17رمضان المبارک 2ھ مطابق مارچ 624 ؁:غَزوَۂ بَدَر : حصہ اوّل

جنگ َبَدَر کے اسباب و پس منظر:
یہ جنگ َبَدَر کے مقام پر لڑی گئی جو مدینہ سے 148 کلو میٹر اور مَکّہ سے 303 کلو میٹر کے فاصلہ پر ہے ایک طرف مدینہ کے مسلمان تھے جن کی قیادت خود نبی ﷺ فرما رہے تھے اور دوسری طرف کفّارمَکّہ تھے جن کا قائد ابو جہل تھا۔ مسلمان تین سو سے کچھ ہی زیادہ اور بے سر و سامنی کی حالت میں تھے جب کہ کفّار کا لشکر ایک ہزار افراد پر مشتمل اور سامان سے لیس تھا۔ یہ پہلا معرکہ تھا جو کفر و اسلام کے درمیان ہو ا س لئے اس کو زبر دست تاریخی اہمیت حاصل ہے اس جنگ کے اسباب کا خلاصہ ملاحظہ فرمائیے:
غَزوَۂ بَدَر کسی فوری اور اضطراری سوچ کا نتیجہ نہیں تھا بلکہ حق وباطل کے اس معرکہ کی وجوہات حضور ﷺ کے اعلان نَبوّت سے ہجرت مدینہ تک ان گنت واقعات کے دامن میں پھیلی ہوئی ہیں ۔ حقیقت تویہ ہے کہ یہ تصادم اسی روز ناگزیر ہو گیا تھا جس دن حضور ﷺ نے کفر وشرک کی آگ میں جلتے ہوئے سماج میں اعلائے کلمۃ الحق کا پرچم بلند کیا تھا۔ جس روز حضور ﷺ نے پتھر کے بتوں کی پرستش کو ترک کرکے خدائے وحدہ لاشریک کی بارگاہ میں سربسجود ہونے کی دعوت دی تھی۔ فاران کی چوٹیوں پر آفتاب ہدایت کے طلوع ہونے کے ساتھ ہی اندھیروں نے اپنی بقا کی جنگ کے لئے صف بندی کا آغاز کر دیا تھا۔ اسلام اور پیغمبراسلام ﷺ کے خلاف سازشوں اور شرانگیزیوں کا سلسلہ آسل میں غَزوَۂ بَدَر کا دیباچہ تھا۔حضرت محمد ﷺکی دعوت ابتدائی تیرہ سال میں ، جبکہ آپ ﷺمَکّہ معظمہ میں مقیم تھے ، اس حیثیت سے اپنی پختگی اور استواری ثابت کر چکی تھی کہ ایک طرف اس کی پشت پر ایک بلند سیرت، عالی ظرف اور دانشمندانہ علمبردار موجود تھا جو اپنی شخصیت کا پورا سرمایہ اس کام میں لگا چکا تھا اور اس کے طرز عمل سے یہ حقیقت پوری طرح نمایاں ہو چکی تھی کہ وہ اس دعوت کو انتہائی کامیابی کی منزل تک پہنچانے کے لیے اٹل ارادہ رکھتا ہے اور اس مقصد کی راہ میں ہر خطرے کو انگیز کرنے اور ہر مشکل کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار ہے۔ دوسری طرف اس دعوت میں خود ایسی کشش تھی کہ وہ دلوں اور دماغوں میں سرایت کرتی چلی جا رہی تھی اور جہالت و جاہلیت اور تعصبات کے حصار اس کی راہ روکنے میں ناکام ثابت ہو رہے تھے۔ اسی وجہ سے عرب کے پرانے نظام جاہلی کی حمایت کرنے والے عناصر، جو ابتداً اس کو استخفاف کی نظر سے دیکھتے تھے ، مَکّی دور کے آخری زمانے میں اسے ایک سنجیدہ خطرہ سمجھنے لگے تھے اور اپنا پورا زور اسے کچل دینے میں صرف کر دینا چاہتے تھے۔ مَکّہ کی زندگی میں مشرکین نے جو دردناک اور ہوشربا مظالم مٹھی بھر مسلمانوں پر روا رکھے اور مظلوم مسلمانوں نے جس صبر واستقلال اور معجز نما استقامت و للہیت سے مسلسل تیرہ برس تک ان ہولناک مصائب و نوائب کا تحمل کیا، وہ دنیا کی تاریخ کا بے مثال واقعہ ہے۔ قریش اور ان کے حامیوں نے کوئی صورت ظلم و ستم کی اٹھا کر نہ رکھی۔ تاہم مسلمانوں کو حق تعالیٰ نے ان وحشی ظالموں کے مقابلہ میں ہاتھ اٹھانے کی اجازت نہ دی۔پھر جب مَکّے کے آخری تین چار سالوں سے یثرب میں آفتابِ اسلام کی شعاعیں مسلسل پہنچ رہی تھیں اور وہاں کے لوگ متعدد وجوہ سے عرب کے دوسرے قبیلوں کی بہ نسبت زیادہ آسانی کے ساتھ اس روشنی کو قبول کرتے جا رہے تھے۔ آخر کار نَبوّت کے بارہویں سال حج کے موقع پر 75 نفوس کا ایک وفد نبی ﷺسے رات کی تاریکی میں ملا اور اس نے نہ صرف یہ کہ اسلام قبول کیا بلکہ آپ کو اور آپ کے پیرووں کو اپنے شہر میں جگہ دینے پر بھی آمادگی ظاہر کی۔ اہلِ یثرب نبی ﷺکو محض ایک پناہ گزیں کی حیثیت سے نہیں بلکہ خدا کے نائب اور اپنے امام و فرمانروا کی حیثیت سے بلا رہے تھے اور اسلام کے پیرووں کو ان کا بلاوا اس لیے نہ تھا کہ وہ اکی اجنبی سرزمین میں محض مہاجر ہونے کی حیثیت سے جگہ پالیں ، بلکہ مقصد یہ تھا کہ عرب کے مختلف قبائل اور خطوں میں جو مسلمان منتشر ہیں وہ یثرب میں جمع ہو کر اور یثربی مسلمانوں کے ساتھ مل کر ایک منظم معاشرہ بنا لیں ۔ اس طرح یثرب نے دراصل اپنے آپ کو مدینۃ الاسلام کی حیثیت سے پیش کیا اور نبی ﷺنے اسے قبول کر کے عرب میں پہلا دارالاسلام بنایا۔اس پیشکش کے معنی جو کچھ تھے اس سے اہل مدینہ ناواقف نہ تھے۔ اس کے صاف معنی یہ تھے کہ ایک چھوٹا سا قصبہ اپنے آپ کو پورے ملک کی تلواروں اور معاشی و تمدنی بائیکاٹ کے مقابلے میں پیش کر رہا تھا۔ چنانچہ بیعتِ عَقَبہ کے موقع پر رات کی اُس مجلس میں اسلام کے ان اولین مدد گاروں (انصار) نے اس نتیجے کو خوب اچھی طرح جان کر نبی ﷺکے ہاتھ میں ہاتھ دیا تھا۔ عین اس وقت جبکہ بیعت ہو رہی تھی۔ یثربی وفد کے ایک نوجوان رکن اسعد بن زرارہ ؓ جو پورے وفد میں سب سے کم سن تھے ، اٹھ کر کہا: ٹھہرو اے اہل یثرب! ہم لوگ جو ان کے پاس آئے ہیں تو یہ سمجھتے ہوئے آئے ہیں کہ یہ اللہ کے رسول ہیں اور آج انہیں یہاں سے نکال کر لے جانا تمام عرب سے دشمنی مول لینا ہے۔ اس کے نتیجے میں تمہارے نونہال قتل ہوں گے اور تلواریں تم پر برسیں گی۔ لہٰذا اگر تم اس کو برداشت کرنے کی طاقت اپنے اندر پاتے ہو تو ان کا ہاتھ پکڑوں اور اس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے اور اگر تمہیں اپنی جانیں عزیز ہیں تو پھر چھوڑ دو اور صاف صاف عذر کر دو کیونکہ اسی وقت عذر کر دینا خدا کے نزدیک زیادہ قابل قبول ہو سکتا ہے ۔
اسی بات کو وفد کے ایک دوسرے شخص عباس بن عبادہ نے دہرایا:جانتے ہو اس شخص سے کس چیز کی بیعت کر رہے ہو؟ (آوازیں : ہاں ہم جانتے ہیں ) تم ان کے ہاتھ پر بیعت کر کے دنیا بھر سے لڑائی مول لے رہے ہو۔ پس اگر تمہارا خیال یہ ہو کہ جب تمہارے مال تباہی کے اور تمہارے اشراف ہلاکت کے خطرے میں پڑ جائیں تو تم انہیں دشمنوں کے حوالے کر دوں تو بہتر ہے کہ آج ہی انہیں چھوڑ دو کیونکہ خدا کی قسم یہ دنیا اور آخرت کی رسوائی ہے اور اگر تمہارا ارادہ یہ ہے کہ جو بلاوا تم اس شخص کو دے رہے ہو اس کو اپنے اموال کی تباہی اور اپنے اشراف کی ہلاکت کے باوجود نباہو گے تو بے شک ان کا ہاتھ تھام لو کہ خدا کی قسم یہ دنیا اور آخرت کی بھلائی ہے ۔
اس پر تمام وفد نے بالاتفاق کہا کہ:ہم انہیں لے کر اپنے اموال کی تباہی اور اپنے اشراف کو ہلاکت کے خطرے میں ڈالنے کے لیے تیار ہیں ۔تب وہ مشہور بیعت واقع ہوئی جسے تاریخ میں بیعت عقبہ ثانیہ کہتے ہیں ۔
یہ اسلام کی تاریخ میں ایک انقلابی موقع تھا جسے خدا نے اپنی عنایت سے فراہم کیا اور نبی ﷺنے ہاتھ بڑھا کر پکڑ لیا۔صبر و تحمل کے امتحان کی آخری حد یہ تھی کہ مسلمان مقدس وطن، عزیز و اقارب، اہل و عیال، مال و دولت سب چیزوں کو خیر باد کہہ کر خالص خدا و رسول کی خوشنودی کا راستہ طے کرنے کے لیے گھروں سے نکل پڑے۔
 دوسری طرف اہل مَکّہ کے لیے یہ معاملہ جو معنی رکھتا تھا وہ بھی کسی سے پوشیدہ نہ تھا۔ دراصل اس طرح محمد ﷺکو، جن کی زبردست شخصیت اور غیر معمولی قابلیتوں سے قریش کے لوگ واقف ہو چکے تھے ، ایک ٹھکانہ میسر آ رہا تھا اور ان کی قیادت و رہنمائی اور پیروانِ اسلام، جن کی عزیمت و استقامت اور فدائیت کو بھی قریش ایک حد تک آزما چکے تھے ، ایک منظم جتھے کی صورت میں مجتمع ہوئے جاتے تھے۔ یہ پرانے نظام کے لیے موت کا پیغام تھا۔ نیز مدینہ جیسے مقام پر مسلمانوں کی اس طاقت کے مجتمع ہونے سے قریش کو مزید یہ خطرہ تھا کہ یمن سے شام کی طرف جو تجارتی شاہراہ ساحل بحیرہ احمر کے کنارے کنارے جاتی تھی، جس کے محفوظ رہنے پر قریش اور دوسرے بڑے بڑے مشرک قبائل کی معاشی زندگی کا انحصار تھا، وہ مسلمانوں کی زد میں آ جاتی تھی اور اس شہ رگ پر ہاتھ ڈال کر مسلمان نظامِ جاہلی کی زندگی دشوار کر سکتے تھے اور صرف اہل مَکّہ کی وہ تجارت جو اس شاہراہ کے بل پر چل رہی تھی ڈھائی لاکھ اشرفی سالانہ تک پہنچتی تھی۔ طائف اور دوسرے مقامات کی تجارت اس کے ماسوا تھی۔
قریش ان نتائج کو خوب سمجھتے تھے ، جس رات بیعت عقبہ واقع ہوئی اسی رات اس معاملے کی بھنک اہل مَکّہ کے کانوں میں پڑی اور پڑتے ہی کھلبلی مچ گئی۔ پہلے تو انہوں نے اہل مدینہ کو نبی ﷺسے توڑنے کی کوشش کی۔ پھر جب مسلمان ایک ایک دو دو کر کے مدینہ کی طرف ہجرت کرنے لگے اور قریش کو یقین ہو گیا کہ اب محمد ﷺبھی وہاں منتقل ہو جائیں گے تو وہ اس خطرے کو روکنے کے لیے آخری چارۂ کار اختیار کرنے پر آمادہ ہو گئے۔ ہجرت نبوی سے چند روز پہلے قریش کی مجلس شوریٰ منعقد ہوئی جس میں بڑی رد و کد کے بعد آخر کار یہ طے پا گیا کہ بنی ہاشم کے سوا تمام خانوادہ ہائے قریش کا ایک ایک آدمی چھانٹا جائے اور یہ سب مل کر محمد ﷺکو قتل کریں تاکہ بنی ہاشم کے لیے تمام خاندانوں سے تنہا لڑنا مشکل ہو جائے اور وہ انتقام کے بجائے خوں بہا قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں لیکن خدا کے فضل اور نبی ﷺکے اعتماد علی اللہ اور حُسنِ تدبیر سے اُن کی یہ چال ناکام ہو گئی اور حضور بخیریت مدینہ پہنچ گئے۔
اس طرح جب قریش کو ہجرت کے روکنے میں ناکامی ہوئی تو انہوں نے مدینہ کے سردار عبداللہ بن اُبی کو (جسے ہجرت سے پہلے اہل مدینہ اپنا بادشاہ بنانے کی تیاری کر چکے تھے اور جس کی تمناؤں پر حضور ﷺکے مدینہ پہنچ جانے اور اوس و خزرج کی اکثریت کے مسلمان ہو جانے سے پانی پھر چکا تھا) خطا لکھا کہ تم لوگوں نے ہمارے آدمی کو اپنے ہاں پناہ دی ہے ، ہم خدا کی قسم کھاتے ہیں کہ یا تو تم خود اس سے لڑو یا اس سے نکال دو، ورنہ ہم سب تم پر حملہ آور ہوں گے اور تمہارے مردوں کو قتل اور عورتوں کو لونڈیاں بنا لیں گے ۔ عبداللہ بن ابی اس پر کچھ آمادۂ شر ہوا،مگر نبی ﷺنے بروقت اس کے شر کی روک تھام کر دی۔ پھر سعد بن معاذ رئیس مدینہ عمرے کے لیے گئے۔ وہاں عین حرم کے دروازے پر ابو جہل نے ان کو ٹوک کر کہا: تم تو ہمارے دین کے مرتدوں کو پناہ دو اور ان کی امداد و اعانت کا دم بھرو اور ہم تمہیں اطمینان سے مَکّے میں طواف کرنے دیں ؟ اگر تم امیہ بن خلف کے مہمان نہ ہوتے تو زندہ یہاں سے نہیں جا سکتے تھے۔ سعد نے جواب میں کہا: بخدا اگر تم نے مجھے اس چیز سے روکا تو میں تمہیں اس چیز سے روک دوں گا جو تمہارے لیے اس سے شدید تر ہے ، یعنی مدینہ پر سے تمہاری رہ گزر ۔یہ گویا اہل مَکّہ کی طرف سے اس بات کا اعلان تھا کہ زیارت بیت اللہ کی راہ مسلمانوں پر بند ہے اور اس کا جواب اہل مدینہ کی طرف سے یہ تھا کہ شامی تجارت کا راستہ مخالفین کے لیے پر خطر ہے۔
مدینہ مین مسلمانوں کو مرکزی حیثیت ہو جانے کا مشرکین مکّہ کو بڑا قلق تھا چنانچہ مشرکین مَکّہ کے سردار عوام الناس کو خصوصاً نوجوانوں کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکاتے رہتے تھے۔ اسلام، پیغمبر اسلام ﷺ اور ان کے پیروکاروں کے خلاف یہ نفرت جنون اور دیوانگی کی حد تک پہنچ چکی تھی۔ کفّار مَکّہ اسلام دشمنی میں بوکھلائے ہوتے تھے۔ کفّار نے تجارت کے نفع میں سے ایک مخصوص حصہ لازمی طور پر جنگی تیاریوں کے لئے مختص کرنا شروع کر دیا۔ تجارت سے ہونے والی آمدنی کا ایک حصہ مسلمانوں کے خلاف جنگ کے لئے ہتھیاروں کی فراہمی پر خرچ ہو نے لگا۔
اور فی الواقع اس وقت مسلمانوں کے لیے اس کے سوا کوئی تدبیر بھی نہ تھی کہ اس تجارتی شاہراہ پر اپنی گرفت مضبوط کریں تاکہ قریش اور وہ دوسرے قبائل جن کا مفاد اس راستے سے وابستہ تھا، اسلام اور مسلمانوں کے ساتھ اپنی معاندانہ و مزاحمانہ پالیسی پر نظر ثانی کرنے کے لیے مجبور ہو جائیں ۔ چنانچہ مدینہ پہنچتے ہی نبی ﷺنے نوخیز اسلامی سوسائٹی کے ابتدائی نظم و نسق اور اطراف مدینہ کی یہودی آبادیوں کے ساتھ معاملہ طے کرنے کے بعد سب سے پہلے جس چیز پر توجہ منعطف فرمائی وہ اسی شاہراہ کا مسئلہ تھا۔ اس مسئلے پر حضور نے دو اہم تدبیریں اختیار کیں ۔
ایک یہ کہ مدینہ اور ساحل بحیرہ احمر کے درمیان اس شاہراہ سے متصل جو قبائل آباد تھے ان کے ساتھ گفت و شنید شروع کی تاکہ وہ حلیفانہ اتحاد یا کم از کم ناطرفداری کے معاہدے کر لیں ۔ چنانچہ اس میں آپ کو پوری کامیابی ہوئی۔ سب سے پہلے جُہَینَنہ سے ، جو ساحل کے قریب پہاڑی علاقے میں ایک اہم قبیلہ تھا، معاہدۂ ناطرفداری طے ہوا۔ پھر 1ھ کے آخر میں بنی ضَمرَہ سے ، جن کا علاقہ یَنبُع اور ذوالعُشَیرہ سے متصل تھا، دفاعی معاونت کی قرارداد ہوئی۔ پھر 2ھ کے وسط میں بنی مُدلِج بھی اس قرارداد میں شریک ہو گئے کیونکہ وہ بنی ضمرہ کے ہمسائے اور حلیف تھے۔ مزید برآں تبلیغ اسلام نے ان قبائل میں اسلام کے حامیوں اور پیرووں کا بھی ایک اچھا خاصا عنصر پیدا کر دیا۔اسی دوران حضور ﷺ نے یثرب کے عیسائیوں اور یہودیوں کے ساتھ ایک معاہدہ کیا جسے میثاق مدینہ کے نام سے یاد کیا جاتا ہے۔
پھر دوسری تدبیر آپ نے یہ اختیار کی کہ قریش کے قافلوں کو دھمَکّی دینے کے لیے اس شاہراہ پر پیہم چھوٹے چھوٹے دستے بھیجنے شروع کیے اور بعض دستوں کے ساتھ آپ خود بھی تشریف لے گئے۔ پہلے سال اس طرح کے چار دستے گئے جو کتابوں میں سریہ حمزہ، سریہ عبیدہ بن حارث، سریہ سعد بن ابی وقاص اور غزوۃ البواء کے نام سے موسوم ہیں ۔
اور دوسرے سال کے ابتدائی مہینوں میں دو مزید تاختیں اسی جانب کی گئیں جن کو اہل مغازی غزوۂ بواط اور غزوۂ ذوالعُشَیرہ کے نام سے یاد کرتے ہیں ۔ ان تمام مہمات کی دو خصوصیتیں قابل لحاظ ہیں ۔ ایک یہ کہ ان میں سے کسی میں نہ تو کشت و خون ہوا اور نہ کوئی قافلہ لوٹا گیا جس سے یہ صاف ظاہر ہوتا ہے کہ ان تاختوں کا اصل مقصود قریش کو ہوا کا رخ بتانا تھا۔ دوسرے یہ کہ ان میں سے کسی تاخت میں بھی حضور ﷺنے اہل مدینہ کا کوئی آدمی نہیں لیا بلکہ تمام دستے خالص مَکّی مہاجرین سے ہی مرتب فرماتے رہے تاکہ حتی الامکان یہ کشمکش قریش کے اپنے ہی گھر والوں تک محدود رہے اور دوسرے قبائل کے اس میں الجھنے سے آگ پھیل نہ جائے۔ ادھر سے اہل مَکّہ بھی مدینہ کی طرف غارت گر دستے بھیجتے رہے ، چنانچہ انہی میں سے ایک دستے نے کُرز بن جابر الفہری کی قیادت میں عین مدینہ کے قریب ڈاکہ مارا اور اہل مدینہ کے مویشی لوٹ لیے۔ قریش کی کوشش اس سلسلے میں یہ رہی کہ دوسرے قبائل کو بھی اس کشمکش میں الجھا دیں ، نیز یہ کہ انہوں نے بات کو محض دھمَکّی تک محدود نہ رکھا بلکہ لوٹ مار تک نوبت پہنچا دی۔

اب حالات یہاں تک پہنچ چکے تھے کہ شعبان 2ھ (فروری یا مارچ 623ء) میں قریش کا ایک بہت بڑا قافلہ، جس کے ساتھ تقریباً 50 ہزار اشرفی کا مال تھا ،1ہزار اونٹ اور 60قریشی تھے ، شام سے مَکّہ کی طرف پلٹتے ہوئے اس علاقے میں پہنچا جو مدینہ کی زد میں تھا۔ چونکہ مال زیادہ تھا، محافظ کم تھے اور سابق حالات کی بنا پر قوی خطرہ تھا کہ کہیں مسلمانوں کا کوئی طاقتور دستہ اس پر چھاپہ نہ مار دے ، اس لیے سردارِ قافلہ ابو سفیان نے اس پر خطر علاقے میں پہنچتے ہی اپنے ایک ایلچی ضمضم بن عمرو غفاری کو مَکّہ کی طرف دوڑا دیا تاکہ وہاں سے مدد لے آئے۔ اس شخص نے مَکّہ پہنچتے ہی عرب کے قدیم قاعدے کے تحت اپنے اونٹ کے کان کاٹے۔ اس کی ناک چیر دی، کجاوے کو الٹ کر رکھ دیا اور اپنا قمیص آگے پیچھے سے پھاڑ کر شور مچانا شروع کر دیا کہ:قریش والو! اپنے قافلۂ تجارت کی خبر لو، تمہارے مال جو ابو سفیان کے ساتھ ہیں ، محمد ﷺاپنے آدمی لے کر ان کے درپے ہو گیا ہے ، مجھے امید نہیں کہ تم انہیں پاسکو گے ، دوڑو دوڑو مدد کے لیے۔
یہ خبر مَکّہ پہنچنے سے تین دن قبل حضور ﷺ کی پھوپھی  عاتکہ نے حضرت عباس بن عبدالمطلب کو بلا کر رازداری سے اپنا خواب بتایا اور کہا کہ قوم قریش پر آفت آنے کا خوف محسوس کر رہی ہوں ۔ اس نے اپنے بھائی کو بتایا کہ میں نے خواب میں ایک شتر سوار کو دیکھا کہ وہ وادی بطحا میں آ کر پکارتا ہے۔ ’’اے دھوکے بازو! تین دن کے اندر اپنی قلت گاہوں کی طرف دوڑ کر آؤ،عاتکہ نے اپنا بیان جاری کرتے ہوئے کہا بھائی! میں نے اس اونٹ کو کعبے کی چھت پر دیکھا۔ اس نے یہی نعرہ لگایا، میں نے اسے جبل ابی قبیس پر دیکھا۔ وہاں بھی شتر سوار نے یہ الفاظ دہرائے اور ایک چٹان نیچے لڑھکا دی، جو نیچے آ کر پھٹی تو اس کے ٹکڑے ہر گھر تک پہنچے، حضرت عباس بن عبدالمطلب نے کہا کہ بہن واقعی یہ ایک عجیب وغریب خواب ہے ہمیں کسی سے بھی اس کا ذکر نہیں کرنا چاہئے، لیکن عباس بن عبدالمطلب کو راستے میں ان کا ایک دوست ولید مل گیا انہوں نے اس سے عاتکہ کے خواب کا ذکر کیا، ولید نے اپنے باپ کو خواب کی تفصیلات سے آگاہ کیا اور ہوتے ہوتے یہ تفصیلات عمائدین مَکّہ کے کانوں تک بھی پہنچ گئیں شام کو ابوجہل نے حضرت عباس کو مخاطب کر کے طنزاً کہا۔ ’’اے عبدالمطلب کی اولاد ! تم اس پر مطمئن نہیں ہوئے کہ تمہارے اندر ایک نبی پیدا ہو اور اب تمہاری عورتوں نے بھی نَبوّت کا دعوی کرنا شروع کر دیا ہے۔،، ابوجہل مردود نے دھمَکّی دی کہ ہم تین دن تک انتظار کریں گے اگر اس خواب کی سچائی ظاہر نہ ہوئی تو ہم ہر جگہ منادی کر دیں گے کہ تمہارا گھرانہ سب سے جھوٹا گھرانہ ہے۔ جب حضرت عباس ؓ گھر لوٹے تو گھر کی خواتین نے ابوجہل کی ہرزہ سرائی کے حوالے سے انہیں آڑے ہاتھوں لیا اور کہا کہ ’’اس سے قبل جب ابوجہل مردوں پر الزام لگاتا رہا اور تم لوگ برداشت کرتے رہے اب اس کا رخ تمہاری عورتوں کی طرف ہو گیا ہے تم میں ذرا بھی غیرت وحمیت کا مادہ نہیں رہا کہ اس لعین کی بہتان تراشیوں کا منہ توڑ جواب دے سکو،، حضرت عباس بن عبدالمطلب ؓ بیان کرتے ہیں کہ یہ گفتگو سن کر میں نے اگلے دن ابوجہل سے بدلہ لینے کا فیصلہ کر لیا۔ میں مسجد حرام میں داخل ہوا تو ابوجہل باہر کی طرف بھاگا جا رہا تھا۔ ادھر ضمضم اہل مَکّہ کو پکارا رہا تھا کہ مسلمان تمہارے تجارتی قافلے پر حملہ کرنے والے ہیں ، ابوسفیان کے ایلچی کی پکار پر اہل مَکّہ کا جنگی جنون اپنی انتہا کو پہنچ گیا اور ابوجہل مشتعل ہو کر مسلمانوں پر کاری ضرب لگانے کے لئے مختلف قبائل کی قوت منظم کر رہا تھا اسے اب وہ آخری شکل دینے کے لئے کمربستہ ہو گیا حضرت عباس ؓ فرماتے ہیں اس کے بعد اس موضوع پر مزید گفتگو نہ ہو سکی البتہ لوگ عاتکہ کے خواب سے اچھے خاصے پریشان دکھائی دیتے تھے۔
ضمضم کی اس خبر پر سارے مَکّہ میں ہیجان برپا ہو گیا۔ مسلمانوں کے خلاف منظم ہونے والے اس لشکر میں ابولہب کے سوا قریش کے تمام سردار شریک ہوئےتیار ہو گئے۔ تقریباً ایک ہزار مردان جنگی جن میں سے 600 زرہ پوش تھے اور 100 سواروں کا رسالہ بھی شامل تھا، پوری شان و شوکت کے ساتھ لڑنے کے لیے چلے۔
ان کے پیش نظر صرف یہی کام نہ تھا کہ اپنے قافلے کو بچا لائیں بلکہ وہ اس ارادے سے نکلے تھے کہ اس آئے دن کے خطرے کو ہمیشہ کے لیے ختم کر دیں اور مدینہ میں یہ مخالف طاقت جو ابھی نئی نئی مجتمع ہوئی ہے اسے کچل ڈالیں اور اس کے نواح کے قبائل کو اس حد تک مرعوب کر دیں کہ آیندہ کے لیے یہ تجارتی راستہ بالکل محفوظ ہو جائے۔
 جاری ہے۔۔۔۔۔

ماخذات

تفسیر مدنی،تفسیر عثمانی، تفہیم القرآن ،السیرۃ النبویۃ لابن ہشام ،الطبری، ، تاریخ ابن خلدون اور تاریخ ابن کثیر
2 comments

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: