17رمضان المبارک 2ھ مطابق مارچ 624 ؁:غَزوَۂ بَدَر : حصٗہ دوم

۔۔۔۔۔گزشتہ سے پیوستہ۔۔۔۔۔

حالات و اقعات  جنگ ِبدر

حضور نبی اکرم ﷺ کو اطلاع موصول ہوئی کہ ابو سفیان بن حرب ایک بہت بڑا قافلہ لے کر ملک شام کی طرف جا رہا ہے۔ آپ ﷺ دو سو مجاہدین لے کر دشمن کی اقتصادی ناکہ بندی کیلئے نکلے لیکن قافلہ جا چکا تھا۔حضرت طلحہ بن عبیداللہ ؓ اور حضرت سعید بن زید ؓ کو شمال کی جانب روانہ کیا گیا تاکہ وہ قافلے کی واپسی پر نظر رکھیں ۔ یہ اصحاب رسول مقام ’’الحورا،، میں ٹھہر گئے جب ابو سفیان ایک ہزار اونٹوں کے قافلے کے ساتھ واپس آیا تو اس کی نگرانی پر مامور صحابہ ؓ نے اس کی اطلاع فوراً مدینہ منورہ میں دی۔
اب نبی ﷺنے ، محسوس فرمایا کہ فیصلے کی گھڑی آ پہنچی ہے اور یہ ٹھیک وہ وقت ہے جبکہ ایک جسورانہ اقدام اگر نہ کر ڈالا گیا تو تحریک اسلامی ہمیشہ کے لیے بے جان ہو جائے گی، بلکہ بعید نہیں کہ اس تحریک کے لیے سر اٹھانے کا پھر کوئی موقع ہی باقی نہ رہے۔ نئے دار الہجرت میں آئے ابھی پورے دو سال بھی نہیں ہوئے ہیں ۔ مہاجرین بے سر و سامان، انصار ابھی ناآزمودہ، یہودی قبائل برسر مخالفت، خود مدینہ میں منافقین و مشرکین کا ایک اچھا خاصا طاقتور عنصر موجود اور گرد و پیش کے تمام قبائل قریش سے مرعوب بھی اور مذہباً ان کے ہمدرد بھی۔ ایسے حالات میں اگر قریش مدینہ پر حملہ آور ہو جائیں تو ہو سکتا ہے کہ مسلمانوں کی مٹھی بھر جماعت کا خاتمہ ہو جائے لیکن اگر وہ حملہ نہ کریں اور صرف اپنے زور سے قافلے کو بچا کر ہی نکال لے جائیں اور مسلمان دبکے بیٹھے رہیں تب بھی یک لخت مسلمانوں کی ایسی ہوا اکھڑے گی کہ عرب کا بچہ بچہ ان پر دلیر ہو جائے گا اور ان کے لیے ملک بھر میں پھر کوئی جائے پناہ باقی نہ رہے گی۔ آس پاس کے سارے قبائل قریش کے اشاروں پر کام کرنا شروع کر دیں گے۔ مدینہ کے یہودی اور منافقین و مشرکین علی الاعلان سر اٹھائیں گے اور دارالہجرت میں جینا مشکل کر دیں گے۔ مسلمانوں کا کوئی رعب و اثر نہ ہو گا کہ اس کی وجہ سے کسی کو ان کی جان و مال اور آبرو پر ہاتھ ڈالنے میں تامل ہو۔ اس بنا پر نبی ﷺنے عزم فرما لیا کہ جو طاقت بھی اس وقت میسر ہے اسے لے کر نکلیں اور میدان میں فیصلہ کریں کہ جینے کا بل بوتا کس میں ہے اور کس میں نہیں ۔
اس فیصلہ کن اقدام کا ارادہ کر کے آپ نے انصار و مہاجرین کو جمع کیا ۔ پھر ان کے سامنے ساری پوزیشن صاف صاف رکھ دی کہ ایک طرف شمال میں تجارتی قافلہ ہے اور دوسری طرف جنوب سے قریش کا لشکر چلا آ رہا ہے ، اللہ کا وعدہ ہے کہ ان دونوں میں سے کوئی ایک تمہیں مل جائے گا، بتاؤ تم کس کے مقابلے پر چلنا چاہتے ہو؟ جواب میں ایک بڑے گروہ کی طرف سے اس خواہش کا اظہار ہوا کہ قافلے پر حملہ کیا جائے۔ لیکن نبی ﷺکے پیش نظر کچھ اور تھا اس لیے آپ نے اپنا سوال دہرایا۔ اس پر مہاجرین میں سے مقداد بن عمرو نے اٹھ کر کہا:یا رسول اللہﷺ! جدھر آپ کا رب آپ کو حکم دے رہا ہے اس طرف چلیے۔ ہم آپ کے ساتھ ہیں جس طرف بھی آپ جائیں ۔ ہم بنی اسرائیل کی طرف یہ کہنے والے نہیں ہیں کہ جاؤ تم اور تمہارا خدا دونوں لڑیں ہم تو یہاں بیٹھے ہیں ، نہیں ہم کہتے ہیں کہ چلیے آپ اور آپ کا خدا، دونوں لڑیں اور ہم آپ کے ساتھ جانیں لڑائیں گے جب تک ہم میں سے ایک آنکھ بھی گردش کر رہی ہے
مگر لڑائی کا فیصلہ انصار کی رائے معلوم کیے بغیر نہیں کیا جا سکتا تھا کیونکہ ابھی تک فوجی اقدامات میں ان سے کوئی مدد نہیں لی گئی تھی اور ان کے لیے آزمائش کا پہلا موقع تھا کہ اسلام کی حمایت کا جو عہد انہوں نے اول روز کیا ا تھا اسے وہ کہاں تک نباہنے کے لیے تیار ہیں ۔ اس لیے حضور ﷺنے براہ راست ان کو مخاطب کیے بغیر پھر اپنا سوال دہرایا۔

Right Arrow Shows (Al Odoat Al Dunea) and on versant of it Muslims Camp, Middle Arrow Shows the way which ABO SOFEAN Convoy pass all the way through and Left Arrow Shows Malaeka mountain (where JEBREAL and MEKAEAL sent By ALLAH with 1000 Of Malaeka to help Muslims Army against Unbelievers.)

اس پر سعد بن معاذ اٹھے اور انہوں نے عرض کیا شاید حضور کا روئے سخن ہماری طرف ہے ؟ فرمایا ہاں ۔ انہوں نے کہا:ہم آپ پر ایمان لائے ہیں ، آپ کی تصدیق کر چکے ہیں کہ آپ جو کچھ لائے ہیں وہ حق ہے اور آپ سے سمع و طاعت کا پختہ عہد باندھ چکے ہیں ۔ پس اے اللہ کے رسولﷺ! جو کچھ آپ نے ارادہ فرما لیا ہے اسے کر گزریئے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے ، اگر آپ ہمیں لے کر سامنے سمندر پر جا پہنچیں اور اس میں اتر جائیں تو ہم آپ کے ساتھ کودیں گے اور ہم میں سے ایک بھی پیچھے نہ رہے گا۔ ہم کو یہ ہرگز ناگوار نہیں ہے کہ آپ کل ہمیں لے کر دشمن سے جا بھڑیں ، ہم جنگ میں ثابت قدم رہیں گے ، مقابلے میں سچی جاں نثاری دکھائیں گے اور بعید نہیں کہ اللہ آپ کو ہم سے وہ کچھ دکھوا دے جسے دیکھ کر آپ کی آنکھیں ٹھنڈی ہو جائیں ، پس اللہ کی برکت کے بھروسے پر آپ ہمیں لے چلیں ۔
ایک دوسری روایت کے مطابق حضور ﷺ صرف تجارتی مہم کے ارادے سے نکلے تھے۔ اتفاقاً خدا نے باقاعدہ جنگ کی صورت پیدا فرما دی۔ ابو سفیان کو آپ کے ارادے کا پتہ چل گیا۔ اس نے فوراً مَکّہ آدمی بھیجا۔ وہاں سے تقریباً ایک ہزار کا لشکر جس میں قریش کے بڑے بڑے سردار تھے، پورے سازوسامان کے ساتھ مدینہ کی طرف روانہ ہو گیا۔ حضور مقام صفراء میں تھے جب معلوم ہوا کہ ابوجہل وغیرہ بڑے بڑے أئمۃ الکفر کی سرپرستی میں مشرکین کا لشکر یلغار کرتا چلا آ رہا ہے اس غیر متوقع صورت کے پیش آ جانے پر آپ ﷺ نے صحابہ کو اطلاع کی کہ اس وقت 2 جماعتیں تمہارے سامنے ہیں ۔ تجارتی قافلہ اور فوجی لشکر، خدا کا وعدہ ہے کہ دونوں میں سے کسی ایک پر تم کو مسلط کرے گا۔ تم بتلاؤ کہ کس جماعت کی طرف بڑھنا چاہتے ہو؟ چونکہ اس لشکر کے مقابلہ میں تیاری کر کے نہ آئے تھے اس لیے اپنی تعداد اور سامان وغیرہ کی قلت کو دیکھتے ہوئے بعض لوگوں کی رائے یہ ہوئی کہ تجارتی قافلہ پر حملہ کرنا زیادہ مفید اور آسان ہے۔ مگر حضور ﷺ اس رائے سے خوش نہ تھے۔ حضرت ابوبکر و عمر اور مقداد بن الاسود نے ولولہ انگیز جوابات دئیے اور اخیر میں حضرت سعد بن معاذ نے تقریر کی اور انصار کی جانب سے اپنے جذبہ جان نثاری کا کچھ یوں اظہار کیا:رسول اﷲ ﷺ جس طرف اﷲ تعالیٰ نے آپ کو حکم دیا ہے، تشریف لے چلیں ہم آپ کے ساتھ ہیں بخدا، ہم آپ کو وہ جواب نہیں دیں گے جو بنی اسرائیل نے موسیٰ علیہ السلام کو دیا تھا۔ کہ آپ اور آپ کا رب جائیں اور ان سے جنگ کریں ۔ ہم تو یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم یہ کہیں گے کہ آپ اور آپ کا رب تشریف لے چلیں اور جنگ کریں اور ہم آپ کے ساتھ مل کر جنگ کریں گے اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث کیا ہے۔ اگر آپ ہمیں ’’برک الغماد‘‘ تک بھی لے چلیں تو ہم آپ کے ساتھ ہیں اور آپ کی معیت میں دشمن کے کے ساتھ جنگ کرتے جائیں گے یہاں تک کہ آپ وہاں پہنچ جائیں ۔
اور پھر رسول معظم ﷺ پر جنہوں نے اپنے جانثاران اور پیکرانِ عشق و مستی کی ایمان افروز گفتگو سماعت فرمانے کے بعد تبسم فرمایا اور بشارت دی کہ: تمہیں خوشخبری ہو کہ اﷲ تعالیٰ نے مجھے دوگروہوں میں سے ایک گروہ پر غلبہ دینے کا وعدہ فرمایا ہے۔ واﷲ میں ان لوگوں کی قتل گاہیں دیکھ رہا ہوں ۔
ان تقریروں کے بعد فیصلہ ہو گیا کہ قافلے کے بجائے لشکر قریش ہی کے مقابلے پر چلنا چاہیے لیکن یہ فیصلہ کوئی معمولی فیصلہ نہ تھا، جو لوگ اس تنگ وقت میں لڑائی کے لیے اٹھے تھے ان کی تعداد 300 سے کچھ زائد تھی (86 مہاجر، باقی قبیلہ اوس اور قبیلہ خزرج کے انصار:روایات میں 313کی تعداد ذکر ہوتی ہے) جن میں صرف 2گھوڑے تھے اور باقی آدمیوں کے لیے 170 سے زیادہ اونٹ نہ تھے جن پر تین تین چار چار اشخاص باری باری سوار ہوتے تھے۔ سامان جنگ بھی بالکل ناکافی تھا، صرف 60 آدمیوں کے پاس زرہیں تھیں ۔ اسی لیے چند سرفروش فدائیوں کے سوا اکثر آدمی جو اس خطرناک مہم میں شریک تھے دلوں میں سہم رہے تھے اور انہیں ایسا محسوس ہوتا تھا کہ جانتے بوجھتے موت کے منہ میں جا رہے ہیں ۔ مصلحت پرست لوگ، جو اگرچہ دائرۂ اسلام میں داخل ہو چکے تھے مگر ایسے ایمان کے قائل نہ تھے جس میں جان و مال کا زیاں ہو، اس مہم کو دیوانگی سے تعبیر کر رہے تھے اور ان کا خیال تھا کہ دینی جذبے نے ان لوگوں کو پاگل بنا دیا ہے۔ مگر نبی اور مومنین صادقین یہ سمجھ چکے تھے کہ یہ وقت جان کی بازی لگانے کا ہی ہے اس لیے اللہ کے بھروسے پر وہ نکل کھڑے ہوئے اور انہوں نے سیدھی جنوب مغرب کی راہ لی جدھر سے قریش کا لشکر آ رہا تھا۔ حالانکہ اگر ابتدا میں قافلے کو لوٹنا مقصود ہوتا تو شمال مغرب کی رہ لی جاتی۔اب ایک طرف تو کفّار و مشرکین اپنی بھرپور جنگی تیاری کے ساتھ جذبہ کفر و عناد میں مست اور غرور و تکبر کے نشے میں دھت تھے کہ مسلمانوں کو صفحہ ہستی سے مٹا دیں گے، تو دوسری طرف عشاقانِ مصطفی ﷺ دینِ مصطفوی کی سربلندی کے لئے جذبہ ایمانی اور عشق و ادب مصطفی ﷺ سے سرشار اپنے سے سہ گنا زیادہ فوج کے مقابلے میں میدان َبَدَر میں موجود تھے
یہ وہ بنیادی اسباب تھے جس نے مدینہ کے مسلمانوں اور مَکّہ کے مشرکین کے درمیان کشمکش تیز کر دی تھی اور پھر مشرکین مَکّہ نے مدینہ کے مسلمانوں کے خلاف جو ریشہ دوانیاں شروع کر دیں اس کے نتیجہ میں دونوں کے درمیان حالت جنگ بپا ہو گئی ۔
ان کے َبَدَر پہنچنے تک تجارتی قافلہ راستہ بدل کر َبَدَر سے آگے کی طرف نکل گیا۔ قافلہ کے بعافیت نکل جانے کے بعد کفّار کے بعض سرداروں نے چاہا کہ لشکر مَکّہ واپس چلا جائے لیکن ابو جہل نے اصرار کیا کہ َبَدَر چلیں بالا آخر لشکر َبَدَر پہنچ گیا ادھر سے مسلمانوں کا لشکر بھی َبَدَر پہنچ گیا ۔
َبَدَر کا معرکہ فی الحقیقت مسلمانوں کے لیے بہت ہی سخت آزمائش اور عظیم الشان امتحان کا موقع تھا۔ وہ تعداد میں تھوڑے تھے، بے سروسامان تھے، فوجی مقابلہ کے لیے تیار ہو کر نہ نکلے تھے، مقابلہ پر ان سے 3گنا زائد کا لشکر تھا۔ جو پورے سازو سامان سے کبرو غرور کے نشہ میں سرشار ہو کر نکلا تھا، مسلمانوں اور کافروں کی یہ پہلی ہی قابل ذکر ٹکر تھی، پھر صورت ایسی پیش آئی کہ کفّار نے پہلے سے اچھی جگہ اور پانی وغیرہ پر قبضہ کر لیا مسلمان نشیب میں تھے، ریت بہت زیادہ تھی جس میں چلتے ہوئے پاؤں دھنستے تھے، گردو غبار نے الگ پریشان کر رکھا تھا۔ پانی نہ ملنے سے ایک طرف غسل و وضوء کی تکلیف، دوسری طرف تشنگی ستا رہی تھی۔ یہ چیزیں دیکھ کر مسلمان ڈرے کہ بظاہر آثار شکست کے ہیں ۔ شیطان نے دلوں میں وسوسہ ڈالا کہ اگر واقعی تم خدا کے مقبول بندے ہوتے تو ضرور تائید ایزدی تمہاری طرف ہوتی اور ایسی پریشان کن اور یاس انگیز صورت حال پیش نہ آتی۔ میدان جنگ میں جہاں جان کے لالے پڑے ہوں ، موت سامنے رقص کر رہی ہو تو خوف کی لہر خون میں سرایت کر جاتی ہے اور بہادر سے بہادر انسان کا پتہ بھی پانی ہونے لگتا ہے اور اس کی راتوں کی نیند حرام ہو جاتی ہے ،لیکن وہ اسلامی لشکر جس نے صبح باطل کے ایوانوں میں زلزلہ بپا کرنا ہے جس نے مشرکین مَکّہ کے گھمنڈ کو خاک میں ملانا ہے اور جس نے باب حریت کا نیا عنوان رقم کرنا ہے نیند کے گہرے سمندر میں ڈوبا ہوا ہے، وہ تو مدینے کے دفاع میں پوری پوری رات پہرہ دیتے رہتے تھے، اور یہاں ایسی پرسکون نیند سو رہے تھے کہ جیسے کل کی جنگ کا کچھ علم ہی نہ ہو دراصل اللہ نے اپنے محبوب رسول ﷺ کے عظیم ساتھیوں پر پُرسکون نیند اتار دی تھی، جاگنے کی کوشش کے باوجود لشکریوں کی آنکھیں بند ہونے لگتی تھیں ،لیکن دوسری طرف دشمن اضطراب وبے چینی کی کیفیت سے دوچار تھے، جب حضرت عبداللہ بن مسعود اور حضرت عمار بن یاسر دشمن کی نقل وحرکت کی خبریں لے کر واپس آتے تو بیان کرتے کہ کفّار تو ڈرکے مارے کسی گھوڑے کو بھی ہنہنانے نہیں دیتے، حضرت زبیر فرماتے کہ میری نیند کا یہ حال تھا کہ اٹھنے کی کوشش کرتا لیکن نیند کے باعث پھر سو جاتا، حضرت سعد بن ابی وقاص کا کہنا تھا کہ وہ بھی نیند میں بے ہوش تھے اٹھنے کے لئے کروٹ بدلتے تو دوسری طرف گر جاتے۔ اس خدائی مدد کا یہ نتیجہ نکلا کہ مسلمان جب صبح نماز کے لئے اٹھے تو تازہ دم تھے چاک وچوبند اور پوری طرح بیدار، لیکن ساری رات سونے جاگنے کی کیفیت میں رہنے والا لشکر کفّار صبح ہوئی تو شام کی طرح مرجھایا ہوا تھا۔پھر صبح کے وقت جنگ سے پہلے آنے والا طوفان اورموسلادھاربارش بھی مسلمانوں کے لیے سودمندثابت ہوئی۔مسلمانوں نے ایک حوض بناکرساراپانی اس میں جمع کر لیا، غسل و وضوء کرنے اور پینے کے لیے پانی کی افراط ہو گئی، گرد وغبار سے نجات ملی،بارش کی برکت سے زمین ہموار ہوگئی اورریت سخت ہوگئی ، جس سے مسلمانوں کو قدم ٹکانے میں مددملی ۔دوسری طرف ،جہاں قریش نے پڑاؤڈالا تھاا، زمین کیچڑ میں تبدیل ہوگئی ۔ کفّار کا لشکر جس جگہ تھا وہاں کیچڑ اور پھسلن سے چلنا پھرنا دشوار ہو گیا۔ پھر وہ شب جس کی صبح کو جنگ ہوئی بے چینی اور خوف وہراس کی شب تھی ظاہر ہے ایسے موقع پر نیند اڑ جایا کرتی ہے۔ اس لئے َبَدَر کی شب کو گہری نیند کا تو سوال ہی نہیں تھا البتہ تھوڑا بہت اونگھ لینا ضروری تھا تاکہ صبح تازہ دم ہو کر لڑ سیکں ۔ اللہ تعالی نے اس موقع پر اہل ایمان پر غنودگی طاری کر دی ،آنکھ کھلی تو دلوں سے سارا خوف و ہراس جاتا رہا۔ بعض روایات میں ہے کہ حضور ﷺ اور یار غار اوررفیق سفر ابوبکر صدیقؓ رات بھر عریش میں مشغول دعا رہے۔ دعا کے آپﷺ کی چادرآپکے کندھوں سے ڈھلک ڈھلک جاتی تھی، حضرت ابوبکرؓ باربار اس چادرکو درست کرتے رہے۔ اخیر میں حضور ﷺ پر خفیف سی غنودگی طاری ہوئی، جب اس سے چونکے تو ابو بکر سے فرمایا خوش ہو جاؤ کہ جبرائیل تمہاری مدد کو آ رہے ہیں ۔ عریش سے باہر تشریف لائے تو سَیُہْزَمُ الْجَمْعُ وَیُوَلُّونَالدُّبُرَ زبان مبارک پر جاری تھا۔
میدان کے بالائی حصے میں ،جہاں سے تمام میدان جنگ پر نظر پڑتی تھی ،حضور ﷺ نے صفیں درست کرنے کا حکم دیا۔لشکر کے 3حصے کیے ؛ایک کو میدان کے مرکز میں متعین کیا، جب کہ دوسرے دونوں دستوں کو عقب میں ۔مرکزی دستے میں مہاجرین وانصارکے سرکردہ سردارشامل تھے،جو وفاداری میں سب سے بڑھ کرتھے حضور ﷺ کاعلم مصعب بن عمیر ؓ کے ہاتھ میں تھا۔ان کا تعلق مَکّے کے ایک مال دارخاندان سے تھااور انھوں نے نوجوانی میں ہی اسلام قبول کرلیاتھا۔ان کے حسن و رعنائی کی بڑی شہرت تھی۔زمانہ جاہلیت میں جب وہ باہر نکلتے توریشم وکم خواب میں ملبوس اس وجیہہ نوجوان کے دیدار کے لیے مَکّہ کی لڑکیاں گھروں کی کھڑکیوں سے جھانکا کرتی تھیں ،تاہم قبول اسلام کےبعد ان کا شمار حضور ﷺ کے جاں نثاروں میں ہونے لگا۔ان کے پاس جوکچھ تھا،وہ سب راہ خدا میں قربان کردیااوربالآخر شہادت کے مرتبے پرفائز ہوگئے ۔غَزوَۂ اُحد میں دوسری بار انھیں حضور ﷺ کاعلم بردار ہونے کا شرف حاصل ہوا۔دوران جنگ جب ان کا دایاں بازو کٹ گیا توانھوں نے جھنڈا بائیں بازوسے تھام لیا ،جب وہ بھی قلم ہوگیا تواسے سینے سے چمٹا لیا اورآخرکار عمر وبن قمیہ نےانھیں شہید کردیا۔
دوسرے دودستوں کی قیادت علی ؓ اور سعد بن معاذ ؓ کررہے تھے ۔علی ؓ کی شجاعت اوروفاداری مشہورہے ۔جس وقت حضور ﷺ نے اپنے خاندان کو اکٹھا کرکے اسلام کی طرف بلایا اورپوچھا کہ تم میں سے کون ہے ،جومیری مدد کرے ۔اس مو قع پر 9سالہ علی نے جواب دیاتھاکہ میں آپ ﷺ کی مددکروں گا۔17 پھر ہجرت کی رات علی ہی آپ ﷺ کے بستر پر آرام فرماہوئے ،تاکہ حضور ﷺ بہ حفاظت مَکّہ سے نکل سکیں ۔حضور ﷺ کے دروازے پر گھات لگا کر بیٹھنے والے سمجھے کہ رسول اکرم ﷺ سورہے ہیں ۔وہ وقت صبح کے منتظرتھے ،تاہم جب انھیں حقیقت حال کا علم ہوا،اس وقت تک حضور ﷺ مَکّہ سے باہر غارثور تک پہنچ چکے تھے۔علی نے اپنا تن من دھن سبھی کچھ راہ خدا میں وقف کردیاتھا۔
ضروری اقدام اٹھاتے ہوئے جنگی تیاریاں مکمل کرلی گئیں اورتمام وسائل کو مجتمع کرکے باصلاحیت صحابہ کو مختلف دستوں کی قیادت سونپی گئی ۔میدان کے بالائی حصے میں صف بندی کرکے حضور ﷺ نے اپناخیمہ وہاں نصب کیا،جہاں سے میدان جنگ کا پورا نقشہ آپ ﷺ کے سامنے ہواورجہاں سے آپ ﷺ کے احکامات بہ سہولت مجاہدین تک پہنچ سکیں ۔جس وقت دونوں لشکر ایک دوسرے کے مقابلے ہوئے اور نبی ﷺنے دیکھا کہ تین کافروں کے مقابلے میں ایک مسلمان ہے اور وہ بھی پوری طرح مسلح نہیں ہے تو خدا کے آگے دعا کے لیے ہاتھ پھیلا دیے اور انتہائی خضوع و تضرع کے ساتھ عرض کرنا شروع کیا:”خدایا، یہ ہیں قریش، اپنے سامان غرور کے ساتھ آئے ہیں تاکہ تیرے رسول (ﷺ)کو جھوٹا ثابت کریں ، خداوند! بس اب آ جائے تیری وہ مدد جس کا تو نے مجھ سے وعدہ کیا تھا، اے خدا اگر آج یہ مٹھی بھر جماعت ہلاک ہو گئی تو روئے زمین پر پھر تیری عبادت نہ ہو گی۔”
جنگ َبَدَر کی اہمیت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ اس معرکہ میں خود ابلیس لعین کنانہ کے سردارِ اعظم سراقہ بن مالک مدلجی کی صورت میں ممثل ہو کر ابوجہل کے پاس آیا اور مشرکین کے خوب دل بڑھائے کہ آج تم پر کوئی غالب نہیں آ سکتا، میں اور میرا سارا قبیلہ تمہارے ساتھ ہے۔ ابلیس کے جھنڈے تلے بڑا بھاری لشکر شیاطین کا تھا۔ اس کے جواب میں حق تعالیٰ نے مسلمانوں کی کمک پر شاہی فوج کے دستے جبرائیل و میکائیل کی کمانڈ میں یہ کہہ کر بھیجے کہ میں (جبرائیل ) تمہارے ساتھ ہوں ۔ اگر شیاطین آدمیوں کی صورت میں (ہم شکّل) ہو کر کفّار کے حوصلے بڑھا رہے ہیں اور ان کی طرف سے لڑنے کو تیار ہیں اور مسلمانوں کے قلوب کو وسوسے ڈال کر خوفزدہ کر رہے ہیں تو تم (فرشتے)مظلوم و ضعیف مسلمانوں کے دلوں کو مضبوط کرو۔ ادھر تم (فرشتے)ان کی ہمت بڑھاؤ گے اُدھر میں (جبرائیل )کفّار کے دلوں میں دہشت اور رعب ڈال دوں گا۔ تم (فرشتے)مسلمانوں کے ساتھ ہو کر ان ظالموں کی گردنیں مارو اور پور پور کاٹ ڈالو۔ کیونکہ آج ان سب جنی و انسی کافروں نے مل کر خدا اور رسول سے مقابلہ کی ٹھہرائی ہے۔ سو انہیں معلوم ہو جائے کہ خدا کے مخالفوں کو کیسی سخت سزا ملتی ہے۔ آخرت میں جو سزا ملے گی اصل تو وہ ہی ہے لیکن دنیا میں بھی اس کا تھوڑا سا نمونہ دیکھ لیں اور عذابِ الٰہی کا کچھ مزہ چکھ لیں ۔ روایات میں ہے کہ َبَدَر میں ملائکہ کو لوگ آنکھوں سے دیکھتے تھے اور ان کے مارے ہوئے کفّار کو آدمیوں کے قتل کئے ہوئے کفّار سے الگ شناخت کرتے تھے۔ خدا تعالیٰ نے یہ ایک نمونہ دکھا دیا کہ اگر کبھی شیاطین الجن والانس ایسے غیر معمولی طور پر حق کے مقابل جمع ہو جائیں تو وہ اہل حق اور مقبول بندوں کو ایسے غیر معمولی طریقہ سے فرشتوں کی کمک پہنچا سکتا ہے۔ باقی ویسے تو فتح و غلبہ بلکہ ہر چھوٹا بڑا کام خدا ہی کی مشیت و قدرت سے انجام پاتا ہے۔ اسے نہ فرشتوں کی احتیاج ہے نہ آدمیوں کی، اور اگر فرشتوں ہی سے کوئی کام لے تو ان کو وہ طاقت بخشی ہے کہ تنہا ایک فرشتہ بڑی بڑی بستیوں کو اٹھا کر پٹک سکتا ہے۔ یہاں تو عالم تکلیف و اسباب میں ذرا سی تنبیہ کے طور پر شیاطین کی غیر معمولی دوڑ دھوپ کا جواب دینا تھا اور بس۔ابلیس لعین مشرکین مَکّہ کی مدد میں مشغول تھا جب فرشتوں کو قطار اندر قطار اترتے دیکھا تو اس نے ایک زور دار چیخ ماری اور بھاگ کھڑا ہوا۔ جب حارث بن ہشام نے اسے بھاگتے ہوئے دیکھا تو پکڑ کر کہا کہ اے سراقہ! ہمیں جنگ میں اکیلا چھوڑ کر اب کہاں بھاگ رہے ہو، حارث نے اسے اصلی سراقہ سمجھا تھا حالانکہ یہ سراقہ کے روپ میں ابلیس لعین تھا، ابلیس نے حارث کو ایک زور دار مَکّہ رسید کیا اور سر پر پاؤں رکھ کر بھاگ نکلا، بھاگتے ہوئے وہ مردود (شیطان)کہہ رہا تھا جیسا کہ قرآن میں فرمایا گیا۔ ’’بیشک میں تم سے بیزار ہوں یقیناً میں وہ (کچھ) دیکھ رہا ہوں جو تم نہیں دیکھتے بے شک میں اللہ سے ڈرتا ہوں اور اللہ سخت عذاب دینے والا ہے۔،،(سورۂ الانفال:آیت48)
جنگ کاآغاز ہواتوقریش کے صف اول کے جنگ جو عتبہ بن ربیعہ ،اس کا بھائی شیبہ اوراس کابیٹا ولیداپنی صف سے آگےبڑھے اورمسلمانوں کومبارزت کےلیے للکارا ۔ انصار میں سے تین مجاہد آگے بڑھے ،جنھیں دیکھتے ہی عتبہ چیخا:’ہم مدینہ کے کسانوں اورچرواہوں سے نہیں لڑیں گے ۔
حضور ﷺ اس کی بات کو سمجھ گئے اورآپ ﷺ نے علی ،حمزہ اورعبیدہ کو مقابلے کا حکم دیا۔حمزہ ، عتبہ کی طرف بڑھے اوراس کا سرقلم کردیا۔علی نے دوہی ضربوں سے ولید کو جہنم رسید کردیا۔عبید ہ ،جومعمر تھے ،شیبہ کی طرف بڑھے ۔ دونوں میں سخت مقابلہ ہورہاتھا کہ شیبہ کی ایک کاری وار نے عبیدہ کا گھٹنا کاٹ کر رکھ دیا ۔اتنے میں علی اورحمزہ شیبہ پر ٹوٹ پڑے ،اس کاکام تمام کردیا اور عبیدہ کو اٹھا لائے۔
ابتدائے جنگ میں ہی مَکّی قوت کو یہ شدید صدمہ برداشت کرنا پڑا۔انصار کے دو نوعمروں صحابہ حضرت عوف بن حارثؓ  اور حضرت معوذبن حارث ؓ نے عبد اللہ بن مسعود سے مل کر ابوجہل کو واصل جہنم کردیا،جسے رسول اللہ ﷺ نے امت مسلمہ کافرعون قراردیاتھا۔غرض ابوجہل ،ولید بن مغیرہ ،عتبہ بن ربیعہ، عاص بن سعید،امیہ بن خلف اورنوفل بن خویلد سمیت قریش کےاکثرسردار مارے گئے ۔جنگ سے قبل رسول اکرمﷺ نےکفّارکی قتل گاہوں کی نشان دہی کردی تھی ۔ حضور ﷺ نے فرمایاتھا کہ عتبہ یہاں قتل کیاجائے گا، ابوجہل یہاں ،امیہ بن خلف یہاں اور اسی طرح دیگر کفّار۔
جب جنگ کی شدت ہوئی تو حضور ﷺ نے ایک مٹھی کنکریاں لشکر کفّار کی طرف پھینکیں اور تین مرتبہ شاہت الوجوہ فرمایا۔ خدا کی قدرت سے کنکریوں کے ریزے ہر کافر کی آنکھ میں پہنچے، وہ سب آنکھیں ملنے لگے اِدھر سے مسلمانوں نے فوراً دھاوا بول دیا۔ آخر بہت سے کفّار کھیت رہے، اسی کو فرماتے ہیں کہ گو بظاہر کنکریاں تم نے اپنے ہاتھ سے۔ پھینکی تھیں لیکن کسی بشر کا یہ فعل عادۃً ایسا نہیں ہو سکتا کہ مٹھی بھر کنکریاں ہر سپاہی کی آنکھ میں پڑ کر ایک مسلح لشکر کی ہزیمت کا سبب بن جائیں ، یہ صرف خدائی ہاتھ تھا جس نے مٹھی بھر سنگریزوں سے فوجوں کے منہ پھیر دئیے، تم بے سروسامان قلیل التعداد مسلمانوں میں اتنی قدرت کہاں تھی کہ محض تمہارے زورِ بازو سے کافروں کے ایسے ایسے مُنڈ مارے جاتے، یہ تو خدا ہی کی قدرت کا کرشمہ ہے کہ اس نے ایسے متکبر سرکشوں کو فنا کے گھاٹ اتارا، ہاں یہ ضرور ہے کہ بظاہر کام تمہارے ہاتھوں سے لیا گیا اور ان میں وہ فوق العادت قوت پیدا کر دی جسے تم اپنے کسب و اختیار سے حاصل نہ کر سکتے تھے، یہ اس لیے کیا گیا کہ خدا کی قدرت ظاہر ہو اور مسلمانوں پر پوری مہربانی اور خوب طرح احسان کیا جائے۔ بیشک خدا مومنین کی دعاء و فریاد کو سنتا اور ان کے افعال و احوال کو بخوبی جانتا ہے اور یہ بھی جانتا ہے کہ مقبول بندوں پر کس وقت کس عنوان سے احسان کرنا مناسب ہے۔
اس معرکۂ کارزار میں سب سے زیادہ سخت امتحان مہاجرین مَکّہ تھا کہ جن کے اپنے بھائی بند سامنے صف آرا تھے۔ کسی کا باپ، کسی کا بیٹا، کسی کا ماموں ، کسی کا بھائی اس کی اپنی تلوار کی زد میں آ رہا تھا اور اپنے ہاتھوں اپنے جگر کے ٹکڑے کاٹنے پڑ رہے تھے۔ اس کڑی آزمائش سے صرف وہی لوگ گزر سکتے تھے جنہوں نے پوری سنجیدگی کے ساتھ حق سے رشتہ جوڑا ہو اور جو باطل کے ساتھ سارے رشتے قطع کر ڈالنے پر تل گئے ہوں اور انصار کا امتحان بھی کچھ کم سخت نہ تھا۔ اب تک تو انہوں نے عرب کے طاقتور ترین قبیلے قریش اور اس کے حلیف قبائل کی دشمنی صرف اسی حد تک مول لی تھی کہ ان کے علی الرغم مسلمانوں کو اپنے ہاں پناہ دی تھی۔ لیکن اب تو وہ اسلام کی حمایت میں ان کے خلاف لڑنے بھی جا رہے تھے جس کے معنی یہ تھے کہ ایک چھوٹی سی بستی جس کی آبادی چند ہزار نفوس سے زیادہ نہیں ہے ، سارے ملک عرب سے لڑائی مول لے رہی ہے۔ یہ جسارت صرف وہی لوگ کر سکتے تھے جو کسی صداقت پر ایسا ایمان لے آئے ہوں کہ اس کی خاطر اپنے ذاتی مفاد کی انہیں ذرہ برابر پروا نہ رہی ہو۔
جاری ہے۔۔۔۔۔

ماخذات

تفسیر مدنی،تفسیر عثمانی، تفہیم القرآن ،السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ،الطبری، ، تاریخ ابن خلدون اور تاریخ ابن کثیر

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: