20رمضان المبارک :فتح مکّہ: حصّہ دوم و آخر

گزشتہ سے پیوستہ ۔۔۔۔۔
فتح مکہ20رمضان سن 8ھ بمطابق جنوری 630ء
مر الظہران کے مقام پر حضور ﷺ نے تاکید کی کہ لشکر کو بکھیر دیا جائے ۔عربوں میں رواج تھاکہ جب کبھی صحرا میں خیمہ زن ہوتے توہر خیمہ کے باہر آگ جلاتے ۔آپ ﷺ نے بھی شکر کو حکم دیا کہ آگ جلائی جائے تاکہ قریشِ مکّہ یہ سمجھیں کہ لشکر بہت بڑا ہے اور بری طرح ڈر جائیں اور اس طرح شاید بغیر خونریزی کے مکّہ فتح ہو جائے۔ یہ تدبیر کارگر رہی۔ ابوسفیان نے دور سے لشکر کو دیکھا۔ ایک شخص نے کہا کہ یہ شاید بنو خزاعہ کے لوگ ہیں جو بدلہ لینے آئے ہیں مگر اس نے کہا کہ اتنا بڑا لشکر اور اتنی آگ بنو خزاعہ کے بس کی بات نہیں۔ اہل مکّہ بہت مضطرب تھے کہ کسی بھی وقت ان پر مسلمانوں کا حملہ ہو سکتا تھا، جبکہ اﷲ تعالی نے ان پر اطلاعات کے تمام دروازے بند کررکھے تھے۔ حضرت عباس اس رات آپ ﷺ کے خچر پر نکلے اور مکّہ کے نواح سے ابو سفیان کو تلاش کر کے اپنے پیچھے خچر پر بٹھاکر لے آئے۔ وہ جس جس خیمہ کے پاس  سے گزرتے لوگ گھور کر دیکھتے تو آپ ﷺ کا خچر اور چچا عباس کو دیکھ کر تھم جاتے کیونکہ ابو سفیان نے منہ پر کپڑا کر رکھا تھا لیکن حضرت عمر نے پہچان لیا اور آپ ﷺ کی طرف دوڑے تاکہ قتل کی اجازت پاکر ابو سفیان کاسر قلم کر دیں۔ حضرت عباس نے بھی خچر کو ایڑھ لگا دی اور حضرت عمر سے پہلے آپ ﷺ کے خیمے میں داخل ہو کر تو ابو سفیان کے لیے امان مانگ لی تو اس لیے باز رہے ۔ رات کو قید میں رکھ کر صبح ابوسفیان کو حضور ﷺ کی خدمت میں پیش کیا گیا۔ حضور ﷺ نے ابو سفیان کو دیکھا تو فرمایا  کیا ابھی اس کا وقت نہیں آیا کہ تو یہ سمجھے کہ ایک خدا کے علاوہ اور کوئی خدا نہیں ہے؟  ابوسفیان نے کہا کہ اگر خدائے واحد کے علاوہ کوئی خدا ہوتا تو ہماری مدد کرتا۔ یہ دیکھ کر کہ اس نے ایک خدا کو تسلیم کیا ہے، حضور ﷺ نے پوچھا کہ  کیا اس کا وقت نہیں آیا کہ تم جانو کہ میں خدا کا پیغمبر ہوں؟  اس پر ابوسفیان نے کہا کہ  مجھے آپ کی رسالت میں تردد ہے  اس پر ان کو پناہ دینے والے عباس بن عبدالمطلب سخت ناراض ہوئے اور کہا کہ اے ابوسفیان اگر تو اسلام نہ لایا تو تمہاری جان کی کوئی ضمانت نہیں۔ اس پر ابوسفیان نے اسلام قبول کر لیا۔ مگر حضور ﷺ نے اسے رہا نہ کیا بلکہ ایک جگہ رکھ کر مسلمانوں کے دستوں کو اس کے سامنے گذارا۔ جب بھی کوئی دستہ گزرتا وہ پوچھتا یہ کون لوگ ہیں؟ حضرت عباس بتاتے یہ بنی فلاں ہیں وہ کہتا مجھے کیا۔ گویا وہ اپنا خوف چھپانے کی کوشش کرتا۔ اس طویل لشکر کے آخر میں لوہے میں ڈوبا ہوا ایک دستہ گزرا ابو سفیان چلا اٹھا خدا کی قسم ان لوگوں سے مقابلہ ممکن نہیں اور پوچھا یہ کون لوگ ہیں؟ فرمایا انصار و مہاجرین کے جلو میں نبی پاک ﷺ  تشریف فرما ہیں۔ اسکے بعد ابو سفیان کے ذہن میں دوردور تک اگر کہیں مقابلے کا خیال بھی تھا تو وہ دم توڑ گیا۔وہ بہت مرعوب ہوا اور عباس بن عبدالمطلب کو کہنے لگا کہ  اے عباس تمہارے بھتیجے نے تو زبردست سلطنت حاصل کر لی ہے ۔ حضرت عباس بن عبدالمطلب نے کہا کہ  اے ابوسفیان یہ سلطنت نہیں بلکہ نبوت ہے جو خدا کی عطا کردہ ہے ۔ اس کے بعد حضرت عباس بن عبدالمطلب نے حضور ﷺ کو کہا کہ  اے اللہ کے رسول ۔ ابوسفیان ایسا شخص ہے جو ریاست کو دوست رکھتا ہے اسے اسی وقت کوئی مقام عطا کریں  اس پر حضرت محمد ﷺ نے فرمایا کہ  ابوسفیان لوگوں کو اطمینان دلا سکتا ہے کہ جو کوئی اس کی پناہ میں آجائے گا امان پائے گا۔ جو شخص اپنے ہتھیار رکھ کر اس کے گھر میں چلا جائے اور دروازہ بند کر لے یا مسجد الحرام میں پناہ لے لے وہ سپاہِ اسلام سے محفوظ رہے گا ۔اس کے بعد ابوسفیان کو رہا کر دیا گیا جس کا فائدہ یہ ہوا کہ اس نے مکّہ جا کر اسلامی لشکر کی عظمت بتا کر ان لوگوں کو خوب ڈرایا۔
حضور ﷺ کسی قسم کی خوں ریزی سے بچنا چاہتے تھے ۔آپ ﷺ نے لشکر کو چھ حصوں میں تقسیم کیا، جن میں سے ہرایک الگ الگ راستے سے مکّہ میں داخل ہوا۔آپ ﷺ نے سپہ سالاروں کوحکم دے رکھاتھا کہ وہ ا س وقت تک ہتھیار نہ اٹھائیں ۔تاوقتیکہ کوئی ان کے مقابلے میں آجائے ۔خوں ریزی سے بچنے اور پر امن فتح کے حصول کے لیے آپ ﷺ نے اعلان فرمادیاکہ جوکعبہ میں پناہ لیں گے ، انھیں امان ہے؛جوابوسفیان کے گھر میں پناہ لیں گے ، انھیں امان ہے اور جواپنے گھرو ں میں رہیں گے ،ان کے لیے بھی امان ہے۔ چاروں طرف سے شہر گھر گیا اور مشرکین کے پاس ہتھیار ڈالنے کے علاوہ کوئی راستہ نہ رہا۔ صرف ایک چھوٹے گروہ نے لڑائی کی جس میں صفوان بن امیہ بن ابی خلف اور عکرمہ بن ابی جہل شامل تھے۔ ان کا ٹکراؤ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کی قیادت کردہ دستے سے ہوا۔ مشرکین کے 28 افراد انتہائی ذلت سے مارے گئے۔
حضور ﷺ فلاح دارین کے لیے معبوث ہوئے تھے ، چناں چہ اپنی شان رحیمی کے سبب خچروانکساری سے جھکے ہوئے مکے میں فاتحانہ داخل ہوئے ۔ جہاں سے آٹھ سال پہلے حضور ﷺ کو ہجرت کرنا پڑی تھی۔ ایسے میں آپ ﷺ کے پیش نظر نہ تواحساس تفاخر تھااورنہ ہی جذبہ انتقام ۔آپ ﷺ انتہائی عاجزی کے ساتھ کعبہ کی طرف بڑھتے ہوئے اللہ کا شکر اداکررہے تھے، جس نے آپ ﷺ کو ناقابل برداشت دورابتلا کے بعد اس عظیم مشن میں کام یابی سے سرفراز کیا۔ کچھ آرام کے بعد حضور ﷺ مجاہدین کے ہمراہ کعبہ کہ طرف روانہ ہوئے۔ کعبہ پر نظر پڑتے گھوڑے پر سواری کی ہی حالت میں حجرِ اسود کو بوسہ دیا۔ آپ ﷺ تکبیر بلند کرتے تھے اور لشکرِ اسلام آپ ﷺ کے جواب میں تکبیر بلند کرتے تھے۔ کعبہ میں داخل ہونے کے بعد آپ ﷺ نے تمام تصاویر کو باہر نکال دیا جن میں حضرت ابراہیم علیہ السلام کی تصویر بھی شامل تھی اور تمام بتوں کو توڑ دیا۔حضورﷺ  بیت اللہ میں رکھے ہوئے بتوں کوتوڑتے ہوئے فرمارہے تھے ۔  وَ قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ زَهَقَ الْبَاطِلُ اِنَّ الْبَاطِلَ كَانَ زَهُوْقًا۔اور اعلان کر دو کہ ! حق آ گیا اور باطل مٹ گیا ، (نابود ہوگیا) باطل تو مٹنے ہی والا ہے۔ اور ساتھ ہی ساتھ آپﷺ کی زبانِ مبارک سے یہ الفاظ بھی نکل رہے تھے۔قُلْ جَآءَ الْحَقُّ وَ مَا یبْدِئُ الْبَاطِلُ وَ مَایعِیدُ۔کہو    حق آگیا اور اب باطل کے لیے کچھ نہیں ہو سکتا۔
پھر رسول اللہﷺ ایک جگہ کھڑے ہوکر لوگوں سے مخاطب ہوئے اور یہ ارشاد فرمایا:نہیں ہے کوئی معبود حقیقی سوائے ایک اللہ کے اس کا کوئی شریک نہیں حکومت اسی کی ہی،تعریف اسی کی ہے۔اور وہ ہر چیز پر قادر ہے اس نے اپنا وعدہ سچا کر دیا اپنے بندے کی مدد کی اور گروہوں کو اکیلے نے ہی شکست دے دی۔اے خاندان قریش اللہ نے تم سے جاہلیت کی نخوت اور تکبر ختم کر دیا اورآباءو اجداد پر فخر کرنا بھی۔سب لوگ آدم سے معرض وجود میں آئے اور آدم علیہ السلام کو مٹی سے پیدا کیا۔اے لوگو ہم نے تمہیں ایک مرد اورایک عورت سے پیدا کیا اور ہم نے تمہارے گروہ اور قبیلے بنائے تاکہ تم ایک دوسرے کو پہچان سکو۔بلاشبہ تم میں سے اللہ کے ہاں زیادہ معزز والا وہ ہے جو سب سے زیادہ متقی ہے۔بے شک اللہ جاننے اور خبر رکھنےوالاہے۔
پھر آپﷺ نے فرمایا: اے قریش تمہا راکیا خیال ہے میں تم سے کیا سلوک کرنے والا ہوں،سب نے بیک زبان جواب دیا ہمیں آپﷺ سے بہتری کی امید ہے۔آپﷺ بڑے معزز باپ کےمعزز فرزند ہیں۔تو آپﷺ نے ان سے یہ فرمایا:میں آج تم سے وہی بات کہتا ہوں۔جویوسف علیہ السلام نے اپنے بھائیوں سے کہی تھیلاتثریب علیکم الیوم یغفر اللہ لکم اذ ھبوا فأنتم طلقاءتم پر آج کوئی الزام نہیں اللہ تمہیں معاف کرے جاؤ تم آزاد ہو۔
فتحِ مکّہ ایک شاندار فتح تھی جس میں چند کے علاوہ کوئی قتل نہ ہوا۔ فتح کے بعد حضور ﷺ نے سب کو عام معافی دے دی۔ اس فتح مبین سے اللہ کی مدد تمام ہوئی،لوگ اللہ کے دین میں گروہ در گروہ داخل ہونے لگے۔اللہ کا شہر مکّہ ایک اسلامی شہر بن گیا۔ ان سے حضور ﷺ نے ان سے شرک نہ کرنے، زنا نہ کرنے اور چوری نہ کرنے کی تاکید پر بیعت لی۔ اور اس تطرح وہ تمام اہل مکّہ نے ، جوایک روز پہلے تک اسلام کے دشمن تھے، حضورﷺ کے صحابی ہونے کااعزاز حاصل کرلیا۔ اب مکّہ میں شرک کی جگہ توحید نے لے لی۔کفر کی جگہ ایمان اتر ایا،یہاں پر ایک غالب اللہ کی عبادت کا اعلان کر دیا گیا۔شرک کے بت توڑ دئیے گئے اور ان کا یہاں کوئی ٹھکانہ نہ رہا۔مکّہ کی فتح کے بعد حضور ﷺ نے سابقہ مشرکین کو مکّہ کے اطراف میں بتوں کو توڑنے کے لیے بھیجا۔ مکّہ کے فتح کے بعد ارد گرد کے مشرکین پریشان ہو گئے اور ایک اتحاد قائم کیا جس وجہ سے فتحِ مکّہ کے اگلے ہی ماہ غزوہ حنین پیش آیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ختم شد۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
2 comments
  1. ماشاءاللہ
    آپ نے بہت دلنشین طریقے سے فتح مکہ اوررحمۃ العالین نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عفو درگزر کرنے کے بارے روشنی ڈالی ہے
    اللہ سبحانہ تعالٰی جزائے خیر دے۔آمین

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: