لَیلَةُ القَدر-2

شب قدر کی وجہ تسمیہ
شب قدرکو شب قدر کیوں کہا جاتا ہے اس سے متعلق بہت سے اقوال منقول ہیں، ایک وجہ یہ بتلائی گئی ہےکہ اسکی قدر ومنزلت کی وجہ سے یہ نام رکھا گیا ہے۔ چنانچہ تفسیر قرطبی میں امام زہری رحمہ اللہ بیان فرماتے ہیں کہ ’’انما سمیت بذلک لعظمہا وقدرہا وشرفہا‘‘   بے شک اسکا وہ نام رکھا گیا (دیگر راتوں پر) اس کی عظمت‘ قدر ومنزلت اور بزرگی کی وجہ سے، اس اعتبار سے قدر کے معنی قدر ومنزلت کے ہیں۔
یا قدر کے معنی تقدیر اور اندازہ کے ہیں کہ اس رات میں سب کاموں کا فیصلہ تکمیل پاتا ہے، جیسا کہ حضرت عبداللہ بن عباسؓؓ سے مروی ہے  ’’ان اللہ تعالی یقضی الاقضیۃ فی لیلۃ نصف شعبان ویسلمہا الی اربابہا فی لیلۃ القدر (تفسیر قرطبی)    بے شک اللہ تعالی نصف شعبان کی رات (یعنی شب برات) میں تمام فیصلے فرماتا ہے اور شب قدر میں ان فیصلوں کو انکے ذمہ دار فرشتوں کے سپرد فرماتا ہے۔
محدث دکن ابو الحسنات حضرت عبداللہ شاہ صاحب نقشبندی مجددی قادری علیہ الرحمہ شب قدر کی وجہ تسمیہ سے متعلق لکھتے ہیں  یہ قدر اس لئے کہ کتاب (یعنی قرآن مجید) قابل قدر‘ رسول قابل قدر کی معرفت‘ امت قابل قدر پر اتارا اس لئے سورہ قدر میں لیلۃ القدر کا لفظ تین وقت آیا ہے۔(فضائل رمضان، ص ۱۰۸) ۔
تفسیر کبیر میں ہے ’’نزل فیہا کتاب ذوقدر علی لسان ذی قدر‘ علی امۃ لہا قدر ولعل اللہ تعالی انما ذکر لفظۃ القدر فی ہذہ السورۃ ثلاث مرات بہذا السبب‘‘ حضرت ابو بکر ورّاق فرماتے ہیں ’’سمیت بذلک لان من لم یکن لہ قدر ولا خطر یصیر فی ہذہ اللیلۃذا قدر اذا احیاہا‘‘ (تفسیر قرطبی) شب قدر کہنے کی وجہ یہ ہےکہ جسکے لئے کوئی قدر ومنزلت نہیں تھی وہ اس رات میں عبادت کرکے قدر والا بن جاتا ہے۔ قدر کے معنی تنگی کے بھی آتے ہیں اس لحاظ سے یہ وجہ ذکر کی گئی ہے کہ سمیت بذلک لان الارض تضیق بالملائکۃ فیہا (تفسیر خازن)شب قدر کو شب قدر اس لئے کہا جاتا ہے کیونکہ اس رات میں فرشتوں کے (بکثرت) اترنے کی وجہ سے زمین تنگ ہوجاتی ہے۔
شب قدر عطا ہونے کا سبب
اس رات کا عطا کیا جانا اس امت پر حضور اکرم ﷺ کی شفقت، ومہربانی اس امت کی حالت پر سرکار کی غمخواری کا نتیجہ ہے چنانچہ اس بارے میں بہت سے روایات مروی ہیں، چنانچہ موطا امام مالک ص۹۹ میں ہے ’’اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ رَاٰی اَعْمَارَ النَّاسِ قَبْلَہُ اَوْ مَا شَاءَ اللّٰہُ مِنْ ذٰلِکَ فَکَأنَّہُ تَقَاصَرَ أعْمَارَ اُمَّتِہٖ اَنْ لَّا یَبْلُغُوْا مِنَ الْعَمَلِ مِثْلَ الَّذِیْ بَلَغَ غَیْرُہُمْ فِی طُوْلِ الْعُمْرِ فَأعْطَاہُ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ ألْفِ شَہْرٍ‘‘رسول اللہ ﷺ کو پچھلے لوگوں کی عمر یں بتائی گئی جتنا کہ اللہ نے چاہاپس آپ ﷺ نے اپنی امت کی عمروں کو کم پا کر خیال فرمایا کہ وہ (اس مختصر سی ) عمر میں اس قدر عمل نہیں کر پائیں گے جتنا کہ انکے علاوہ (امتوں) نے کی ہے پس آپ ﷺ کو شب قدر عطا کی گئی جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔
من قام لیلۃ القدر إیمانًا واحتسابًا غُفرلہ ما تقدّم من ذنبہ’’جس نے شب قدر کا قیام ایمان وثواب سمجھ کر کیااس کے سابقہ گناہ معاف کردیئے گئے۔‘‘(بخاری:۲۰۱۴)
اور حضرت علی وعروہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ایک روز بنی اسرائیل کے چار اشخاص کا ذکر فرمایا جنہوں نے اسی (۸۰) سال اللہ کی عبادت کی اور پلک جھپکنے کے برابر بھی اللہ کی نافرمانی نہ کی، چنانچہ آپ ﷺ نے حضرت ایوب، زکریا‘ حزقیل بن عجوز اور یوشع بن نون کا ذکر فرمایا اس پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو تعجب ہوا پس جبریل حاضر ہوئے اور عرض کئے اے محمدﷺ آپ کی امت کو اس جماعت کے اسی برس عبادت کرنے پر تعجب ہورہا ہے اللہ تعالی نے اس سے بہتر (بات) نازل فرمائی ہے، اورانہو ں نے آپ ﷺ کو سورہ قدر پڑھ کر سنائی اور عرض کیا کہ یہ اس سے بہتر ہے جس پر آپ اور آپکی امت کو تعجب ہو رہا ہے، پس اس پر رسول اللہ ﷺ اور آپ ﷺ کے صحابہ خوش ہوئے ۔(الدر المنثور) شب قدر صرف امت محمدیہ کو عطا ہوئی۔
اس امت کی منجملہ خصوصیات کے شب قدر بھی ہے، حضرت انسؓ سے مروی حدیث میں حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا ’’اِنَّ اللّٰہَ وَہَبَ لِأُمَّتِیْ لَیْلَۃَ الْقَدْرِ لَمْ یُعْطِہَا مَنْ کَانَ قَبْلَہُمْ‘‘ (الدر المنثور)    بے شک اللہ تعالی نے میری امت کو شب قدر عطا فرمائی ہے جو ان سے پہلے والوں کو عطا نہیں کی گئی۔
لیلتہ القدر کا شانِ نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ حضور نبی کریمﷺ نے اپنی امت کے لوگوں کی طبعی عمروں کو مختصر پایا اور خیال ہوا کہ وہ اس مختصر سی عمر میں اتنے اعمالِ صالحہ نہ کرسکےں گے جتنے کہ پہلی امتوں کے صالحین اور عبادت گزار بندوں نے اپنی طویل عمروں میں کئے تھے ،پس اﷲتبارک و تعالیٰ نے اپنے آخری رسول ﷺ کو ”شب قدر“ عطا فرمائی جو ہزار مہینوں سے بہتراورافضل رات ہے اور فرمایا کہ جوشخص اس عظیم الشان رات میں اللہ تعالیٰ کی عبادت وبندگی کرے گا تو اس کو تراسی سال اور چار ماہ کی عبادت کے برابر اجروثواب دیا جائے گا۔اس رات کی خیر و برکات ہزار ماہ کی عبادات سے افضل وبر تر ہیں۔ ساری رات فرشتوں کی آمداور اللہ تعالیٰ کی بے حدو بے حساب رحمتوں، نعمتوں، برکتوں اور نوازشوں کے نزول کا سلسلہ جاری رہتا ہے اورصاحبانِ ایمان کو بخشش ومغفرت اورنجات کی بشارتیں دی جاتی رہتی ہیں۔
شب قدر کی فضیلت قرآن پاک کی روشنی میں
شب قدر کی فضیلت وعظمت کا اس بات سے بخوبی اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ اللہ تعالی نے قرآن پاک میں ایک مکمل سورہ اس شب سے متعلق نازل فرمایا ہے چنانچہ سورۃ القدر میں ارشاد باری تعالی ہے ’’اِنَّا أنْزَلْنَاہُ فِیلَیْلَۃِ الْقَدْرِ.وَمَا أدْرٰکَ مَا لَیْلَۃُ الْقَدْرِ . لَیْلَۃُ الْقَدْرِ خَیْرٌ مِّنْ ألْفِ شَہْرٍ . تَنَزَّلُ الْمَلَا ءِکَۃُ وَالرُّوْحُ فِیْھَا بِاِذْنِ رَبِّہِمْ مِنْ کُلِّ أمْرٍ سَلٰمٌ ہِیَ حَتّٰی مَطْلَعِ الْفَجْرِ. بے شک ہم نے اس (قرآن ) کو شب قدر میں اتارا، تمہیں معلوم شب قدر کیا ہے؟ شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے، ا س میں فرشتے اور روح (یعنی جبریل) اپنے رب کے حکم سے ہر امرِ (خیر) کو لیکر اتر تے ہیں،وہ شب سراپا سلامتی ہے، وہ (سلامتی)طلوع فجرہونے تک ہوتی ہے۔
شب قدر میں قرآن نازل کرنے کا مطلب
اللہ تعالی فرماتا ہے بے شک ہم نے قرآن کو شب قدر میں نازل کیا، یہاں پر یہ شبہ ہوتا ہے کہ قرآن تو حضور اکرم ﷺ پر تئیس (۲۳) سال کی مدت میں وقتا فوقتا نازل ہوا اور اسکے نزول کی ابتداء ماہ ربیع الاول میں ہوئی۔ اسکے علاوہ اللہ تعالی سورہ دخان میں فرماتا ہے ’’اِنَّا أنْزَلْنَاہُ فِیلَیْلَۃٍمُّبَارَکَۃٍ‘‘    ہم نے اس (قرآن ) کو ایک مبارک رات (یعنی شب برات) میں نازل کی۔
علماء کرام اس شبہ کے جواب میں بیان فرماتے ہیں کہ شب برات میں قرآن پاک کے نازل کرنے کا فیصلہ ہوا اور وہ فیصلہ متعلقہ فرشتوں کے سپرد کیا گیا، شب قدر میں لوح محفوظ سے آسمان دنیا پر اتارا گیا، اور ۲۳ سال کی مدت میں حضور ﷺ پر وقتا فوقتا نازل ہوتا رہا۔
شب قدر کے ہزار مہینوں سے بہتر ہونے کا معنی
اللہ تعالی نے شب قدر کو ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا ہے ہزار مہینے کے تراسی برس چار ماہ بنتے ہیں، یعنی شب قدر میں عبادت کرنا تراسی برس چار ماہ عبادت کرنے سے بہتر ہے، یہ بات قابل توجہ ہے کہ اللہ تعالی نے شب قدر کو ہزار مہینوں سے بہتر فرمایا، کتنا بہتر ہے واضح نہیں کیا لہذا شب قدر کے بہتری کی کوئی حد مقرر نہیں کی جاسکتی۔
فتح القدیر کی عبارت ہے ’’قِیْلَ اِنَّ الْعَابِدَ کَانَ فِیْمَا مَضٰی لَا یُسَمّٰی عَابِدًا حَتّٰی یَعْبُدَ اللّٰہَ أَلْفَ شَہْرٍ عِبَادَۃً، فَجَعَلَ اللّٰہُ تَعٰالٰی لِاُمَّۃِ مُحَمَّدٍ عِبَادَۃَ لَیْلَۃٍ خیر من الف شہر کانوا یعبدونہا‘‘سابقہ امتوں میں کسی شخص کو اس وقت تک عابد نہیں کہا جاتا تھا جب تک کہ وہ ہزار مہینے اللہ کی عبادت نہ کرے، پس اللہ تعالی نے امت محمدیہ کے لے ایک رات کی عبادت کو ان ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیاجنکی وہ (سابقہ امتیں) عبادت کرتے تھے۔
شب قدر میں فرشتے زمین پر اترنے کی وجوہات
امام رازی رحمہ اللہ نے شب قدر میں فرشتوں کے زمین پر اترنے کی متعدد وجوہ تحریر فرمائی ہیں
 پہلی وجہ فرشتوں کے اس شب میں زمین پر اترنے کی وجہ یہ ہے کہ وہ انسانوں کی عبادت اور طاعت خداوندی میں خوب جد وجہد ملاحظہ کریں (کیونکہ جب اللہ تعالی نے فرمایا تھا کہ میں زمین میں اپنا خلیفہ بنانے والا ہوں تو فرشتوں نے اس پر کہا تھا کہ آپ ایسی مخلوق پیدا فرمائیں گے جو زمین میں فساد پھیلائے گی اور خون ریزی کریگی، شب قدر میں اللہ انہیں بھیجتا ہے کہ جاؤ دیکھو جن کے بارے میں تم نے یہ کہا تھا وہ کیا کر رہے ہیں۔
  قرآن پاک میں فرشتوں کا یہ قول مذکور ہے کہ ’ہم آپکے رب کی اجازت کے بغیر نہیں اترتے‘ اس سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ فرشتے زمین پر اترنے کے مامور ہیں بذات خود نہیں اترتے، اور یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ انہیں صالحین سے کوئی خاص محبت اور لگاؤ نہیں ہے، لیکن سورۃ القدر میں جو آیا ہے کہ اپنے رب کی اجازت سے اترتے ہیں اس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ پہلے پروردگار سے زمین پر آنے کی اجازت طلب کرتے ہیں اور جب اجازت ملتی ہے تو زمین پر آتے ہیں یہ اس پر دلالت کرتا ہے کہ انہیں صالحین سے محبت اور لگاؤ ہے۔
  اللہ تعالی نے اہل ایمان سے وعدہ فرمایا ہے کہ جنت میں ان کے پاس فرشتے ہر دروازے سے آئیں گے اور انہیں سلام کریں گے، اسکا نقشہ اللہ تعالی دنیا میں بھی دکھانا چاہتا ہے، گویا فرماتاہے کہ اگر تم میری عبادت میں مشغول ہو گئے تو تم پر فرشتے نازل ہو کر تمہارے پاس سلام کرنے اور زیارت کرنے کی غرض سے آئیں گے۔
  انسان کی فطرت ہے کہ جب اکابر علماء وزہادموجود ہوں تو وہ ان کی موجودگی میں ا طاعت وعبادت بہتر طریقے سے کرتا ہے بہ نسبت خلوت میں عبادت کرنے کے، اللہ تعالی نے مقرب فرشتوں کو نازل فرمایا تا کہ عبادت گزار مسلمان ان کی موجودگی کا احساس کرکے اور زیادہ اچھے طریقے سے عبادت کریں۔
شب قدر میں صبح صادق تک سلامتی کا ہونا
اللہ تعالی نے شب قدر کے بارے میں فرمایا ہے (سَلٰمٌ) وہ شب سراپا سلام ہے، اس کے مفسرین نے بہت سے مطلب بیان کئے ہیں۔ ایک یہ کہ فرشتے ابتداء رات سے لے کر صبح صادق تک فوج در فوج آسمان سے زمین پر اترتے رہتے ہیں اور شب بیداروں اور عبادت گزاروں کو سلام کرتے ہیں یہ مطلب حضرت امام شعبی رحمہ اللہ نے بیان فرمایا ہے، فرشتوں کے اس سلام کو معمولی نہیں سمجھنا چاہئیے بلکہ اس میں امت محمدیہ کی بڑی فضیلت کا اظہار ہوتا ہے کیونکہ پہلے فرشتے صرف انبیاء پر وحی الہی لے کر اترتے تھے اور اب سلام ودعا کرنے کے لئے امت محمدیہ پر اترتے ہیں۔
دوسرا یہ کہ یہ رات شرور وآفات سے محفوظ رہتی ہے۔ فرشتے اس میں خیرات وبرکات اور سعادتیں لے کر اترتے ہیں کسی تکلیف دہ چیز کو لے کر نہیں اترتے۔
تیسرا یہ کہ تیز آندھیوں بجلیوں اور کڑک سے سلامتی والی ہے یعنی یہ چیزیں اس میں نہیں ہوتیں یہ مطلب ابو مسلم رحمہ اللہ نے بیان فرمایا ہے۔
چوتھا یہ کہ یہ رات شیطان کے شر سے سلامت ہے یعنی اس رات شیطان کسی قسم کی برائی اور ایذا رسائی نہیں کرسکتا، یہ مطلب حضرت مجاہد تابعی رحمہ اللہ نے بیان فرمایا ہے۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: