مکروہ۔۔۔حصہ نہم

گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابن مقنع اب مکمل مطمئن تھا کہ اس کے سب گواہ مارے جا چکے ہیں اب کوئی نہیں جو اسے جانتا ہوکہ اس کا نام کیا ہے اور وہ کس علاقے سے آیا ہےاور نقاب کے پیچھے کیسا بھیانک چہرہ ہے۔اب یہاں وہ لوگ تھے جو اسے جانتے پہچانتے نہ تھے،لیکن اندھی عقیدت رکھتے تھے۔
ارد گرد کے علاقے میں دھوم مچی تھی کہ قلعہ فروکش میں خدا اترا ہے جو تماشے بھی دکھاتا ہے۔لوگ جوق در جوق خود بھی آرہے تھے اور بیوی بچوں کو بھی تماشے دکھانے لا رہے تھے۔وہ اپنی شعبدہ بازیوں سے سب کو مسحور کر رہا تھا کچھ اسی وقت اس پر ایمان لاتے اور کچھ ڈانوں اڈول گھروں کو لوٹتے،لیکن ان کا ایمان بگڑ چکا ہوتا تھا۔ایک بڑی تعداد بھی اس کے ساتھ رہنے لگی تھی۔اس نے حکم دیا کہ "اپنی عورتوں کو بھی اگر وہ جوان ہیں قلعے میں لائیں۔”
دو چار نے تجسس میں پوچھا "وہ کس لئے؟”
ابن مقنع نے کہا”میں نے عورتوں کو نہایت حسین مخلو ق بنایا ہےاور نسل انسانی میں اضافے کا ذریعہ بھی۔عورتوں کے بغیر قلعہ بے رونق ہو گیا ہے ،تم خوش قسمت ہو کہ تمہارا خدا تمہاری عورتوں پر توجہ دے گااور ان سے جو اولاد پیدا ہو گی وہ خدا کے دین کی مضبوطی کا باعث ہوگی۔”
پوچھا گیا”رب کائنات کو عورتوں کی کیا ضرورت؟”
جواب ملا”میں خدا ضرور ہوں مگر انسانی شکل میں نمودار ہوا ہوں ،مجھے ضرورت ہے۔”
پھر سوال ہوا کہ”ہم نے تو سنا ہے کہ ایک کی بیوی دوسرے پر حرام ہےاور یہ شریعت آپ ہی کی ہے۔”
جواب دیا گیا کہ”جو شریعت بناتا ہے وہ اسے تبدیل بھی کر سکتا ہے، میرے نئے دین میں محرم نا محرم کا سوال نہیں ہے،جو عورتیں قلعے میں آئیں گی وہ سب کی ملکیت ہوں گی،خود بھی فائدہ اٹھا اور ددوسروں کو بھی اٹھانے دے۔”
وہ کئی دن تک یہی باتیں سب کے ذہنوں میں بٹھاتا رہا اور بالآخروہ اپنی عورتوں کو بھی قلعے میں لے آئے،جن میں سے کئی ابن مقنع کی بیوی بن گئیں۔
اب وقت آگیا تھا کہ وہ اپنے پیروکاروں کو ایسے لالچ دے کہ وہ ہمیشہ کے لئے اس کے پیروکار بن جائیں، اس نے اس کے لئے لوٹ مار اور ڈاکہ زنی جائز کردیں۔حکم دیا کہ جو لوگ مجھ پر ایمان نہ لائیں ان کا مال و دولت تمہارے لئے مباح ہے۔انہیں لوٹ لو ان کی عورتوں کو اٹھا لاؤ وہ تمہاری باندی بن کر رہیں گی۔
کئی ایسے بھی تھے کہ اسلام لانے سے قبل ان کا قبائل ڈاکہ زنی کا پیشہ اپنائے ہوئے تھا۔اسلام لانے کے بعد توبہ کر لی تھی،ان کی رگوں میں خون تو وہی تھا سو اجازت ملتے ہی منہ میں پانی بھر آیا ۔ہتھیار بھی مہیا کر دئے گئے سو وہ لوٹ مار بھر پور انداز میں کرنے لگے۔جو مال ملتا اس میں کچھ حصہ ابن مقنع بھی اپنے پاس رکھتا یہی حال لڑکیوں اور عورتوں کا بھی تھا ،اسے جو پسند آتی وہ اس کی ہو جاتی تھی۔
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: