17رمضان المبارک 2ھ مطابق مارچ 624 ؁:غَزوَۂ بَدَر : حصٗہ سوم و آخر

۔۔۔۔۔گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔
آخر کار مسلمانوں کی صداقتِ ایمانی خدا کی طرف سے نصرت کا انعام حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئی اور قریش اپنے سارے غرور و طاقت کے باوجود ان بے سر و سامان فدائیوں کے ہاتھوں شکست کھا گئے۔مسلمان کے صرف 14آدمی (6مہاجر،اور 8قبیلہ اوس کےانصاری)شہید ہوئے اور کفّار کے 70 آدمی مارے گئے جن میں قریش کے بڑے بڑے سردار ابو جہل ، عتبہ، شیبہ ، امیہ خلف وغیرہ، جو ان کے گلہائے سرسبد اور اسلام کی مخالف تحریک کے روح رواں تھے اس معرکے میں ختم ہو گئے ان سرداروں کے مارے جانے پر کافروں کے لشکر میں بھگدڑ مچ گئی۔ مسلمانوں نے ان کے 70 آدمی قید کئے جن میں انکے کچھ لیڈر بھی تھے۔ ان لیڈروں میں سے عقبہ بن ابی معیط اور نضر بن حارث کو َبَدَر سے واپسی میں قتل کر دیا گیا اور بقیہ اسیران جنگ کو نیز جو مال غنیمت ہاتھ لگا تھا اس کو لیکر مسلمان مدینہ لوٹے۔ اہل مدینہ نے نبیﷺ کا پر تپاک خیر مقدم کیا آپ ﷺ کی بخیریت واپسی اور لشکر اسلام کی زبردست کامیابی پر مسلمانوں میں مسرت و انبساط کی لہر دوڑ گئی۔ اسیروں کو آپ نے فدیہ لیکر رہا کر نے کا حکم دیا۔ اور جو قیدی فدیہ نہیں دے سکتے تھے ان کو بغیر فدیہ کے رہا کر دیا گیا۔ ادھر کفّار لشکر َبَدَر میں شکست کھانے کے بعد بری طرح بھاگ کھڑا ہوا اور جب مَکّہ پہنچ تو اسے ذلت کی وجہ سے اپنے ہی لو گوں کو منہ دکھانا مشکل ہو گیا۔ اس فیصلہ کن فتح نے عرب میں اسلام کو ایک قابل لحاظ طاقت بنادیا۔ جیسا کہ ایک مغربی محقق نے لکھا ہے کہ:بَدَر سے پہلے اسلام محض ایک مذہب اور ریاست تھا مگر َبَدَر کے بعد وہ مذہبِ ریاست بلکہ خود ریاست بن گیا۔
یہ تھا معرکۂ َبَدَر جس نے کفّار مَکّہ کو ان کے لیڈروں سے محروم کر کے یتیم بنا دیا اور مسلمانوں کی قسمت کو اسطرح جگا یا کہ آگے جا کر وہ پوری انقلابی شان کے ساتھ دنیا پر چھا گئے اور جس طاقت نے بھی ان سے ٹکر لی، پاش پاش ہو کر رہ گئی۔
کفّار مَکّہ ہجرت سے پہلے حضور ﷺ سے کہا کرتے تھے: مَتیٰ ہٰذَا الْفَتْحُ اِنْ کُنْتُمْ صَادِقِیْنَ یعنی ہمارے تمہارے درمیان یہ فیصلہ کب ہو گا؟ سو پورا فیصلہ تو قیامت کے دن ہو گا مگر ایک طرح کا فیصلہ آج میدان َبَدَر میں بھی تم نے دیکھ لیا کہ کیسے خارق عادت طریق سے تم کو کمزور مسلمانوں کے ہاتھوں سے سزا ملی۔ اب اگر نبی ﷺکی مخالفت اور کفر و شرک سے باز آ جاؤ تو تمہارے لیے دنیا و آخرت کی بہتری ہے۔ ورنہ اگر پھر اسی طرح لڑائی کرو گے تو ہم بھی پھر اسی طرح مسلمانوں کی مدد کریں گے اور انجام کار تم ذلیل و خوار ہو گے۔ جب خدا کی تائید مسلمانوں کے ساتھ ہے تو تمہارے جتھے اور جماعتیں خواہ کتنی ہی تعداد میں ہوں کچھ کام نہ آئیں گے۔
بعض روایات میں ہے کہ ابوجہل وغیرہ نے مَکّہ سے روانگی کے وقت کعبہ کے پردے پکڑ کر دعاء کی تھی کہ خداوندا! دونوں فریق میں جو اعلیٰ و اکرام ہو اسے فتح دے اور فساد مچانے والے کو مغلوب کر فقد جاءَ کم الفتح میں اس کا بھی جواب ہو گیا کہ جو واقعی اعلیٰ و افضل تھے، ان کو فتح مل گئی اور مفسد ذلیل و رسوا ہوئے۔
ابوجہل لشکر لے کر بڑی دھوم دھام اور با جے گاجے کے ساتھ نکلا تھا تاکہ مسلمان مرعوب ہو جائیں اور دوسرے قبائل عرب پر مشرکین کی دھاک بیٹھ جائے۔ راستہ میں اس کو ابوسفیان کا پیام پہنچا کہ قافلہ سخت خطرہ سے بچ نکلا ہے۔ اب تم مَکّہ کو لوٹ جاؤ۔ ابوجہل نے نہایت غرور سے کہا کہ ہم اس وقت واپس جا سکتے ہیں جبکہ َبَدَر کے چشمہ پر پہنچ کر مجلس طرب و نشاط منعقد کر لیں ۔ گانے والی عورتیں خوشی اور کامیابی کے گیت گائیں ، شرابیں پئیں ، مزے اڑائیں اور تین روز تک اونٹ ذبح کر کے قبائل عرب کی ضیافت کا انتظام کریں ، تاکہ یہ دن عرب میں ہمیشہ کے لیے ہماری یادگار رہے۔ اور آئندہ کے لیے ان مٹھی بھر مسلمانوں کے حوصلے پست ہو جائیں کہ پھر کبھی ہمارے مقابلہ کی جرأت نہ کریں ۔ اسے کیا خبر تھی کہ جو منصوبے باندھ رہے ہیں اور تجویزیں سوچ رہے ہیں وہ سب خدا کے قابو میں ہیں چلنے دے یا نہ چلنے دے۔ بلکہ چاہے تو انہی پر الٹ دے۔ چنانچہ یہ ہی ہوا۔ َبَدَر کے پانی اور جام شراب کی جگہ انہیں موت کا پیالہ پینا پڑا۔ محفل سرود و نشاط تو منعقد نہ کر سکے ہاں نوحہ و ماتم کی صفیں بَدَر سے مَکّہ تک بچھ گئیں جو مال تفاخر و نمائش میں خرچ کرنا چاہتے تھے وہ مسلمانوں کے لیے لقمہ غنیمت بنا۔ ایمان و توحید کے دائمی غلبہ کا بنیادی پتھر َبَدَر کے میدان میں نصب ہو گیا۔ گویا ایک طرح اس چھوٹے سے قطعہ زمین میں خدا تعالیٰ نے روئے زمین کو ملل و اقوام کی قسمتوں کا فیصلہ فرما دیا۔ بہرحال اس آیت میں مسلمانوں کو آگاہ فرمایا کہ جہاد محض ہنگامہ کشت و خون کا نام نہیں ، بلکہ عظیم الشان عبادت ہے۔ عبادت اتراوے یا دکھانے کو کرے تو قبول نہیں ۔ لہٰذا تم فخر و غرور اور نمود و نمائش میں کفّار کی چال مت چلو۔
قریش اپنی قوت و جمعیت پر مغرور تھے لیکن بنی کنانہ سے ان کی چھیڑ چھاڑ رہتی تھی۔ خطرہ یہ ہوا کہ کہیں بنی کنانہ کامیابی کے راستے میں آڑے نہ آ جائیں ۔ فوراً شیطان ان کی پیٹھ ٹھونکنے اور ہمت بڑھانے کے لیے کنانہ کے سردار اعظم سراقہ بن مالک کی صورت میں اپنی ذریت کی فوج لے کر نمودار ہوا اور ابوجہل وغیرہ کو اطمینان دلایا کہ ہم سب تمہاری امداد و حمایت پر ہیں ۔ کنانہ کی طرف سے بے فکر رہو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں ۔ جب َبَدَر میں زور کارَن پڑا اور شیطان کو جبرائیل وغیرہ فرشتے نظر آئے تو ابوجہل کے ہاتھ میں سے ہاتھ چھڑا کر الٹے پاؤں بھاگا۔ ابوجہل نے کہا، سراقہ! عین وقت پر دغا دے کر کہاں جاتے ہو، کہنے لگا میں تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتا۔ مجھے وہ چیزیں دکھائی دے رہی ہیں ۔ جو تم کو نظر نہیں آتیں (یعنی فرشتے) خدا کے (یعنی اس خدائی فوج کے) ڈر سے میرا دل بیٹھا جاتا ہے۔ اب ٹھہرنے کی ہمت نہیں ۔ کہیں سخت عذابِ آفت میں نہ پکڑا جاؤں ۔ قتادہ کہتے ہیں کہ ملعون نے جھوٹ بولا، اس کے دل میں خدا کا ڈر نہ تھا۔ ہاں وہ جانتا تھا کہ اب قریش کا لشکر ہلاکت میں گھر چکا ہے کوئی قوت بچا نہیں سکتی۔ یہ اس کی قدیم عادت ہے کہ اپنے متبعین کو دھوکہ دے کر اور ہلاکت میں پھنسا کر عین وقت پر کھسک جایا کرتا ہے۔ اسی کے موافق یہاں بھی کہا يَعِدُهُمْ وَيُمَنِّيهِمْ وَمَا يَعِدُهُمُ الشَّيْطَانُ إِلاَّ غُرُورًا شیطان انہیں (غلط) وعدے دیتا ہے اور انہیں (جھوٹی) اُمیدیں دلاتا ہے اور شیطان فریب کے سوا ان سے کوئی وعدہ نہیں کرتا (نساء آیت 120)كَمَثَلِ الشَّيْطَانِ إِذْ قَالَ لِلْإِنسَانِ اكْفُرْ فَلَمَّا كَفَرَ قَالَ إِنِّي بَرِيءٌ مِّنكَ إِنِّي أَخَافُ اللَّهَ رَبَّ الْعَالَمِينَ (منافقوں کی مثال) شیطان جیسی ہے جب وہ انسان سے کہتا ہے کہ تُو کافر ہو جا، پھر جب وہ کافر ہوجاتا ہے تو (شیطان) کہتا ہے: میں تجھ سے بیزار ہوں ، بیشک میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو تمام جہانوں کا رب ہے(الحشر، آیت 16)وَقَالَ الشَّيْطَانُ لَمَّا قُضِيَ الْأَمْرُ إِنَّ اللّهَ وَعَدَكُمْ وَعْدَ الْحَقِّ وَوَعَدتُّكُمْ فَأَخْلَفْتُكُمْ وَمَا كَانَ لِيَ عَلَيْكُم مِّن سُلْطَانٍ إِلاَّ أَن دَعَوْتُكُمْ فَاسْتَجَبْتُمْ لِي فَلاَ تَلُومُونِي وَلُومُواْ أَنفُسَكُم مَّا أَنَاْ بِمُصْرِخِكُمْ وَمَا أَنتُمْ بِمُصْرِخِيَّ إِنِّي كَفَرْتُ بِمَآ أَشْرَكْتُمُونِ مِن قَبْلُ إِنَّ الظَّالِمِينَ لَهُمْ عَذَابٌ أَلِيمٌ اور شیطان کہے گا جبکہ فیصلہ ہو چکے گا کہ بیشک اللہ نے تم سے سچا وعدہ کیا تھا اور میں نے (بھی) تم سے وعدہ کیا تھا، سو میں نے تم سے وعدہ خلافی کی ہے، اور مجھے (دنیا میں ) تم پر کسی قسم کا زور نہیں تھا سوائے اس کے کہ میں نے تمہیں (باطل کی طرف) بلایا سو تم نے (اپنے مفاد کی خاطر) میری دعوت قبول کی، اب تم مجھے ملامت نہ کرو بلکہ (خود) اپنے آپ کو ملامت کرو۔ نہ میں (آج) تمہاری فریاد رسی کرسکتا ہوں اور نہ تم میری فریاد رسی کر سکتے ہو۔ اس سے پہلے جو تم مجھے (اللہ کا) شریک ٹھہراتے رہے ہو بیشک میں (آج) اس سے انکار کرتا ہوں ۔ یقیناً ظالموں کے لئے دردناک عذاب ہے (ابراہیم، آیت 22)
مسلمانوں کی تھوڑی جمعیت اور بے سروسامانی اور اس پر ایسی دلیری و شجاعت کو دیکھتے ہوئے منافقین اور ضعیف القلب کلمہ گو کہنے لگے تھے کہ یہ مسلمان اپنے دین اور حقانیت کے خیال پر مغرور ہیں جو اس طرح اپنے آپ کو موت کے منہ میں ڈال دیتے ہیں حق تعالیٰ نے اس کا جواب دیا کہ یہ غرور نہیں ، توکل ہے۔ جس کو خدا کی زبردست قدرت پر اعتماد ہو اور یقین رکھے کہ جو کچھ اُدھر سے ہو گا عین حکمت و صواب ہو گا، وہ حق کے معاملہ میں ایسا ہی بے جگر اور دلیر ہو جاتا ہے۔
َبَدَر کی لڑائی سے جو 70کافر مسلمانوں کے ہاتھ میں قید ہو کر آئے حق تعالیٰ نے ان کے متعلق دو صورتیں مسلمانوں کے سامنے پیش کیں ۔ قتل کر دینا، یا فدیہ لے کر چھوڑ دینا اس شرط پر کہ آئندہ سال اسی تعداد میں تمہارے آدمی قتل کیے جائیں گے۔ حقیقت میں خدا کی طرف سے ان دو صورتوں کا انتخاب کے لیے پیش کرنا، امتحان و آزمائش کے طریقہ پر تھا کہ ظاہر ہو جائے کہ مسلمان اپنی رائے اور طبیعت سے کس طرف جھکتے ہیں ۔ آپ ﷺنے صحابہ سے اس معاملہ میں رائے طلب کی۔ ابوبکر صدیق ؓ نے فرمایا کہ یا رسول اللہ ﷺیہ سب قیدی اپنے خویش و اقارب اور بھائی بند ہیں ۔ بہتر ہے کہ فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے اس نرم سلوک اور احسان کے بعد ممکن ہے کچھ لوگ مسلمان ہو کر وہ خود اور ان کی اولاد و اتباع ہمارے دست و بازو بنیں اور جو مال بالفعل ہاتھ آئے اس سے جہاد وغیرہ دینی کاموں میں سہارا لگے۔ باقی آئندہ سال ہمارے 70 آدمی شہید ہو جائیں تو مضائقہ نہیں درجہ شہادت ملے گا۔ نبی کریم ﷺ کا میلان بھی فطری رحم دلی اور شفقت و صلہ رحمی کی بنا پر اسی رائے کی طرف تھا۔ بلکہ صحابہ کی عام رائے اسی جانب تھی۔ بہت سے تو ان ہی وجوہ کی بنا پر جو ابوبکر ؓ نے بیان فرمائیں اور بعض محض مالی فائدہ کو دیکھتے ہوئے اس رائے سے متفق تھے۔روایتوں میں ہے کہ حضرت عمر ؓ اور سعد بن معاذ ؓ نے اس سے اختلاف کیا۔ حضرت عمر ؓ نے فرمایا کہ یا رسول اللہﷺ! یہ قیدی کفر کے امام اور مشرکین کے سردار ہیں ان کو ختم کر دیا جائے تو کفر و شرک کا سر ٹوٹ جائے گا، تمام مشرکین پر ہیبت طاری ہو جائے گی، آئندہ مسلمانوں کو ستانے اور خدا کے راستہ سے روکنے کا حوصلہ نہ رہے گا۔ اور خدا کے آگے مشرکین سے ہماری انتہائی نفرت و بغض اور کامل بیزاری کا اظہار ہو جائے گا کہ ہم نے خدا کے معاملہ میں اپنی قرابتوں اور مالی فوائد کی کچھ پروا نہیں کی اس لیے مناسب ہے کہ ان قیدیوں میں جو کوئی ہم میں سے کسی کا عزیز و قریب ہو، وہ اسے اپنے ہاتھ سے قتل کرے۔ الغرض بحث و تمحیص کے بعد حضرت ابوبکر ؓ کے مشورہ پر عمل ہوا، کیونکہ کثرت رائے ادھر تھی اور خود نبی کریم ﷺ طبعی رافت و رحمت کی بناء پر اسی طرف مائل تھے اور ویسے بھی اخلاقی اور کلی حیثیت سے عام حالات میں وہ ہی رائے قرین صواب معلوم ہوتی ہے ۔
بعض قیدیوں نے اپنے اسلام کا اظہار کیا تھا (مثلاً حضرت عباس ؓ وغیرہ) ان سے کہا گیا کہ اللہ دیکھے گا کہ واقعی تمہارے دل میں ایمان و تصدیق موجود ہے تو جو کچھ زر فدیہ اس وقت تم سے وصول کیا گیا ہے اس سے کہیں زیادہ اور کہیں بہتر تم کو مرحمت فرمائے گا، اور پچھلی خطاؤں سے درگزر کرے گا۔ اور اگر اظہار اسلام سے صرف پیغمبر کو فریب دینا مقصود ہے یا دغا بازی کرنے کا ارادہ ہے تو پیشتر خدا سے جو دغا بازی کر چکے ہیں ، یعنی فطری عہدالست کے خلاف کفر و شرک اختیار کیا یا بعض بنی ہاشم جو ابوطالب کی زندگی میں عہد کر کے آنحضرت ﷺ کی حمایت پر متفق ہوئے تھے۔ اب کافروں کے ساتھ ہو کر آئے اس کا انجام آنکھوں سے دیکھ لیا کہ آج کس طرح مسلمانوں کی قید اور قابو میں ہیں ۔ آئندہ بھی دغا بازی کی ایسی ہی سزا مل سکتی ہے۔ خدا تعالیٰ سے اپنے دلوں اور نیتوں کو چھپا نہیں سکتے اور نہ اس کے حکیمانہ انتظامات کو روک سکتے ہیں ۔
رسول اکرم ﷺ نے ان میں سے چند کو فدیہ وصول کرکے رہاکردیا۔بعض دوسروں ،جو پڑھنا لکھناجانتے تھے ،کی رہائی کےلیے یہ شرط عائد کردی کہ وہ ناخواندہ مسلمانوں کوپڑھنا لکھنا سکھادیں ۔
قیدیوں سے اس قسم کاسلوک مسلمانوں کے حق میں بہت مفید ثابت ہوا۔ سزائے موت کے منتظر ان لوگوں نے اس موقعہ کو غنیمت جانا اورفدیہ اداکردیا ۔ دوسرے یہ کہ مدینہ میں شرح خواندگی انتہائی پست تھی اوراشاعت اسلام کے لیے ان کا تعلیم یافتہ ہونا از حد ضروری تھا،تاکہ مشرکین کے مقابلے میں وہ اپنی تہذیبی برتری قائم کرسکیں ۔تیسری بات یہ کہ جو قیدی مسلمانوں کو لکھنا پڑھنا سکھا رہے تھے ، انھیں اسلام کوزیادہ بہتر طور پرسمجھنے اورمسلمانوں سے قریبی روابط کا موقع مل گیااور اپنے خاندان کےساتھ وہ بھی اسلام کی طرف راغب ہونے لگے ۔چوتھا فائدہ یہ ہوا کہ وہ خاندان یااعزہ ،جوان قیدیوں کی زندگی مایوس ہوگئے تھے ، جب انھیں زندہ سلامت پایا توان کی اسلام دشمنی میں کمی واقع ہوگئی اوربعضوں کے دل اس غبار سے بالکل پاک ہوگئے ۔
غَزوَۂ بَدَر میں اللہ اہل ایمان کو رہتی دنیا تک کے لئے ایک سبق دیدیا کہ اگر دلوں میں کامل ایمان ہو،دین پر مرمٹنے کا جذبہ ہو،اوراللہ پرتوکل ہوتوباطل کی بڑی سے بڑی طاقت کا مقابلہ کیا جاسکتا ہے۔ عددی اکثریت اور مادی وسائل کی کمی کے باوجود اہل ایمان ہی کامیاب ہونگے ۔اس ضمن میں کئی مثالیں پیش کی جاسکتی ہیں ۔9ھجری میں ہونے والا غَزوَۂ تبوک اس کی واضح مثال ہے جب رومیوں کے ایک لاکھ کے لشکر کے مقابلے پر تیس ہزار مسلمان تھے ،دیکھا جائے تو یہاں بھی غَزوَۂ بَدَر کی طرح ایک اور سات کی نسبت تھی لیکن جب مسلمانوں نے اللہ پر توکل کیا،جذبہ جہاد سے سرشار ہوکر اپنی دنیاوی مال ومتاع اور کھیتی و فصلوں کو اللہ کی راہ میں چھوڑ دیا اور دین پر جان لٹانے کا عزم کیا تو اللہ کی رحمت جوش میں آئی اور وقت کی سپر پاور روم کو مقابلے پر آنے کی ہمت ہی نہ ہوئی۔مسلمانوں کا لشکر مدینہ سے نکل کر تبوک کے میدان میں خیمہ زن ہوگیا اور دشمن کا انتظار کرتا رہا لیکن اللہ نے سپر پاور کے دل میں مسلمانوں کا ایسا خوف بٹھا دیا کہ لشکر کو مقابلے پر آنے کی ہمت ہی نہیں ہوئی۔البتہ یہاں نام نہاد مسلمانوں درحقیقت منافقین کا کردار بھی کھل کر سامنے آگیا۔منافقین نے نہ صرف یہ کہ خود اس جہاد میں حصہ نہیں لیا بلکہ دیگر مسلمانوں کا حوصلہ بھی توڑنے کی کوشش کی ۔ان کو ڈرایا کہ روم جیسی طاقت سے ٹکرلینا کسی کے بس کی بات نہیں اس لئے جہاد پر جانے کے بجائے اپنے گھروالوں کی فکر کی جائے۔ کچھ کا خیال تھا کہ یہ وقت ایسا ہے کہ کھجوریں پک گئیں ہیں اور اگر ان کو چھوڑ دیا گیا تو نقصان ہوگا اور ہماری معیشت تباہ ہوجائے گی،ہم بھوکے مرجائیں گے۔وغیرہ وغیرہ لیکن اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح یاب کیا اور منافقین کی ساری باتوں کو جھوٹا ثابت کیا۔لیکن دوستو کیا آج بھی یہی صورتحال نہیں ہے۔
ابھی ماضی قریب میں بھی وقت کی ایک سپر پاور روس نے طاقت کے نشے میں افغانستان میں لشکر کشی کردی۔ اس وقت بھی اللہ پر توکل کرنے والے میدان عمل میں نکل آئے قرآن کی اس آیت کی تفسیر بن کر کہ نکلو اللہ کی راہ میں خواہ ہلکے ہو یا بوجھل اس لئے سچے اہل ایمان دستیاب وسائل کے ساتھ مقابلے پرکھڑے ہوگئے۔ اس وقت بھی نام نہاد مسلمانوں درحقیقت منافقین نے نہ صرف یہ کہ خود جہاد میں حصہ نہیں لیا بلکہ دیگر لوگوں کا حوصلہ توڑنے کی بھی کوشش کی۔کہا گیا کہ کہاں سپر پاور روس اورکہاں یہ خستہ حال افغان، ان کا اور روس کا توکوئی جوڑ ہی نہیں ہے۔ شکست ان کا مقدر ہے اس لئے بہتر یہی ہے کہ مقابلے کے بجائے روس سے شکست مان لی جائے۔ کچھ کا کہنا تھا کہ سفید ریچھ (روس) جس ملک میں داخل ہوا وہاں سے کبھی نہیں نکلا بلاوجہ اپنی جان کو جوکھوں میں نہ ڈالو۔ لیکن میرے رب نے ایک بار پھر اقلیت کو اکثریت پر فتح دی۔ ایک بار بھر اہل کفّار کو شکست اور اہل ایمان کو فتح نصیب ہوئی۔ کھسیانی بلی کھمبا نوچے کے مصداق ان عقلیت پرستوں ،روشن خیالوں نے روس کی اس شکست کا ایک جواز تراش کر مجاہدین کے کارنامے کو دھندلانے کی کوشش کی۔کہاگیاکہ آئی ایس آئی نے مجاہدین کو سپورٹ کیا اور امریکہ نے مجاہدین کا ساتھ دیا اس لئے روس کو شکست ہوئی وگرنہ مجاہدین کوکبھی کامیابی نہیں ملتی۔
اس کے محض گیارہ بارہ سال بعد ہی اللہ نے ایک بار پھر سچے اہل ایمان کی مدد کی ۔ ایک بار پھر افغانستان میدان جنگ بنا۔اوراس بارسپر پاورامریکہ اپنے 22 اتحادیوں سمیت مجاہدین کے مقابلے پرتھا۔ اس بارآئی ایس آئی یا پاکستانی فوج بھی مجاہدین کی پشت پر نہ تھی۔اپنی خستہ حالی اوربے سروسامانی کے باوجود اہل ایمان مقابلے پر ڈٹ گئے ۔اس بار بھی روشن خیالوں ۔عقل پرستوں کا گروہ مجاہدین کو دیوانہ کہہ رہا تھا۔ اس بار بھی روشن خیال مفکرین دنیا کو یہ باور کرا رہے تھے کہ اگر امریکہ سے ٹکر لی تو وہ ہمیں پتھر کے دور میں بھیج دے گا امریکہ سپر پاور ہے،ایٹمی طاقت ہے،اس کے ساتھ اتحادی ہیں ہم اس سے ٹکر نہیں لے سکتے اس لئے بہتر یہی ہے کہ امریکہ سے جنگ کرنے کے بجائے شکست تسلیم کرلی جائے اور امریکہ کے آگے جھک جائیں لیکن میرے رب کا وعدہ سچا ہے۔ جو کیفیت غَزوَۂ بَدَر وتبوک میں تھی وہی کیفیت یہاں بھی تھی اور پھر دنیا نے دیکھا کہ وہی امریکہ جس نے افغانستان میں فوج کشی کے وقت صلیبی جنگ کا نعرہ بلند کیا اور مجاہدین کے ساتھ غیر انسانی سلوک کیا،جب غیر انسانی سلوک پر احتجاج کیا گیا تو امریکہ نے رعونت سے کہا تھا کہ ہ انسان ہی نہیں ہیں بلکہ وحشی درندے ہیں ان پر انسانی قوانین لاگو نہیں ہوتے وہی امریکہ آج مجاہدین سے مذاکرات کررہا ہے۔ آج اس کے اتحادی بددل ہیں ۔فوج شکست خوردہ ہے،امریکہ مجاہدین سے باعزت واپسی کا راستہ مانگ رہا۔وہ لوگ جنہیں انسان ہی نہیں سمجھا گیا تھا آج ان کو حکومت میں شامل کرنے کی باتیں کی جارہی ہیں ۔
ایسا کیوں ہوا؟ پہلے روس اور اب امریکہ کو شکست کیوں ہورہی ہے؟ وجہ صرف اور صرف یہ تھی کہ مجاہدین نے دنیا کے دھوکے میں آنے کے بجائے اللہ پر توکل کیا،جذبہ جہاد کو زندہ کیا اور دین پر مرمٹنے کا عزم کیا تو اللہ نے فتح ان کی جھولی میں ڈال دی۔دراصل غَزوَۂ بَدَر میں ہمارے لئے یہی سبق ہے کہ مادی وسائل اور دشمن کی عددی برتری کے باوجود اگر مسلمان اللہ پر توکل کریں تو فتح ان کی ہی ہوگی۔

ماخذات

تفسیر مدنی
تفسیر عثمانی
 تفہیم القرآن
السیرۃ النبویۃ لابن ہشام
الطبری
تاریخ ابن خلدون
اور
تاریخ ابن کثیر
2 comments
  1. بهـت خوب تحرير ـ
    الله كريىــ زورِ قلم اور زياده
    جزاك الله

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: