لَیلَةُ القَدر-4

شب قدر کونسی رات ہے
شب قدر کی تعیین کے بارے میں بہت سے اقوال منقول ہیں منجملہ انکے یہ ہے کہ یہ شب قدر رمضان کے آخری دہے کی طاق راتوں میں آتی ہے اسکی دلیل حضرت عائشہؓ سے مروی اس روایت سے ملتی ہے کہ أن رسول اﷲ ! قال: تحرّوا لیلۃ القدر في الوتر من العشر الأواخر من رمضان  ’’رسول اللہﷺ  نے فرمایا:شب قدر کو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق راتوں میں تلاش کرو۔(صحیح بخاری:۲۰۱۷)
{إنَّا أنْزَلْنٰہُ فِیْ لَیْلَۃٍ مُّبَارَکَۃٍ إنَّا کُنَّا مُنْذِرِیْنَ é فِیْھَا یُفْرَقُ کُلُّ أمْرٍ حَکِیْمٍéأمْرًا مِنْ عِنْدِنَا إنَّاکُنَّا مُرْسِلِیْنَ}’’یقینا ہم نے اس قرآن کو برکت والی رات میں نازل کیا بے شک ہم ڈرانے والے ہیں ۔ اس رات میں ہرایک مضبوط کام کا فیصلہ کردیا جاتا ہے۔ یہ معاملہ ہماری جانب سے ہے اور ہم بھیجنے والے ہیں ۔‘‘ (الدخان:۳۔۵)
نوٹ: بعض لوگوں نے اس آیت سے مراد ۱۵ شعبان کی رات کو قرار دیا ہے جو درست اور ثابت شدہ نہیں ہے بلکہ اس آیت میں لیلۃمبارکۃ سے مرادشب ِقدرہی ہے جو رمضان المبارک کے آخری عشرہ کی طاق رات ہے۔
ایک جھگڑے کے سبب شب قدر کی تعیین اٹھالی گئی
حضو راکرم ﷺ شب قدر کس رات میں ہوتی ہے اس سے اچھی طرح واقف تھے اور آپ ﷺ اپنی امت کو بھی اس سے واقف کروانے کے ارادے سے با ہر تشریف لا رہے تھے لیکن دو اشخاص کے جھگڑے کے سبب تعیین اٹھالی گئی۔
بخاری کی روایت ہے! ’’عن عبادۃ الصامتؓ قال خرج النبی لیخبرنا لیلۃ القدر فتلاحی رجلان من المسلمین فقال خرجت لاخبرکم بلیلۃ القدر فتلاحی فلان وفلان فرفعت وعسی ان یکون خیرا لکم فالتمسوہا فی التاسعۃ والسابعۃ والخامسۃ‘‘    حضرت عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ سے روایت ہے انہوں نے فرمایا کہ نبی اکرم ﷺ باہر تشریف لائے تا کہ ہم کو شب قدر کی خبر دیں پس مسلمانوں میں سے دو اشخاص آپس میں جھگڑا کئے ۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا! میں آیا تھا کہ تم کو شب قدر کی خبر دوں مگر فلاں اور فلاں جھگڑا کئے تو(اسکی تعیین) اٹھالی گئی پس تم اسکو (رمضان کے آخری دہے کی) نویں، ساتویں اور پانچویں رات میں تلاش کرو۔
حضور اکرم ﷺ کو شب قدر کی تعیین کا علم تھا
شارح بخاری حضرت امام بدر الدین عینی عمدۃ القاری شرح بخاری میں اس متعلق کہ شب قدر کی تعیین کے اٹھالئے جانے کے بعد بھی حضور اکرم ﷺ اسکی تعیین کو جانتے تھے یا نہیں، لکھتے ہیں  ’’قلت روی عن ابن عیینۃ انہ اعلم بعد ذلک بتعینہا‘‘ (عمدۃ القاری)   میں کہونگا کہ حضرت ابن عیینہ سے مروی ہےکہ آپ ﷺ تعیین کے اٹھا لئے جانے کے بعد بھی اسکی تعیین کو جانتے تھے۔
شب قدر کو پوشیدہ رکھنے کی حکمتیں
اس بارے میں بہت سی باتیں بیان کی گئی ہیں منجملہ انکے چند حکمتیں یہ ہیں۔
 دیگر اہم پوشیدہ امور مثلا اسم اعظم، جمعہ کے روز قبولیتِ دعا کی گھڑی کی طرح اس رات کو بھی پوشیدہ رکھا گیا اگر اسے پوشیدہ نہ رکھا جاتا تو عمل کی راہ بند ہوجاتی اور اسی رات کے عمل پر اکتفا کر لیا جاتا، ذوقِ عبادت میں دوام کی خاطر اسکو آشکار نہیں کیا گیا۔
 اگر کسی مجبوری کے سبب کسی انسان کی وہ رات رہ جاتی تو شاید اسکے صدمے کا ازالہ ممکن نہ ہوتا۔
 اللہ تعالی کو چونکہ اپنے بندوں کا رات کے اوقات میں جاگنا اور بیدار رہنا محبوب ہے، اس لئے رات کی تعیین نہ فرمائی تا کہ اسکی تلاش میں متعدد راتیں عبادت میں گذاریں۔
 عدم تعیین کی وجہ سے گنہگاروں پر شفقت بھی ہے کیونکہ اگر علم کے باوجود اس رات میں گناہ سرزد ہوتا تو اس سے شب قدر کی عظمت مجروح کرنے کا جرم بھی لکھا جاتا۔

 

شب قدر اکثر علماء کے نزدیک
علماء کی اکثریت اس بات پر متفق ہےکہ شب قدر عموما رمضان کی ستائیسویں شب ہوتی ہے۔ چنانچہ امام قرطبی فرماتے ہیں! ’’قد اختلف العلماء فی ذلک والذی علیہ المعظم انھا لیلۃ سبع وعشرین‘‘ ۔(تفسیر قرطبی)   یقیناًاس بارے میں علماء نے اختلاف کیا ہے اور جس پر اکثر متفق ہیں وہ ستائیسویں شب ہے۔
مسلم جلد اول میں حضرت ابیؓ کا یہ ارشاد مروی ہے ’’قال ابی واللہ انی لاعلمہا واکثر علی علمی ہی اللیلۃ التی امرنا رسول اللہ بقیامہا ہی لیلۃ سبع وعشرین‘‘   حضرت ابیؓ فرماتے ہیں خدا کی قسم میں اس شب کو جانتا ہوں مجھے زیادہ علم یہ ہےکہ وہ رات جس میں عبادت کرنے کا رسول اللہ ﷺ نے حکم فرمایا ہے وہ ستائیسویں رات ہے۔
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ آپ ستائیسویں شب کو شب قدر بتلاتے ہیں اور اپنے اسی فرمان کی تائید میں تین دلائل بیان فرماتے ہیں، چنانچہ تفسیر کبیر میں ہے ’’انہ قال لیلۃ القدر تسعۃ حروف وہو مذکور ثلاث مرات فتکون السابعۃ والعشرین‘‘    حضرت عبداللہ بن عباس فرماتے ہیں  لیلۃ القدر کے نو (۹) حروف ہیں اور وہ (سورۃ القدر میں) تین مرتبہ مذکور ہے لہذا وہ مجموعا ستائیس ہونگیں۔
’’ان السورۃ ثلاثون کلمۃ وقولہ (ہی) ہی السابعۃ وعشرون فیہا (تفسیر کبیر)    بے شک سورہ (القدر) تیس(۳۰) کلمات پر مشتمل ہے اور اللہ کا ارشاد ھی وہ ستائیواں کلمہ ہے۔ مطلب یہ ہےکہ لفظھی (یعنی وہ) جسکے ذریعہ اللہ تعالی نے لیلۃ القدر کی طرف اشارہ فرمایا ہے وہ ستائیواں کلمہ ہے جس سے شب قدر کے ستائیویں شب میں ہونے کا اشارہ ملتا ہے۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: