اسلامی ریاست کے بنیادی اُصول

مملکت اسلامی جمہوریہ پاکستان کو جو صرف نام ہی کا اسلامی ملک رہ گیا ہے 1971 ؁میں آغا محمد یحییٰ خان کے دور حکومت میں  کا آئین بنانے کا کام ماہرین کی ایک کمیٹی کر رہی تھی۔ طے یہ ہوا تھا کہ یہ کمیٹی مسودہ تیار کر کے صدرِ مملکت کو پیش کرے گی اور وہ مختلف راہنماؤں اور ارکانِ اسمبلی سے مشورہ کے بعد اسے آخری شکل دیں گے۔مگر پھر چند مفاسد پرستوں کے انتشار پسندانہ سازشوں اور ملک میں اندرونی و بیرونی دراندزیوں سے یہ مسودہ اور اس پر عمل در آمد ہی نہ ہو سکا۔
ملک کا ہر صاحب ذیشان طبقہ اور علماءکرام سب ان نکات پر باہم متفق تھے جو کہ قیامِ پاکستان کے مقاصد پورے کرنے اور ملک کے مختلف طبقوں کے لئے معاشرتی اور اقتصادی انصاف کی ضمانت مہیا کرنے کے لئے انتہائی ناگزیر تھے۔
اس وقت امید کی جا رہی تھی کہ پاکستان کی جغرافیائی سالمیت کو محفوظ کرنے کے اقدام کے بعد آئینی طور پر اس کی نظریاتی سالمیت کے تحفظ اور استحکام کے لئے یہ فیصلہ ایک ایسا ہی عظیم کام ہو گا جس سے وہ لا دین قوتیں مایوس ہو جائیں گی جو قوم کو وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ اس کی عظیم قربانیوں سے غافل کر کے اپنے ان مذموم مقاصد کو پورے کرنے پر تلی ہوئی تھیں جو انہیں اپنے مغربی یا مشرقی آقاؤں سے ورثہ میں ملے تھے۔
پر پھر لٹیروں اور ملک کےغداروں کے ان ناپاک ارادوں کا کیا ہوتا جو انہوں نے وعدے اپنے آقاؤں سے کر رکھے تھے عوام اگر متحد ہو جاتے تو پھر ان کا خود کا وجود ہی ختم ہو کر رہ جاتا ۔
آج ہم ماضی کے اسی آئین کو قارئین کے سامنے لا رہے ہیں جو کئی دہائیوں پہلے ہم پیچھے چھوڑ آئے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ ہمارے ساتھی اور مخلص پاکستانی جو جانتے ہیں کہ انقلاب کسی کو ذلیل کرنے اور کسی کے اوپر کیچڑ اچھال کر نہیں آتا۔انقلاب عوام کو بے وقوف بنا کر نہیں آتا۔انقلاب آتا ہے ملک میں بہترین قوانین نافذ کرنے سے ملک میں عدلیہ کو خدمختار کرنے سے۔تعلیم کو یکساں طور پر عوام میں رائج کرنے کے سے۔باشندگان ملک جن میں اقلیتیں بھی شامل ہیں انہیں ان کے تمام حقوق دینے سے۔
پر ہم ایسا نہ کرسکے اور ہم آج کس طور پر زندگی گزار رہے ہیں یہ سب آپ کے سامنے ہے۔
1971؁میں صدرِ پاکستان کی ہدایات کے مطابق اسلامی دستور تیار کرنے کے لئے مسلمانانِ پاکستان کی سابقہ جدوجہد کو سامنے رکھنےکی کوشش کی گئی ، خصوصاً پاکستان کے ہر مکتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے 31علماء کرام نے جو ’’اسلامی مملکت کے بنیادی اصول‘‘ 22نکات کی شکل میں پیش کئے تھے، آج 2012؁میں ہم کوشش کریں گے کہ ان نکات کو آئین میں شامل کرکے ملک کو اسلامی سانچے میں ڈھال سکیں۔ان نکات میں جو کہ اس وقت بھی اور آج بھی تمام اسلامی فرقوں کے نمائندہ علماء اور ملک کے عوام کی دینی اور روحای وابستگی کا مرکز ہیں جنہیں پاکستانی عوام کے جذبات کا نشان قرار دیا جاتا ہے۔ ان علماء نے 22نکات پر مشتمل یہ آئینی سفارشات متفقہ طور پر طے کی تھیں جبکہ لا دین عناصر اور یورپی آقاؤں نے ہمیشہ سے ہی مسلمانوں کے مذہبی اختلافات کی وجہ سے کسی متفقہ آئین کو ناممکن قرار دیاہے۔
اب ہم پاکستانیوں کو ہی ان نکات کو عوام میں عام کرنا اور انہیں یقین دلانا ہے کہ اسلامی قوانین کے نفاذ کے بغیر ہم کسی بھی بہترین انقلاب کا سوچ بھی نہیں سکتے ورنہ ہماری حالت وہی رہے گی ہمیشہ جو کہ گزشتہ حکمرانوں کے دور میں رہی ہے ۔صرف شکلیں ہی بدل جاتی ہیں اور نظام وہی قائم رہتا ہےان نکات سے اس غلط پروپیگنڈے کا طلسم بھی توڑ ڈالنا ہے کہ  دورِ جدید کے مقتضیات کو ملحوظ رکھتے ہوئے کسی اسلامی آئین کا وجود ممکن نہیں۔
اب ان 31 علماء کے اسماءِ گرامی اور وہ 22نکات درج ذیل ہیں جنہیں مسلمان کسی ذہنی مرعوبیت کے بغیر اسلامی فلاحی ریاست کے بنیادی خاکے کے طور پر کسی جدید سے جدید ترقی یافتہ آئینی خاکے کے مقابلے میں پیش کر کے اسلام کی سیاسی برتری ثابت کر سکتےہیں۔ (کاش کہ ایسا ہو سکے)
·         علامہ سید سلیمان ندوی                  (صدر مجلس)
·         (مولانا) احمد علی (امیر انجمن خدام الدین لاہور)
·         (مولانا) سید ابو الاعلیٰ مودودی (امیر جماعت اسلامی پاکستان)
·         (مولانا) محمد بدر عالم (استاذ الحدیث، دار العلوم الاسلامیہ اشرف آباد ٹنڈو اللہ یار سندھ)
·         (مولانا) احتشام الحق تھانوی (مہتمم دار العلوم الاسلامیہ اشرف آباد سندھ)
·         (مولانا)عبد الحامد قادری بدایونی (صدر جمعیۃ علمائے پاکستان سندھ)
·         (مفتی) محمد شفیع (رکن بورڈ آف تعلیماتِ اسلام مجلس دستور ساز پاکستان)
·         (مولانا)محمد ادریس (شیخ الجامعہ، جامعہ عباسیہ بہاول پور)
·         (مولانا)خیر محمد (مہتمم مدرسہ خیر المدارس، ملتان شہر)
·         (مولانا مفتی)محمد حسن (مہتمم مدرسہ اشرفیہ نیلا گنبد لاہور)
·         (پیر صاحب) محمد امین الحسنات (مانکی شریف، سرحد)
·         (مولانا) محمد یوسف نبوری (شیخ التفسیر دار العلوم الاسلامیہ اشرف آباد سندھ)
·         (حاجی) خادم الاسلام محمد امین (خلیفہ حاجی ترنگ زئی، المجاہد آباد پشاور صوبہ سرحد)
·         (قاضی) عبد الصمد سربازی (قاضی قلات، بلوچستان)
·         (مولانا) اطہر علی (صدر عامل جمعیۃ علمائے اسلام مشرقی پاکستان)
·         (مولانا)ابو جعفر محمد صالح (امیر جمعیت حزب اللہ مشرقی پاکستان)
·         (مولانا)راغب احسن (نائب صدر جمعیۃ علمائے اسلام مشرقی پاکستان)
·         (مولانا)محمد حبیب الرحمن (نائب صدر جمعیۃ المدرسین، سر سینہ شریف مشرقی پاکستان)
·         (مولانا)محمد علی جالندھری (مجلس احرار اسلام پاکستان)
·         (مولانا)داؤد غزنوی (صدر جمعیۃ اہل حدیث مغربی پاکستان)
·         (مفتی حافظ) کفایت حسین مجتہد (ادارہ عالیہ تحفظ حقوق شیعہ پاکستان لاہور)
·         (مولانا) محمد اسماعیل (ناظمِ جمعیۃ اہل حدیث پاکستان، گوجرانوالہ)
·         (مولانا) حبیب اللہ (جامعہ دینیہ دار الہدیٰ ٹیڑی، خیر پور)
·         (مولانا) محمد صادق (مہتمم مدرسہ مظہر العلوم، کھڈہ، کراچی)
·         پروفیسر عبد الخالق (رکن بورڈ آف تعلیمات اسلام، مجلس دستور ساز پاکستان)
·         (مولانا) شمس الحق فرید پوری (صدر مہتمم مدرسہ اشرف العلوم ڈھاکہ)
·         (مفتی) محمد صاحبداد عفی عنہ (سندھ مدرسۃ الاسلام، کراچی)
·         (مولانا)محمد ظفر احمد انصاری (سیکرٹری بورڈ آف تعلیمات اسلام مجلس دستور ساز پاکستان)
·         (پیر صاحب) محمد ہاشم محوی (ٹنڈو سائیں داد، سندھ)
·         (مولانا شمس الحق افغانی (سابق وزیر معارف، ریاست قلات)
دستور اسلامی کے لئے علماءِ کرام کے متفقہ 22 نکات:
1)      اصل حاکم تشریعی و تکوینی حیثیت سے اللہ رب العالمین ہے۔
2)      ملک کا قانون کتاب و سنت پر مبنی ہو گا اور کوئی ایسا قانون نہ بنایا جا سکے گا، نہ کوئی ایسا انتظامی حکم دیا جا سکے گا جو کتاب و سنت کے خلاف ہو۔
(تشریحی نوٹ): اگر ملک میں پہلے سے کچھ ایسے قوانین جاری ہوں جو کتاب و سنت کے خلاف ہوں تو اس کی تشریح ضروری ہے کہ وہ بتدریج ایک معینہ مدت کے اندر منسوخ یا شریعت کے مطابق تبدیل کر دیئے جائیں گے۔
3)      مملکت کسی جغرافیائی، نسلی، لسانی یا کسی اور تصور پر نہیں بلکہ ان اصول و ضوابط پر مبنی ہو گی جن کی اساس اسلام کا پیش کیا ہوا ضابطۂ حیات ہے۔
4)      اسلامی مملکت کا یہ فرض ہو گا کہ قرآن و سنت کے بتائے ہوئے معروفات کو قائم کرے، منکرات کو مٹائے اور شعائرِ اسلامی کے احیاء و اعلاء اور مسلمہ اسلامی فرقوں کے لئے ان کے اپنے مذہب کے مطابق ضروری اسلامی تعلیم کا انتظام کرے۔
5)      اسلامی مملکت کا یہ فرض ہو گا کہ وہ مسلمانانِ عالم کے رشتہ اتحاد و اخوت کو قوی سے قوی تر کرنے اور ریاست کے مسلم باشندوں کے درمیان عصبیت جاہلیت کی بنیادوں پر نسلی و لسانی، علاقائی یا دیگر مادی امتیازات کے ابھرنے کی راہیں مسدود کر کے ملتِ اسلامیہ کی وحدت کے تحفظ کا انتظام کرے۔
6)      مملکت بلا امتیاز مذہب و نسل وغیرہ تمام ایسے لگوں کی لا بدی انسانی ضروریات یعنی غذا، لباس، مسکن معالجہ اور تعلیم کی کفیل ہو گی، جو اکتسابِ رزق کے قابل نہ ہوں، یا نہ رہے ہوں یا عارضی طور پر بے روزگاری بیماری یا دوسرے وجوہ سے فی الحال سعیٔ اکتساب پر قادر نہ ہوں۔
7)      باشندگانِ ملک کو وہ تمام حقوق حاصل ہونگے جو شریعتِ اسلامیہ نے ان کو عطا کئے ہیں یعنی حدود قانون کے اندر تحفظ جان و مال و آبرو، آزادیٔ مذہب و مسلک، آزادیٔ عبادت، آزادیٔ ذات، آزادیٔ اظہارِ رائے، آزادیٔ نقل و حرکت، آزادیٔ اجتماع، آزادیٔ اکتسابِ رزق، ترقی کے مواقع میں یکسانی اور رفاہی ادارات سے استفادہ کا حق۔
8)      مذکورہ بالا حقوق میں سے کسی شہری کا کوئی حق اسلامی قانون کی سند جواز کے بغیر کسی دقت سلب نہ کیا جائے گا اور کسی جرم کے الزام میں کسی کو بغیر فراہمی موقعہ صفائی و فیصلۂ عدالت کوئی سزا نہ دی جائے گی۔
9)      مسلمہ اسلامی فرقوں کو حدودِ قانون کے اندر پوری مذہبی آزادی حاصل ہو گی۔ انہیں اپنے مذہب کی تعلیم دینے کا حق حاصل ہوگا۔ وہ اپنے خیالات کی آزادی کے ساتھ اشاعت کر سکیں گے۔ ان کے شخصی معاملات کے فیصلے ان کے اپنے فقہی مذہب کے مطابق ہوں گے اور ایسا انتظام کرنا مناسب ہو گا کہ انہی کے قاضی یہ فیصلے کریں۔
10)   غیر مسلم باشندگانِ مملکت کو حدود و قانون کے اندر مذہب و عبادت تہذیب و ثقافت اور مذہبی تعلیم کی پوری آزادی حاصل ہو گی اور انہیں اپنے شخصی معاملات کا فیصلہ اپنے مذہبی قانون یا رسم و رواج کے مطابق چلانے کا حق حاصل ہو گا۔
11)   غیر مسلم باشندگانِ مملکت سے حدودِ شرعیہ کے اندر جو معاہدات کئے گئے ہوں ان کی پابندی لازمی ہو گی۔ اور جن حقوق شہری کا ذکر دفعہ نمبر ۷ میں کیا گیا ہے۔ ان میں غیر مسلم باشندگانِ ملک سب برابر کے شریک ہوں گے۔
12)   رئیسِ مملکت کا مسلمان مرد ہونا ضروری ہے جس کے تدین، صلاحیت اور اصابت رائے پر جمہوریا ان کے منتخب نمائندوں کو اعتماد ہو۔
13)   رئیسِ مملکت ہی نظمِ مملکت کا اصل ذمہ دار ہو گا۔ البتہ وہ اپنے اختیارات کا کوئی جزو کسی فرد یا جماعت کو تفویض کر سکتا ہے۔
14)   رئیسِ مملکت کی حکومت مستبدانہ نہیں بلکہ شورائی ہو گی۔ یعنی وہ ارکانِ حکومت اور منتخب نمائندگانِ جمہور سے مشورہ لے کر اپنے فرائض انجام دے گا۔
15)   رئیسِ مملکت کو یہ حق حاصل نہ ہو گا کہ دستور کو کلاً یا جزاً معطل کر کے شوریٰ کے بغیر حکومت کرنے لگے۔
16)   جو جماعت رئیسِ مملکت کے انتخاب کی مجاز ہو گی وہی کثرت آراء سے اسے معزول کرنے کی بھی مجاز ہو گی۔
17)   رئیسِ مملکت شہری حقوق میں عامۃ المسلمین کے برابر ہو گا اور قانونی مواخذہ سے بالا تر نہ ہو گا۔
18)   ارکان و عمال حکومت اور عام شہریوں کے لئے ایک ہی قانون و ضابطہ ہو گا اور دونوں پر عام عدالتیں ہی اس کو نافذ کریں گی۔
19)   محکمہ عدلیہ محکمہ انتظامیہ سے علیحدہ اور آزاد ہو گا تاکہ عدلیہ اپنے فرائض کی انجام دہی میں ہیئت انتظامیہ سے اثر پذیر نہ ہو۔
20)   ایسے افکار و نظریات کی تبلیغ و اشاعت ممنوع ہو گی جو مملکت اسلامی کے اساسی اصول و مبادی کے انہدام کا باعث ہوں۔
21)   ملک کے مختلف ولایات و اقطاع مملکت واحدہ کے اجزاء انتظامی متصور ہوں گے۔ ان کی حیثیت نسلی، لسانی یا قبائلی واحدہ جات کی نہیں بلکہ محض انتظامی علاقوں کی ہو گی جنہیں انتظامی، سہولتوں کے پیشِ نظر مرکز کی سیادت کے تابع انتظامی اختیارات سپرد کرنا جائز ہو گا مگر انہیں مرکز سے علیحدگی کا حق حاصل نہ ہو گا۔
22)   دستور کی کوئی ایسی تعبیر معتبر نہ ہو گی جو کتاب و سنت کے خلاف ہو۔

Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: