بلاعذرروزہ چھوڑنے پر وعید

عَنْ اَبِْی ھُرِیْرَۃَ قَالَ قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ مَنْ أَفْطَرَ ےَوْمًا مِنْ رَمَضَانَ مِنْ غَیْرِ رُخْصَۃٍ وَلَا مَرَضٍ لَمْ ےُقْضَ عَنْہُ صَوْمُ الدَّھْرِ کُلُّہٗ وَإِنْ صَامَہٗ (رواہ احمد)۔
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے وہ فرماتے ہیں کہ رسول اﷲ صلی اﷲ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو کوئی شخص بغیر کسی چھوٹ یا بیماری کے رمضان کا ایک روزہ بھی چھوڑدے تو ساری عمر کے (نفل) روزے بھی اس کی تلافی نہ کرسکیں گے ۔
روزے کا وقت: طلوع فجر سے غروب شمس تک ہے۔ صبح صادق سے پہلے سحری کھا لی جائے اور پھر سورج کے غروب ہونے تک تمام مفطرات سے اجتناب کیا جائے،جیسا کہ ارشاد باری تعالٰی ہے کہ:وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی يَتَبَيَنَ لَکُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَی الَّيْلِ(روزہ رکھنے کے لئے سحری کے وقت)اور کھاتے پیتے رہا کرو یہاں تک کہ تم پر صبح کا سفید ڈورا (رات کے)سیاہ ڈورے سے (الگ ہو کر)نمایاں ہو جائے، پھر روزہ رات (کی آمد)تک پورا کرو۔(البقرة،  187)سفید دھاگے سے مراد صبح صادق (دن کی سفیدی)ہے اور سیاہ دھاگے سے مراد صبح کاذب (رات کی تاریکی)ہے۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: