Archive

Monthly Archives: اگست 2012

امام مالک رحمۃ علیہ
مالک بن انس بن مالک بن عمر (93ھ – 197ھ) مسلمانوں میں “امام مالک” اور “شیخ الاسلام” کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ اہل سنت کی نظر میں وہ فقہ کے مستند ترین علماء میں سے ایک ہیں۔ امام شافعی ، جو نو برس تک امام مالک کے شاگرد رہے اور خود بھی ایک بہت بڑے عالم تھے ، نے ایک بار کہا کہ “علماء میں مالک ایک دمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہیں”۔ فقہ مالکی اہل سنت کے ان چار مسالک میں سے ایک ہے جس کے پیروان آج بھی بڑی تعداد میں ہیں۔
آپ کے زمانہ میں بغداد میں عباسی خلفاء حکمران تھے۔ جس زمانہ میں امام ابو حنیفہ کوفہ میں تھے قریب قریب اسی زمانہ میں امام مالک مدینہ منورہ میں تھے۔ مدینہ شریف میں رہنے کی وجہ سے اپنے زمانے میں حدیث کے سب سے بڑے عالم تھے۔ انہوں نے حدیث کا ایک مجموعہ تالیف کیا جس کا نام (موطا) تھا۔ امام مالک عشق رسول اور حب اہل بیت میں اس حد تک سرشار تھے کہ ساری عمر مدینہ منورہ میں بطریق احتیاط و ادب ننگے پاؤں پھرتے گزار دی ۔
وہ بڑے دیانتدار اصول کے پکے اور مروت کرنے والے تھے۔ جو کوئی بھی انہیں تحفہ یا ہدیہ پیش کرتا وہ اسے لوگوں میں بانٹ دیتے۔ حق کی حمایت میں قید و بند اور کوڑے کھانے سے بھی دریغ نہ کیا۔ مسئلہ خلق قرآن میں مامون الرشید اور اس کے جانشین نے آپ پر بے پناہ تشدد کیا لیکن آپ نے اپنی رائے تبدیل کرنے سے انکار کر دیا۔ ہارون الرشید نے ان سے درخواست کی کہ ان کے دونوں بیٹوں امین و مامون کو محل میں آکر حدیث پڑھا دیں مگر آپ نے صاف انکار کر دیا۔ مجبوراَ ہارون کو اپنے بیٹوں کو ان کے ہاں پڑھنے کے لیے بھیجنا پڑا۔ فقہ مالکی کا زیادہ رواج مغربی افریقہ اور اندلس میں ہوا۔ امام مالک کو امام ابو حنیفہ اور امام جعفر صادق سے بھی علم حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا۔
فقہ مالکی
شریعت اسلامی کی اصطلاح میں امام مالک کی فقہ پر عمل کرنے والے مسلمان مالکی کہلاتے ہیں۔
موطاء امام مالک
موطاء امام مالک حدیث کی ایک ابتدائی کتاب ہے جو مشہور سنی عالم دین مالک بن انس بن مالک بن عمر (93ھ – 197ھ) نے تصنیف کی۔ انہی کی وجہ سے مسلمانوں کا طبقہ فقہ مالکی کہلاتا ہے جو اہل سنت کے ان چار مسالک میں سے ایک ہے جس کے پیروان آج بھی بڑی تعداد میں ہیں۔
موطا کےمصنف کا پورانام یہ ہے ابوعبداللہ مالک بن انس بن ابی عامرالاصبحی الحمیری ہے۔(۱) اپ کی تاریخ ولادت میں ۹۰ھ سے ۹۷ھ تک کے مختلف اقوال ہیں۔ امام ذہبی نے یحیی بن کثیرکے قول کو اصح قراردیاہے جس کے مطابق اپ کی ولادت ۹۳ھ میں ہوءی ہے۔ جبکہ اپ کی وفات ربیع؁ الاول؁۱۷۹ھ کومدنیہ منورہ میں ہوءی امام مالک فقہ اورحدیث مین اھل حجاز بلکہ پوری ملت اسلامیہ کے امام ہیں۔ اپ کی کتاب “الموطا” حدیث کے متداول اور معروف مجموعوں میں سب سے قدیم ترین مجموعہ ہے۔موطاسے پہلے بھی احادیث کے کی مجموعے تیار ہوءے اور ان میں سے کيی ایک اج موجود بھی ہیں لیکن وہ مقبول اورمتداول نہیں ہیں۔ موطاکے لفظی معنی ہے، وہ راستہ جس کو لوگوں نے پےدرپے چل کر اتناہموارکردیاہو کہ بعد میں انے والوں کے لیےاسپرچلنااسان ہوگیاہو۔ جمہور علماء نے موطاکو طبقات کتب حدیث میں طبقہ اولی میں شمار کیاہے امام شافعی فرماتے ہیں”ماعلی ظہرالارض کتاب بعد کتاب اللہ اصح من کتاب مالک” کہ میں نے روءے زمین پر موطاامام مالک سے زیادہ کوءی صحیح کتاب (کتاب اللہ کے بعد)نہیں دیکھی ۔ حضرت شاہ ولی اللہ موطاکے بارے میں لکھتے ہیں” فقہ میں موطا امام مالک سےزیادہ کوءی مضبوط کتاب موجود نہیں ہے” موطا میں احادیث کی تعداد کے بارے میں کءی روایات ہیں، اور اس اختلاف کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امام مالک نے اپنی روایات کی تہذیب اورتنقیح برابر جاری رکھی لہذا مختلف اوفات میں احادیث کی تعداد مختلف رہی۔

مدینہ منورہ کو بہت مقام حاصل ہے یہی وہ شہر ہے جہاں پر وجہہ کائنات سرور کائنات آقائے نامدار رحمتہ للعالمین جناب نبی کریم ﷺ آرام فرما ہیں۔ يہ شہر کوئی عام شہر نہیں ہے یہی وہ ”بلد حبیب“ ہے کہ جس کا اونچا نصیب ہے، یہاں دن رات فرشتوں کی جماعتیں اترتی ہیں اور اﷲ کے محبوب ﷺ پر درودسلام کے تحائف نچاور کرتی ہیں۔يہ شہر عاشقوں کی مرکز نگاہ ہے، یہاں جانے،جینے کا، مرنے کا، رونے کا، ہنسے کا اپنا مزہ ہے …….. تبھی تو حضرت امام مالک بن انس رحمہ اﷲ کو یہاں دفن ہونے اتنی شدید خواہش تھی کہ اس شہر سے کسی صورت نکلنا گوارہ نہیں کرتے تھے۔
مدینہ منورہ میں ایمان کے ساتھ مرنے کے بعد جنت البقیع میں دفن ہونا بہت بڑی نعمت ہیں،جہاں حضور ﷺ کے اہل بیت مدفون ہیں،یعنی حضرت عباس رضی اﷲ عنہ، حضرت حسن رضی اﷲعنہ، حضور اکرم ﷺ کی صاحبزدایاں حضرت زنیب، حضرت ام کلثوم، حضرت رقیہ اور حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہن اور حضور صلی اﷲعلیہ وسلم کی تین پھوپھیاں اور حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم آرام فرما ہیں، اور تیسرے خلیفہ راشد حضرت عثمان بن عفا ن رضی اﷲ عنہ، دس ہزار صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم، بے شمار تابعین، تبع تابعین اور لاتعداد علما، صلحا، شہدا اور اولیاءکرام رحمہم اﷲ مدفون ہیں۔
مدینہ منورہ اور جنت البقیع کے فضائل
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا ”مجھے ايک ایسی بستی کی طرف ہجرت کا حکم دیا گیا ہے جوتمام بستوں پر غالب رہی ہے اور اس بستی کو لوگ یثرب کہتے تھے اب وہ مدینہ ہے جو برے آدمیوں کو اس طرح نکال دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو نکال دیتی ہے۔ (بخاری ومسلم)
حضرت ابن عمررضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مدینہ میں مر سکتاہوا اسے مدینہ میں مرنا چاہےے کیونکہ جو شخص مدینہ میں مرے گا میں اس کی شفاعت کروں گا۔ احمد وترمذی
حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲعنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:قیامت کے دن سب سے پہلے میری قبر شق ہوگی۔ میں اس سے نکلوں گا۔ پھر ابوبکر رضی اﷲ عنہ اپنی قبر سے نکلیں گے پھر عمررضی اﷲ عنہ، پھر جنت البقیع میں جاؤں گا ،وہاں جتنے مدفون ہیں ان کو اپنے ساتھ لوں گا،پھر مکہ مکرمہ کے قبرستان والوں کا انتظار کروں گا وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان آکر مجھ سے ملیں گے۔ ترمذی
 
جاہلیت میں ان کا لقب اُمِّ المساکین تھا، ان کا پہلا نکاح طفیل سے ، دوسرا عبیدہ سے اور تیسرا نکاح عبد اللہ بن حجش سے ہوا جو امِّ المٔومنین زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنتِ حجش کے بھائی ہیں جنگِ اُحد میں وہ شہید ہوگئے تو حضورِ اقد س ﷺ نے ان سے نکاح کر لیا، نکاح کے بعد صرف دو یا تین مہینے زندہ رہیں ۔
ولادت:
آپ 26؍ شوال المکرم 1292ھ (ستمبر 1875ء) میں کُلاچی ضلع ڈیرہ اسماعیل خاں میں مولوی محمد نعیم صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ایک اوسط درجے کے عالم تھے جو درس و تدریس کے علاوہ حصولِ معاش کی خاطر جلد سازی اور نقاشی کا کام کرتے تھے، ان کے جدِّ امجد حافظ محمود صاحب بھی اہلِ علم میں شمار ہوتے تھے۔
ابتدائی تعلیم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد صاحب سے حاصل کی، پھر مولانا صدر الدین صاحب، مولانا قاضی عبد المجید صاحب اور مولانا غلام رسول صاحب سے علمی استفادہ کیا۔ علمِ حدیث کی تحصیل آپ نے مولانا داؤد صاحب سے کی، اسی دوران میں آپ نے قرآنِ پاک بھی حفظ کر لیا۔
تحصیل علم کے بعد آپ امرتسر تشریف لے گئے اور وہاں اخبار ’’وکیل‘‘ کے سب ایڈیٹر (مدیر معاون) مقرر ہوئے۔ 1911ء میں آپ نے مدیر معاون کی حیثیت سے ’وکیل‘ میں کام کیا۔ 1912ءمیں امرت سر سے لاہور آگئے اور مشہور اخبار ’’زمیندار‘‘ میں مترجم کی حیثیت سے کام کرنا شروع کر دیا۔ انہی دنوں آپ نے مولوی فاضل اور منشی فاضل کے امتحانات امتیاز کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی سے پاس کر لئے۔ اسی ملازمت کے دوران آپ کو مولانا ظفر علی خاں اور مولانا ابو الکلام آزادؔ صاحب کے ساتھ (ادارۂ زمیندار میں) کام کرنے کا موقع ملا۔ مولانا آزادؒ آپ کی استعداد، ذہانت اور محنت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ جب انہوں نے کلکتہ سے ’’الہلال‘‘ جاری کیا تو آپ کو اس کے ادارہ میں شرکت کی خصوصی دعوت دی اور کافی اصرار کیا لیکن بعض ناگزیر وجوہات کی وجہ سے آپ اس پرخلوص دعوت کو قبول کرنے سے معذور رہے۔
1913ء میں جب ’’سر سیدِ سرحد‘‘ جناب صاحبزادہ عبد القیوم صاحب کو اسلامیہ کالچ پشاور کے عظیم کتب خانہ کی ترتیب و نگرانی کے لئے کسی موزوں شخصیت کی ضرورت محسوس ہوئی تو ان کی نگاہِ انتخاب آپ پر پڑی، چنانچہ انہوں نے پہلے ایک خط کے ذریعے اس عظیم ذمہ داری کو قبول کرنے کی دعوت دی اور بعد ازاں بذریعہ تار آپ کو بلا لیا۔ پھر یہی لائبریری جسے ’’مکتبہ علوم شرقیہ دار العلوم الاسلامیہ‘‘ پشاور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے آپ کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ آپ نے اس قدر خلوص، محنت اور جانفشانی سے اس ذخیرۂ کتب کی نگہداشت کی کہ پانچ سال کے قلیل عرصہ میں ان کتابوں کی ایک تفصیلی اور تحقیقی فہرست مرتب فرما لی جو ’’لباب المعارف العلمیہ‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ بلاشبہ ’’لباب المعارف العلمیہ‘‘ کو تصنیفاتِ علومِ شرقیہ اور ان کے مصنفین کے بارے میں تفصیلی اور تحقیقی معلومات موجود ہیں۔ علومِ شرقیہ پر تحقیقی کام کرنے والے ملکی و غیر ملکی اس فہرستِ کتب سے بے نیاز نہیں ہو سکتے۔ وہ حوالے (Reference) کے طور پر اس کا تذکرہ کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ کی زندگی کا یہ عظیم کارنامہ ہے۔ لیکن آپ نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس لائبریری کی ترتیب و تنظیم کے علاوہ دمِ واپسیں تک قرآن مجید، علومِ دینیہ اور عربی زبان کی بڑی خدمت کی۔ آپ نے کئی اہم عربی تصنیفات کا اردو میں ترجمہ کیا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ترجمہ کرنے کا خصوصی ملکہ عطا فرمایا تھا۔ آپ کے تمام تراجم میں سلاست اور روانی ہے، مشکل اور دقیق مقامات کو بڑی خوبی اور مہارت سے ام فہم بنا دیتے ہیں۔
چونکہ آپ کے محبوب مصنفین حضرت امام ابنِ تیمیہؒ، علامہ ابنِ قیمؒ، حضرت شاہ ولی اللہ محدثِ دہلویؒ، حضرت مجدد الف ثانیؒ اور علامہ طنطاویؒ جوہری تھے اس لئے انہی کی اکثر کتابوں کا آپ نے ترجمہ کیا۔ تراجم کے علاوہ آپ نے عربی زبان کی ایک لغت (ڈکشنری) اور ایک عربی گرائمر بھی تصنیف فرمائی۔ عربی زبان کے نئے سیکھنے والوں کے لئے آپ نے ایک سلسلہ ’’صحائفِ اربعہ‘‘ کا تالیف فرمایا جس میں براہِ راست عربی سکھانے کی ایک کامیاب کوشش کی گئی ہے۔
تصنیفی خدمات:
1.       لباب المعارف العلمیہ فی مکتبۃ دار العلوم الاسلامیہ، پشاور
2.       روء الاخوان۔ یہ عربی زبان کے متداول اور کثیر الاستعمال الفاظ کی ڈکشنری (لغت) ہے۔ جس میں غرائب القرآن اور اس کے محاورات کا خصوصیت سے التزام کیا گیا ہے۔ یہ قلمی ہے اور اسلامیہ کالج کی لائبریری میں موجود ہے۔
3.       میزان اللسان (عربی، قلمی) نحو کی عام فہم اور سہل کتاب۔
4.       صحائفِ اربعہ۔
تراجم:
1.       حجۃ اللہ البالغہ۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدثِ دہلویؒ کی شہرۂ آفاق عربی کتاب کا آپ نے رواں دواں اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ اس کے دو حصے ہیں۔ حصہ اول و دوم۔ قومی کتب خانہ لاہور نے اسے طبع کروایا ہے۔ پہلے حصے کی قیمت 18 روپے اور دوسرے کی 22 روپے ہے۔
اس سے اس کی ضخامت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ میرے ہاتھ میں اس وقت طبع دوم ہے جو 1962ء میں منصۂ شہود پر آئی۔
ترجمہ کے آغاز میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کی مختصر سوانح بھی لکھی ہے جو 69 صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔
2.       مکتوباتِ امامِ ربانی کا آپ نے اردو زبان میں ترجمہ کیا ہے اور کتاب کے شروع میں امامِ ربّانی حضرت مجدّد الف ثانیؒ کی سوانح بھی لکھی ہے۔ یہ مطبوعہ ہے۔
3.       مقالات و حالات سیدّ جمال الدین افغانیؒ۔ یہ بھی مطبوعہ ہے۔
4.       جواھر العلوم۔ علامہ طنطاوی جوہری کی تصنیف ہے۔ اس کا آپ نے ترجمہ کیا ہے۔ قومی کتب خانہ لاہور نے اسے شائع کیا ہے۔ قیمت 50/6 ہے۔
5.       جامع الآداب۔ مصر کے ایک ممتاز عالم کی شہرٔ آفاق تصنیف ’’آداب الفتیٰ‘‘‘ کا سلیس اور بامحاورہ ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں ان تمام آداب کا ذِکر ہے جن سے سیرت و کردار کو سنوارنے میں مدد ملتی ہے۔ 1966ء میں قومی کتب خانہ لاہور نے اسے دوسری بار چھاپا۔ اس کے 168 صفحات ہیں۔
6.       تراجم تصانیف۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ۔ ولی اللہ، فتویٰ شرک شکن، خلاف الامۃ، مناسکِ حج اور تفسیر آیت کریمہ۔ مطبوعہ الہلال بک ایجنسی شیرانوالہ گیٹ، لاہور۔
7.       تراجم تصانیفِ علامہ ابن قیمؒ۔ اسلامی تصوف۔ تفسیر الموذتین۔ مطبوعہ الہلال بک ایجنسی لاہور۔
8.       تراجم تصانیفِ شاہ ولی اللہؒ! خیر کثیر، البدور البازغہ، تفہیماتِ الٰہیہ، معارف الدینیہ، حق الیقین کتابستان کمپنی بمبئی میں طبع ہوئے۔
9.       نجدد حجاز۔ علامہ رشید رضا مصری کی کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔ طبع ہو چکا ہے۔
10.   نثر اللاٰلی۔ حضرت علی کے اقوال کا پشتو ترجمہ ہے۔ اس کا آپ نے اردو میں بھی ترجمہ کیا تھا لیکن ہنوز طبع نہیں ہوا۔
11.   اسلام اور کمیونزم۔ پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ خان کے ایک انگریزی مقالے کا پشتو میں ترجمہ کیا۔ یہ بھی مطبوعہ ہے۔
12.   سیرت النبی (پشتو) یہ ایک عربی رسالے کا ترجمہ ہے جو کہ رسالہ ’’پشتو‘‘ کا بل میں 1932ء کے سال میں 11 قسطوں میں شائع ہوا۔ (ج 1 شمارہ 5 تا ج 2 شمارہ 4)
13.   علامہ طنطاوی کی ’’تفسیر الجواہر‘‘ کا اردو میں ترجمہ شروع کر رکھا تھا اور جلد 2 تا 5 کا ترجمہ مکمل کر چکے تھے کہ زندگی نے اور مہلت نہ دی۔ یہ غیر مطبوعہ ہے اور آپ کے فرزندوں کی تحویل میں ہے۔
14.   کتابستان بمبئی کے لئے ’’قوتِ ارادی‘‘ کے موضوع پر ایک انگریزی کتاب کا ترجمہ کیا۔ یہ چھپ نہ سکا۔ ان کے علاوہ مختلف مجلّات میں وقتاً فوقتاً آپ کے علمی مضامین اور تراجم اکثر شائع ہوتے رہتے تھے۔
تدریسی خدمات:
آپ 1913ء سے 1943ء تک برابر تیس سال اسلامیہ کالج پشاور میں عربی اور پشتو پڑھاتے رہے اسی دوران 1930ء میں حج بیت اللہ کی سعادت سے بھی بہرہ یاب ہوئے۔
1947ء میں دوبارہ لائبریری کی نگرانی کے لئے متعین کیے گئے اور خاص طور پر قلمی نسخوں اور نادر کتب کی نگہداشت آپ کے سپرد کی گئی۔ جون 1950ء میں اس فریضہ کی ادائیگی سے سبکدوش کر دیئے گئے۔ اسلامیہ کالج لائبریری سے فراغت پانے کے بعد، بھانہ ماڑی پشاور شہر کے صاحبزادہ فضلِ صمدانی صاحب کی دعوت پر ان کے کتب خانہ کی فہرست وغیرہ تیار کرنے کے سلسلہ میں ٹھہر گئے۔ اس علمی شغل میں مصروف تھے کہ تین دن کی مختصر سی علالت کے بعد 6 ذی الحجہ 1369ء مطابق ستمبر 1950ء کو تقریباً 11 بجے صبح خالقِ حقیقی سے جا ملے اور وصیت کے مطابق اسلامیہ کالج پشاور کے قبرسان میں دفن کئے گئے۔
آپ کی ذاتِ گرامی بہت فیض رساں تھی۔ بہتوں  نے آپ سے بہت کچھ حاصل کیا اور بہت سے اب بھی آپ کی تصنیفات سے بہت کچھ حاصل کر رہے ہیں۔
آپ کی تصنیفی خدمات پر نظر ڈالیے اور پھر تدریسی خدمات کا اندازہ لگائیے۔ اس سے صاف معلوم ہو گا آپ نے کس قدر مصروف زندگی گزاری ہے۔ آپ کو مطالعہ اور تصنیف و تالیف سے حد درجہ شغف تھا۔ ان کی ایک ذاتی ڈٓئری میں لکھا ہوا ایک شعر ان کے اس میلانِ طبع کی کتنی صحیح عکاسی کرتا ہے۔                            ؎
ہمارا کام کیا دُنیا سے، مکتب ہے وطن اپنا
چلیں گے جب کہ دنیا سے ورق ہوں گے کفن اپنا
تاریخِ وصال آپ کے فرزند ڈاکٹر محمد اسماعیل محمودی نے کہی:
آں بزرگِ ما بحق واصل شدہ، حقا مگر
کیفِ ما با قیست، مے ریزد کہ جامِ ما شکست                530
خستہ محمودیؔ! بگو تاریخِ وصلِ اُو کہ وائے
والدیم عبد الرحیم از عالم دنیا برفت        532
69           ھ              13
آپ علمائے اہل حدیث میں سے ایک ممتاز عالم تھے۔
اولاد:
آپ کے دو صاحبزادے مولوی محمد اسحاق صاحب اور جناب ڈاکر محمد اسماعیل محمودیؔ ہیں۔ تین صاحبزادیاں تھیں۔ جن میں سے دو اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ ایک بقیدِ حیات ہیں۔ آپ کے نواسے عالم بھی ہیں اور حافظ بھی۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کی اولاد کو پورے طور پر ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔ آمین۔
گزشتہ سے پیوستہ
برادران یو سف كى فداكا رى كیوں  قبول نہ ہوئی
بھا ئیوں  نے دیكھا كہ ان كے چھوٹے بھائی بنیامین كو اس قانون كے مطابق عزیز مصر كے پاس رہنا پڑے گا جسے وہ خو د قبول كر چكے ہیں  اور دوسرى طرف انہوں  نے باپ سے پیمان باند ھا تھا كہ بنیامین كى حفاظت اور اسے واپس لانے كے لئے اپنى پورى كو شش كریں  گے ایسے میں  انہوں  نے یوسف كى طرف رخ كیا جسے ابھى تك انہوں  نے پہچانا نہیں  تھا اور كہا : ”اے عزیز مصر : اے بزر گور صاحب اقتدار : اس كا باپ بہت بوڑھا ہے اور وہ اس كى جدا ئی كو برداشت كر نے كى طاقت نہیں  ركھتا ہم نے آپ كے اصرار پر اسے باپ سے جدا كیا اور باپ نے ہم سے تاكید ى وعدہ لیا كہ ہم ہر قیمت پر اسے واپس لائیں  گے اب ہم پر احسان كیجئے اور اس كے بدلے میں  ہم میں  سے كسى ایك كو ركھ لیجئے ، ”كیونكہ دیكھ رہے ہیں  كہ آپ نیكوكاروں  میں  سے ہیں  ”۔ ( سورہ یوسف آیت 78)
اور یہ پہلا مو قع نہیں  كہ آپ نے ہم پر لطف وكرم اور مہرومحبت كى ہے ، مہر بانى كر كے اپنى كر م نوازیوں  كى تكمیل كیجئے ۔
حضرت یو سف علیہ السلام نے اس تجویز كى شدت سے نفى كى ”اور كہا :پناہ بخدا : یہ كیسے ہو سكتا ہے كہ جس كے پاس سے ہمارا مال ومتا ع برآمد ہوا ہے ہم اس كے علاوہ كسى شخص كو ركھ لیں  ”كبھى تم نے سنا ہے كہ ایك منصف مزاج شخص نے كسى بے گناہ كو دوسرے كے جرم میں  سزا دى ہو ۔
(سورہ یوسف آیت 79)” اگر ہم ایسا كریں  تو یقینا ہم ظالم ہوں  گے”۔ (سورہ یوسف آیت 79) یہ امر قابل توجہ ہے كہ حضرت یوسف نے اپنى اس گفتگو میں  بھائی كى طرف چورى كى كوئی نسبت نہیں  دى بلكہ كہتے ہیں  كہ ”جس شخص كے پاس سے ہمیں  ہمارامال ومتا ع ملا ہے ”اور یہ اس امر كى دلیل ہے كہ وہ اس امر كى طرف سنجید گى سے متوجہ تھے كہ اپنى پورى زندگى میں  كبھى كوئی غلط بات نہ كریں  ۔
بھا ئی سر جھكا ئے باپ كے پاس پہنچے
بھا ئیوں  نے بنیا مین كى رہائی كے لئے اپنى آخرى كو شش كرڈالى لیكن انہوں  نے اپنے سا منے راستے بند پا ئے ایك طرف تو اس كام كو كچھ اس طرح سے انجام دیا گیا تھا كہ ظاہرا بھائی كى برائت ممكن نہ تھى اور دوسرى طرف عزیز مصر نے اس كى جگہ كسى اور فرد كو ركھنے كى تجویز قبول نہ كى لہذا وہ مایو س ہوگئے یو ں  انہوں  نے كنعان كى طرف لوٹ جا نے اور باپ سے سارا ماجر ا بیان كر نے كا ارادہ كر لیا قرآن كہتا ہے : ”جس وقت وہ عزیز مصر سے یا بھائی كى نجات سے مایوس ہو گئے ،تو ایك طرف كو آئے دوسروں  سے الگ ہو گئے اور سر گوشى كرنے لگے” ۔ ( سورہ یوسف آیت 80)
بہر حال سب سے بڑے بھا ئی نے اس خصوصى میٹنگ میں  ان سے” كہا : كیا تم جا نتے نہیں  ہو كہ تمہارے باپ نے تم سے الہى پیمان لیا ہے كہ بنیامین كو ہر ممكنہ صورت میں  ہم واپس لائیں  گے ”۔
( سورہ یوسف آیت 80) ” اور تمہیں  نے اس سے پہلے بھى یو سف كے بارے میں  كو تا ہى كى ”اور باپ كے نزدیك تمہارا گزشتہ كر داربرا ہے”۔ (سورہ یوسف آیت 80)
”اب جبكہ معاملہ یو ں ہے تو میں  اپنى جگہ سے
( یاسر زمین مصر سے ) نہیں  جائوں  گا اور یہیں  پڑائو ڈالوں  گا ، مگر یہ كہ میر ا باپ مجھے اجازت دے دے یا خدا میرے متعلق كو ئی فرمان صادر كرے جو كہ بہتر ین حاكم وفرماں  روا ہے” ۔ ( سورہ یوسف آیت 80)
پھر بڑے بھا ئی نے دوسرے بھائیوں  كو حكم دیا كہ ”تم باپ كے پاس لوٹ جائو اور كہو : اباجان آپ كے بیٹے نے چورى كى ہے ، اور یہ جو ہم گواہى دے رہے ہیں  اتنى ہى ہے جتنا ہمیں  علم ہوا ہے” ۔
( سورہ یوسف آیت 81)بس ہم نے اتنا دیكھا كہ بادشا ہ كا پیمانہ ہمارے بھائی كے بار سے برآمد ہو ا جس سے ظاہر ہو تا تھا كہ اس نے چورى كى ہے، باقى رہا امر باطن تو وہ خدا جانتا ہے ،” اور ہمیں  غیب كى خبر نہیں  ” ۔ ( سورہ یوسف آیت 81)
ممكن ہے یہ احتمال بھى ہے كہ بھیا ئیوں  كا مقصد یہ ہو كہ وہ باپ سے كہیں  كہ اگر ہم نے تیرے پاس گواہى دى اور عہد كیا كہ ہم بھائی كو لے جائیں  گے اور واپس لے آئیں  گے تو یہ اس بناء پر تھا كہ ہم اس كے باطن سے باخبر نہ تھے اور غیب سے آگاہ نہ تھے كہ اس كا انجام یہ ہوگا ،پھر اس بناء پر كہ باپ سے ہر طرح كى بدگمانى دور كریں  اور اسے مطمئن كریں  كہ ماجر ا اسى طرح ہے نہ اس سے كم اور نہ اس سے زیادہ ، انہوں  نے كہا:”مزید تحقیق كے لئے اس شہر سے سوال كر لیں  جس میں  ہم تھے ،اسى طرح اس قافلہ سے پوچھ لیں ”۔
( سورہ یوسف آیت 82)
بہرحال ”آپ مطمئن رہیں  كہ ہم اپنى بات میں  سچے ہیں  اور حقیقت كے سواكچھ نہیں  كہتے”۔
( سورہ یوسف آیت 82)اس سارى گفتگو سے معلوم ہو تا ہے كہ بنیا مین كى چورى كا واقعہ مصر میں  مشہور ہو چكا تھا یہ بات شہرت پاچكى تھى كہ كنعان سے ایك قافلہ یہاں  آیا ہے اس میں  سے ایك شخص بادشاہ كا پیمانہ اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا بادشاہ كے مامور ین بروقت پہنچ گئے اور انہوں  نے اس شخص كو روك لیا ،شاید بھائیوں  نے جویہ كہا كہ مصر كے علاقے سے پو چھ لیں  یہ اس طرف كنایہ ہو كہ یہ واقعہ اس قدر مشہور ہو چكا ہے كہ درو دیوار كو اس كا علم ہے ۔
میں  وہ الطاف الہى جانتا ہوں  جو تم نہیں  جانتے
بھائی مصر سے چل پڑے سب سے بڑے اور سب سے چھوٹے بھائی كو وہاں  چھوڑآئے اور پریشان وغم زدہ كنعان پہنچے باپ كى خدمت میں  حاضر ہوئے اس سفر سے واپسى پر باپ نے جب گز شتہ سفر كے برعكس واندوہ كے اثار ان كے چہروں  پر دیكھے تو سمجھ گئے كہ كوئی ناگوار خبر لائے ہیں  خصوصاً جب كہ بنیا مین اور سب سے بڑا بھائی ان كے ہمرا ہ نہ تھا جب بھائیوں  نے بغیر كسى كمى بیشى كے سارى آپ بیتى كہہ دى تو یعقوب بہت حیران ہوئے اور ان كى طرف رخ كر كے كہنے لگے :” تمہارى نفسا نى خواہشات نے یہ معاملہ تمہارے سامنے اس طرح سے پیش كیا ہے اور اسے اس طرح سے مزین كیاہے ” ۔ ( سورہ یوسف آیت 83)
اس كے بعد یعقوب اپنى جانب متوجہ ہوئے اور ”كہنے لگے كہ میں  صبر كا دامن اپنے ہاتھ سے نہیں  چھوڑوں  گا” اور میں  اچھا صبر كروں  گا كہ جو كفر ان سے خالى ہو۔ ”(سورہ یوسف آیت 83)
”مجھے امید ہے كہ خدا ان سب كو ( یو سف ، بنیامین اور میرے بڑے بیٹے كو ) میرى طرف پلٹا دے گا” ۔ ( سورہ یوسف آیت 83)كیونكہ میں  جانتاہوں  كہ ”وہ ان سب كے دل كى داخلى كیفیات سے باخبر ہے ، اس كے علاوہ، وہ حكیم بھى ہے ،”اور وہ كوئی كا م بغیر كسى حساب كتاب كے نہیں  كر تا۔ ”(سورہ یوسف آیت 83)
اس وقت یعقوب رنج وغم میں  ڈوب گئے بنیامین كہ ان كے دل كى ڈھارس تھا واپس نہ آیا تو انہیں  اپنے پیارے یو سف كى یاد آگئی انہیں  خیال آیا كہ اے كا ش آج وہ آبرومند ، باایمان اور حسین وجمیل بیٹا ان كى آغوش میں  ہو تا اور اس كى پیار ى خو شبو ہر لمحہ باپ كو ایك حیات نو بخشتى لیكن آج نہ صرف یہ كہ اس كا نام و نشان نہیں  بلكہ اس كا جانشین بنیا مین بھى اس كى طرح ایك درد ناك معاملے میں  گر فتا ر ہو گیا ہے ”اس وقت انہوں  نے اپنے بیٹوں  سے رخ پھیر لیا اور كہا : ہائے یو سف ”۔ ( سورہ یوسف آیت 84) 

مدین كے تباہ كاروں كا انجام

گزشتہ اقوام كى سرگزشت كے بارے میں قرآن مجید میں ہم نے بارہا پڑھا ہے كہ پہلے مرحلے میں انبیاء انہیں خدا كى طرف دعوت دینے كے لیے قیام كرتے تھے اور ہر طرح سے تعلیم و تربیت اور پند ونصیحت میں كوئی گنجائش  نہیں چھوڑتے تھے۔دوسرے مرحلے میں جب ایك گروہ پر پند و نصائح كا كوئی اثر نہ ہوتا تو انہیں عذاب الہى سے ڈراتے تاكہ وہ آخرى افراد تسلیم حق ہوجائیں جو قبولیت كى اہلیت ركھتے ہیں اور راہ خدا كى طرف پلٹ آئیں نیز اتمام حجت ہو جائے۔
تیسرے مرحلے میں جب ان پركوئی چیز مو ثر نہ ہوتى تو روئے زمین كى ستھرائی اور پاك سازى كر لیے سنت الہى كے مطابق عذاب آجاتا اور راستے كے ان كانٹوں كو دور كردیتا ۔
قوم شعیب علیہ السلام یعنى اہل مدین كا بھى آخر كار مرحلہ انجام آپہنچا_چنانچہ قرآن كہتا ہے: ”جب
(اس گمراہ، ظالم اور ہٹ دھرم قوم كو عذاب دیئے جانے كے بارے میں ) ہمارا فرمان آپہنچا تو ہم نے شعیب علیہ السلام اور اس پر ایمان لانے والوں كو اپنى رحمت كى بركت سے نجات دی_”(سورہ ھودآیت94)”پھر آسمانى پكار اور مرگ آفریں عظیم صیحہ نے ظالموں اور ستمگروں كو اپنى گرفت میں لے لیا_”(سورہ ھودآیت94)
جیسا كہ ہم كہہ چكے ہیں _”صیحہ” ہرقسم كى عظیم آواز اور پكار كے معنى میں ہے، قرآن نے بعض قوموں كى نابودى صیحہ آسمانى كے ذریعے بتائی ہے۔یہ صیحہ احتمالاًصاعقہ كے ذریعے یا اس كى مانند ہوتى ہے اور جیسا كہ ہم نے قوم ثمود كى داستان میں بیان كیا ہے كہ صوتى امواج بعض اوقات اس قدر قوى ہوسكتى ہیں كہ ایك گروہ كى موت كا سبب بن جائیں ۔
اس كے بعد فرمایا گیا ہے:”اس آسمانى صیحہ كے اثر سے قوم شعیب كے لوگ اپنے گھروں میں منہ كے بل جاگرے اور مرگئے اور ان كے بے جان جسم درس عبرت بنے ہو ایك مدت تك وہیں پڑے رہے”_
( سورہ ھودآیت94)
ان كى زندگى كى كتاب اس طرح بندكردى گئی كہ ”گویا كبھى وہ اس سرزمین كے ساكن ہى نہ تھے”۔
سات روز تك شدت كى گرمى پڑى اور ہوا بالكل نہ چلی، اس كے بعد اچانك آسمان پر بادل آئے، ہوا چلى ان كو گھروں سے نكال پھینكا، گرمى كى وجہ سے بادل كے سایہ كے نیچے چلے گئے۔
اس وقت صاعقہ موت كا پیغام لے كر آئی خطرناك آواز، آگ كى بارش اور زمین میں زلزلہ آگیا، اس طرح وہ سب نابود ہوگئے۔
وہ تمام دولت وثروت كہ جس كى خاطر انہوں نے گناہ اور ظلم و ستم كیے نابود ہوگئی۔انكى زمینیں اور زرق برق زندگى ختم ہوگئی اور ان كا شور وغو غا خاموش ہوگیا اور آخر كار جیسا كہ قوم عادوثمود كى داستان كے آخر میں بیان ہوا ہے فرمایا گیا ہے:دورہو سرزمین مدین لطف و رحمت پروردگار سے جیسے كہ قوم ثمود دور ہوئی_
( سورہ ھود آیت 95)
”واضح ہے كہ یہاں ”مدین”سے مراد اہل مدین ہیں جو رحمت خدا سے دور ہوئے”۔

ختم شد
گھر سے نکلنے سے قبل اپنے طور پر نکلنے کی تیاری کرنی چاہیے، کام پر جانے کے لیے اگر خاص لباس ہو تو اسے زیب تن کر لے، لباس کے لیے شریعت میں کوئی خاص وضع قطع مطلوب نہیں ہے، البتہ چند ضروری ہدایات ہیں جن کی رعایت کرنی چاہیے۔
جو لباس عورت کے لیے خاص ہو اسے مرد کو نہیں پہننا چاہیے، اور جو مرد کے لیے خاص ہو اسے عورت کو نہیں پہننا چاہیے۔
جو لباس کسی قوم کے لیے مذہبی شعار کی حیثیت حاصل کر چکا ہو اور ہمارے د ین میں اس کے حلال ہونے کی صریح دلیل نہ ہو تو اس طرح کا لباس استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے غیر مسلم کی مشابہت لازم آتی ہے جس سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔
لباس اتنا باریک یا تنگ نہ ہو جس سے ستر پوشی کا مقصد فوت ہو جاتا ہو، بلکہ مزید فتنہ کا سبب بنتا ہو۔
مردوں کے لباس میں ایک اور بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ وہ ٹخنوں سے نیچے نہ ہو۔
عورتوں کے لباس میں اس کے سر پر دوپٹہ یا خمار ضرور ہونا چاہیے جس سے اپنے سر اور گریبان کو ڈھانک لے تاکہ فتنہ کا سبب نہ بنے۔
اسی طرح عورت اگر عام جگہوں کے لیے نکل رہی ہے تو اپنے چہرہ پر نقاب بھی ڈال لے۔
عورت ہی کے لیے ایک اور بات قابل لحاظ ہے وہ یہ ہے کہ جب وہ گھر سے باہر نکلے تو خوشبو لگا کر اور آواز پیدا کرنے والے زیورات پہن کر نہ نکلے۔

بلوچستان ،یا بلوچوں کا ملک روئے سزمین کے اس حصے کو گھیرے ہوئے ہے جو24.50تا30.40عرض بلد شمالی اور 58.55تا67.30طول بلد مشرقی کے درمیان واقع ہے۔اس کے علاوہ اس کے ایک دو صوبے مشرق و مگرب کے طرف اتنی دور تک پھیلے ہوئے ہیں کہ ان کے صحیح حدود طول بلد بتعین نہیں کئے جا سکتے، جب تک کہ میں ان دونوں کو علیحٰدہ علیحٰدہ بیان نہ کروں۔یہ سارا بسیط علاقہ کسی وقت خان قلات کے والد نصیر خان کی مملکت تھا جو اسے ایرانی فاتح نادر شاہ نے 1739؁میں عطا کیا تھا، اور اسے بیگلر بیگ بلوچستان کا لقب بھی دیا تھا ۔اسی عطیے کی سند پر میں نے اس عمومی اصطلاح سے فائدہ اٹھایا ہے۔
(لیفٹینینٹ ہنری پوٹنگر کے1816؁میں لکھے گئے “سفر نامہ بلوچستان اور سندھ”سے اقتباس)


Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

علمائے حق لائبریری

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: +923329425365)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Nothing, just mere reflections of surroundings.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Maha Kamal

Scribbles, of all shapes and sizes

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 138 other followers

%d bloggers like this: