تاریخ کے جھروکے سے۔۔۔۔1

ملکہ خیزران بڑی شان وشوکت کے ساتھ اپنے محل میں بیٹھی ہوئی تھی کہ اس کی لو نڈی نے آکر عرض کی ملکہ عالم !محل کی ڈیوڑی پر ایک نہایت ہی خستہ حال غریب عورت کھڑی ہے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کچھ کہنا چاہتی ہے۔ ملکہ نے کہا اس عورت کا حسب نسب دریافت کرو اور یہ بھی معلوم کرو اسے کس چیز کی ضرورت ہے لونڈی نے باہر آکر اس غریب عورت سے بہت پو چھا اس نے اپنا نام نسب اور خاندان کا پتہ سب کچھ بتا دیا لیکن اس نے یہ نہ بتایا کہ وہ ملکہ سے کیوں ملنا چاہتی ہے اس کا بس ایک ہی جواب تھا کہ جو کہنا چاہتی ہے ملکہ سے بس زبانی ہی کہے گی ۔لونڈی نے اندر آکے ملکہ کو عورت کا جواب سنایا تو وہ بہت حیران ہو ئی اس وقت حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنھما کی پڑپوتی زینب بنت سلمان بھی ان کے پاس بیٹھی تھیں وہ بنو عباس کی خواتین میں بہت دانا تسلیم کی جا تی تھیں ملکہ نے ان سے مشورہ کیا کہ کیا اس عورت کو اندر آنے کی اجازت دوں یا ملنے سے انکار کر دوں ۔انہوں نے فرمایا ضرور بلواؤ دیکھیں تو سہی کیا چاہتی ہے ۔چنانچہ ملکہ نے لونڈی کو حکم دیا کہ اس کو اندر آنے کی اجازت دے دی جائے ۔چنانچہ تھوڑی دیر میں ایک پھٹے پرانے کپڑے پہنے ایک انتہائی شکستہ حالت عورت کھڑی ہے اس کے دل کش خدوخال سے معلوم ہو تا تھا کہ کو ئی شریف زادی ہے لیکن میل کچیل اور بوسیدہ کپڑوں نے اس کی حالت گداگروں جیسی بلکہ اس سے بھی ابتر بنا رکھی ہے ،وہ عورت پہلے تو ملکہ کا کرو فر دیکھ کر ٹھٹکی پھر فورا ہی جرأت کر کے ملکہ کو سلام کیا اور کہنے لگی ’’اے ملکہ !میں مروان بن محمد کی بیٹی مزنا ہوں جو خاندان بنو امیہ کا آخری تاجدارتھا۔جوں ہی یہ بات اس کے منہ سے نکلی تو ملکہ خیزران کا چہرا ہ فرط غضب سے سرخ ہو گیا اور اس نے اکڑ کے کہا
’’اے بدبخت عورت! تجھ کو یہ جرأت کیسے ہو ئی کہ تو اس محل کے اندر قدم رکھے ؟
کیا تو نہیں جا نتی کہ تیرے خاندان نے عباسیوں پر کیسے ظلم ڈھائے اے سنگ دل کیا تو وہ دن بھول گئی ہے کہ جب بنو عباس کی بوڑھی عورتیں تیرے پاس التجاء لے کر گئیں تھی کہ تو اپنے باپ سے سفارش کر کہ میرے شوہر (مہدی) کا چچا امام محمد بن ابراھیم کی لاش دفن کرنے کی اجازت لے دے۔ کم بخت عورت خدا تجھے غارت کرے تو نے ان معزز اور مظلوم خواتین پر ترس کھانے کی بجائے انہیں ذلیل کر کے محل سے نکلوا دیا تھا ۔کیا تیری یہ حرکت انسانیت کی توہین نہیں تھی ؟مانا کہ آپس میں دشمنی تھی لیکن پھر بھی ایک بے بس اور لاچار دشمن کے ساتھ ایسا سلوک جائز نہ تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے تم سے حکومت چھین لی اور تمہیں ذلیل کیا ۔مزنا! خیریت اسی میں ہے کہ تم فورا یہاں سے چلی جا ؤ ۔‘‘
مزنا؛ ملکہ کی باتیں سن کر بالکل مرعوب نہ ہو ئی بلکہ اس نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور بولی ’’بہن! اپنے آپ سے باہر نہ ہو جو کچھ میں نے کیا خدا سے اس کی سزا پا لی ۔خدا کی قسم جو کچھ تم نے کہا وہ سچ ہے اسی کی پاداش میں خدا نے مجھے ذلیل کر کے تمہارے سامنے لا کھڑا کیا۔کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کسی وقت میں تجھ سے زیا دہ شوخ اور شریر تھی دولت اور حشمت میرے گھر کی لونڈی تھی مجھے اپنے حسن پہ ناز تھا اور تکبر نے مجھے اندھا کر دیا تھا مگر تم نے دیکھا کہ جلد ہی زمانے نے اپنا ورق الٹ ڈالا خدا نے اپنی تمام نعمتیں مجھ سے چھین لیں اور اب میں ایک فقیر سے بدتر ہو ںکیا تم چاہتی ہو کہ تمہارے ساتھ بھی یہی کچھ ہو ؟اچھا خوش رہو، میں جاتی ہو ں۔اتنا کہہ کر مزنا نے تیزی سے باہر کا رخ کیا لیکن ابھی چند قدم جا نے ہی پائی تھی کہ خیزران نے دوڑ کر اسے پکڑ لیا اور چاہا کہ گلے سے لگا لے لیکن مزنا نے پیچھے ہٹ کر کہا خیزران سنو! تم ملکہ ہو اور میں ایک غریب اور بے کس عورت… میرے کپڑے بوسیدہ اور غلیظ ہیں میں اس قابل نہیں کہ ملکہ مجھ سے بغل گیر ہو ۔خیزران نے آبدید ہ ہو کرلو نڈیوں حکم دیا کہ مزنا کو نہلا دو اور اعلی درجہ کی پو شاک پہنا دو اور پھر اسے عطر میں بسا کر میرے پاس لے آؤ۔لونڈیوں نے ملکہ کے حکم کی تعمیل کی اس وقت مزنا کو دیکھ یوں معلوم ہو ا کہ چاند بادل سے نکل آیا ہے خیزران بے اختیا ر مزنا سے لپٹ گئی ، پاس بیٹھایا اور پوچھا دستر خوان بچھواؤں ؟مزنا نے کہا ملکہ آپ پوچھتی کیا ہیں آپ کے محل میں مجھ سے زیا دہ کوئی بھوکا ہو گا فوراً دستر خواں بچھا دیا گیا ،مزنا سیر ہو کر کھا چکی تو ملکہ نے پوچھا ۔آج کل تمہارا سرپرست کون ہے؟ مزنا نے سرد آہ بھر کر کہا! آج کس میں ہمت ہے کہ میری سرپرستی کرے مدتوں سے در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہوں کوئی رشتہ دار بھی دنیا میں موجود نہیں کہ اس کے ہاں جا کر پڑوںبس کچھ قرابت ہے تو وہ اسی گھرانے (بنو عباس )سے ہے ۔خیزران نے فوراً کہا مزنا! آزردہ مت ہو آج سے تم میری بہن ہو میرے بہت سے محل ہیں تم ان میں سے ایک محل پسند کر لو اور یہیں رہو جب تک میں جیتی ہو ں تمہا ری ہر ضرورت پو ری کروں گی۔چنا نچہ مزنا نے ایک عالی شان محل پسند کیا اور خیزران نے اس میں تمام ضروریا ت زندگی اور لو نڈیاں غلام مہیا کر دیے ساتھ ہی پانچ لاکھ درہم نقد بھی اس کے حوالے کر دیے کہ جس طرح جی چاہے خرچ کر ۔شام کا خلیفہ مہدی حرم میں آیا اور دن بھر کے حالات پو چھنے لگا ملکہ خیزران نے اسے آج کا واقعہ تفصیل سے سنانا شروع کیا جب اس نے بتایا کہ میں نے مزنا کو اس طرح جھڑکا اور وہ قہقہہ لگا کر شان بے نیازی سے واپس چلی گئی تو خلیفہ فرط غضب سے بے تاب ہو گیا اور اس نے ملکہ کی بات کاٹ کر کہا ’’خیزران تم پہ ہزار افسوس ،کہ خدا نے جو تمہیں نعمتیں عطاء کی ہیں تم نے ان کا شکریہ ادا کرنے کا ایک بیش بہا موقع ہاتھ سے کھو دیا تمہاری یہ حرکت ایک ملکہ کے شایان شان نہیں تھی ۔‘‘
خیزران نے کہا ’’امیر المومنین! میری پو ری بات تو سن لیں اس کے بعد اس نے جب مزنا سے اپنے حسن سلوک کی تفصیل بتائی تو مہدی کا چہرہ چمک اٹھا اس نے خیزران کی عالی ظرفی کو بہت سراہا اور کہا آج سے میری نظر میں تمہاری قدر دو چند ہو گئی ہے ۔پھر اس نے اپنی طرف سے بھی مزنا کو اشرفیوں کے سو توڑے بھیجے اور ساتھ ہی کہلا بھیجا کہ آج میری زندگی کا سب سے بڑا یوم مسرت ہے کہ اس نے ہمیں تمہاری خدمت کی تو فیق دی ،اب تم اطمینان سے یہاں رہو ۔
اس کے بعد مزنا طویل عرصہ تک زندہ رہی مہدی کی وفات
۱۶۹؁ھ بمطابق ۷۸۵؁ء ہوئی اس کے بعد اس کا بیٹا ہادی بھی اس کی خدمت کرتا تھا ہا دی کے بعد۱۷۰؁ھ۷۸۶؁ء میں ہارون الرشید خلیفہ بنا تو اس نے بھی مزنا کو ماں کے برابر سمجھا ،اس کے عہد خلافت کی ابتدا میں مزنا نے وفات پائی تو ہارون الرشید بچوں کی طرح بلک بلک کے رویا اور اس کے جنازہ کو شاہانہ شان شوکت سے قبرستان پہنچایا ۔
Advertisements
1 comment
  1. بہت ہی عمدہ، بہت سکون ملا پڑھہ کے، اللہ اپکو جزاء دیں آمین۔

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: