نمازِتراویح کی رکعات

نمازِتراویح کی رکعات:
اس وقت عالم اسلام میں 3مسلک نہایت اکثریت میں ہیں:
1-مقّلدین (اہل سنت و الجماعت):
مقّلدین یعنی اہل سنت و الجماعت کے نزدىک بیس رکعات تراوىح رمضان المبارک کی مخصوص نماز ہے جو کہ گیارہ ماہ نہیں پڑھی جاتی بلکہ صرف رمضان المبارک مىں عشاءکی نماز کے بعد باجماعت مسجد میں ادا کی جاتی ہیں اور اس میں اىک قرآن پاک ختم کیا جاتا ہے۔
2-شیعہ:
جب کہ شیعہ حضرات کے نزدیک تراوىح کوئی عبادت نہیں وہ ترواىح کے منکر ہیں۔
3-غیر مقّلدین:
لیکن غیر مقلدین حضرات بھی ترواىح کو رمضان المبارک کا تحفہ نہیں مانتے بلکہ کہتے ہیں کہ یہ سارا سال پڑھے جانے والی نماز ہے۔ فرق صرف اتنا ہے۔ ىہ نماز غیر رمضان میں ادا کی جائے تو تہجد کہلاتی ہے اور رمضان میں ادا کی جائے تو ترواىح کہلاتی ہے۔ گویا کہ ىہ بھی تراوىح کے منکر ہیں۔
بیس رکعت تراوىح دور نبویﷺ میں:
َالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ حَمْزَۃُ بْنُ یُوْسُفَ السَّھْمِیُّ حَدَّثَنَا اَبُوْالْحَسَنِ عَلِّیُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَحْمَدَ الْقَصْرِیُّ اَلشَّیْخُ الصَّالِحُ حَدَّثَنَا عَبْدُالرَّحْمٰنِ بْنُ عَبْدِ الْمُؤمِنِ اَلْعَبْدُ الصَّالِحُ قَالَ؛ اَخْبَرَنِیْ مُحَمَّدُ بْنُ حُمَیْدِ الرَّازِیُّ حَدَّثَنَا عُمَرُ بْنُ ہَارُوْنَ حَدَّثَنَا اِبْرَاہِیْمُ بْنُ الْحَنَّازِعَنْ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ عَنْ عَبْدِ الْمَلِکِ بْنِ عَتِیْکٍ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِ قَالَ خَرَجَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَیْلَۃٍ فِیْ رَمَضَانَ فَصَلَّی النَّاسَ اَرْبَعَۃً وَّعِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَاَوْتَرَ بِثَلَاثَۃٍ ۔ حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف کی ایک رات تشریف لائے ۔لوگوں کو چار رکعات فرض، بیس رکعات نماز(تراویح)اور تین رکعات وتر پڑھائے۔
(تاریخ جرجان لحافظ حمزۃ بن یوسف السھمی ص146)
قَالَ الْاِمَامُ الْحَافِظُ الْمُحَدِّثُ عَبْدُاللّٰہِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ اَبِیْ شَیْبَۃَ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ بْنُ ہَارُوْنَ قَالَ اَنَا اِبْرَاھِیْمُ بْنُ عُثْمَانَ عَنِ الْحَکَمِ عَنْ مَقْسَمٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ کَانَ یُصَلِّیْ فِیْ رَمْضَانَ عِشْرِیْنَ رَکْعَۃً وَالْوِتْرَ۔ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم رمضان شریف میں بیس رکعات نماز(تراویح)اور وتر پڑھاتے تھے۔
(مصنف ابن ابی شیبۃ ج2ص286؛معجم کبیرطبرانی ج5 ص433)
عن ابن عباس ان رسول اﷲ کان یصلی فی رمضان عشرین رکعة والوتر۔حضرت ابن عباس  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ رمضان المبارک میں بیس رکعات( ترواىح) اور وتر پڑھتے تھے۔ (امام بخاری کے استادکی کتاب ، مصنف ابن ابی شیبہ ج2ص286 مکتبہ امداىہ ملتان پاکستان)
عن جابر بن عبد اﷲ خرج النبی ذات لیلة فی رمضان فصلی الناس اربعة وعشرین رکعة و اوتر بثلاثة۔ حضرت جابر بن عبداﷲ  رضی اللہ عنہ  سے مروی ہے کہ رسول اﷲ ﷺ رمضان المبار ک کی اىک رات باہر تشریف لائے تو لوگوں کو چوبیس رکعتیں(چار فرض اور بیس رکعات تراوىح) اور تین وتر پڑھائے۔ (تارىخ جرجان ص 21)
انہ   صلی بالناس عشرین رکعة لیلتین فلما کان فی اللیلة الثالثہ اجتمع الناس فلم یخرج اليہم، ثم قال من الغد وخشیت ان تفرض عليکم فلا تطیقوھا متفق علی صحتہ۔ آپ ﷺ نے صحابہ کو بیس رکعات تراوىح دو راتیں پڑھائیں پس جب تیسری رات ہوئی تو صحابہ کرام جمع ہوگئے آپﷺ باہر تشریف نہیں لائىں پھر آپﷺ نے دوسرے دن فرمایا مجھے اس بات کا ڈر ہوا کہ تم پر یہ نماز (ترواىح)فرض نہ کر دی جائے پس تم اس کی طاقت نہ رکھو۔ (تلخیص الحبیر ج1ص21 المکتبہ الاثرىہ)
حضرت سائب بن یزید رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ ہم حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ میں بیس ﴿20﴾ رکعت تراویح اور وتر پڑھتے تھے۔(بيهقي، السنن الکبری، 2 699، رقم 4617)
صحیح قول کے مطابق تراویح کی کل بیس ﴿20﴾ رکعات ہیں اور یہی سوادِ اَعظم یعنی اہل سنت و جماعت کے چاروں فقہی مذاہب کا فتویٰ ہے۔حضرت عبد اﷲ بن عباس رضی اﷲ عنہماسے مروی ہے فرمایا کہ حضور نبی اکرم ﷺ رمضان المبارک میں وتر کے علاوہ بیس رکعت تراویح پڑھا کرتے تھے۔(1-طبراني، المعجم الاوسط، 1 243، رقم 798، 2-طبراني، المعجم الاوسط، 5 324، رقم 5440، 3-طبراني، المعجم الکبير، 11 311، رقم 12102، 4-ابن أبی شيبة، المصنف، 2 164، رقم 7692)
رمضان المبارک میں عبادت کی کثرت اور رات کی نمازوں کا ذکر احادیث میں ہے کہ رسول اللهﷺ اور صحابہ کرام ث تنہا یا چھوٹی چھوٹی جماعتوں کے ساتھ تراویح پڑھا کرتے تھے۔ کبھی کبھی عام جماعت کے ساتھ بھی تراویح پڑھاتے۔بعض روایات میں 21،22، 23،24 چار راتوں میں تراویح پڑھانا مذکورہے اوربعض روایات میں 23، 25، 27تین راتوں میں تراویح پڑھانا مذکور ہے اوربعض روایات میں دویاتین راتیں تراویح پڑھانامذکورہے؛اس لیے محدثین کاخیال ہے کہ عام جماعت کے ساتھ تراویح ایک سے زیادہ مرتبہ مختلف رمضان میں پڑھی گئی ۔والله اعلم
عَنْ أَنَسٍ رضی اللہ تعالٰی عنہ قَالَ: کَانَ النَّبِیُّ یَجْمَعُ أھْلَہُ لَیْلَةَ إِحْدَی وَعِشْرِیْنَ فَیُصَلِّی بِھِم إِلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ، ثُمَّ یَجْمَعُہُم لَیْلَةَ الثْنَتَی وَعِشْرِیْنَ، فَیُصَلِّی بِہِمْ إِلَی نِصْفِ اللَّیْلِ، ثُمَّ یَجْمَعُھُمْ لَیْلَةَ ثَلَاثِ وَعِشْرِیْنَ فَیُصَلِّی بِہِمْ إِلَی ثُلُثَی اللَّیْلِ، ثُمَّ یَأمُرُھُمْ لَیْلَةَ أرْبَع وَعِشْرِیْنَ أنْ یَّغْسِلُوا، فَیُصَلِّی بِہِمْ حَتَّی یَصْبَحَ ثُمَّ لَایَجْمَعُہُمْحضرت انس رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللهﷺ نے 21ویں (رمضان)کی رات کوگھروالوں کوجمع فرما کر ایک تہائی رات تک تراویح پڑھائی،پھر22ویں رات کوآدھی رات تک تراویح پڑھائی،پھر23رات کودوتہائی رات تک تراویح پڑھائی، پھر24ویں رات کوسب کوغسل کرنے کاحکم فرمایااورپوری رات تراویح پڑھائی،پھراس کے بعد نہیں پڑھائی۔(قیام رمضان لمحمد بن نصر10، وإسنادہ  ضعیف)
عن أبِی ذَرٍّص أنَّہُ قال لَمَّا کَانَ الْعَشْرُ الاوَاخِرُ أعْتَکَفَ رَسُولُ اللهِ فِی الْمَسجِدِ فَلَمَّا صَلَّی النَّبِیُّ صَلَاةَ الْعَصْرِ مِنْ یَوْمِ اثْنَیْنِ وَعِشْرِینَ قَالَ إنَّا قَائِمُونَ اللَّیْلَةَ إنْ شَاءَ اللّٰہُ ، فَمَنْ شَاءَ مِنْکُمْ أنْ یَقُومَ فَلْیَقُمْ، وَہِیَ لَیْلَةُ ثَلاَثَ وَعِشْرِیْنَ فَصَلَّاہَا النَّبِیُّ جَمَاعَةً بَعْدَ الْعَتَمَةِ حَتَّی ذَہَبَ ثُلُثُ اللَّیْلِ (الاول) ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمَّا کَانَ لَیْلَةَ أَرْبَعٍ وَعِشْرِیْنَ لَمْ یَقُلْ شَیْئاً وَلَمْ یَقُمْ، فَلَمَّا کَانَ لَیْلَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ قَامَ بَعْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ یَوْمَ أَرْبَعٍ وَعِشْرِیْنَ فَقَالَ إِنَّا قَائِمُونَ اللَّیْلَةَ إِنْ شَاءَ اللهُ یَعْنِی لَیْلَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِیْنَ فَمَنْ شَاءَ فَلْیَقُمْ، فَصَلَّی بِالنَّاسِ حَتَّی ذَہَبَ ثُلُثا اللَّیْلِ (وفی المعجم الأوسط للطبرانی نِصْفِ اللَّیْلِ)، ثُمَّ انْصَرَفَ، فَلَمَّا کَانَ لَیْلَةَ سِتٍّ وَعِشْرِیْنَ لَمْ یَقُلْ شَیْئًا وَلَمْ یَقُمْ فَلَمَّا کَانَ عِنْدَ صَلَاةِ الْعَصْرِ مِنْ یَوْمِ سِتٍّ وَعِشْرِیْنَ قَامَ فَقَالَ إِنَّا قَائِمُوْنَ إِنْ شَاءَ اللهُ یَعْنِی لَیْلَةَ سبع وعشرین فمن شاء أن یقوم فلیقم (وفی روایة وَدَعَا أہْلَہُ ونِسَائَہُ، فَقَامَ بِنَا حَتَّی تَخَوَّفْنَا الْفَلَاحَ قُلْتُ لَہُ: وَمَا الْفَلَاحُ؟ قَالَ! السُّحُورُ) قال أبوذر فتجلدنا للقیام فصلی بنا النبی حتی ذہب ثلثا اللیل ثم انصرف إلی قبتہ فی المسجد فقلت لہ إنّا کنا لقد طمعنا یا رسول اللهأن تقوم بنا حتی تصبح فقال یا أبا ذر! إنک إذا صلیت مع إمامک وانصرفت إذا انصرف کتب لک قنوت لیلتک حضرت ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں کہ ایک سال رمضان المبارک کے آخری عشرہ میں رسول اللهﷺ نے مسجدمیں اعتکاف فرمایا۔بائیس(22)رمضان المبارک کی عصرکی نمازکے بعدآپ ﷺنے اعلان فرمایاکہ آج عشاء کے بعدتراویح پڑھی جائیگی،جس کاجی چاہے ہمارے ساتھ تراویح پڑھے۔اوریہ23ویں رات تھی،آپ ﷺنے عشا کے بعد تہائی رات تک تراویح پڑھائی،پھر24ویں رات کو تراویح نہیں پڑھائی،اوراعلان بھی نہیں ہوا،پھر24ویں رمضان کے عصرکے بعدآپﷺ نے اعلان فرمایا، آج عشاء کے بعدتراویح پڑھی جائیگی،جس کاجی چاہے ہمارے ساتھ تراویح پڑھے،آپ ﷺنے عشاء کے بعد نصف رات تک تراویح پڑھائی، پھر 26ویں رات تراویح بھی نہیں پڑھائی،اوراعلان بھی نہیں ہوا،پھر26ویں رمضان کے عصر کے بعدآپﷺ نے اعلان فرمایا کہ: آج عشاء کے بعد تراویح پڑھی جائیگی،جس کاجی چاہے ہمارے ساتھ تراویح پڑھے،27ویں رات عورتوں کوبھی کو جمع فرمایا اور پوری رات تراویح پڑھائی کہ ہم کوفلاح(سحری کاوقت ختم ہونے) کی فکرہونے لگی ۔راوی نے حضرت ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ سے پوچھاکہ ”فلاح“ کیاہے؟حضرت ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے فرمایاکہ:” سحری“۔حضرت ابوذر رضی اللہ تعالٰی عنہ فرماتے ہیں:25ویں رات کو آدھی رات تک تراویح پڑھائی تو ہم نے عرض کیا کہ یا رسول الله ﷺ ! پوری رات تراویح پڑھا تے تو اچھا ہوتا ۔آپ ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص امام کے ساتھ پوری تراویح پڑھے، اس کے لیے پوری رات تراویح پڑھنے کا ثواب لکھاجاتاہے ۔․(مسندأحمد12549، المعجم الأوسط للطبرانی442، مسند الشامیین للطبرانی972، وصحیح ابن خزیمة2205، سنن ترمذی 1327، وقال الترمذی: ہذا حدیث حسن صحیح )
عَن نُعَیْم بن زِیَادٍ قَالَ: سَمِعْتُ النُّعْمَانَ بْنَ بَشِیرٍ رضی اللہ تعالٰی عنہ عَلَی مِنْبَرِحِمْصَ یَقُولُ: قُمْنَا مَعَ رَسُولِ اللهِ فِی شَہْرِ رَمَضَانَ لَیْلَةَ ثَلَاثٍ وَعِشْرِینَ إلَی ثُلُثِ اللَّیْلِ الأْوَّلِ، ثُمَّ قُمْنَا مَعَہُ لَیْلَةَ خَمْسٍ وَعِشْرِینَ إلَی نِصْفِ اللَّیْلِ، ثُمَّ قُمْنَا مَعَہُ لَیْلَةَ سَبْعٍ وَعِشْرِینَ حَتَّی ظَنَنَّا أنْ لَا نُدْرِکَ الْفَلَاحَحضرت نعیم بن زیاد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ میں نے حضرت نعمان بن بشیر رضی اللہ تعالٰی عنہ کو منبر حمص پرکھڑے ہو کر فرماتے ہوئے سنا کہ ہم لوگ (صحابہ کرام)رمضان المبارک کی 23ویں رات کو رسول اللهﷺ کے ساتھ عشاء کی نماز کے بعد ایک تہائی رات تک تراویح پڑھی ، پھر 25ویں رات کو آدھی رات تک تراویح پڑھی ،پھر27ویں رات کو اتنی رات تک تراویح پڑھی کہ ہم کوگمان ہواکہ ہم کوسحری کاوقت نہیں ملے گا۔(سنن نسائی1606، ومستدرک حاکم، باب قیام اللیل فی رمضان، وقال حاکم ھذا حدیث صحیح علی شرط البخاری وقال الذھبی حدیث حسن)
عن عائشة زوجِ النبیأن رسولَ الله صلَّی فی المسجدِ ذاتَ لیلةٍ، فصلّیٰ بصلاتہ ناسٌ، ثم صلی اللیلةَ القابِلَةَ، فکَثُرَ الناسُ، ثم اجتمعوا من اللیلةِ الثالثةِ أو الرابعةِ، فلم یخرج إلیہم رسولُ الله، فلم أصبح، قال: قد رأیت الذی صنعتم، ولم یمنعنی من الخروج إلیکم، إلا أنی خشیت أن تفرض علیکم وذلک فی رمضان․ رسول اللهﷺکی شریک حیات حضرت عائشہ رضی الله عنہا روایت کرتی ہیں کہ رسول اللهﷺایک رات مسجد میں نمازپڑھ رہے تھے،تو آپ کے ساتھ صحابہ کرام رضی الله عنہم بھی نمازپڑھنے لگے، دوسری رات بھی ایساہی ہوا، تیسری یاچوتھی رات جب لوگ بہت جمع ہوگئے تو آپﷺ اس رات باہرتشریف نہیں لے گئے، جب صبح ہوئی توآپ نے ارشاد فرمایا: ”تمہارا جمع ہونامجھے معلوم تھا،میں اس لیے نہیں آیا، مجھے اندیشہ ہواکہ یہ نمازتم پرفرض کردی جائے گی“۔ حضرت عائشہ رضی الله عنہا فرماتی ہیں کہ یہ واقعہ رمضان المبارک کاتھا۔(موطا امام مالک248، وصحیح مسلم 1819، وسنن النسائی1604)
عن ابن شہاب أخبرنی عروةأنَّ عَائشةَ رضی الله عنہا أخْبَرَتْہُ أنَّ رَسُولَ اللهِ خَرَجَ لَیْلَةً مِنْ جَوفِ اللَّیلِ فَصَلَّی فِی الْمَسْجِدِ، وَصَلَّی رِجَالٌ بِصَلَاتِہِ، فَأصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا، فَاجْتَمَعَ أکْثَرُ مِنْہُمْ، فَصَلَّی فَصَلَّوْا مَعَہُ، فََأصْبَحَ النَّاسُ فَتَحَدَّثُوا فَکَثُرَ أھلُ الْمَسْجِد مِنَ اللَّیْلَةِ الثَّالِثَةِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اََََََََََََََََللّٰہِ فَصَلَّی بِصَلَاتِہِ، فَلَمَّا کَانَتِ اللَّیْلَةُ الرَّابِّعَةُ عَجَز َ الْمَسْجِدُ عَنْ أہْلِہِ حَتَّی خَرَجَ لِصَلَاةِ الصُّبْح، فَلَمَّا قَضیٰ الْفَجْرَ أقْبَلَ عَلیٰ النَّاسِ فَتَشَہَّدَثُمَّ قَالَ: أمَّا بَعْدُ فإنَّہُ لَمْ یَخْف َ عَلَیَّ مَکَانُکم ولٰکِنِّی خَشِیتُ أنْ تُفْرَضَ عَلَیْکُمْ صَلَاةُ اللَّیْلِ فَتَعْجِزُوا عَنْہَا فُتُوفِّی رَسُولُ اللهِ وَالأمرُعَلَی ذٰلکابن شہاب امام زہری روایت کرتے ہیں کہ مجھ سے عروہ نے کہاکہ مجھے حضرت عائشہ رضی الله عنہانے بتایاکہ ایک باردیر رات رسول اللهﷺ اپنے حجرہ سے نکلے اور مسجدمیں نمازپڑھی،اورآپ کے ساتھ کچھ صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے بھی نماز پڑھی،جب صبح ہوئی تو اس واقعہ کاچرچا ہواتودوسری رات لوگ زیادہ جمع ہوئے ،توصحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ نے آپ ﷺ کے ساتھ نمازپڑھی،پھرصبح ہوئی اوراس کااورزیادہ چرچاہوا،توتیسری رات اورزیادہ لو گ جمع ہوئے ،آپ ﷺ باہر تشریف لائے اورنمازپڑھائی۔چوتھی رات مسجدلوگوں سے بھرگئی توآپ ﷺ تشریف نہیں لائے؛یہاں تک کہ صبح ہوئی۔آپ ﷺ صبح کی نمازمیں تشریف لائے، سلام پھیرنے کے بعدصحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ کی طرف متوجہ ہوکر ارشادفرمایا کہ تم لوگوں کی موجود گی مجھ سے پوشیدہ نہ تھی؛لیکن مجھے خدشہ ہواکہ یہ نماز(تراویح)تم پرفرض کردی جائے اورتم کرنہ سکو، پھر رسول اللهﷺ کی وفات تک اسی طرح تراویح( انفرادی اورچھوٹی جماعتوں کے ساتھ) پڑھی گئی۔(صحیح بخاری924، وصحیح مسلم1820، وصحیح ابن خزیمة2207، وصحیح ابن حبان 2543، مسند اسحاق بن راہویہ 827)
ان احادیث میں رسول اللهﷺ کارمضان المبارک میں انفرادی اور باجماعت تراویح پڑھنا معلوم ہوتاہے۔ تراویح روزہ کے ساتھ 2 ہجری میں مشروع ہوئی۔اس حساب سے رسول اللهﷺ نے 9سال تراویح پڑھی ہے۔ کبھی انفرادی پڑھی ،کبھی چھوٹی چھوٹی جماعت کے ساتھ پڑھی،کبھی عام جماعت کے ساتھ؛لیکن کتنی رکعتیں تراویح پڑھی ان روایات میں اسکاذکرنہیں ہے؛ البتہ صحابہ رضی اللہ تعالٰی عنہ ،تابعین رحمۃ اللہ علیہ کاعمل بیس رکعات تراویح پڑھنے کا ہے؛اس لیے جمہورعلماء امت نے بیس رکعات تراویح ہی کوسنت قراردیاہے۔ذیل میں چندرویات نقل کی جارہی ہیں جس سے معلوم ہوگا کہ صحابہ وتابعین کاعمل بیس(20)رکعات تراویح کاہے۔

جاری ہے۔۔۔۔۔
Advertisements
4 comments
  1. بہت بہت شکریہ ۔۔۔۔
    ماننے والوں کےلئے تو اشارہ کافی ہے اور ۔۔۔ نہ ماننے والوں کے لئے تو لاکھ دلیلیں بھی کم ہے۔۔۔
    میرا تو یہ کہنا ہے کہ ۔۔۔۔ ویسے بھی رمضان میں ہمارا عبادت میں کون سا اضافہ ہوتا ہے۔۔۔ بس ایک یہی ہے نا کہ دن میں بھوک پیاس برداشت کرتے ہیں اور رات میں صرف بیس رکعت نماز زائد ادا کرتے ہیں ۔ ۔ ۔
    اب اس میں بھی کنجوسی کریں تو کیا کہا جائے گا

    جزاک اللہ

    • بات صرف یہ نہیں کہ عبادت زیادہ کی جائے یا کم
      بات یہ ہے کہ سنت کے مطابق کی جائے
      نہ کم نہ زیادہ

  2. سعود said:

    السلام علیکم
    اس تحریر کے بقیہ حصے "صحابہ کرام کے دور میں تراویح 1 اور 2” نہیں کھل رہے۔ شاید یو آر ایل کی لمبائی زیادہ ہے۔

    ایک سوال کہ آپ نے جو جو احادیث وغیرہ لکھی ہیں ان میں کہیں بھی تراویح کا لفظ موجود نہیں بلکہ قیام اللیل کے الفاظ ہیں تو آپ نے قوسین میں تراویح کا لفظ کیوں لکھا ہے؟

    باقی رہا تراویح کی تعداد کا سوال تو انشاءللہ اس کے بارے میں بات مکمل مضمون پڑھنے کے بعد ہو گی۔

    • 1 اور 2 کو وقت ملتے ہی درست کر دوں گی
      اس وقت تراویح کو الگ سے نام نہ دیا گیا تھا جسے جب حضرت عمر فاروق رضی الہ تعالٰی عنہہ نے
      باجماعت تراویح کی ابتداء کی تب سے اسے تراویح کا نام دیا گیا

      تعداد کے حوالے سے ہمیشہ ہی بحث جاری رہے گی
      اور شائد اس کا کوئی حل بھی نہیں

      لا حاصل بحث ہو گی

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: