رؤیتِ ہلال

رؤیت عربی زبان کا لفظ ہے، جس کے معنی دیکھنا، جاننا اور معلوم کرنا کے ہیں۔ رؤیتِ ہلال سے مراد پہلی رات کے چاندکو دیکھنا ہے تاکہ نہ صرف قمری تاریخ کا حساب رکھنا ممکن رہے بلکہ تقویم (کیلنڈر)کے ذریعے اہم ایام و لیالی مثلاً نصف شعبان کی رات، رمضان اور عیدین وغیرہ کا تعین بھی کیا جا سکے۔
رمضان کامہینہ جب شروع ہو تو روزوں کی ابتدا کی جائے اور اُمت کے لیے شارع نے یہ ضابطہ دیا ہے کہ جب ماہِ رمضان کا چاند نظر آجائے، تب روزے رکھنا شروع کیا جائے۔
آپﷺ  نے فرمایا: لا تصوموا حتی تروا الھلال ولا تفطروا حتی تروہ  اس وقت تک روزہ کا آغاز نہ کرو جب تک چاند نہ دیکھ لو اور نہ ہی روزے ختم کرو جب تک (شوال کا) چاند نظر نہ آجائے۔  (صحیح بخاری:۱۹۰۶)
چاندنظر نہ آنے کی صورت میں :
اگر مطلع آبرآلود ہو جس کی وجہ سے چاند دیکھنے میں رکاوٹ آرہی ہو تو اِن حالات میں اللہ تعالیٰ نے یہی حکم دیا ہے کہ شعبان کے تیس دن پورے کرلیے جائیں اور یکم رمضان سے روزہ شروع کردیا جائے۔ سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ  نے فرمایا: صوموا لرؤیتہ وأفطروا لرؤیتہ فإن غبی علیکم فأکملوا عدۃ شعبان ثلاثین  (ماہِ رمضان) کا چاند دیکھ کر روزے شروع کرو اور (شوال کا) چاند دیکھ کر اسے ختم کرو۔ اگر تم پر مطلع ابر آلود ہو تو شعبان کے مہینے کے تیس دن پورے کرلو۔  (صحیح بخاری:۱۹۰۹)
مطلع ابر آلود ہونے کے باعث چاند نہ دیکھنے کی وجہ سے رمضان کے شروع یا اختتام کے تعین میں شک پڑ جاتا ہے، لہٰذا اس تردد کی کیفیت میں شارع نے شک کاروزہ رکھنے سے منع فرما دیا ہے۔ سیدنا عمار بن یاسر ؓسے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ  نے فرمایا:
 من صام الیوم الذي یشک فیہ فقد عصٰی أبا القاسم جس نے شک کے دن کا روزہ رکھا، اس نے ابوالقاسم (محمدﷺ ) کی نافرمانی کی۔  (سنن ترمذی:۶۸۶)
چاند دیکھنے کی گواہی:
چاند دیکھنے میں دو گواہیاں ضروری ہیں ۔ حضرت عبدالرحمن بن زیدؓکہتے ہیں ، مجھے صحابہ کرامؓ نے بیان کیا کہ اللہ کے رسولﷺ  نے فرمایا:  وإن شھد شاھدان مسلمان فصوموا وأفطروا لہ (سنن نسائی:۲۱۱۶، مسنداحمد:۴؍۳۲۱)
لیکن چاند دیکھنے کی ایک گواہی سے روزہ رکھنا بھی ثابت ہے ، جیساکہ ایک حدیث میں ہے:
سیدناعبداللہ بن عمرؓ فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ لوگوں نے رمضان کا چاند دیکھنا شروع کیا تو میں نے نبی اکرمﷺ کو اطلاع دی کہ میں نے چاند دیکھ لیا ہے تو(میری اطلاع پر)آپ ﷺ  نے بھی روزہ رکھا اور لوگوں کوبھی روزہ رکھنے کا حکم دیا۔ (سنن ابوداؤد:۲۳۴۲)
رمضان المبارک کے روزے کے لئے گواہی :
اگر مطلع صاف ہو اور چاند دیکھنے والا آدمی باہر سے کسی بلند پہاڑی مقام سے بھی نہ آیا ہو بلکہ اس علاقے اور شہر کا ہو اگر وہ چاند دیکھنے کا دعویٰ کرے جس کو باوجود کوشش کے اس کے علاوہ اور کسی نے نہ دیکھا ہو تو ایسی صورت میں اس کی شہادت پر چاند ہو جانے کا فیصلہ نہ کیا جائے گ۔ اس صورت میں دیکھنے والے آدمی ایک سے زیادہ اتنی تعداد میں ہونے چاہئیں جن کی شہادت پر اطمینان ہو جائے۔ البتہ عید کے چاند کے ثبوت کے لئے کم از کم دو دیندار اور قابلِ اعتبار مسلمانوں کی شہادت ضروری ہے۔اگر کوئی شخص کسی خاص دن کے روزے کا عادی ہو اور اس تاریخ (30 شعبان)کو وہ دن آجائے مثلاً ایک شخص ہر پیر کو روزہ رکھتا ہے اور 30 شعبان کو پیر ہو تو وہ اپنے اسی نفلی روزہ کی نیت کر سکتا ہے۔ حدیث مبارکہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم ﷺ نے فرمای ۔رمضان سے ایک دن یا دو دن پہلے روزہ نہ رکھو، ہاں جس آدمی کی عادت اس دن روزہ رکھنے کی ہو وہ رکھ سکتا ہے۔(مسلم، الصحيح، کتاب الصيام، باب لا تقدموا رمضان بصوم يوم ولا يومين، 2 762، رقم 1082)
چاندکے احکام:
 چاند دیکھ کر ہی روزہ رکھو اورچاند دیکھ کرہی روزہ چھوڑو اگرانتیس شعبان کو آسمان ابرآلود ہواورچاند نظرنہ آئے توشعبان کے تیس دن پوری کرلو۔(متفق علیہ)
 رمضان کے چاند کے لئے موحد مسلمان کی شہادت ورویت کاہی اعتبار کیاجائے گا۔ (صحیح؍ سنن ابی داؤد)
رمضان کے چاندکی بابت ایک مسلمان کی شہادت کافی ہے جب کہ عید کے چاند کے بارے میں کم ازکم دومسلمانوں کی شہادت ہونی چاہئے۔(صحیح ؍سنن أبی داؤد)
 جو علاقے مطلع کے اعتبارسے قریب قریب ہیں ان علاقوں میں ایک علاقہ کی رؤیت دوسرے علاقوں کے لئے کافی ہے۔
چاند کو دیکھ کر دعا مانگنا:
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اﷲ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم ﷺ چاند دیکھنے کے بعد یہ دعا مانگتے تھے۔
اَللَّهُمَّ أهِلَّهُ عَلَيْنَا بِالأَمْنِ وَالإِيمَانِ وَالسَّلَامَةِ وَالسَّلَامِ، وَالتَّوْفِيْقِ لِمَا تُحِبُّ وَتَرْضَی رَبُّنَا وَرَبُّکَ اﷲُ هيثمی، موارد الظمآن، 1 589، رقم 2374
اے اللہ! ہم پر یہ چاند امن، ایمان، سلامتی، اسلام اور اس توفیق کے ساتھ طلوع فرما جو تجھ کو پسند ہو اور جس پر تو راضی ہو، (اے چاند)ہمارا رب اور تیرا رب اللہ ہے۔
اَللّٰہُ اَکْبَرُ! اَللَّھُمَّ اَھِلَّہُ عَلَیْنَا بِالْأَمْنِ وَالْاِیْمَانِ وَالسَّلَامَۃِ وَالْاِسْلَامِ وَالتَّوْفِیْقِ لِمَا تُحِبُّ رَبَّنَا وَتَرْضٰی رَبِّیْ وَرَبُّکَ اللّٰہُ ۔(حسن بشواہدہ؍سنن دارمی)
ترجمہ:اللہ بہت بڑا ہے، اے اللہ! اس کو ہم پرامن وایمان سلامتی واسلام اوراس چیز کی توفیق کے ساتھ ظاہر فرماجسے توپسند فرماتا ہے اورجس سے توخوش ہوتاہے، اے چاند میرا اورتیرا رب اللہ ہے۔
Advertisements
2 comments
  1. میری جانب سے آپ کو ماہ صیام مبارک ہو !!!

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: