پاکستان کے وارث

تخلیقِ پاکستان کے جو اسباب و علل اور محرکات تھے انہیں صرف وہی لوگ ملحوظ رکھ سکتے تھے اور وہی ان کا احترام بھی کر سکتے تھے جنہوں نے اپنی قیمتی مساعی اور قوتیں اس کے قیام میں صرف کیں مگر خدا کو کچھ منظور ہی ایسا تھا، وہ یکے بعد دیگرے اُٹھتے چلے گئے، یہاں تک کہ میدان خالی رہ گیا۔ بعد میں پاکستان کے جو وارث بنے وہ نہ صرف نا اہل تھے بلکہ بد نیت بھی تھے۔ اس لئے انہوں نے ملک کو انہی بنیادوں پر تعمیر کرنے کے بجائے اس پر اپنے نجی اغراض کے محل تعمیر کیے، اسے کاروبارِ سیاست کی منڈی بنایا اور سیاسی سٹہ بازی کے ذریعے نہایت ڈھٹائی کے ساتھ پاکستان کے مستقبل کو ہار آئے۔
آج کل پاکستان کے مختلف حصوں میں اس کے جو وارث بنے ہیں اور اس کی باگ ڈورِ سیاست جن کے اشارۂ ابرو کے ساتھ وابستہ ہو کر رہ گئی ہے۔ عموماً وہ لوگ ہیں جو پاکستان کے نام سے بہت چڑتے تھے جہاں یہ صورتِ حال ہو وہاں اس پاکستان کا کیا بھلا ہو سکتا ہے۔
اس کے علاوہ ان میں وہ لوگ بھی آدھمکے ہیں جو قیامِ پاکستان کے سلسلہ میں خالی الذہن تھے مگر اپنی افتاد طبع اور خاندانی اثرات کی وجہ سے اس کے بارے میں کچھ زیادہ سنجیدہ اور مخلص بھی نہ تھے۔ بس اس سے ان کو اتنا تعلق تھا کہ ان کو ان کا حصہ ملنا چاہئے۔ چنانچہ انہوں نے اپنے فرضی اور جعلی حق اور حصہ کے لئے جدوجہد شروع کی اور کرتے آرہے ہیں اور غالباً کرتے ہی چلے جائیں گے۔ اس لئے ملک کے ایک گوشے میں کبھی یہ آواز اُٹھتی ہے کہ پاکستان مزدوروں کے مفاد کے تحفظ کے لئے بنا تھا۔ لہٰذا مزدوروں کو اُٹھ کھڑا ہونا چاہئے تو دوسرے گوشے سے یہ صدا بلند ہوتی ہے کہ پاکستان کے قیام سے غرض صرف صوبائی مفاد اور خود مختاری تھی، کوئی بولا، دراصل یہ ایک نئے تجربہ کی کوشش تھی جو ناکام ہو گئی کیونکہ زمانہ مذہب اور دین کے تصور سے کافی آگ نکل گیا ہے لہٰذا ملک میں اسلامی بنیادیں مہیا کرنے کی کوئی ضرورت نہیں رہی۔ الغرض ان سب مکروہ نعروں سے اُن کی غرض اِن کی آڑ میں سیاسی کھیل کھیلنا تھی۔ جیسا جس سے بن پڑا وہی داؤد استعمال کیا۔ بہرحال ابھی تک تو ملک کے یہ بد خواہ ہر جگہ کامیاب ہیں اور ملک پر جو قیامتیں ٹوٹ رہی ہیں وہ محض انہی کی ’’شامتِ اعمال‘‘ کا نتیجہ ہیں۔ لیکن ان لوگوں کوسمجھنے میں شای عوام کو ابھی اور وقت لگے گا اور جب سمجھ آجائے گی اس وقت تیر کمان سے نکل چکا ہو گا۔ ابھی تو ان کی بے پرواہی کا وہ عالم ہے جس کا کسی شاعر نے یوں نقشہ کھینچا تھا                             ؎
بے نیازی حد سے گزری بندہ پرور کب تلک
ہم کہیں گے حالِ دل اور آپ فرمائیں گے کیا؟
بہر حال قوم اور اسلام کے بہی خواہ اپنے عوام کو جھنجوڑتے ہوئے زبانِ حال سے یہ کہے جا رہے ہیں                        ؎
ہم نے مانا کہ تغافل نہ کرو گے لیکن!
خاک ہو جائیں گے ہم، تم کو خبر ہونے تک
ہمیں چاہیئے کہ اہل پاکستان کو دیگر صوبائی و لسانیت کے فرق کو بھلا کر ایک دوسرے کے قریب ہونے کے لئے وسائل ڈھونڈیں ، ایک دوسرے کے سلسلہ میں جو غلط فہمیاں پیدا ہو گئی ہیں، انہیں دور کریں ، اگر ہو سکے تو ان رکاوٹوں کو ہٹانے کی کوشش کریں، جو ہمارے افتراق کا سب بنیں اور ہمارے تعلقات کو مزید کشیدہ کرنے کا موجب ہو رہی ہیں۔
ہمارے نزدیک بانیٔ پاکستان جناب محمد علی جناح مرحوم کے ’’پاکستان‘‘ کے ٹکڑے ٹکڑے کرنے کا سبب وہ کوتاہی ہے جو پاکستان کو ’’موعود پاکستان‘‘ میں تبدیل کرنے میں اختیار کی گئی۔ بعد  میں یہ وراثت نا اہل چھوکروں کے ہاتھ میں آئی۔ جس کو انہوں نے اپنے اقتدار اور زور بازو کے لئے تختۂ مشق بنایا۔ ملک اور ملت کی کچھ شرم نہ رکھی۔ غیر اسلامی ذہن کے لوگ آگے بڑھے، ناخواندہ عوام نے انہی کو نجات دہندہ تصور کر لیا اور بالآخر یہ اندھیرا ان کو لے ڈوبا۔
حالیہ المیہ کے ذمہ دار حضرات اگر ملّتِ اسلامیہ کی قیادت سے رضاکارانہ طور پر الگ ہو جائیں تو یقین کیجئے یہ دونوں بازو پھر سے متحد ہو سکتے ہیں۔ مگر اتنا ایثار کون کرے؟ ’’بھُس میں چنگاری ڈال بی جمالو الگ کھڑی‘‘ ایک مشہور کہاوت ہے جس نے اب بھیس بدل لیا ہے۔ اسے اب کون پہچانے؟
ہماری موجودہ قیادت جس سے ہمیں توقعات تھیں، وہ اب ہماری توقعات پر بھاری بنتی جا رہی ہے۔(ہر نئی قیادت پچھلی سے زیادہ بھاری ہوتی جارہی ہے) خاص کر یہ دیکھ کر کہ ان کو معلوم ہی نہیں کہ خواجگی کیا شے ہے؟ بہت دکھ ہوتا ہے۔ غالباً اقبال مرحوم نے انہی کے متعلق یہ بات کہی تھی کہ            ؎
خدا نے ان کو عطا کی ہے خواجگی کہ جنہیں
خبر نہیں روش بندہ پروری کیا ہے؟
ہمارے ملک کے صدر ہوں یا ان کے دوسرے دست و بازو، ان کے منہ سے خیر کا کلمہ مشکل سے ہی نکلتا ہے۔ اب وہ اس موڈ میں ہیں کہ قوم پر اپنی رائے (یا امریکہ بہادر کی  رائے بھی)مسلط کریں اور اتنا ہراس پیدا کریں کہ ہزار بے چینیوں کے باوجود لوگ دبکے پڑے رہیں اور چُوں کرنے کا حوصلہ بھی نہ کر سکیں۔ (پر اب عوام نے انقلاب اور احتجاجی مظاہروں کی راہ تلاش کی ہوئی ہے)
غور فرمائیں کہ حکومت کا منشا امن و امان رکھنا اور ملکی عافیتوں کا تحفظ ہوتا ہے۔ اس کے بجائے اگر وہ ’’خون کی ندیاں‘‘ بہانے پر آجائیں اور ان ہلاکت آٖرینیوں کی ہولناکی کا تعارف بایں الفاظ کرانا ضروری سمجھیں کہ ’’اس پر ہمالیہ بھی خون کے آنسو روئے گا‘‘ تو اس وقت کوئی مستغیث کہاں جا کر امن و عافیت اور داد رسی کی بھیک مانگے؟
امریکہ، روس، چین اور فرانس وغیرہ ممالک بھی ہمارے سامنے ہیں۔ کیا ان کے حکمران بھی اسی قسم کی زبان استعمال کیا کرتے ہیں جس کو نمونے صدر ،وزراء اور گورنر صاحبان  پیش کر رہے ہیں؟ اگر ہمارے اکابرِ شایانِ شان وضعداری اور مقام و مرتبہ کے مطابق رکھ رکھاؤ سے کام لیتے تو زیادہ بہتر تھا مگر اس کا ان کو احساس نہیں ہے صبح و شام بولتے رہنے کا یہ نتیجہ نکلا ہے کہ اب دنیا ان کو ’’بلبلِ ہزار داستان‘‘ سمجھنے لگی ہے کہ ان کی پچھلی لَے بعد کی لَے کے مخالف ہی ہوتی ہے۔ ان کا اگلا بیان عموماً پچھلی غلطی کو دھونے میں صرف ہو جاتا ہے جو صاف ہونے کے بجائے اور چیستاں بن جاتا ہے۔
موجودہ اربابِ اقتدار کی برکات کا تو ابھی کچھ پتہ نہیں چل سکا، ہاں حالات کے تیور بتاتے ہیں کہ انہوں نے اپنے غلط مصالح کے لئے پوری قوم کو غلط راہ پر ڈال دیا ہے۔ اس لئے کچھ نہیں کہا جا سکتا کہ کل تک اس کے کیا نتائج برآمد ہوں گے۔ ہمارے نزدیک یہ سیاست نہیں،  سیاست بازی ہے جس کا کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ اگر وقت ہی پاس کرنا ہے تو کوئی اور دھندا کریں۔ قوم کے مزاج کو نہ بگاڑیں۔ یہ ملک دوستی نہیں ہے۔
سٹالن، ہٹلر اور مسولینی، جس قدر فسطائی ذہنیت کے مالک تھے اور جو انجام ان کا ہوا، دنیا جانتی ہے ہمارے اصحاب اقتدار کو ان سے سبق حاصل کرنا چاہئے۔ کاش! یہ لوگ قوم کے ساتھ کچھ نیکی کریں اور اس کو غلط راہ پر ڈالنے سے پرہیز کریں۔
Advertisements
6 comments
  1. Hasan said:
  2. Muhammad saleem said:

    Aslmo e alikam ap Ka blog

    hazrat Yousif ale islam mere mobil mein open nae hota palez koch madad farma den…men sirf ap hi Ka blog partha hon…Muhammad Saleem..

    • مجھے موبائل ٹیکنالوجی کا زیادہ علم نہیں
      ایم بلال صاحب سے رابطہ کیجئے

  3. بس جی اب ہمیں تڑپا تڑپا کر مارنا چاہتے ہیں۔ اس حکومت کے کرتوتوں کے سبب "بھولی مج” یعنی ہماری عوام خوابِ غفلت سے بیدار ہونے کو ہی تھی اور نام نہاد رہنماؤں سے حساب چکانے کو تھی کہ ہمیشہ کی طرح موقع پرستوں نے صدا لگائی "سوئے رہو۔کوئی ضرورت نہیں۔ ہم جو ہیں انقلاب لانے کو”۔ اور اب وہی انقلابئے اپنے لئے راہ ڈھونڈ رہے ہیں کہ کسی طرح بس اقتدار مل جائے۔ واللہ میرا پختہ یقین ہے کہ حالت تب تک نہیں بدلے گی جب تک یہ قوم خود نہ جاگ اٹھے۔ یہ کسی لیڈر کا کام نہیں کیونکہ
    افراد کے ہاتھوں میں ہے اقوام کی تقدیر!۔

    • کاش کہ ہم اپنے اعمال پر بھی نگاہ ڈالیں
      ایسے مزید حکمران بلکہ اس سے بھی زیادہ آنے والے ہیں

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: