لٹے،جلے،اجڑے اور اندھیرے میں ڈوبے پاکستان کو آزادی کے65سال مبارک

میرے وطن کے رہنماؤ
میرے وطن کے رہنماؤ
اِک ایسا آئین بناؤ
جس میں ہو صِدیق  ؓکی عظمت
جس میں ہو عثمان  ؓکی عقیدت
جس میں ہو فاروق  ؓکی جرأت
جس میں ہو حیدر  ؓکی شجاعت
مِٹ جائیں ظلمت کے گھاؤ
اِک ایسا آئین بناؤ
طارق کی تَدبیِر ہو جس میں
محجن کی زنجیر ہو جس میں
قرآن کی تا ثیر ہو جس میں
مِلّت کے جذبات جگاؤ
اِک ایسا آئین بناؤ
سر توڑے جو مغروروں کا
ساتھی ہو جو مہجوروں کا
دارِ ستم کے منصوروں کا
محکوموں کا مجبوروں کا
چل نہ سکے زردار کا داؤ
اِک ایسا آئین بناؤ
پاکستان کے سیاست دان
گرانی کی زنجیر پاؤں میں ہے
وطن کا مقدر گھٹاؤں میں ہے
اطاعت پہ ہے جبر کی پہراداری
قیادت کے ملبوس میں ہے شکاری
سیاست کے پھندے لگائے ہوئے ہیں
یہ روٹی کے دھندے جمائے ہوئے ہیں
یہ ہنس کر قدم قوم کا چومتے ہیں
خدا کی جگہ خواہشیں پوجتے ہیں
ہے غارت گری اہل ِایماں کا شیوہ
بھلایا شیاطیں نے قرآں کا شیوہ
اٹھو نوجوانو، وطن کو بچاؤ
شراروں سے حدِ چمن کو بچاؤ
بیت گئے تئیس سال
بیت گئے تئیس سال
گونگا ماضی اندھا حال
اجڑے ہیں پنچھی ٹوٹی ڈال
پھیلے ہیں انجانے جال
عزم سے خالی ہےدستور
جہد و عمل کی منزل دور
شمع قیادت ہے بے نور
گلشن میں پھولوں کا کال
عقل و فراست ہیں بیمار
فکر و نظر وائے بیکار
دیدۂوحشت ہے بیدار
لرزاں ہے ہمت کی ڈھال
بھاری ہیں ہم پر اغیار
بھولے طارق اور ضرار
نغمۂ وحدت سے سرشار
ملت کی عظمت کا سوال
نوٹ:
یہ نظم ساغر صدیقی نے قیام پاکستان کے تئیس سال بعد لکھی تھی۔
ذرا سوچیےکہ آج 65سال بعد بھی کیا حالات میں کچھ بھی بہتری آئی ہے؟
Advertisements
1 comment

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: