جانتا ھوں کہ تو ایک پتھر ھے۔ نہ کوئی نفع پہنچا سکتا ھے نہ نقصان اگر میں پیغمبر آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کو نہ دیکھتا کہ انہوں نے تجھے بوسہ دیا ھے تو کبھی بوسہ نہ دیتا۔ خلیفہ چہارم حضرت علی رضی اللہ عنہ جو کہ قریب موجود تھے بول اٹھے کہ اے عمر رضی اللہ عنہ یہ پتھر نفع اور نقصان پہنچاتا ھے، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا وہ کیسے؟ حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ ازل میں جب اللہ جل شانہ سارے بندوں سے اپنے رب ھونے کا اقرار لیا تھا تو اس اقرار کو کتاب میں درج کرکے اس پتھر میں محفوظ کرلیا تھا۔ بس قیامت میں گواہی دے گا کہ فلاں نے اقرار پورا کیا اور فلاں منکر ھوا۔ [شفق علیہ]
گویا روز قیامت اہل ایمان کی شناخت حجراسود کرے گا۔ یعنی حق تعالی کا عطا کردہ ایسا پیمانہ ھے جو کہ قیامت تک اہل ایمان کیلئے حق کی نشانی اور قابل تعظیم وتکریم ھے۔
حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے روایت ھے کہ ایک دفعہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دونوں لبوں کو حجراسود پر رکھ کر دیر تک روتے رھے پھر التفات فرمایا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ بھی رو رھے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا اے عمریہ رونے اور آنسو بہانے کی جگہ ھے۔
اگر اولیاء اللہ کی تعلیمات کے حوالے حجراسود کی اہمیت کا جائزہ لیا جائے رو شیخ والمشائخ قطب دوراں حضرت شبلی قدس سرہ کا واقعہ سامنے آتا ھے کہ آپ کا ایک مرید حج کرکے آیا تو آپ نے اس سے حج کے ارکان و واجبات کے متعلق سوالات کرتے ھوئے حجراسود کے متعلق پوچھا کہ حجراسود پر ہاتھ رکھ کر اسکو بوسہ دیا تھا؟ مرید نے عرض کیا جی ایسا کیا تھا۔ تو آپ نے خوف زدہ ھوکر ایک آہ کھینچی اور فرمایا تیرا ناس ھو خبربھی ھے کہ جو حجراسود پر ہاتھ رکھے وہ گویا اللہ سے مصافحہ کرتا ھے(بحوالہ فضائل حج)
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: