بیس رکعات پرصحابہ وعلماء کے اتفاق کے بعد آٹھ رکعات تراویح پر اصرار کرنا صحیح نہیں ہے

مسلمانوں کا ایک چھوٹا سا طبقہ آٹھ(8) رکعات تراویح پر اصرار کرتے ہوئے بیس(20) رکعات تراویح کا انکار کرتا ہے اور حضرت عائشہ رضی الله عنہا کی گیارہ رکعات والی روایت اور حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی آٹھ رکعات والی حدیث ہی کو دلیل مانتا ہے جو کسی طرح صحیح نہیں ہے، اس لیے کہ
لف)حضرت عائشہ رضی الله عنہاکی اس روایت میں رمضان و غیر رمضان میں گیارہ رکعات اس ترتیب سے پڑھنے کاذکرہے چار،چاراورتین۔اور دوسری صحیح حدیث میں دس اور ایک رکعات پڑھنے کاذکرہے،اورایک صحیح حدیث میں آٹھ رکعات اور پانچ رکعات ایک سلام کے ساتھ جملہ تیرہ (13)رکعات پڑھنے کاذکرہے۔ اور ایک صحیح حدیث میں نو(9)رکعات ایک سلام کے ساتھ پڑھنے کاذکرہے۔حضرت عائشہ کی روایت کردہ یہ تمام حدیثیں ایک دوسرے سے رکعات اور ترتیب میں معارض ہیں۔ایک روایت پرعمل کرنے سے دوسری حدیثوں کاترک لازم آئے گا؛لہٰذاان حدیثوں کی توجیہ وتاویل کرنی ضروری ہوگی۔علاوہ دوسرے صحابہ کرام ث سے مروی روایات بھی حضرت عائشہ کی اس روایت سے ترتیب اور رکعات میں مختلف ہیں ،جیسا کہ حضرت عبدالله ابن عباس کی صحیح روایت میں دو رکعات چھ مرتبہ جملہ بارہ (12)رکعات پھر وتر پڑھنے کا کی صرف ذکرہے۔اورایک مرسل حدیث میں سترہ(17)رکعات پڑھنا مذکورہے۔(مصنف عبدالرزاق4710) لہٰذا حضرت عائشہ ایک ہی روایت سے تراویح کی گیارہ رکعات پراصرارکرنا اورباقی حدیثوں کاترک کرنا صحیح نہ ہوگا۔
حضرت عائشہ رضی الله عنہاکی اس روایت میں أتنام قبل أن توتر کے الفاظ ہیں۔ جس سے معلوم ہواکہ آپ ﷺ سو کراٹھنے کے بعدنمازادافرماتے تھے، اور دوسری حدیثوں سے معلوم ہوتاہے کہ رسول اللهﷺ رمضان کی راتوں میں سوتے نہیں تھے،جیساکہ حضرت عائشہ فرماتی ہیں کہ : إذا دَخَلَ رمضانَ شَدَّ مِئْزَوَہ ثم لم یَأتِ فِراشَہ حتی یَنْسَلِخَ (یعنی پورا رمضان بسترکے قریب نہیں آتے تھے)نیز حضرت ابوذر کی حدیث میں پوری رات تراویح پڑھاناثابت ہے؛ لہٰذااس حدیث کوتراویح پرمحمول کرناصحیح نہیں ہے۔
حضرت عائشہ کی روایت سے ثابت ہوتاہے کہ آپ نے کمرہ میں نماز ادافرماکر آرام فرمایا،جب کہ تراویح کی احادیث میں اکثرمسجدمیں نمازپڑھنے کاذکرملتا ہے؛ لہٰذا گیارہ(11) رکعات کی اس حدیث کوتراویح سے جوڑنا،اور بیس (20)رکعات کی نفی میں اس حدیث کوپیش کرناکسی طرح صحیح نہیں ہے۔حضرت عائشہ کی گیارہ (11)رکعات کی روایت کے اخیرمیں أتَنَامُ قَبْلَ أن تُوتِرَ (کیا وتر پڑھے بغیرآپ سوگئے تھے؟)کے الفاظ قابلِ غورہیں،ہوسکتاہے کہ یہ نمازوترہو؛ اس لیے کہ حضرت عائشہ کی دوسری حدیث (صحیح مسلم1773) میں  نو(9)رکعات وترپڑھ کردو رکعات جملہ گیارہ پڑھنے کا ذکرہے۔
 (ب)حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث میں رسول الله ﷺ کا آٹھ رکعات پڑھا نے کا ذکر ہے؛ لیکن اس حدیث سے بیس رکعات کی نفی پراستدلال کرناصحیح نہیں ہے؛اس لیے کہ (1)اس حدیث کی سندپرمحدثین نے کلام کیاہے ۔(2)یہ روایت حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی ایک اور حدیث کے معارض ہے جس میں چوبیس(24)رکعات اورتین رکعات وتر پڑھنے کاذکرہے۔ (3) حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ کی حدیث میں صرف ایک رات کا ذکر ہے، بقیہ راتوں کا ذکر نہیں ہے۔ لہٰذااس حدیث سے بیس رکعات کی نفی کرناصحیح نہیں ہے۔(4)اس حدیث کے اخیر میں کَرِہْتُ أن یُکتَبَ علیکم الوترُکے الفاظ ہیں۔ اس سے احتمال پیدا ہوتا ہے کہ یہ نماز وترہو۔ آپ ﷺ پہلے کچھ رکعتیں پڑھی ہوں، جیسا کہ دوسری حدیثوں میں آپ کا نمازپڑھ کر سوجانا پھروترپڑھنا ثابت ہے۔نیز آپﷺ کا انفرادی تراویح پڑھنا اورصحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہ کاآپ کونماز پڑھتے دیکھ کر آپ ﷺ کے ساتھ شریک ہونا دوسری حدیثوں سے ثابت ہے۔ ہوسکتا ہے کہ حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ اخیرمیں شریک ہوں۔والله اعلم بالصواب۔امام ابن حبان اورامام ابن خزیمہ رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کووترکے باب میں نقل کیاہے۔
علاوہ ازیں حضرت عبدالله ابن عباس سے رسول اللهﷺ کارمضان المبارک میں بیس (20) رکعات تراویح اورتین رکعات وتر پڑھنامروی ہے ۔ (اگرچہ اس حدیث کے ایک راوی ابوشیبہ ابراہیم بن عثمان رحمۃ اللہ علیہ پرکلام کیاگیا ہے؛ مگران کی روایات کوبہت سے محدثین نے نقل فرماکر سکوت اختیارکیاہے۔ اوراس کی متن کی تائیدمیں دوسری روایات اور عملِ صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ بھی موجود ہے، اس لیے اس کوضعیف کہناصحیح نہ ہوگا۔)اور تاریخ جرجان ومخطوطات شیخ ابوطاہراصبہانی میں حضرت جابر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے رسول الله ﷺ کا رمضان المبارک میں چوبیس(24)رکعات اورتین رکعات وتر پڑھانا منقول ہے اور صحا بہ وتابعین کا عمل بھی بیس(20) رکعات تراویح کا ہے ؛لہٰذا صحابہ ، تابعین اور اکثر علماء امت کے بیس (20) رکعات تراویح پر اتفاق کے بعد آٹھ (8)رکعات تراویح پر اصرار کرنا اور حدیث صحیح وحدیثِ ضعیف کی بحث کر تے ہوئے بیس رکعات کا انکار کرنا حق اوراجماع سے انحراف کا باعث ہو گا ۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: