Archive

اگست 2012 :ماہانہ محفوظ تحاریر

امام مالک رحمۃ علیہ
مالک بن انس بن مالک بن عمر (93ھ – 197ھ) مسلمانوں میں “امام مالک” اور “شیخ الاسلام” کے نام سے جانے جاتے ہیں۔ اہل سنت کی نظر میں وہ فقہ کے مستند ترین علماء میں سے ایک ہیں۔ امام شافعی ، جو نو برس تک امام مالک کے شاگرد رہے اور خود بھی ایک بہت بڑے عالم تھے ، نے ایک بار کہا کہ “علماء میں مالک ایک دمکتے ہوئے ستارے کی مانند ہیں”۔ فقہ مالکی اہل سنت کے ان چار مسالک میں سے ایک ہے جس کے پیروان آج بھی بڑی تعداد میں ہیں۔
آپ کے زمانہ میں بغداد میں عباسی خلفاء حکمران تھے۔ جس زمانہ میں امام ابو حنیفہ کوفہ میں تھے قریب قریب اسی زمانہ میں امام مالک مدینہ منورہ میں تھے۔ مدینہ شریف میں رہنے کی وجہ سے اپنے زمانے میں حدیث کے سب سے بڑے عالم تھے۔ انہوں نے حدیث کا ایک مجموعہ تالیف کیا جس کا نام (موطا) تھا۔ امام مالک عشق رسول اور حب اہل بیت میں اس حد تک سرشار تھے کہ ساری عمر مدینہ منورہ میں بطریق احتیاط و ادب ننگے پاؤں پھرتے گزار دی ۔
وہ بڑے دیانتدار اصول کے پکے اور مروت کرنے والے تھے۔ جو کوئی بھی انہیں تحفہ یا ہدیہ پیش کرتا وہ اسے لوگوں میں بانٹ دیتے۔ حق کی حمایت میں قید و بند اور کوڑے کھانے سے بھی دریغ نہ کیا۔ مسئلہ خلق قرآن میں مامون الرشید اور اس کے جانشین نے آپ پر بے پناہ تشدد کیا لیکن آپ نے اپنی رائے تبدیل کرنے سے انکار کر دیا۔ ہارون الرشید نے ان سے درخواست کی کہ ان کے دونوں بیٹوں امین و مامون کو محل میں آکر حدیث پڑھا دیں مگر آپ نے صاف انکار کر دیا۔ مجبوراَ ہارون کو اپنے بیٹوں کو ان کے ہاں پڑھنے کے لیے بھیجنا پڑا۔ فقہ مالکی کا زیادہ رواج مغربی افریقہ اور اندلس میں ہوا۔ امام مالک کو امام ابو حنیفہ اور امام جعفر صادق سے بھی علم حاصل کرنے کا شرف حاصل ہوا۔
فقہ مالکی
شریعت اسلامی کی اصطلاح میں امام مالک کی فقہ پر عمل کرنے والے مسلمان مالکی کہلاتے ہیں۔
موطاء امام مالک
موطاء امام مالک حدیث کی ایک ابتدائی کتاب ہے جو مشہور سنی عالم دین مالک بن انس بن مالک بن عمر (93ھ – 197ھ) نے تصنیف کی۔ انہی کی وجہ سے مسلمانوں کا طبقہ فقہ مالکی کہلاتا ہے جو اہل سنت کے ان چار مسالک میں سے ایک ہے جس کے پیروان آج بھی بڑی تعداد میں ہیں۔
موطا کےمصنف کا پورانام یہ ہے ابوعبداللہ مالک بن انس بن ابی عامرالاصبحی الحمیری ہے۔(۱) اپ کی تاریخ ولادت میں ۹۰ھ سے ۹۷ھ تک کے مختلف اقوال ہیں۔ امام ذہبی نے یحیی بن کثیرکے قول کو اصح قراردیاہے جس کے مطابق اپ کی ولادت ۹۳ھ میں ہوءی ہے۔ جبکہ اپ کی وفات ربیع؁ الاول؁۱۷۹ھ کومدنیہ منورہ میں ہوءی امام مالک فقہ اورحدیث مین اھل حجاز بلکہ پوری ملت اسلامیہ کے امام ہیں۔ اپ کی کتاب “الموطا” حدیث کے متداول اور معروف مجموعوں میں سب سے قدیم ترین مجموعہ ہے۔موطاسے پہلے بھی احادیث کے کی مجموعے تیار ہوءے اور ان میں سے کيی ایک اج موجود بھی ہیں لیکن وہ مقبول اورمتداول نہیں ہیں۔ موطاکے لفظی معنی ہے، وہ راستہ جس کو لوگوں نے پےدرپے چل کر اتناہموارکردیاہو کہ بعد میں انے والوں کے لیےاسپرچلنااسان ہوگیاہو۔ جمہور علماء نے موطاکو طبقات کتب حدیث میں طبقہ اولی میں شمار کیاہے امام شافعی فرماتے ہیں”ماعلی ظہرالارض کتاب بعد کتاب اللہ اصح من کتاب مالک” کہ میں نے روءے زمین پر موطاامام مالک سے زیادہ کوءی صحیح کتاب (کتاب اللہ کے بعد)نہیں دیکھی ۔ حضرت شاہ ولی اللہ موطاکے بارے میں لکھتے ہیں” فقہ میں موطا امام مالک سےزیادہ کوءی مضبوط کتاب موجود نہیں ہے” موطا میں احادیث کی تعداد کے بارے میں کءی روایات ہیں، اور اس اختلاف کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ امام مالک نے اپنی روایات کی تہذیب اورتنقیح برابر جاری رکھی لہذا مختلف اوفات میں احادیث کی تعداد مختلف رہی۔

مدینہ منورہ کو بہت مقام حاصل ہے یہی وہ شہر ہے جہاں پر وجہہ کائنات سرور کائنات آقائے نامدار رحمتہ للعالمین جناب نبی کریم ﷺ آرام فرما ہیں۔ يہ شہر کوئی عام شہر نہیں ہے یہی وہ ”بلد حبیب“ ہے کہ جس کا اونچا نصیب ہے، یہاں دن رات فرشتوں کی جماعتیں اترتی ہیں اور اﷲ کے محبوب ﷺ پر درودسلام کے تحائف نچاور کرتی ہیں۔يہ شہر عاشقوں کی مرکز نگاہ ہے، یہاں جانے،جینے کا، مرنے کا، رونے کا، ہنسے کا اپنا مزہ ہے …….. تبھی تو حضرت امام مالک بن انس رحمہ اﷲ کو یہاں دفن ہونے اتنی شدید خواہش تھی کہ اس شہر سے کسی صورت نکلنا گوارہ نہیں کرتے تھے۔
مدینہ منورہ میں ایمان کے ساتھ مرنے کے بعد جنت البقیع میں دفن ہونا بہت بڑی نعمت ہیں،جہاں حضور ﷺ کے اہل بیت مدفون ہیں،یعنی حضرت عباس رضی اﷲ عنہ، حضرت حسن رضی اﷲعنہ، حضور اکرم ﷺ کی صاحبزدایاں حضرت زنیب، حضرت ام کلثوم، حضرت رقیہ اور حضرت فاطمہ رضی اﷲ عنہن اور حضور صلی اﷲعلیہ وسلم کی تین پھوپھیاں اور حضور ﷺ کے صاحبزادے حضرت ابراہیم آرام فرما ہیں، اور تیسرے خلیفہ راشد حضرت عثمان بن عفا ن رضی اﷲ عنہ، دس ہزار صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم، بے شمار تابعین، تبع تابعین اور لاتعداد علما، صلحا، شہدا اور اولیاءکرام رحمہم اﷲ مدفون ہیں۔
مدینہ منورہ اور جنت البقیع کے فضائل
حضرت ابوہریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے ارشاد فرمایا ”مجھے ايک ایسی بستی کی طرف ہجرت کا حکم دیا گیا ہے جوتمام بستوں پر غالب رہی ہے اور اس بستی کو لوگ یثرب کہتے تھے اب وہ مدینہ ہے جو برے آدمیوں کو اس طرح نکال دیتا ہے جس طرح بھٹی لوہے کے میل کچیل کو نکال دیتی ہے۔ (بخاری ومسلم)
حضرت ابن عمررضی اﷲ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مدینہ میں مر سکتاہوا اسے مدینہ میں مرنا چاہےے کیونکہ جو شخص مدینہ میں مرے گا میں اس کی شفاعت کروں گا۔ احمد وترمذی
حضرت عبداﷲ بن عمر رضی اﷲعنہ سے روایت ہے کہ رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا:قیامت کے دن سب سے پہلے میری قبر شق ہوگی۔ میں اس سے نکلوں گا۔ پھر ابوبکر رضی اﷲ عنہ اپنی قبر سے نکلیں گے پھر عمررضی اﷲ عنہ، پھر جنت البقیع میں جاؤں گا ،وہاں جتنے مدفون ہیں ان کو اپنے ساتھ لوں گا،پھر مکہ مکرمہ کے قبرستان والوں کا انتظار کروں گا وہ مکہ مکرمہ اور مدینہ منورہ کے درمیان آکر مجھ سے ملیں گے۔ ترمذی
 
جاہلیت میں ان کا لقب اُمِّ المساکین تھا، ان کا پہلا نکاح طفیل سے ، دوسرا عبیدہ سے اور تیسرا نکاح عبد اللہ بن حجش سے ہوا جو امِّ المٔومنین زینب رضی اللہ تعالیٰ عنہا بنتِ حجش کے بھائی ہیں جنگِ اُحد میں وہ شہید ہوگئے تو حضورِ اقد س ﷺ نے ان سے نکاح کر لیا، نکاح کے بعد صرف دو یا تین مہینے زندہ رہیں ۔
ولادت:
آپ 26؍ شوال المکرم 1292ھ (ستمبر 1875ء) میں کُلاچی ضلع ڈیرہ اسماعیل خاں میں مولوی محمد نعیم صاحب کے ہاں پیدا ہوئے۔ آپ کے والد ایک اوسط درجے کے عالم تھے جو درس و تدریس کے علاوہ حصولِ معاش کی خاطر جلد سازی اور نقاشی کا کام کرتے تھے، ان کے جدِّ امجد حافظ محمود صاحب بھی اہلِ علم میں شمار ہوتے تھے۔
ابتدائی تعلیم:
آپ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد صاحب سے حاصل کی، پھر مولانا صدر الدین صاحب، مولانا قاضی عبد المجید صاحب اور مولانا غلام رسول صاحب سے علمی استفادہ کیا۔ علمِ حدیث کی تحصیل آپ نے مولانا داؤد صاحب سے کی، اسی دوران میں آپ نے قرآنِ پاک بھی حفظ کر لیا۔
تحصیل علم کے بعد آپ امرتسر تشریف لے گئے اور وہاں اخبار ’’وکیل‘‘ کے سب ایڈیٹر (مدیر معاون) مقرر ہوئے۔ 1911ء میں آپ نے مدیر معاون کی حیثیت سے ’وکیل‘ میں کام کیا۔ 1912ءمیں امرت سر سے لاہور آگئے اور مشہور اخبار ’’زمیندار‘‘ میں مترجم کی حیثیت سے کام کرنا شروع کر دیا۔ انہی دنوں آپ نے مولوی فاضل اور منشی فاضل کے امتحانات امتیاز کے ساتھ پنجاب یونیورسٹی سے پاس کر لئے۔ اسی ملازمت کے دوران آپ کو مولانا ظفر علی خاں اور مولانا ابو الکلام آزادؔ صاحب کے ساتھ (ادارۂ زمیندار میں) کام کرنے کا موقع ملا۔ مولانا آزادؒ آپ کی استعداد، ذہانت اور محنت سے اس قدر متاثر ہوئے کہ جب انہوں نے کلکتہ سے ’’الہلال‘‘ جاری کیا تو آپ کو اس کے ادارہ میں شرکت کی خصوصی دعوت دی اور کافی اصرار کیا لیکن بعض ناگزیر وجوہات کی وجہ سے آپ اس پرخلوص دعوت کو قبول کرنے سے معذور رہے۔
1913ء میں جب ’’سر سیدِ سرحد‘‘ جناب صاحبزادہ عبد القیوم صاحب کو اسلامیہ کالچ پشاور کے عظیم کتب خانہ کی ترتیب و نگرانی کے لئے کسی موزوں شخصیت کی ضرورت محسوس ہوئی تو ان کی نگاہِ انتخاب آپ پر پڑی، چنانچہ انہوں نے پہلے ایک خط کے ذریعے اس عظیم ذمہ داری کو قبول کرنے کی دعوت دی اور بعد ازاں بذریعہ تار آپ کو بلا لیا۔ پھر یہی لائبریری جسے ’’مکتبہ علوم شرقیہ دار العلوم الاسلامیہ‘‘ پشاور کے نام سے یاد کیا جاتا ہے آپ کی توجہ کا مرکز بن گئی۔ آپ نے اس قدر خلوص، محنت اور جانفشانی سے اس ذخیرۂ کتب کی نگہداشت کی کہ پانچ سال کے قلیل عرصہ میں ان کتابوں کی ایک تفصیلی اور تحقیقی فہرست مرتب فرما لی جو ’’لباب المعارف العلمیہ‘‘ کے نام سے موسوم ہے۔ بلاشبہ ’’لباب المعارف العلمیہ‘‘ کو تصنیفاتِ علومِ شرقیہ اور ان کے مصنفین کے بارے میں تفصیلی اور تحقیقی معلومات موجود ہیں۔ علومِ شرقیہ پر تحقیقی کام کرنے والے ملکی و غیر ملکی اس فہرستِ کتب سے بے نیاز نہیں ہو سکتے۔ وہ حوالے (Reference) کے طور پر اس کا تذکرہ کرتے ہیں۔ اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ کی زندگی کا یہ عظیم کارنامہ ہے۔ لیکن آپ نے اسی پر اکتفا نہیں کیا بلکہ اس لائبریری کی ترتیب و تنظیم کے علاوہ دمِ واپسیں تک قرآن مجید، علومِ دینیہ اور عربی زبان کی بڑی خدمت کی۔ آپ نے کئی اہم عربی تصنیفات کا اردو میں ترجمہ کیا۔ آپ کو اللہ تعالیٰ نے ترجمہ کرنے کا خصوصی ملکہ عطا فرمایا تھا۔ آپ کے تمام تراجم میں سلاست اور روانی ہے، مشکل اور دقیق مقامات کو بڑی خوبی اور مہارت سے ام فہم بنا دیتے ہیں۔
چونکہ آپ کے محبوب مصنفین حضرت امام ابنِ تیمیہؒ، علامہ ابنِ قیمؒ، حضرت شاہ ولی اللہ محدثِ دہلویؒ، حضرت مجدد الف ثانیؒ اور علامہ طنطاویؒ جوہری تھے اس لئے انہی کی اکثر کتابوں کا آپ نے ترجمہ کیا۔ تراجم کے علاوہ آپ نے عربی زبان کی ایک لغت (ڈکشنری) اور ایک عربی گرائمر بھی تصنیف فرمائی۔ عربی زبان کے نئے سیکھنے والوں کے لئے آپ نے ایک سلسلہ ’’صحائفِ اربعہ‘‘ کا تالیف فرمایا جس میں براہِ راست عربی سکھانے کی ایک کامیاب کوشش کی گئی ہے۔
تصنیفی خدمات:
1.       لباب المعارف العلمیہ فی مکتبۃ دار العلوم الاسلامیہ، پشاور
2.       روء الاخوان۔ یہ عربی زبان کے متداول اور کثیر الاستعمال الفاظ کی ڈکشنری (لغت) ہے۔ جس میں غرائب القرآن اور اس کے محاورات کا خصوصیت سے التزام کیا گیا ہے۔ یہ قلمی ہے اور اسلامیہ کالج کی لائبریری میں موجود ہے۔
3.       میزان اللسان (عربی، قلمی) نحو کی عام فہم اور سہل کتاب۔
4.       صحائفِ اربعہ۔
تراجم:
1.       حجۃ اللہ البالغہ۔ حضرت شاہ ولی اللہ محدثِ دہلویؒ کی شہرۂ آفاق عربی کتاب کا آپ نے رواں دواں اردو میں ترجمہ کیا ہے۔ اس کے دو حصے ہیں۔ حصہ اول و دوم۔ قومی کتب خانہ لاہور نے اسے طبع کروایا ہے۔ پہلے حصے کی قیمت 18 روپے اور دوسرے کی 22 روپے ہے۔
اس سے اس کی ضخامت کا بخوبی اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ میرے ہاتھ میں اس وقت طبع دوم ہے جو 1962ء میں منصۂ شہود پر آئی۔
ترجمہ کے آغاز میں حضرت شاہ ولی اللہ صاحب کی مختصر سوانح بھی لکھی ہے جو 69 صفحات پر پھیلی ہوئی ہے۔
2.       مکتوباتِ امامِ ربانی کا آپ نے اردو زبان میں ترجمہ کیا ہے اور کتاب کے شروع میں امامِ ربّانی حضرت مجدّد الف ثانیؒ کی سوانح بھی لکھی ہے۔ یہ مطبوعہ ہے۔
3.       مقالات و حالات سیدّ جمال الدین افغانیؒ۔ یہ بھی مطبوعہ ہے۔
4.       جواھر العلوم۔ علامہ طنطاوی جوہری کی تصنیف ہے۔ اس کا آپ نے ترجمہ کیا ہے۔ قومی کتب خانہ لاہور نے اسے شائع کیا ہے۔ قیمت 50/6 ہے۔
5.       جامع الآداب۔ مصر کے ایک ممتاز عالم کی شہرٔ آفاق تصنیف ’’آداب الفتیٰ‘‘‘ کا سلیس اور بامحاورہ ترجمہ ہے۔ اس کتاب میں ان تمام آداب کا ذِکر ہے جن سے سیرت و کردار کو سنوارنے میں مدد ملتی ہے۔ 1966ء میں قومی کتب خانہ لاہور نے اسے دوسری بار چھاپا۔ اس کے 168 صفحات ہیں۔
6.       تراجم تصانیف۔ شیخ الاسلام ابن تیمیہؒ۔ ولی اللہ، فتویٰ شرک شکن، خلاف الامۃ، مناسکِ حج اور تفسیر آیت کریمہ۔ مطبوعہ الہلال بک ایجنسی شیرانوالہ گیٹ، لاہور۔
7.       تراجم تصانیفِ علامہ ابن قیمؒ۔ اسلامی تصوف۔ تفسیر الموذتین۔ مطبوعہ الہلال بک ایجنسی لاہور۔
8.       تراجم تصانیفِ شاہ ولی اللہؒ! خیر کثیر، البدور البازغہ، تفہیماتِ الٰہیہ، معارف الدینیہ، حق الیقین کتابستان کمپنی بمبئی میں طبع ہوئے۔
9.       نجدد حجاز۔ علامہ رشید رضا مصری کی کتاب کا اردو ترجمہ ہے۔ طبع ہو چکا ہے۔
10.   نثر اللاٰلی۔ حضرت علی کے اقوال کا پشتو ترجمہ ہے۔ اس کا آپ نے اردو میں بھی ترجمہ کیا تھا لیکن ہنوز طبع نہیں ہوا۔
11.   اسلام اور کمیونزم۔ پروفیسر ڈاکٹر احسان اللہ خان کے ایک انگریزی مقالے کا پشتو میں ترجمہ کیا۔ یہ بھی مطبوعہ ہے۔
12.   سیرت النبی (پشتو) یہ ایک عربی رسالے کا ترجمہ ہے جو کہ رسالہ ’’پشتو‘‘ کا بل میں 1932ء کے سال میں 11 قسطوں میں شائع ہوا۔ (ج 1 شمارہ 5 تا ج 2 شمارہ 4)
13.   علامہ طنطاوی کی ’’تفسیر الجواہر‘‘ کا اردو میں ترجمہ شروع کر رکھا تھا اور جلد 2 تا 5 کا ترجمہ مکمل کر چکے تھے کہ زندگی نے اور مہلت نہ دی۔ یہ غیر مطبوعہ ہے اور آپ کے فرزندوں کی تحویل میں ہے۔
14.   کتابستان بمبئی کے لئے ’’قوتِ ارادی‘‘ کے موضوع پر ایک انگریزی کتاب کا ترجمہ کیا۔ یہ چھپ نہ سکا۔ ان کے علاوہ مختلف مجلّات میں وقتاً فوقتاً آپ کے علمی مضامین اور تراجم اکثر شائع ہوتے رہتے تھے۔
تدریسی خدمات:
آپ 1913ء سے 1943ء تک برابر تیس سال اسلامیہ کالج پشاور میں عربی اور پشتو پڑھاتے رہے اسی دوران 1930ء میں حج بیت اللہ کی سعادت سے بھی بہرہ یاب ہوئے۔
1947ء میں دوبارہ لائبریری کی نگرانی کے لئے متعین کیے گئے اور خاص طور پر قلمی نسخوں اور نادر کتب کی نگہداشت آپ کے سپرد کی گئی۔ جون 1950ء میں اس فریضہ کی ادائیگی سے سبکدوش کر دیئے گئے۔ اسلامیہ کالج لائبریری سے فراغت پانے کے بعد، بھانہ ماڑی پشاور شہر کے صاحبزادہ فضلِ صمدانی صاحب کی دعوت پر ان کے کتب خانہ کی فہرست وغیرہ تیار کرنے کے سلسلہ میں ٹھہر گئے۔ اس علمی شغل میں مصروف تھے کہ تین دن کی مختصر سی علالت کے بعد 6 ذی الحجہ 1369ء مطابق ستمبر 1950ء کو تقریباً 11 بجے صبح خالقِ حقیقی سے جا ملے اور وصیت کے مطابق اسلامیہ کالج پشاور کے قبرسان میں دفن کئے گئے۔
آپ کی ذاتِ گرامی بہت فیض رساں تھی۔ بہتوں  نے آپ سے بہت کچھ حاصل کیا اور بہت سے اب بھی آپ کی تصنیفات سے بہت کچھ حاصل کر رہے ہیں۔
آپ کی تصنیفی خدمات پر نظر ڈالیے اور پھر تدریسی خدمات کا اندازہ لگائیے۔ اس سے صاف معلوم ہو گا آپ نے کس قدر مصروف زندگی گزاری ہے۔ آپ کو مطالعہ اور تصنیف و تالیف سے حد درجہ شغف تھا۔ ان کی ایک ذاتی ڈٓئری میں لکھا ہوا ایک شعر ان کے اس میلانِ طبع کی کتنی صحیح عکاسی کرتا ہے۔                            ؎
ہمارا کام کیا دُنیا سے، مکتب ہے وطن اپنا
چلیں گے جب کہ دنیا سے ورق ہوں گے کفن اپنا
تاریخِ وصال آپ کے فرزند ڈاکٹر محمد اسماعیل محمودی نے کہی:
آں بزرگِ ما بحق واصل شدہ، حقا مگر
کیفِ ما با قیست، مے ریزد کہ جامِ ما شکست                530
خستہ محمودیؔ! بگو تاریخِ وصلِ اُو کہ وائے
والدیم عبد الرحیم از عالم دنیا برفت        532
69           ھ              13
آپ علمائے اہل حدیث میں سے ایک ممتاز عالم تھے۔
اولاد:
آپ کے دو صاحبزادے مولوی محمد اسحاق صاحب اور جناب ڈاکر محمد اسماعیل محمودیؔ ہیں۔ تین صاحبزادیاں تھیں۔ جن میں سے دو اللہ کو پیاری ہو گئیں۔ ایک بقیدِ حیات ہیں۔ آپ کے نواسے عالم بھی ہیں اور حافظ بھی۔ اللہ تعالیٰ کو اپنے جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ان کی اولاد کو پورے طور پر ان کے نقشِ قدم پر چلنے کی توفیق بخشے۔ آمین۔
گزشتہ سے پیوستہ
برادران یو سف كى فداكا رى كیوں  قبول نہ ہوئی
بھا ئیوں  نے دیكھا كہ ان كے چھوٹے بھائی بنیامین كو اس قانون كے مطابق عزیز مصر كے پاس رہنا پڑے گا جسے وہ خو د قبول كر چكے ہیں  اور دوسرى طرف انہوں  نے باپ سے پیمان باند ھا تھا كہ بنیامین كى حفاظت اور اسے واپس لانے كے لئے اپنى پورى كو شش كریں  گے ایسے میں  انہوں  نے یوسف كى طرف رخ كیا جسے ابھى تك انہوں  نے پہچانا نہیں  تھا اور كہا : ”اے عزیز مصر : اے بزر گور صاحب اقتدار : اس كا باپ بہت بوڑھا ہے اور وہ اس كى جدا ئی كو برداشت كر نے كى طاقت نہیں  ركھتا ہم نے آپ كے اصرار پر اسے باپ سے جدا كیا اور باپ نے ہم سے تاكید ى وعدہ لیا كہ ہم ہر قیمت پر اسے واپس لائیں  گے اب ہم پر احسان كیجئے اور اس كے بدلے میں  ہم میں  سے كسى ایك كو ركھ لیجئے ، ”كیونكہ دیكھ رہے ہیں  كہ آپ نیكوكاروں  میں  سے ہیں  ”۔ ( سورہ یوسف آیت 78)
اور یہ پہلا مو قع نہیں  كہ آپ نے ہم پر لطف وكرم اور مہرومحبت كى ہے ، مہر بانى كر كے اپنى كر م نوازیوں  كى تكمیل كیجئے ۔
حضرت یو سف علیہ السلام نے اس تجویز كى شدت سے نفى كى ”اور كہا :پناہ بخدا : یہ كیسے ہو سكتا ہے كہ جس كے پاس سے ہمارا مال ومتا ع برآمد ہوا ہے ہم اس كے علاوہ كسى شخص كو ركھ لیں  ”كبھى تم نے سنا ہے كہ ایك منصف مزاج شخص نے كسى بے گناہ كو دوسرے كے جرم میں  سزا دى ہو ۔
(سورہ یوسف آیت 79)” اگر ہم ایسا كریں  تو یقینا ہم ظالم ہوں  گے”۔ (سورہ یوسف آیت 79) یہ امر قابل توجہ ہے كہ حضرت یوسف نے اپنى اس گفتگو میں  بھائی كى طرف چورى كى كوئی نسبت نہیں  دى بلكہ كہتے ہیں  كہ ”جس شخص كے پاس سے ہمیں  ہمارامال ومتا ع ملا ہے ”اور یہ اس امر كى دلیل ہے كہ وہ اس امر كى طرف سنجید گى سے متوجہ تھے كہ اپنى پورى زندگى میں  كبھى كوئی غلط بات نہ كریں  ۔
بھا ئی سر جھكا ئے باپ كے پاس پہنچے
بھا ئیوں  نے بنیا مین كى رہائی كے لئے اپنى آخرى كو شش كرڈالى لیكن انہوں  نے اپنے سا منے راستے بند پا ئے ایك طرف تو اس كام كو كچھ اس طرح سے انجام دیا گیا تھا كہ ظاہرا بھائی كى برائت ممكن نہ تھى اور دوسرى طرف عزیز مصر نے اس كى جگہ كسى اور فرد كو ركھنے كى تجویز قبول نہ كى لہذا وہ مایو س ہوگئے یو ں  انہوں  نے كنعان كى طرف لوٹ جا نے اور باپ سے سارا ماجر ا بیان كر نے كا ارادہ كر لیا قرآن كہتا ہے : ”جس وقت وہ عزیز مصر سے یا بھائی كى نجات سے مایوس ہو گئے ،تو ایك طرف كو آئے دوسروں  سے الگ ہو گئے اور سر گوشى كرنے لگے” ۔ ( سورہ یوسف آیت 80)
بہر حال سب سے بڑے بھا ئی نے اس خصوصى میٹنگ میں  ان سے” كہا : كیا تم جا نتے نہیں  ہو كہ تمہارے باپ نے تم سے الہى پیمان لیا ہے كہ بنیامین كو ہر ممكنہ صورت میں  ہم واپس لائیں  گے ”۔
( سورہ یوسف آیت 80) ” اور تمہیں  نے اس سے پہلے بھى یو سف كے بارے میں  كو تا ہى كى ”اور باپ كے نزدیك تمہارا گزشتہ كر داربرا ہے”۔ (سورہ یوسف آیت 80)
”اب جبكہ معاملہ یو ں ہے تو میں  اپنى جگہ سے
( یاسر زمین مصر سے ) نہیں  جائوں  گا اور یہیں  پڑائو ڈالوں  گا ، مگر یہ كہ میر ا باپ مجھے اجازت دے دے یا خدا میرے متعلق كو ئی فرمان صادر كرے جو كہ بہتر ین حاكم وفرماں  روا ہے” ۔ ( سورہ یوسف آیت 80)
پھر بڑے بھا ئی نے دوسرے بھائیوں  كو حكم دیا كہ ”تم باپ كے پاس لوٹ جائو اور كہو : اباجان آپ كے بیٹے نے چورى كى ہے ، اور یہ جو ہم گواہى دے رہے ہیں  اتنى ہى ہے جتنا ہمیں  علم ہوا ہے” ۔
( سورہ یوسف آیت 81)بس ہم نے اتنا دیكھا كہ بادشا ہ كا پیمانہ ہمارے بھائی كے بار سے برآمد ہو ا جس سے ظاہر ہو تا تھا كہ اس نے چورى كى ہے، باقى رہا امر باطن تو وہ خدا جانتا ہے ،” اور ہمیں  غیب كى خبر نہیں  ” ۔ ( سورہ یوسف آیت 81)
ممكن ہے یہ احتمال بھى ہے كہ بھیا ئیوں  كا مقصد یہ ہو كہ وہ باپ سے كہیں  كہ اگر ہم نے تیرے پاس گواہى دى اور عہد كیا كہ ہم بھائی كو لے جائیں  گے اور واپس لے آئیں  گے تو یہ اس بناء پر تھا كہ ہم اس كے باطن سے باخبر نہ تھے اور غیب سے آگاہ نہ تھے كہ اس كا انجام یہ ہوگا ،پھر اس بناء پر كہ باپ سے ہر طرح كى بدگمانى دور كریں  اور اسے مطمئن كریں  كہ ماجر ا اسى طرح ہے نہ اس سے كم اور نہ اس سے زیادہ ، انہوں  نے كہا:”مزید تحقیق كے لئے اس شہر سے سوال كر لیں  جس میں  ہم تھے ،اسى طرح اس قافلہ سے پوچھ لیں ”۔
( سورہ یوسف آیت 82)
بہرحال ”آپ مطمئن رہیں  كہ ہم اپنى بات میں  سچے ہیں  اور حقیقت كے سواكچھ نہیں  كہتے”۔
( سورہ یوسف آیت 82)اس سارى گفتگو سے معلوم ہو تا ہے كہ بنیا مین كى چورى كا واقعہ مصر میں  مشہور ہو چكا تھا یہ بات شہرت پاچكى تھى كہ كنعان سے ایك قافلہ یہاں  آیا ہے اس میں  سے ایك شخص بادشاہ كا پیمانہ اپنے ساتھ لے جانا چاہتا تھا بادشاہ كے مامور ین بروقت پہنچ گئے اور انہوں  نے اس شخص كو روك لیا ،شاید بھائیوں  نے جویہ كہا كہ مصر كے علاقے سے پو چھ لیں  یہ اس طرف كنایہ ہو كہ یہ واقعہ اس قدر مشہور ہو چكا ہے كہ درو دیوار كو اس كا علم ہے ۔
میں  وہ الطاف الہى جانتا ہوں  جو تم نہیں  جانتے
بھائی مصر سے چل پڑے سب سے بڑے اور سب سے چھوٹے بھائی كو وہاں  چھوڑآئے اور پریشان وغم زدہ كنعان پہنچے باپ كى خدمت میں  حاضر ہوئے اس سفر سے واپسى پر باپ نے جب گز شتہ سفر كے برعكس واندوہ كے اثار ان كے چہروں  پر دیكھے تو سمجھ گئے كہ كوئی ناگوار خبر لائے ہیں  خصوصاً جب كہ بنیا مین اور سب سے بڑا بھائی ان كے ہمرا ہ نہ تھا جب بھائیوں  نے بغیر كسى كمى بیشى كے سارى آپ بیتى كہہ دى تو یعقوب بہت حیران ہوئے اور ان كى طرف رخ كر كے كہنے لگے :” تمہارى نفسا نى خواہشات نے یہ معاملہ تمہارے سامنے اس طرح سے پیش كیا ہے اور اسے اس طرح سے مزین كیاہے ” ۔ ( سورہ یوسف آیت 83)
اس كے بعد یعقوب اپنى جانب متوجہ ہوئے اور ”كہنے لگے كہ میں  صبر كا دامن اپنے ہاتھ سے نہیں  چھوڑوں  گا” اور میں  اچھا صبر كروں  گا كہ جو كفر ان سے خالى ہو۔ ”(سورہ یوسف آیت 83)
”مجھے امید ہے كہ خدا ان سب كو ( یو سف ، بنیامین اور میرے بڑے بیٹے كو ) میرى طرف پلٹا دے گا” ۔ ( سورہ یوسف آیت 83)كیونكہ میں  جانتاہوں  كہ ”وہ ان سب كے دل كى داخلى كیفیات سے باخبر ہے ، اس كے علاوہ، وہ حكیم بھى ہے ،”اور وہ كوئی كا م بغیر كسى حساب كتاب كے نہیں  كر تا۔ ”(سورہ یوسف آیت 83)
اس وقت یعقوب رنج وغم میں  ڈوب گئے بنیامین كہ ان كے دل كى ڈھارس تھا واپس نہ آیا تو انہیں  اپنے پیارے یو سف كى یاد آگئی انہیں  خیال آیا كہ اے كا ش آج وہ آبرومند ، باایمان اور حسین وجمیل بیٹا ان كى آغوش میں  ہو تا اور اس كى پیار ى خو شبو ہر لمحہ باپ كو ایك حیات نو بخشتى لیكن آج نہ صرف یہ كہ اس كا نام و نشان نہیں  بلكہ اس كا جانشین بنیا مین بھى اس كى طرح ایك درد ناك معاملے میں  گر فتا ر ہو گیا ہے ”اس وقت انہوں  نے اپنے بیٹوں  سے رخ پھیر لیا اور كہا : ہائے یو سف ”۔ ( سورہ یوسف آیت 84) 

مدین كے تباہ كاروں كا انجام

گزشتہ اقوام كى سرگزشت كے بارے میں قرآن مجید میں ہم نے بارہا پڑھا ہے كہ پہلے مرحلے میں انبیاء انہیں خدا كى طرف دعوت دینے كے لیے قیام كرتے تھے اور ہر طرح سے تعلیم و تربیت اور پند ونصیحت میں كوئی گنجائش  نہیں چھوڑتے تھے۔دوسرے مرحلے میں جب ایك گروہ پر پند و نصائح كا كوئی اثر نہ ہوتا تو انہیں عذاب الہى سے ڈراتے تاكہ وہ آخرى افراد تسلیم حق ہوجائیں جو قبولیت كى اہلیت ركھتے ہیں اور راہ خدا كى طرف پلٹ آئیں نیز اتمام حجت ہو جائے۔
تیسرے مرحلے میں جب ان پركوئی چیز مو ثر نہ ہوتى تو روئے زمین كى ستھرائی اور پاك سازى كر لیے سنت الہى كے مطابق عذاب آجاتا اور راستے كے ان كانٹوں كو دور كردیتا ۔
قوم شعیب علیہ السلام یعنى اہل مدین كا بھى آخر كار مرحلہ انجام آپہنچا_چنانچہ قرآن كہتا ہے: ”جب
(اس گمراہ، ظالم اور ہٹ دھرم قوم كو عذاب دیئے جانے كے بارے میں ) ہمارا فرمان آپہنچا تو ہم نے شعیب علیہ السلام اور اس پر ایمان لانے والوں كو اپنى رحمت كى بركت سے نجات دی_”(سورہ ھودآیت94)”پھر آسمانى پكار اور مرگ آفریں عظیم صیحہ نے ظالموں اور ستمگروں كو اپنى گرفت میں لے لیا_”(سورہ ھودآیت94)
جیسا كہ ہم كہہ چكے ہیں _”صیحہ” ہرقسم كى عظیم آواز اور پكار كے معنى میں ہے، قرآن نے بعض قوموں كى نابودى صیحہ آسمانى كے ذریعے بتائی ہے۔یہ صیحہ احتمالاًصاعقہ كے ذریعے یا اس كى مانند ہوتى ہے اور جیسا كہ ہم نے قوم ثمود كى داستان میں بیان كیا ہے كہ صوتى امواج بعض اوقات اس قدر قوى ہوسكتى ہیں كہ ایك گروہ كى موت كا سبب بن جائیں ۔
اس كے بعد فرمایا گیا ہے:”اس آسمانى صیحہ كے اثر سے قوم شعیب كے لوگ اپنے گھروں میں منہ كے بل جاگرے اور مرگئے اور ان كے بے جان جسم درس عبرت بنے ہو ایك مدت تك وہیں پڑے رہے”_
( سورہ ھودآیت94)
ان كى زندگى كى كتاب اس طرح بندكردى گئی كہ ”گویا كبھى وہ اس سرزمین كے ساكن ہى نہ تھے”۔
سات روز تك شدت كى گرمى پڑى اور ہوا بالكل نہ چلی، اس كے بعد اچانك آسمان پر بادل آئے، ہوا چلى ان كو گھروں سے نكال پھینكا، گرمى كى وجہ سے بادل كے سایہ كے نیچے چلے گئے۔
اس وقت صاعقہ موت كا پیغام لے كر آئی خطرناك آواز، آگ كى بارش اور زمین میں زلزلہ آگیا، اس طرح وہ سب نابود ہوگئے۔
وہ تمام دولت وثروت كہ جس كى خاطر انہوں نے گناہ اور ظلم و ستم كیے نابود ہوگئی۔انكى زمینیں اور زرق برق زندگى ختم ہوگئی اور ان كا شور وغو غا خاموش ہوگیا اور آخر كار جیسا كہ قوم عادوثمود كى داستان كے آخر میں بیان ہوا ہے فرمایا گیا ہے:دورہو سرزمین مدین لطف و رحمت پروردگار سے جیسے كہ قوم ثمود دور ہوئی_
( سورہ ھود آیت 95)
”واضح ہے كہ یہاں ”مدین”سے مراد اہل مدین ہیں جو رحمت خدا سے دور ہوئے”۔

ختم شد
گھر سے نکلنے سے قبل اپنے طور پر نکلنے کی تیاری کرنی چاہیے، کام پر جانے کے لیے اگر خاص لباس ہو تو اسے زیب تن کر لے، لباس کے لیے شریعت میں کوئی خاص وضع قطع مطلوب نہیں ہے، البتہ چند ضروری ہدایات ہیں جن کی رعایت کرنی چاہیے۔
جو لباس عورت کے لیے خاص ہو اسے مرد کو نہیں پہننا چاہیے، اور جو مرد کے لیے خاص ہو اسے عورت کو نہیں پہننا چاہیے۔
جو لباس کسی قوم کے لیے مذہبی شعار کی حیثیت حاصل کر چکا ہو اور ہمارے د ین میں اس کے حلال ہونے کی صریح دلیل نہ ہو تو اس طرح کا لباس استعمال کرنے سے گریز کرنا چاہیے، کیونکہ اس سے غیر مسلم کی مشابہت لازم آتی ہے جس سے نبی کریم ﷺ نے فرمایا ہے۔
لباس اتنا باریک یا تنگ نہ ہو جس سے ستر پوشی کا مقصد فوت ہو جاتا ہو، بلکہ مزید فتنہ کا سبب بنتا ہو۔
مردوں کے لباس میں ایک اور بات کا خاص خیال رکھنا چاہیے کہ وہ ٹخنوں سے نیچے نہ ہو۔
عورتوں کے لباس میں اس کے سر پر دوپٹہ یا خمار ضرور ہونا چاہیے جس سے اپنے سر اور گریبان کو ڈھانک لے تاکہ فتنہ کا سبب نہ بنے۔
اسی طرح عورت اگر عام جگہوں کے لیے نکل رہی ہے تو اپنے چہرہ پر نقاب بھی ڈال لے۔
عورت ہی کے لیے ایک اور بات قابل لحاظ ہے وہ یہ ہے کہ جب وہ گھر سے باہر نکلے تو خوشبو لگا کر اور آواز پیدا کرنے والے زیورات پہن کر نہ نکلے۔

بلوچستان ،یا بلوچوں کا ملک روئے سزمین کے اس حصے کو گھیرے ہوئے ہے جو24.50تا30.40عرض بلد شمالی اور 58.55تا67.30طول بلد مشرقی کے درمیان واقع ہے۔اس کے علاوہ اس کے ایک دو صوبے مشرق و مگرب کے طرف اتنی دور تک پھیلے ہوئے ہیں کہ ان کے صحیح حدود طول بلد بتعین نہیں کئے جا سکتے، جب تک کہ میں ان دونوں کو علیحٰدہ علیحٰدہ بیان نہ کروں۔یہ سارا بسیط علاقہ کسی وقت خان قلات کے والد نصیر خان کی مملکت تھا جو اسے ایرانی فاتح نادر شاہ نے 1739؁میں عطا کیا تھا، اور اسے بیگلر بیگ بلوچستان کا لقب بھی دیا تھا ۔اسی عطیے کی سند پر میں نے اس عمومی اصطلاح سے فائدہ اٹھایا ہے۔
(لیفٹینینٹ ہنری پوٹنگر کے1816؁میں لکھے گئے “سفر نامہ بلوچستان اور سندھ”سے اقتباس)


اصلاح قرآن و سنت میں سحر(جادو)ایسے امر عجیب کو کہا جاتا ہے کہ جس میں شیاطین کو خوش کرکے ان کی مدد حاصل کی گئی ہو،پھر شیاطین کو راضی کر نے کی مختلف صورتیں ہیں۔کبھی ایسے منتر اختیار کئے جاتے ہیں جن میں کفر و شرک کے کلمات ہوتے ہیں اور شیطان کی مدح کئی گئی ہوتی ہے یا کواکب ونجوم (ستاروں)کی عبادت اختیار کی گئی ہو یا کوئی ایسے اعمال اختیار کئے جاتے ہیں جو شیطان کو پسند ہو تے ہیں۔مثلاً کسی کو ناحق قتل کر کے اس کا خون استعمال کرنا یا جنابت و نجاست کی حالت میں رہنا،طہارت سے دور رہنا وغیرہ۔جس طرح اللہ کے پاک فرشتوں کو ان اقوال و افعال سے خوش کیا جاتا ہے جنہیں فرشتے پسند کرتے ہیں،مثلاً تقویٰ ، طہارت اور پاکیزگی، بدبو اور نجاست سے اجتناب،ذکر اللہ اور اعمال خیر،اسی طرح شیطان کی خوشی کو ایسے اقوال و افعال سے حاصل کی جاتی ہے جو شیاطین کو پسند ہوں۔اسی لئے سحر (جادو)عموماً ایسے ہی لوگوں کا زیادہ کامیاب ہوتا ہے جو گندے ،نجس اور جنبی رہتے ہوں،پاکیزگی اور اللہ کے نام و کلام سے دور رہتے ہوں۔خبیث کاموں کے عادی ہوں۔باقی شعبدے اور ٹوٹکے یا ہاتھ کی صفائی و چالاکی کے کام یا مسمریز وغیرہ کو مجازاً سحر کہا جاتا ہے۔(روح المعانی)
گزشتہ سے پیوستہ
جناب یو سف كے خواب كى تعبیر
”پھر یو سف نے سب سے كہا سر زمین مصر میں قدم ركھیں كہ انشا ء اللہ یہا ں آپ بالكل امن وامان میں ہوں گے”(سورہ یوسف آیت 99) كیو نكہ مصر یو سف كى حكومت میں امن وامان كا گہوارہ بن چكا تھا۔
اس جملے سے معلوم ہوتا ہے كہ یو سف اپنے ماں باپ كے استقبال كے لئے شہر كے دروازے كے باہر تك آئے تھے اور شاید جملہ (ادخلو ا على یو سف ) كہ جو در واز ے سے باہر سے مر بوط ہے ، اس طرف اشارہ ہے كہ یو سف نے حكم دیا تھا كہ وہا ں خیمے نصب كئے جا ئیں اور ما ں باپ اور بھا ئیوں كى پہلے پہل وہاں پذیرائی كى جائے ،جب بارگا ہ یو سف میں پہنچے ”تو اس نے اپنے ماں باپ كو تخت پر بٹھا یا ”
(سورہ یوسف آیت 100) نعمت الہى كى اس عظمت اور پرور دگار كے لطف كى اس گہرائی اور وسعت نے بھائیوں اور ماں باپ كو اتنا متا ثر كیا كہ وہ سب كے سب ”اس كے سامنے سجدے میں گر گئے۔” (سورہ یوسف آیت 100)
اس مو قع پر یو سف نے باپ كى طرف رخ كیا ”اور عر ض كیا : ابان جان : یہ اسى خواب كى تعبیر ہے جو میں نے بچپن میں دیكھا تھا ”(سورہ یوسف آیت 100) كیا ایسا ہى نہیں كہ میں نے خواب میں دیكھا كہ سورج ، چاند اور گیار ہ ستارے میرے سامنے سجدہ كر رہے ہیں دیكھئے : جیسا كہ آپ نے پیشین گو ئی كى تھى ”خدا نے اس خواب كو واقعیت میں بدل دیا ہے ” (سورہ یوسف آیت 100) ”اور پر وردگار نے مجھ پر لطف و احسان كیا ہے كہ اس نے مجھے زندان سے نكا لا ہے ”۔(سورہ یوسف آیت 100)
یہ بات قابل تو جہ ہے كہ حضرت یو سف نے اپنى زندگى كى مشكلات میں صر ف زندان مصر كے بارے میں گفتگو كى ہے لیكن بھائیوں كى وجہ سے كنعان كے كنوئیں كى بات نہیں كى ،اس كے بعد مزید كہا :” خدا نے مجھ پر كس قدر لطف كیا كہ آپ كو كنعان كے اس بیابان سے یہاں لے آیا جب كہ شیطان میرے اور میرے بھا ئیوں كے در میان فساد انگیز ى كر چكا تھا _”
(سورہ یوسف آیت 100)
یہاں یو سف ایك مر تبہ پھر اپنى وسعت قلبى اور عظمت كا ایك نمو نہ پیش كر تے ہیں یہ نہیں كہتے كہ كو تا ہى كس شخص نے كی،بلكہ اس طرح سربستہ اور اجمالى طور پر كہتے ہیں كہ شیطان نے اس كا م میں دخل اندا زى كى اور وہ فساد كا باعث بنا كیو نكہ وہ نہیں چا ہتے تھے كہ بھا ئیوں كى گزشتہ خطائوں كا گلہ كریں ،وہ جا نتا ہے كہ كون حا جت مند ہیں اور كو ن اہل ہیں ” كیونكہ وہ علیم وحكیم ہے ” _( سورہ یوسف آیت 100)
اس كے بعد یو سف، حقیقى مالك الملك اور دائمى ولى نعمت كى طرف رخ كر تے ہیں اور شكر اور تقاضے كے طور پر كہتے ہیں : ”پر ور دگار تونے ایك وسیع حكو مت كا ایك حصہ مجھے مر حمت فرمایا ہے ”
_( سورہ یوسفآیت 101) ”اور تو نے مجھے تعبیر خواب كے علم كى تعلیم دى ہے ”_( سورہ یوسف آیت 101) اور اسى علم نے جو ظاہر اً سا دہ اور عام ہے میرى زندگى اور تیرے بندوں كى ایك بڑى جما عت كى زندگى میں كس قسم كا انقلا ب پیدا كر دیا ہے اور یہ علم كس قدر پر بر كت ہے۔
”تو وہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین كو ایجاد كیا ہے ”_( سورہ یوسف آیت 101)
اور اسى بناء پر تمام چیزیں تیرى قدرت كے سامنے سر تسلیم خم كئے ہو ئے ہیں ”پروردگار دنیا وآخرت میں تو میر ا ولى ناصر مد بر اور محا فظ ہے ”
_( سورہ یوسف آیت 101)
” مجھے اس جہا ن سے مسلمان اور اپنے فرمان كے سامنے سر تسلیم خم كئے ہو ئے لے جا، اور مجھے صالحین سے كر دے ”
_( سورہ یوسف آیت 101)
میں تجھ سے ملك كے دوام اور اپنى مادى حكو مت اور زند گى كى بقا ء كا تقا ضا نہیں كر تا كیو نكہ یہ تو سب فانى ہیں اور صرف دیكھنے میں دل انگیز ہیں بلكہ میں تجھ سے یہ چا ہتا ہو ں كہ میرى عا قبت اور انجا م كا ر بخیر ہو اور میں تیرى راہ میں ایمان وتسلیم كے ساتھ ہوں اور تیرے لئے جان دوں اور صالحین اور تیرے باخلوص دو ستوں كى صف میں قرار پائوں میرے لئے یہ چیزیں اہم ہیں ۔
باپ كو سرگزشت نہ سنانا
جس وقت یعقوب علیہ السلام یوسف علیہ السلام سے ملاقات كے لئے پہنچے تو ان سے كہا: میرے بیٹے میرا دل چاہتا ہے كہ میں پورى تفصیل جانوں كہ بھائیوں نے تمہارے ساتھ كیا سلوك كیا۔
حضرت یوسف علیہ السلام نے باپ سے تقاضا كیا كہ وہ اس معاملہ كو جانے دیں لیكن یعقوب علیہ السلام نے انھیں قسم دے كر كہا كہ بیان كریں ۔
یوسف علیہ السلام نے واقعات كا كچھ حصہ بیان كیا یہاں تك كہ بتایا : بھائیوں نے مجھے پكڑلیا او ركنویں كے كنارے بٹھایا مجھے حكم دیا كہ كرتا اتاردوں تو میں نے ان سے كہا: میں تمہیں اپنے باپ یعقوب كے احترام كى قسم دیتا ہوں كہ میرے بدن سے كرتا نہ اتاروں اور مجھے برہنہ نہ كرو، ان میں سے ایك كے پاس چھرى تھى اس نے وہ چھرى نكالى اور چلاكر كہا: كرتا اتاردے۔
یہ جملہ سنتے ہى یعقوب كى طاقت جواب دے گئی انھوں چیخ مارى او ربے ہوش ہوگئے جب وہ ہوش میں آئے تو بیٹے سے چاہا كہ اپنى بات جارى ركھے لیكن یوسف علیہ السلام نے كہا: آپ كو ابراہیم علیہ السلام ، اسماعیل علیہ السلام اور اسحاق علیہ السلام كے خدا كى قسم مجھے اس كام سے معاف ركھیں ۔
جب یعقوب علیہ السلام نے یہ جملہ سنا تو اس معاملہ سے صرف نظر كرلیا۔
یہ امر نشاندہى كرتا ہے كہ یوسف علیہ السلام ہرگز نہیں چاہتے تھے كہ ماضى كے تلخ واقعات اپنے دل میں لائیں یا باپ كے سامنے انھیں دھرائیں اگرچہ یعقوب علیہ السلام كى جستجو كى حسّ انھیں مجبور كرتى تھی_


جاری ہے
ملکہ خیزران بڑی شان وشوکت کے ساتھ اپنے محل میں بیٹھی ہوئی تھی کہ اس کی لو نڈی نے آکر عرض کی ملکہ عالم !محل کی ڈیوڑی پر ایک نہایت ہی خستہ حال غریب عورت کھڑی ہے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کچھ کہنا چاہتی ہے۔ ملکہ نے کہا اس عورت کا حسب نسب دریافت کرو اور یہ بھی معلوم کرو اسے کس چیز کی ضرورت ہے لونڈی نے باہر آکر اس غریب عورت سے بہت پو چھا اس نے اپنا نام نسب اور خاندان کا پتہ سب کچھ بتا دیا لیکن اس نے یہ نہ بتایا کہ وہ ملکہ سے کیوں ملنا چاہتی ہے اس کا بس ایک ہی جواب تھا کہ جو کہنا چاہتی ہے ملکہ سے بس زبانی ہی کہے گی ۔لونڈی نے اندر آکے ملکہ کو عورت کا جواب سنایا تو وہ بہت حیران ہو ئی اس وقت حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنھما کی پڑپوتی زینب بنت سلمان بھی ان کے پاس بیٹھی تھیں وہ بنو عباس کی خواتین میں بہت دانا تسلیم کی جا تی تھیں ملکہ نے ان سے مشورہ کیا کہ کیا اس عورت کو اندر آنے کی اجازت دوں یا ملنے سے انکار کر دوں ۔انہوں نے فرمایا ضرور بلواؤ دیکھیں تو سہی کیا چاہتی ہے ۔چنانچہ ملکہ نے لونڈی کو حکم دیا کہ اس کو اندر آنے کی اجازت دے دی جائے ۔چنانچہ تھوڑی دیر میں ایک پھٹے پرانے کپڑے پہنے ایک انتہائی شکستہ حالت عورت کھڑی ہے اس کے دل کش خدوخال سے معلوم ہو تا تھا کہ کو ئی شریف زادی ہے لیکن میل کچیل اور بوسیدہ کپڑوں نے اس کی حالت گداگروں جیسی بلکہ اس سے بھی ابتر بنا رکھی ہے ،وہ عورت پہلے تو ملکہ کا کرو فر دیکھ کر ٹھٹکی پھر فورا ہی جرأت کر کے ملکہ کو سلام کیا اور کہنے لگی ’’اے ملکہ !میں مروان بن محمد کی بیٹی مزنا ہوں جو خاندان بنو امیہ کا آخری تاجدارتھا۔جوں ہی یہ بات اس کے منہ سے نکلی تو ملکہ خیزران کا چہرا ہ فرط غضب سے سرخ ہو گیا اور اس نے اکڑ کے کہا
’’اے بدبخت عورت! تجھ کو یہ جرأت کیسے ہو ئی کہ تو اس محل کے اندر قدم رکھے ؟
کیا تو نہیں جا نتی کہ تیرے خاندان نے عباسیوں پر کیسے ظلم ڈھائے اے سنگ دل کیا تو وہ دن بھول گئی ہے کہ جب بنو عباس کی بوڑھی عورتیں تیرے پاس التجاء لے کر گئیں تھی کہ تو اپنے باپ سے سفارش کر کہ میرے شوہر (مہدی) کا چچا امام محمد بن ابراھیم کی لاش دفن کرنے کی اجازت لے دے۔ کم بخت عورت خدا تجھے غارت کرے تو نے ان معزز اور مظلوم خواتین پر ترس کھانے کی بجائے انہیں ذلیل کر کے محل سے نکلوا دیا تھا ۔کیا تیری یہ حرکت انسانیت کی توہین نہیں تھی ؟مانا کہ آپس میں دشمنی تھی لیکن پھر بھی ایک بے بس اور لاچار دشمن کے ساتھ ایسا سلوک جائز نہ تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے تم سے حکومت چھین لی اور تمہیں ذلیل کیا ۔مزنا! خیریت اسی میں ہے کہ تم فورا یہاں سے چلی جا ؤ ۔‘‘
مزنا؛ ملکہ کی باتیں سن کر بالکل مرعوب نہ ہو ئی بلکہ اس نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور بولی ’’بہن! اپنے آپ سے باہر نہ ہو جو کچھ میں نے کیا خدا سے اس کی سزا پا لی ۔خدا کی قسم جو کچھ تم نے کہا وہ سچ ہے اسی کی پاداش میں خدا نے مجھے ذلیل کر کے تمہارے سامنے لا کھڑا کیا۔کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کسی وقت میں تجھ سے زیا دہ شوخ اور شریر تھی دولت اور حشمت میرے گھر کی لونڈی تھی مجھے اپنے حسن پہ ناز تھا اور تکبر نے مجھے اندھا کر دیا تھا مگر تم نے دیکھا کہ جلد ہی زمانے نے اپنا ورق الٹ ڈالا خدا نے اپنی تمام نعمتیں مجھ سے چھین لیں اور اب میں ایک فقیر سے بدتر ہو ںکیا تم چاہتی ہو کہ تمہارے ساتھ بھی یہی کچھ ہو ؟اچھا خوش رہو، میں جاتی ہو ں۔اتنا کہہ کر مزنا نے تیزی سے باہر کا رخ کیا لیکن ابھی چند قدم جا نے ہی پائی تھی کہ خیزران نے دوڑ کر اسے پکڑ لیا اور چاہا کہ گلے سے لگا لے لیکن مزنا نے پیچھے ہٹ کر کہا خیزران سنو! تم ملکہ ہو اور میں ایک غریب اور بے کس عورت… میرے کپڑے بوسیدہ اور غلیظ ہیں میں اس قابل نہیں کہ ملکہ مجھ سے بغل گیر ہو ۔خیزران نے آبدید ہ ہو کرلو نڈیوں حکم دیا کہ مزنا کو نہلا دو اور اعلی درجہ کی پو شاک پہنا دو اور پھر اسے عطر میں بسا کر میرے پاس لے آؤ۔لونڈیوں نے ملکہ کے حکم کی تعمیل کی اس وقت مزنا کو دیکھ یوں معلوم ہو ا کہ چاند بادل سے نکل آیا ہے خیزران بے اختیا ر مزنا سے لپٹ گئی ، پاس بیٹھایا اور پوچھا دستر خوان بچھواؤں ؟مزنا نے کہا ملکہ آپ پوچھتی کیا ہیں آپ کے محل میں مجھ سے زیا دہ کوئی بھوکا ہو گا فوراً دستر خواں بچھا دیا گیا ،مزنا سیر ہو کر کھا چکی تو ملکہ نے پوچھا ۔آج کل تمہارا سرپرست کون ہے؟ مزنا نے سرد آہ بھر کر کہا! آج کس میں ہمت ہے کہ میری سرپرستی کرے مدتوں سے در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہوں کوئی رشتہ دار بھی دنیا میں موجود نہیں کہ اس کے ہاں جا کر پڑوںبس کچھ قرابت ہے تو وہ اسی گھرانے (بنو عباس )سے ہے ۔خیزران نے فوراً کہا مزنا! آزردہ مت ہو آج سے تم میری بہن ہو میرے بہت سے محل ہیں تم ان میں سے ایک محل پسند کر لو اور یہیں رہو جب تک میں جیتی ہو ں تمہا ری ہر ضرورت پو ری کروں گی۔چنا نچہ مزنا نے ایک عالی شان محل پسند کیا اور خیزران نے اس میں تمام ضروریا ت زندگی اور لو نڈیاں غلام مہیا کر دیے ساتھ ہی پانچ لاکھ درہم نقد بھی اس کے حوالے کر دیے کہ جس طرح جی چاہے خرچ کر ۔شام کا خلیفہ مہدی حرم میں آیا اور دن بھر کے حالات پو چھنے لگا ملکہ خیزران نے اسے آج کا واقعہ تفصیل سے سنانا شروع کیا جب اس نے بتایا کہ میں نے مزنا کو اس طرح جھڑکا اور وہ قہقہہ لگا کر شان بے نیازی سے واپس چلی گئی تو خلیفہ فرط غضب سے بے تاب ہو گیا اور اس نے ملکہ کی بات کاٹ کر کہا ’’خیزران تم پہ ہزار افسوس ،کہ خدا نے جو تمہیں نعمتیں عطاء کی ہیں تم نے ان کا شکریہ ادا کرنے کا ایک بیش بہا موقع ہاتھ سے کھو دیا تمہاری یہ حرکت ایک ملکہ کے شایان شان نہیں تھی ۔‘‘
خیزران نے کہا ’’امیر المومنین! میری پو ری بات تو سن لیں اس کے بعد اس نے جب مزنا سے اپنے حسن سلوک کی تفصیل بتائی تو مہدی کا چہرہ چمک اٹھا اس نے خیزران کی عالی ظرفی کو بہت سراہا اور کہا آج سے میری نظر میں تمہاری قدر دو چند ہو گئی ہے ۔پھر اس نے اپنی طرف سے بھی مزنا کو اشرفیوں کے سو توڑے بھیجے اور ساتھ ہی کہلا بھیجا کہ آج میری زندگی کا سب سے بڑا یوم مسرت ہے کہ اس نے ہمیں تمہاری خدمت کی تو فیق دی ،اب تم اطمینان سے یہاں رہو ۔
اس کے بعد مزنا طویل عرصہ تک زندہ رہی مہدی کی وفات
۱۶۹؁ھ بمطابق ۷۸۵؁ء ہوئی اس کے بعد اس کا بیٹا ہادی بھی اس کی خدمت کرتا تھا ہا دی کے بعد۱۷۰؁ھ۷۸۶؁ء میں ہارون الرشید خلیفہ بنا تو اس نے بھی مزنا کو ماں کے برابر سمجھا ،اس کے عہد خلافت کی ابتدا میں مزنا نے وفات پائی تو ہارون الرشید بچوں کی طرح بلک بلک کے رویا اور اس کے جنازہ کو شاہانہ شان شوکت سے قبرستان پہنچایا ۔
ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books in English, Urdu, Arabic, Read online, free Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

ammarnasir

A fine WordPress.com site

اردو بلاگ

www.deoband.net

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magzine

اِذَا وَقَعَتِ الْوَاقِعَةُ ۔1 ۔لَيْسَ لِوَقْعَتِهَا كَاذِبَةٌ ۔2 جب قیامت واقع ہو جائے گی۔ جس کے وقوع پذیر ہونے میں کچھ شبہ نہیں .سورۃ الواقعۃ۔

Faisalain...فیصلعین

The world as I see it..یہ دنیا میری نظر سے

101 Books

Reading my way through Time Magazine's 100 Greatest Novels since 1923 (plus Ulysses)

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

Mujassam777's Blog

A great WordPress.com site

Reality is Often Bitter . حقيقت اکثرتلخ ہوتی ہے

Humanity is declining by the day because an invisible termite, Hypocrisy, eats human values instilled in human brain by the Creator . . . . . . . . . . . I dedicate my blog to reveal ugly faces of this monster and will try to find ways to guard against it

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

SarwatAJ- ثروت ع ج

اس نے خوشبو کی طرح میری پزیرائی کی

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

chaaidaani

A potpourri of my thoughts, rants & genuine journalism, fueled by passion & cups of tea

Shaista Thinks....

......of relationships and other demons....

shoaibtanoli

The greatest WordPress.com site in all the land!

Mahmedtarazi's Blog

'' میری آواز ''

karachireports

All the news that’s fit to print.

پروفیسر عقیل کا بلاگ

مسلمانوں کے ایمان اور اخلاق میں کمزوریوں کی جدید اندازمیں نشاندہی کرنا، ان کے اسباب مختلف اسالیب میں بیان کرنا اور اصلاح کے لئے سائنٹفک طرز پر حل تجویز کرنا اس بلاگ کے مقاصد ہیں۔

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources...(ahlesunnahlibrary@gmail.com)...(DOWNLOAD - Right Click and select “Save Target As” or “Save link as…”)

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

سحر نو (Saher e noo)

Insights about Pakistan and Pakistanies

mosaicofmuslimwomen

Recognizing Extraordinary Muslim Women

SST

Urdu Tutorials Blog

ارتقاءِ حيات

اسلامی شعور کو جِلا بخشنے کی مبہم کوشش

Telecom Recorder

IT & Telecom News Resource of Pakistan

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Assorted Mundanities.

Coherence is overrated.

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

The World As I see it

You can like it or dislike it but you can't ignore it.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

Follow

Get every new post delivered to your Inbox.

Join 124 other followers

%d bloggers like this: