شَھْرُ رَمَضَانَ -ماہ رمضان المبارک-9

گزشتہ سے پیوستہ
اب تصور کیجئے کہ خدا نے ہمیں  روزے کا حکم دیا مگر ساتھ ہی اس کی منشا یہ ہے کہ اس کے بندے حد سے زیادہ تکلیف نہ اُٹھایں ۔ لہٰذا اس آسانی اور سہولت کو بھی ایک انعام قرار دیا۔ بلکہ یہاں  تک کہہ دیا کہ افطاری میں  جلدی ہی اصل بھلائی اور نیکی کی راہ ہے۔ روزہ جلدی افطار ہم کریں ، اپنی پیاس ہم بجھائیں  اور ساتھ اس کی رحمت اور برکت کے مستحق قرار پائیں ۔
رمضان اور اس کے روزے کی فضیلت ،متعدد احادیث سے ثابت ہے۔ ایک حدیث میں  فرمایا:(إذا دخل شهر رمضان فُتحت أبواب السماء وغُلِّقت أبواب جهنم وسُلسِلت الشياطين)جب رمضان جب رمضان آتا ہے تو آسمان (اور ایک روایت میں  ہے جنت)دروازے کھول دیئے جاتے ہیں  اور جہنم کے دروازے بند کر دیئے جاتے ہیں  اور (بڑے بڑے)شیطانوں  کو جکڑ دیا جاتا ہے۔(صحیح البخاری، الصوم، ح 1898)
(الصوم جنۃ یسجن بھا العبد من النار)روزہ ایک ڈھال ہے جس کے ذریعے سے بندہ جہنم کی آگ سے بچتا ہے۔(صحیح الجامع، ح 3867)
دوسری روایت کے الفاظ اس طرح ہیں(الصوم جنة من عذاب اللہ )روزہ اللہ تعالیٰ کے عذاب سے (بچاؤ کی )ڈھال ہے۔(صحیح الجامع، ح 3866)
ایک حدیث میں  نبی اکرم ﷺ نے فرمایا(من صام يوما في سبيل الله، بعد اللہ وجهه عن النار سبعين خريفا)جس نے اللہ تعالیٰ کے راستے میں  ایک دن روزہ رکھا، تو اللہ تعالیٰ اس کے چہرے کو جہنم سے ستر سال (کی مسافت کے قریب)دور کر دیتا ہے (صحیح البخاری، الجھاد والسیر ، باب فضل الصوم فی سبیل اللہ، ح 2840 وصحیح مسلم، الصیام، فضل الصیام فی سبیل اللہ۔۔۔ح 1153)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا(ان فی الجنة بابا یقال لہ۔۔۔۔۔۔۔۔فلم یدخل منہ احد)جنت (کے آٹھ دروازوں  میں  سے)ایک دروازے کا نام   رَیّان  ہے، جس سے قیامت کے دن صرف روزے دار داخل ہوں  گے، ان کے علاوہ اس دروازے سے کوئی داخل نہیں  ہوگا، کہا جائے گا روزے دار کہاں  ہیں ؟ تو وہ کھڑے ہو جائیں  گے اور (جنت میں  داخل ہوں  گے)ان کے علاوہ کوئی اس دروازے سے داخل نہیں  ہوگا۔ جب وہ داخل ہو جائیں  گے، تو وہ دروازہ بند کر دیا جائے گا اور کوئی اس سے داخل نہیں  ہوگا۔(صحیح البخاری، الصوم، باب الریان للصائمین، ح 1896 وکتاب بدء الخلق، ح  3257 وصحیح مسلم، باب فضل الصیام، ح1152)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا(الصیام والقرآن یشفعان۔۔۔۔۔۔ فیشفعان)روزہ اور قرآن قیامت کے دن بندے کی سفارش کریں  گے۔ روزہ کہے گا   اے میرے رب! میں  نے اس بندے کو دن کے وقت کھانے (پینے)سے اور جنسی خواہش پوری کرنے سے روک دیا تھا، پس تو اس کے بارے میں  میری سفارش قبول فرما۔ قرآن کہے گا  میں  نے اس کو رات کے وقت سونے سے روک دیا تھا، پس تو اس کے بارے میں  سفارش قبول فرما۔ چنانچہ ان دونوں  کی سفارش قبول کی جائے گی۔(صحیح الجامع، بحوالہ مسند احمد، طبرانی کبیر، مستدرک حاکم وشعب الایمان، ح 3882، 720/2)
رسول اللہ ﷺ نے فرمایا(فتنة الرجل فی اھلہ ومالہ۔۔۔۔۔۔والصدقة)آدمی کی آزمائش ہوتی ہے اس کے بال بچوں  کے بارے میں ، اس کے مال میں  اور اس کے پڑوسی کے سلسلے میں ۔ ان آزمائشوں  کا کفارہ نماز روزہ اور صدقہ ہیں (صحیح البخاری، الصوم، باب الصوم کفارة، ح 1895 وصحیح مسلم، الایمان باب رفع الامانة والایمان من بعض القلوب۔۔۔۔ الخ، ح 144)
آزمائش کا مطلب ہے کہ اللہ تعالیٰ مذکورہ چیزوں  کے ذریعے سے انسانوں  کو آزماتا اور ان کا امتحان لیتا ہے۔ اولاد کی آزمائش یہ ہے کہ انسان ان کی فرط محبت کی وجہ سے غلط رویہ، یا بخل یا خیر سے اجتناب تو اختیار نہیں  کرتا، یا ان کی تعلیم و تربیت میں  کوتاہی تو نہیں  کرتا؟ مال کی آزمائش یہ ہے کہ انسان اس کے کمانے میں  ناجائز طریقہ تو اختیار نہیں  کرتا، اسی طرح اسے خرچ کرنے میں  اسراف سے یا بخل سے تو کام نہیں  لیتا؟ پڑوسی کی آزمائش یہ ہے کہ انسان اس کے آرام و راحت کا خیال رکھتا ہے یا نہیں ، اس کے دکھ درد میں  اس کا معاون اور دست و بازو بنتا ہے یا نہیں ؟
ان ذمے داریوں  کی ادائیگی میں  جو کوتاہیاں  انسان سے ہو جاتی ہیں ۔ نماز، روزہ اور صدقہ و خیرات ان كا كفاره بن جاتے ہیں  اور کوتاہیوں  کا ازالہ ہو جاتا ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے ( اِنَّ الْحَسَنٰتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّاٰتِ )(ھود 114)نیکیاں  برائيوں  کو دور کر دیتی ہیں ۔  اس حدیث و آیت سے معلوم ہوا کہ ایک مسلمان کو نماز، روزہ اور صدقہ و خیرات اور دیگر نیکیوں  کا اہتمام کرتے رہنا چاہیے، تاکہ یہ نیکیاں  اس کی کوتاہیوں  اور گناہوں  کا کفارہ بنتی رہیں ۔
نبی اکرم ﷺ نے فرمایا(للصائم فرحتان یفرحہما۔۔۔۔۔فرح بصومہ)روزے دار کے لیے دو خوشیاں  ہیں  جن سے وہ خوش ہوتا ہے۔ ایک جب وہ روزہ کھولتا ہے تو خوش ہوتا ہے اور (دوسری خوشی)جب وہ اپنے رب سے ملے گا تو اپنے روزے سے خوش ہوگا(صحیح البخاری، الصوم، باب ھل یقول انی صائم اذا شتم، ح 1904، وصحیح مسلم، الصیام، باب فضل الصیام، ح 1151)
نبی کریم ﷺ نے فرمایا(والذی نفس محمد بیدہ!۔۔۔۔۔۔ من ریح المسک)قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں  محمد( ﷺ )کی جان ہے، روزے دار کے منہ کی بدلی ہوئی بو اللہ کے ہاں  کستوری کی خوشبو سے زیادہ پاکیزہ ہے(صحیح البخاری، الصوم، باب ھل یقول  انی صائم اذا شتم، ح 1904 وصحیح مسلم، الصیام، باب فضل الصیام، ح 1151)
خُلْفَہ یا خَلُوف اس بو کو کہتے ہیں  جو معدے کے خالی ہونے پر روزے دار کے منہ سے نکلتی ہے۔ یہ بو عام حالات سے مختلف اور بدلی ہوئی ہوتی ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حدیث قدسی بیان فرمائی، جس میں  اللہ تعالیٰ فرماتا ہے
(الصیام لی وانا اجزی بہ)روزہ میرے لیے ہے اور میں  اس کی جزا دوں  گا۔(صحیح البخاری، باب فضل الصوم، ح 1894 وصحیح مسلم، باب ورقم مذکور)
یعنی دیگر نیکیوں  کے لیے تو اللہ تعالیٰ نے یہ ضابطہ بیان فرمایا: ہے کہ (الحسنة بعشر امثالھا)(حوالہ ہائے مذکورہ)نیکی کم از کم دس گنا اور زیادہ سے زیادہ سات سو گناہ تک ملے گا۔ لیکن روزے کو اللہ تعالیٰ نے اس عام ضابطے اور کلیے سے مستثنیٰ فرما دیا اور یہ فرمایا: کہ قیامت والے دن اس کی وہ ایسی خصوصی جزاء عطا فرمائے گا، جس کا علم صرف اسی کو ہے اور وہ عام ضابطوں  سے ہٹ کر خصوصی نوعیت کی ہوگی۔
یہ تمام احادیث، جو بیان ہوئیں  روزوں  کی فضیلت میں  عام ہیں ۔ یعنی ہر قسم کے روزے ان کے ضمن میں  آجاتے ہیں ، چاہے وہ رمضان کے فرضی روزے ہوں  یا رمضان کے علاوہ دیگر نفلی روزے۔ مذکورہ فضیلتیں  ہر قسم کے روزے دار کے لیے ہیں ۔ اسی لیے اللہ تعالیٰ کے خاص بندے صرف رمضان ہی کے فرضی روزے نہیں  رکھتے، بلکہ وہ نبی اکرم ﷺ کی اقتداء میں  ہر وقت نفلی روزوں  کا اہتمام کرتے ہیں ، جیسا کہ نبی ﷺ کا معمول مبارک تھا۔
آپ کا معمول تھا کہ آپ ہر سوموار اور جمعرات کو روزہ رکھتے ۔ ہر مہینے کے ایام بیض (13،14 اور 15 تاریخ)کا روزہ رکھتے ، مال شعبان کے ایام اکثر روزوں  کے ساتھ گزارتے، علاوہ ازیں  جب کبھی گھر میں  کچھ کھانے کو نہ ہوتا تو اس دن بھی آپ روزہ رکھ لیتے۔ عاشورہ (10 محرم)کے دن روزہ رکھتے، بلکہ زندگی کے آخری سال آپ نے فرمایا: کہ میں  آئندہ سال زندہ رہا تو نویں  محرم کا روزہ بھی رکھوں  گا۔ تاکہ محض دسویں  محرم کا روزہ رکھنے سے یہودیوں  سے مشابہت نہ ہو۔ اس طرح نبی کریم ﷺ رمضان کے علاوہ وقتاً فوقتاً نفلی روزوہ کا اہتمام فرماتے رہتے تھے۔ حتیٰ کہ بعض دفعہ صوم و صال بھی رکھ لیتے۔ یعنی بغیر کچھ کھائے پئے مسلسل روزے رکھتے۔ جس سے آپ نے اپنی امت کو منع فرمایا:اس ماہ مبارک کی فضیلت میں  بعض روایات بہت مشہور ہیں ۔ لیکن وہ سند کے لحاظ سے کمزور ہیں ۔ اس لیے ان کو بیان کرنے سے گریز کرنا چاہیے۔ ہم تنبیہ کے طور پر انہیں  بھی یہاں  درج کرتے ہیں ، تاکہ ضعیف روایات بھی لوگوں  کے علم میں  آجائیں ، جنہیں  خطیبان خوش بیان اور واعظان شیریں  مقال اپنے وعظ و خطبات میں  اکثر بیان کرتے ہیں ۔جیسے حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث ہے، جس کے الفاظ حسب ذیل ہیں:(خطبنا رسول اللہ ﷺ ۔۔۔۔۔۔۔من النار)یہ روایت شعب الایمان بیہقی کے حوالے سے مشکوٰة میں  درج ہے، مشکوہ ایک نہایت متداول کتاب ہے جو تمام مدارس دینیہ کے نصاب میں  شامل ہے۔ اور امام بیہقی کی شعب الایمان چند سال قبل تک غیر مطبوعہ مخطوطے کی شکل میں  صرف بعض کتب خانوں  میں  محفوظ تھی۔ اس لیے عام اہل علم و تحقیق اس کی سند دیکھ کر اس کی صحت و ضعف کا حال معلوم کرنے سے قاصر تھے۔ اگرچہ بعض شارحین نے اس کی سند میں  بعض راویوں  کے ضعف کی صراحت کر کے اس حدیث کو غیر صحیح قرار دیا ہے، جیسے علامہ عینی نے عمدة القاری شرح صحیح بخاری میں  صراحت کی، حافظ ابن حجر نے بھی اپنے اطراف میں  اس کی صراحت کی، اور بھی بعض محدثین نے اس کی صراحت کی۔ ان کے ان اقوال کو تنقیح الرواة اور پھر مرعاة المفاتیح میں  بھی نقل کیا گیا ہے۔ جس سے اس روایت کا ضعف بالکل واضح ہے۔لیکن پھر بھی اس کا علم چند اہل علم و تحقیق تک ہی محدود رہا۔ عام علماء و واعظ حضرات اس حدیث کو بیان ہی کرتے رہے۔ اللہ بھلا کرے شیخ البانی رحمہ اللہ کا کہ پھر انہوں  نے بھی اپنی تعلیقات مشکوہ میں  اس کے ضعف کی صراحت کی۔ شیخ البانی کی تالیفات اور تحقیقات کو اللہ نے اہل علم و تحقیق کے حلقوں  میں  جو حسن قبول عطا فرمایا: ہے، اس کی وجہ سے اس روایت کے ضعف کا علم عام ہوا، کیونکہ شیخ البانی کی تحقیق کے ساتھ شائع ہونے والے مشکوة بھی اہل علم میں  متد اول ہے۔ مشکوة پر شیخ الالبانی کی مختصر تعلیقات و تحقیقات کا یہ بڑا فائدہ ہوا کہ مشکوة کی متعدد احادیث جو ضعیف تھیں  ، اور لوگ انہیں  بے دھڑک بیان کرتے تھے ، اب ان کے ضعف سے اہل علم کی اکثریت واقف ہوتی جا رہی ہے۔ اور شیخ کی اس کاوش و تحقیق سے نقد حدیث کا ذوق بھی عام ہوا اور احادیث کی تحقیق و تخریج کے رجحان کو بھی بڑا فروغ ملا ہے۔جزاہ اللہ عنا وعن جمیع المسلمین خیر الجزاء۔بہرحال مقصود اس تفصیل سے یہ ہے کہ حضرت سلمان فارسی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے جو مذکورہ حدیث مشہور ہے ، سند کے لحاظ سے بالکل ضعیف ہے۔ ایسی سخت ضعیف حدیث کا بیان کرنا صرف نا جائز ہی نہیں  ہے۔ بلکہ اندیشہ ہے کہ اس کا بیان کرنے والا (من کذب علی ۔۔۔۔ من النار)(صحیح بخاری، العلم، حدیث  110)جیسی وعید کا مستحق نہ بن جائے۔(من افطر یوما من۔۔۔۔۔۔وان صامہ)جس نے بغیر کسی عذر اور بیماری کے ، رمضان کا ایک روزہ چھوڑ دیا، وہ ساری زندگی بھی اس کی قضاء دیتا رہے تو اس کی قضاء نہیں  ہوگی۔(ذکرہ البخاری تعلیقا، باب جامع فی رمضان، واخرجہ الاربعة)یہ روایت امام بخاری نے تعلیقاً روایت کی ہے۔ لیکن حافظ ابن حجر نے کہا ہے کہ اس روایت میں  تین علتیں  ہیں ، ایک اضطراب ، دوسری ابو المطوس روای کی جہالت اور تیسری یہ شک کہ ابو المطوس کے باپ کا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ سے سماع ثابت ہے یا نہیں ؟ (تفصیل کے لیے دیکھیے فتح الباری ، باب مذکور)شيخ البانی رحمہ اللہ کے نزدیک بھی یہ روایت ضعیف ہے، چنانچہ انہوں  نے اسے ضعیف ابی داؤد، ضعیف ترمذی، ضعیف ابن ماجہ اور ضعیف الجامع ہی میں  نقل کیا ہے۔مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ میں  رمضان کے روزے رکھنا، دوسری جگہوں  کے مقابلے میں  ہزار رمضان سے افضل ہیں ۔ یہ دو روایات ہیں  جو مجمع الزوائد میں  ہیں  اور دونوں  ضعیف ہیں ۔ (مجمع الزوائد، طبع جدید، بہ تحقیق عبداللہ محمد الدرویش، ج 3، ص349،348)نبی ﷺ کے زمانے میں  دو عورتوں  نے روزہ رکھا ، پیاس کی شدت سے وہ سخت نڈھال ہو گئیں ۔ نبی ﷺ کو بتلایا گیا تو آپ خاموش رہے، پھر دوپہر کو دوبارہ آپ سے عرض کیا گیا وہ مرنے لگی ہیں ۔ آپ نے ان دونوں  عورتوں  کو بلوایا اور ایک بڑا پیالہ منکوایا اور باری باری دونوں  سے کہا، اس پیالے میں  قے کرو۔ تو دونوں  نے خون اور پیپ کے قے کی۔ دونوں  کی قے سے پیالہ بھر گیا۔ آپ نے فرمایا:  انہوں  نے اللہ تعالیٰ کی حلال کردہ چیزوں  (کھانے پینے)سے تو روزہ رکھا اور اللہ تعالیٰ کی حرام کردہ چیزوں  سے روزہ کھولتی رہیں ۔ یہ آپس میں  بیٹھی ہوئیں  لوگوں  کا گوشت کھاتی (یعنی غیبت کرتی)رہیں ۔ (مجمع الزوائد 399/3)روزے میں  غیبت وغیرہ سے تو ضرور پرہیز کرنا چاہیے۔ لیکن یہ روایت بھی صحیح نہیں  ہے۔
مندرجہ بالا حدیث مبارکہ سے یہ چیز واضح ہوتی ہے کہ اعمال صالحہ کا ثواب صدقِ نیت اور اخلاص کی وجہ سے دس گنا سے بڑھ کر سات سو گنا تک بلکہ بعض دفعہ اس سے بھی زیادہ ہوتا ہے لیکن روزہ کا ثواب بے حد اور بے اندازہ ہے۔ یہ کسی ناپ تول اور حساب کتاب کا محتاج نہیں، اس کی مقدار اﷲ تعالیٰ کے سوا کوئی نہیں جانت۔ روزے کی اس قدر فضیلت کے درج ذیل اسباب ہیں
پہلا سبب روزہ لوگوں سے پوشیدہ ہوتا ہے اسے اﷲ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا جبکہ دوسری عبادتوں کا یہ حال نہیں ہے کیونکہ ان کا حال لوگوں کو معلوم ہو سکتا ہے۔ اس لحاظ سے روزہ خالص اﷲ تعالیٰ کے لئے ہی ہے۔ فانّا لِی سے اسی کی طرف اشارہ ہے۔
دوسرا سبب روزے میں نفس کشی، مشقت اور جسم کو صبر و برداشت کی بھٹی سے گزرنا پڑتا ہے۔ اس میں بھوک، پیاس اور دیگر خواہشاتِ نفسانی پر صبر کرنا پڑتا ہے جبکہ دوسری عبادتوں میں اس قدر مشقت اور نفس کشی نہیں ہے۔
تیسرا سبب روزہ میں ریاکاری کا عمل دخل نہیں ہوتا جبکہ دوسری ظاہری عبادات مثلاً نماز، حج، زکوٰۃ وغیرہ میں ریاکاری کا شائبہ ہو سکتا ہے۔
چوتھا سبب کھانے پینے سے استغناء اﷲ تعالیٰ کی صفات میں سے ہے۔ روزہ دار اگرچہ اﷲ تعالیٰ کی اس صفت سے متشابہ تو نہیں ہو سکتا لیکن وہ ایک لحاظ سے اپنے اندر یہ خلق پیدا کر کے مقرب الٰہی بن جاتا ہے۔
پانچواں سبب روزہ کے ثواب کا علم اﷲ تعالیٰ کے سوا کسی کو نہیں جبکہ باقی عبادات کے ثواب کو رب تعالیٰ نے مخلوق پر ظاہر کر دیا ہے۔
چھٹا سبب روزہ ایسی عبادت ہے جسے اﷲ کے سوا کوئی نہیں جان سکتا حتی کہ فرشتے بھی معلوم نہیں کر سکتے۔
ساتواں سبب روزہ کی اضافت اﷲ ل کی طرف شرف اور عظمت کے لئے ہے جیسا کہ بیت اﷲ کی اضافت محض تعظیم و شرف کے باعث ہے ورنہ سارے گھر اﷲ کے ہیں۔
آٹھواں سبب روزہ دار اپنے اندر ملائکہ کی صفات پیدا کرنے کی کوشش کرتا ہے اس لئے وہ اﷲ کو محبوب ہے۔ 
نواں سبب جزائِ صبر کی کوئی حد نہیں ہے اس لئے رمضان کے روزوں کی جزاء کو بے حد قرار دیتے ہوئے اﷲ تعالیٰ نے اس کو اپنی طرف منسوب کیا کہ اس کی جزاء میں ہوں۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: