شَھْرُ رَمَضَانَ -ماہ رمضان المبارک-10

گزشتہ سے پیوستہ

رمضان المبارک میں تلاوتِ قرآن حکیم کی فضیلت :قرآن حکیم وہ واحد کتاب ہے جس کے ایک حرف کی تلاوت پر دس نیکیاں ملتی ہیں۔ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اﷲ عنہما روایت کرتے ہیں
مَنْ قَرَأَ حَرْفًا مِنْ کِتَابِ اﷲِ فَلَهُ بِهِ حَسَنَةٌ، وَالْحَسَنَةُ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا لَا أَقُولُ الم حَرْفٌ، وَلَکِنْ أَلِفٌ حَرْفٌ وَلَامٌ حَرْفٌ وَمِيمٌ حَرْفٌ جس نے کتاب اللہ کا ایک حرف پڑھا اس کے لئے اس کے عوض ایک نیکی ہے اور ایک نیکی کا ثواب دس گنا ہوتا ہے۔ میں نہیں کہتا الم ایک حرف ہے بلکہ الف ایک حرف، لام ایک حرف اور میم ایک حرف ہے۔
ترمذی، السنن، أبواب فضائل القرآن، باب ما جاء فيمن قرأ حرْفاً من القرآن، 5 33، رقم 2910
تلاوت قرآن افضل ترین عبادات میں سے ہے۔ حضرت نعمان بن بشیر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا
أفْضَلُ عِبَادَةِ اُمَّتِی قراء ةُ الْقُرْآن میری امت کی سب سے افضل عبادت تلاوتِ قرآن ہے۔بيهقی، شعب الايمان، 2 354، رقم 2022
یہ عظیم کتاب جس کی تلاوت کی بے پناہ فضیلت ہے رمضان المبارک کے با برکت مہینہ میں نازل ہوئی۔ اس لحاظ سے قرآن حکیم اور رمضان المبارک کا آپس میں گہرا تعلق ہے۔ رمضان المبارک میں قرآن مجید کی تلاوت کرنے والا گویا اس تعلق کو مضبوط و مستحکم کرتاہے۔
حدیث میں  آتا ہے کہ ایک مرتبہ نبی اکرم ﷺ نے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے فرمایا: (اقراء علی) مجھے قرآن پڑھ کر سناؤ  سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے عرض کیا  (اقراء علیک وعلیک انزل) میں  آپ کو پڑھ رک سناؤں ؟ حالانکہ آپ پر تو قرآن نازل ہوا ہے۔ آپ نے فرمایا:  (انی احب۔۔۔ من غیری)میں  اپنے علاوہ کسی اور سے سننا چاہتا ہوں   چنانچہ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے سورہٴ نساء پڑھنی شروع کر دی ، جب وہ اس آیت پر پہنچے (فَكَيْفَ اِذَا جِئْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍۢ بِشَهِيْدٍ وَّجِئْنَا بِكَ عَلٰي هٰٓؤُلَاۗءِ شَهِيْدًا ) اس وقت کیا حال ہوگا جب ہم ہر امت میں  سے ایک گواہ حاضر کریں  گے، اور (اے محمد ﷺ )ان سب پر آپ کو گواہ بنائیں  گے (النساء 41/4) تو آپ نے فرمایا:(حَسْبُکَ) بس کرو  سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں  کہ میں  نے رسول الل ﷺ کی طرف دیکھا تو آپ کی دونوں  آنکھوں  سے آنسو جاری تھے۔ (صحیح بخاری، تفسیر سورة النساء، حدیث 4582)
    نبی ﷺ اس طرح غور و تدبر سے قرآن پڑھتے اور اس سے اثر پذیر ہوتے کہ جن سورتوں  میں  قیامت کی ہولناکیوں  کا بیان ہے آپ فرماتے ہیں  کہ انہوں  نے مجھے بڑھاپے سے پہلے بوڑھا کر دیا ہے۔
    (شیبتنی۔۔۔۔ المشیب)(المعجم الکبیر للطبرانی 790/286/17، وانظر الصحیحة، ح  955)
    دوسری روایت میں  ہے
    (شیبتنی۔۔۔۔۔ یتساءلون)(جامع الترمذی، تفسیر القرآن، باب ومن سورة الواقعة، ح  3297 وصحیح الجامع الصغیر  692/1)
     مجھے سورہٴ ہود (اور اس جیسی دوسری سورتوں )سورہٴ واقعہ، مرسلات اور (عم یتساءلون)نے بوڑھا کر دیا ہے۔
    اللہ تعالیٰ کے خوف سے ڈرنا اور رونا، اللہ تعالیٰ کو بہت محبوب ہے۔ ایک حدیث میں  نبی ﷺ نے فرمایا:   سات آدمیوں  کو قیامت کے دن اللہ تعالیٰ اپنے سائے میں  جگہ عطاء فرمائے گا۔ ان میں  ایک وہ شخص ہوگا جس کی آنکھوں  سے تنہائی میں  اللہ تعالیٰ کے ذکر اور اس کی عظمت و ہیبت کے تصور سے آنسو جاری ہو جائیں ۔
    (رجل ذکر اللہ خالیا ففاضت عیناہ)(صحیح البخاری، الاذان باب من جلس فی المسجد یتنظر الصلاة۔۔۔ الخ، ح  6479،660)
    ایک واقعہ نبی ﷺ نے بیان فرمایا: کہ پچھلی امتوں  میں  ایک شخص تھا، اللہ تعالیٰ نے اس کو مال و دولت سے نوازا تھا، لیکن وہ سمجھتا تھا کہ میں  نے اس کا حق ادا نہیں  کیا اور بہت گناہ کیے ہیں  ۔
    چنانچہ موت کے وقت اس نے اپنے بیٹوں  کو بلا کر وصیت کی کہ میری لاش جلا کر اس کی راکھ تیز ہوا میں  اڑا دینا (بعض روایت میں  ہے کہ سمندر میں  پھینک دینا)چنانچہ اس کے بیٹوں  نے ایسا ہی کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے حکم سے اس کے اجزاء کو جمع کیا اور اس سے پوچھا   تو نے ایسا کیوں  کیا؟  اس نے کہا صرف تیرے خوف نے مجھے ایسا کرنے پر آمادہ کیا۔ تو اللہ تعالیٰ نے اسے معاف فرما دیا۔ (صحیح بخاری، الرقاق، باب الخوف من اللہ عزوجل، حدیث   6481)
    بہرحال اللہ کا خوف اپنے دل میں  پیدا کرنے کی سعی کرنے چاہیے اور اس کا ایک بہترین طریقہ یہ ہے کہ قرآن مجید کی تلاوت غور و تدبر سے کی جائے اور اس کے معانی و مطالب کو سمجھا جائے اور اللہ کی عظمت و جلالت کو قلب و ذہن میں  مستحضر کیا جائے۔
حضور نبی اکرم ﷺ کی متعدد احادیث مبارکہ اس بات کی دلیل ہیں کہ آپ ﷺ رمضان المبارک میں قرآن حکیم کی تلاوت فرماتے اور جبرئیل امین علیہ السلام کو سناتے۔
حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے
کَانَ يَلْقَاهُ فِی کُلِّ لَيْلَةٍ مِنْ رَمَضَانَ فَيُدَارِسُهُ الْقُرْآنَ حضرت جبرائیل امین رمضان کی ہر رات میں آپ ﷺ سے ملاقات کرتے اور آپ ﷺ کے ساتھ قرآن کا دور کرتے۔
بخاری، الصحيح، کتاب بدء الوحی، باب کيف کان بدء الوحی الی الرسول اﷲ صلی اللہ عليه وآله وسلم ، 1 7، رقم 6
مزید برآں روز قیامت تلاوتِ قرآن کا اہتمام کرنے والوں اور اس کے معانی سمجھنے والوں کی شفاعت خود قرآن حکیم فرمائے گا۔ حضرت عبد اﷲ بن عمرو رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمایا
قیامت کے دن روزہ اور قرآن دونوں بندے کے لئے شفاعت کریں گے۔ روزہ کہے گا اے میرے رب! میں نے اس شخص کو دن کے وقت کھانے (پینے)اور (دوسری)نفسانی خواہشات سے روکے رکھا پس تو اس شخص کے متعلق میری شفاعت قبول فرما۔ قرآن کہے گا اے میرے رب! میں نے اس شخص کو رات کے وقت جگائے رکھا پس اس کے متعلق میری شفاعت قبول فرما۔ آپ ﷺ نے فرمایا ان دونوں کی شفاعت قبول کی جائے گی۔احمد بن حنبل، المسند، 2 174، رقم 6626
رمضان المبارک کے ماہ سعید میں حضور نبی اکرم ﷺ کے معمولاتِ عبادت و ریاضت اور مجاہدہ میں عام دنوں کی نسبت بہت اضافہ ہو جاتا۔ اس مہینے اﷲ تعالیٰ کی خشیت اور محبت اپنے عروج پر ہوتی۔ اور اسی شوق اور محبت میں آپ ﷺ راتوں کا قیام بھی بڑھا دیتے۔ ام المومنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے مروی ہے
کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ عليه وآله وسلم إذَا دَخَلَ رَمَضَانَ لَغَيَرَ لَوْنُهُ وَ کَثُرَتْ صَلَا تُهُ، وابْتَهَلَ فِی الدُّعَاءِ، وَأَشْفَقَ مِنْه جب ماہ رمضان شروع ہوتا تو رسول اﷲ ﷺ کا رنگ مبارک متغیر ہو جاتا، آپ ﷺ کی نمازوں میں اضافہ ہوجاتا، اللہ تعالیٰ سے گڑگڑا کر دعا کرتے اور اس کا خوف طاری رکھتے۔بيهقی، شعب الايمان، 3 310، رقم 3625-1096
قرآن کریم کا نزول رمضان المبارک میں  ہوا اس لیے قرآن کریم کا نہایت گہرا تعلق رمضان المبارک سے ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اس ماہ مبارک میں  نبی اكرم ﷺ جبریل امین علیہ السلام کے ساتھ قرآن کریم کا دور فرمایا: کرتے تھے، اور صحابہ و تابعین بھی اس ماہ میں  کثرت سے قرآن کریم کی تلاوت کا اہتمام کرتے تھے، ان میں  سے کوئی دس دن میں  ، کوئی سات دن میں  اور کوئی تین دن میں  قرآن ختم کر لیا کرتا تھا، اور بعض کی بابت آتا ہے کہ وہ اس سے بھی کم مدت میں  قرآن ختم کر لیتے تھے۔ بعض علماء نے کہا ہے کہ حدیث میں  تین دن سے کم میں  قرآن کریم ختم کرنے کی جو ممانعت ہے اس کا تعلق عام حالات و ایام سے ہے۔
    فضیلت والے اوقات اور فضیلت والے مقامات اس سے مستثنیٰ ہیں ۔یعنی ان اوقات اور مقامات میں  تین دن سے کم میں  قرآن ختم کرنا جائز ہے۔ جیسے رمضان المبارک کے شب و روز، بالخصوص شب قدر ہے۔ یا جیسے مکہ ہے جہاں  حج یا عمرے کی نیت سے کوئی گیا ہو۔ ان اوقات اور جگہوں  میں  چونکہ انسان ذکر و عبادت کا کثرت سے اہتمام کرتا ہے ، اس لیے کثرت تلاوت بھی مستحب ہے۔ تاہم حدیث کے عموم کو ملحوظ رکھنا اور کسی بھی وقت یا جگہ کو اس سے مستثنیٰ نہ کرنا، زیادہ صحیح ہے۔
توجہ اور اہتمام سے روزانہ دس پاروں  کی تلاوت بھی کافی ہے، باقی اوقات میں  انسان دوسری عبادات کا اہتمام کر سکتا ہے۔ یا قرآن کریم کے مطالب و معانی کے سمجھنے میں  صرف کر سکتا ہے۔ کیونکہ جس طرح تلاوت مستحب و مطلوب ہے اسی طرح قرآن میں  تدبر کرنا اور اس کے مطالب ومعانی کو سمجھنا بھی پسندیدہ اور امر مؤکد ہے۔
    قرآن کریم کو پڑھتے اور سنتے وقت انسان پر خوف اور رقت کی کیفیت بھی طاری ہونی چاہیے اور یہ اسی وقت ممکن ہے جب پڑھنے اور سننے والے مطالب و معانی سے بھی واقف ہوں ۔ اسی لیے قرآن کو شعروں  کی سی تیزی اور روانی سے پڑھنے کی ممانعت ہے، جس کا مطلب یہی ہے کہ قرآن کو محض تاریخ و قصص کی کتاب نہ سمجھا جائے بلکہ اسے کتاب ہدایت سمجھ کر پڑھا جائے۔ آیات وعد و وعید اور انداز و تبشیر پر غور کیا جائے۔
    جہاں  اللہ کی رحمت و مغفرت اور اس کی نشارتوں  اور نعمتوں  کا بیان ہے وہاں  اللہ سے ان کا سوال کیا جائے اور جہاں  اس کے انداز و تخویف اور عذاب و وعید کا تذکرہ ہو، وہاں  ان سے پناہ مانگی جائے۔ ہمارے اسلاف اس طرح غور و تدبر سے قرآن پڑھتے تو ان پر بعض دفعہ ایسی کیفیت اور رقت طاری ہوتی کہ بار بار وہ ان آیتوں  کی تلاوت کرتے اور خوب بار گاہ الہٰی میں  گڑگڑاتے ۔ سننے والے بھی غور و تدبر سے سنیں  تو ان پر بھی یہی کیفیت طاری ہوتی ہے۔
رمضان المبارک میں قیام اللیل کی فضیلت:ماہ رمضان میں  کئے جانے والے خصوصی اعمال میں  سے ایک عمل قیام رمضان بھی ہے، مگر یہ فرض تو نہیں  تاہم انتہائی اہمیت وفضیلت کے پیش نظر مسنون اورمستحب ہے- اس لیے اگر کوئی شخص اس سے غفلت برتے تو وہ بہت بڑے اجر و ثواب سے محروم رہ جاتا ہے۔ اسی لیے نبیﷺ  اپنے اصحاب کو اس کی بڑی ترغیب دلایا کرتے تھے چنانچہ سیدنا ابوہریرہؓ کابیان ہے کہ: کَانَ رَسُوْلُ اﷲِ صلی اللہ عليه وآله وسلم يُرَغِّبُ فِی قِيَامِ رَمَضَانَ مِنْ غَيْرِ أنْ يَأْمُرَهُمْ بِعَزِيْمَةٍ، و يَقُوْلُ مَنْ قَامَ رَمَضَانَ إِيْمَانًا وَّ احْتِسَابًا، غُفِرَلَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذنبہٖ رسول اللہﷺ  قیام رمضان کی ترغیب دیا کرتے تھے، بغیر اس کے کہ آپ واجبی طور پر اُنہیں  حکم دیں ۔ آپﷺ   فرماتے جو کوئی ایمان کے ساتھ حصولِ ثواب کی نیت سے رمضان کاقیام کرے اس کے پچھلے گناہ معاف کردیے جاتے ہیں ۔ (صحیح مسلم:۸۵۹)
رمضان المبارک میں آپ ﷺ کی راتیں تواتر و کثرت کے ساتھ نماز میں کھڑے رہنے، تسبیح و تہلیل اور ذکر الٰہی میں محویت سے عبارت ہیں۔ نماز کی اجتماعی صورت جو ہمیں تراویح میں دکھائی دیتی ہے اسی معمول کا حصہ ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ نے رمضان المبارک میں قیام کرنے کی فضیلت کے بارے میں فرمایا:جس نے ایمان و احتساب کی نیت سے رمضان کے روزے رکھے اور راتوں کو قیام کیا وہ گناہوں سے اس طرح پاک ہو جاتا ہے جس دن وہ بطن مادر سے پیدا ہوتے وقت (گناہوں سے)پاک تھا۔نسائی، السنن، کتاب الصيام، باب ذکر اختلاف يحيی بن أبی کثير والنضر بن شيبان فيه، 4 158، رقم 2208۔2210
قرآن مجید میں  اللہ تعالیٰ نے عباد الرحمن (رحمن کے بندوں  )کی جو صفات بیان فرمائی ہیں  ان میں  ایک یہ ہے:(وَالَّذِيْنَ يَبِيْتُوْنَ لِرَبِّهِمْ سُجَّدًا وَّقِيَامًا؀)ان کی راتیں  اپنے رب کے سامنے قیام و سجود میں  گزرتی ہیں ۔(الفرقان  64/35)
راتوں  کا قیام نبی کریم ﷺ کا بھی مستقل معمول تھا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور تابعین عظام رحمہم اللہ بھی اس کا خصوصی اہتمام فرماتے تھے اور ہر دور کے اہل علم و صلاح اور اصحاب زہد و تقویٰ کا یہ امتیاز رہا ہے۔ خصوصاً رمضان المبارک میں  اس کی بڑی اہمیت اور فضیلت ہے۔ رات کا یہ تیسرا آخری پہر اس لیے بھی بڑی اہمیت رکھتا ہے کہ اس وقت اللہ تعالیٰ ہر روز آسمان دنیا پر نزول فرماتے اور اہل دنیا سے خطاب کر کے کہتے ہیں
    (من یدعونی۔۔۔۔۔۔ فاغفرلہ)(صحیح البخاری، التہجد، باب الدعاء، والصلاة من آخر اللیل، ح  1145)
     کون ہے جو مجھ سے مانگے، تو میں  اس کی دعا قبول کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے سوال کرے تو میں  اس کو عطا کروں ؟ کون ہے جو مجھ سے مغفرت طلب کرے تو میں  اسے بخش دوں ؟ 
رمضان المبارک میں قیام اللیل کو بہت اہمیت و فضیلت حاصل ہے۔ حضور نبی اکرم ﷺ کا معمول مبارک تھا کہ آپ ﷺ رمضان المبارک کی راتوں میں تواتر و کثرت کے ساتھ نماز، تسبیح و تہلیل اور قرات قرآن میں مشغول رہتے۔ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے
مندرجہ بالا احادیث مبارکہ سے بخوبی واضح ہو جاتا ہے کہ رمضان المبارک کی راتوں میں قیام کو بہت اہمیت حاصل ہے۔ رمضان میں نمازِ تراویح بھی قیام اللیل کی ایک اہم کڑی ہے جسے قیام رمضان سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ نمازِ تراویح کے سبب جتنا قیام اس مہینے میں کیا جاتا ہے وہ سال کے باقی گیارہ مہینوں میں نہیں ہوتا۔ اس سے منشاء ایزدی یہ ہے کہ بندہ رمضان المبارک کی راتوں کو زیادہ سے زیادہ اس کے حضور عبادت اور ذکر و فکر میں گزارے اور اس کی رضا کا سامان مہیا کرے۔ اس لئے کہ رمضان کی با برکت راتیں شب بیداری کا تقاضا کرتی ہیں کیونکہ روایات میں مذکور ہے کہ اللہ تعالیٰ رمضان المبارک کی راتوں کو آسمان دنیا پر نزولِ اجلال فرما کر اپنے بندوں کو تین مرتبہ ندا دیتا ہے۔
هَلْ مِنْ سَائِلٍ فَأُعْطِيَهُ سُؤْلَهُ، هَلْ مِنْ تَائِبٍ فَأَتُوْبَ عَلَيْهِ؟ هَلْ مِنْ مُسْتَغْفِرٍ فَاغْفِرَ لَهُ؟۔کیا کوئی سوال کرنے والا ہے کہ میں اس کی حاجت پوری کروں، کیا کوئی توبہ کرنے والا ہے کہ میں اس کی توبہ قبول کروں، کیا کوئی مغفرت طلب کرنے والا ہے کہ میں اسے بخش دوں۔بيهقی، شعب الإيمان، 3 335، رقم 3695
رحمت پروردگار رمضان المبارک کی راتوں میں سب کو اپنے دامنِ عفو و کرم میں آنے کی دعوت دیتی ہے۔ شومئ قسمت کہ انسان رحمت طلبی اور مغفرت جوئی کی بجائے رات کی ان گراں بہا ساعتوں کو خواب غفلت کی نذر کردیتا ہے جبکہ رب کی رحمت اسے جھنجھوڑ جھنجھوڑ کر پکارتی ہے۔
ہم تو مائل بہ کرم ہیں کوئی سائل ہی نہیں
راہ دکھلائیں کسے رہرو منزل ہی نہیں

یوں بد نصیب انسان غفلت کی نیند تانے یہ ساعتیں گزار دیتا ہے۔ اور رحمتِ ایزدی سے اپنا حصہ وصول نہیں کرتا۔



Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: