شَھْرُ رَمَضَانَ -ماہ رمضان المبارک-1

اسلام کی بنیاد:اسلام کی بنیادی باتیں پانچ ہیں:
1- اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبود نہیں ، اور محمد ﴿ ﷺ ﴾ اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں  2-نماز قائم کرنا  3-زکوٰة ادا کرنا  4-بیت اللہ کا حج کرنا ﴿ اگر استطاعت حاصل ہو جائے﴾ 5-اور رمضان المبارک کے روزے رکھنا۔  
سیدنا ابن عمرؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہﷺ  نے فرمایا:   بُني الإسلام علی خمس: شھادۃ أن لا إلہ إلا اﷲ وأن محمد رسول اﷲ وإقام الصلاۃ وایتاء الزکاۃ والحج وصوم رمضان  ’’اسلام کی بنیاد پانچ چیزوں پر ہے ۔ گواہی دینا کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں  اور بیشک  محمدﷺ  اللہ کے رسول ہیں ، نماز قائم کرنا، زکاۃ ادا کرنا، حج کرنا اوررمضان کے روزے رکھنا۔‘‘ (صحیح بخاری :۸)
 سیدنا عمرو بن مرہ جہنیؓ بیان کرتے ہیں  کہ قبیلہ قضاعہ کا ایک شخص رسول اللہﷺ  کی خدمت میں  حاضر ہوا اورعرض کیا: اے اللہ کے رسولﷺ ! اگر میں  اس بات کی گواہی دوں  کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں  اور آپﷺ اللہ کے رسول ہیں  ، پانچوں  نمازیں  پڑھوں ، زکوٰۃ اداکروں ، رمضان کے روزے رکھوں  اور اس کاقیام کروں  تو میراشمار کن لوگوں  میں ہوگا؟ آپﷺ  نے فرمایا: من الصدیقین والشھداء  (صحیح ابن حبان: رقم ۳۴۲۹ صحیح)
روزے کا وجوب:روزہ کی تعریف  بنیت تعبد طلوع فجر سے غروب آفتاب تک کھانے پینے ، ازدواجی تعلقات اور دیگر مفطرات سے رکے رہنے کا نام روزہ ہے ۔ گویا روزہ کے تین رکن ہوئے۔
روزے کی فرضیت رمضان المبارک کا روزہ شعبان 2ھ میں  فرض ہوا، روزہ اسلام کے پانچ بنیادی ارکان میں  سے ایک اہم رکن ہے، جو شخص اس کی فرضیت کا انکار کرےوہ کافر ہے ، اگرتوبہ کرلےتو ٹھیک ورنہ اسے قتل کردیا جائیگااوربلاغسل وکفن ونمازجنازہ مسلمانوں  کی قبرستان سے دورکسی گڈھے میں  دفن کردیاجائیگا۔یٰاَیُّھَا الَّذِیْنَ اٰمَنُوْا کُتِبَ عَلَیْکُمُ الصِّیَامُ کَمَا کُتِبَ عَلَی الَّذِیْنَ مِنْ قَبْلِکُمْ لَعَلَّکُمْ تَتَّقُوْنَ}’’اے ایمان والو! تم پر روزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں  پر فرض کئے گئے تھے تاکہ تم تقویٰ اختیار کرو۔‘‘(البقرۃ:۱۸۳) اسی طرح ارشادفرمایا:{شَھْرُ رَمَضَانَ الَّذِیْٓ اُنْزِلَ فِیْہِ الْقُرْاٰنُ ھُدًی لِّلنَّاسِ وَ بَیِّنٰتٍ مِّنَ الْھُدٰی وَ الْفُرْقَانِ فَمَنْ شَھِدَ مِنْکُمُ الشَّھْرَ فَلْیَصُمْہُ وَمَنْ کَانَ مَرِیْضًا اَوْ عَلٰی سَفَرٍ فَعِدَّۃٌ مِّنْ اَیَّامٍ اُخَرَ یُرِیْدُ اللّٰہُ بِکُمُ الْیُسْرَ وَ لَا یُرِیْدُ بِکُمُ الْعُسْرَ وَ لِتُکْمِلُوا الْعِدَّۃَ وَ لِتُکَبِّرُوا اللّٰہَ عَلٰی مَا ھَدٰکُمْ وَ لَعَلَّکُمْ تَشْکُرُوْنَ } ’’ماہِ رمضان وہ ہے جس میں  قرآن اُتارا گیا جو لوگوں  کو ہدایت کرنے والا ہے اور جس میں ہدایت کی اور حق و باطل کی تمیز کی نشانیاں  ہیں ۔ تم میں سے جوشخص اس مہینے کو پائے اسے روزہ رکھنا چاہئے۔ ہاں  جو بیمار ہو، یا مسافر ہو تو اسے دوسرے دنوں  میں یہ گنتی پوری کرنا چاہئے۔ اللہ تعالیٰ کاارادہ تمہارے ساتھ آسانی کاہے، سختی کانہیں ۔ وہ چاہتا ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اور اللہ تعالیٰ کی دی ہوئی ہدایت پر اس کی بڑائی بیان کرو اور اس کا شکر کرو۔‘‘ (البقرۃ:۱۸۵)
اسی طرح حضرت طلحہ بن عبید اللہ رضی اللہ عنہ سےروایت ہے کہ ایک آدمی نے اللہ کے رسول ﷺ سے سوال کیاکہ اے اللہ کے رسول ﷺ آپ مجھے بتائیے کہ اللہ نے میرے اوپر روزوں  میں  سے کون سے روزے فرض کئے ہیں ؟تو آپ ﷺ نے فرمایا: کہ ر مضان کے روزے،اس نے کہا کہ کیا میرے اوپراسکے علاوہ بھی روزے فرض ہیں ؟تو آپ نے فرمایا: کہ نہیں ،مگر یہ کہ نفلی روزے رکھو۔ ﴿بخاری،مسلم﴾
سنن نسائی وغیرہ کی وہ حدیث جس میں  ہے کہ ایک اعرابی نے جب آپﷺ   سے فرائض اسلام کے متعلق پوچھا تو آپ نے رمضان کے روزوں  کابھی ذکر فرمایا: (سنن نسائی: ۲۰۹۰ صحیح) نیز حدیث ضمام بن ثعلبہ (سنن نسائی: ۲۰۹۱، ۲۰۹۲ صحیح) کے علاوہ بھی متعدد احادیث اس پر دلالت کرتی ہیں  کہ ماہ رمضان کے روزے فرض ہیں  اور پھر اجماعِ اُمت اس پر مستزاد ہے۔
رمضان المبارک کے روزے تمام روزوں  سے افضل ہیں ۔سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں  کہ رسول ﷺ  نے فرمایا: أفضل الصیام بعد رمضان شھر اﷲ المحرم’’رمضان کے بعد سب مہینوں  سے زیادہ فضیلت والے روزے اللہ کے مہینے محرم کے ہیں ۔‘‘  (صحیح مسلم:۱۱۶۳) باقی سب سے افضل روزے تو ماہ رمضان ہی کے ہیں  تاہم رمضان کے بعد سب مہینوں  سے زیادہ فضیلت والے روزے محرم الحرام کے ہیں ۔
رمضان: رمضان اسلامی سال کا نواں  قمری مہینہ ہے۔ عربی زبان میں رمضان کا مادہ رَمَضٌ ہے، تینوں مفتوح (زبر کے ساتھ) جبکہ الف ساکن ہے یعنی  رَمَضَان۔ یہ رمض سے مشتق ہے جو باب ضَرَبَ یَضْرِبُ، نَصَرَ یَنْصُرُ اور سَمِعَ یَسْمَعُ سے مصدر آتاہیـ اس کا معنی شدید گرمی، دھوپ کی شدت سے تپ جانے والی زمین یاپتھر، نیزے کی نوک  کو تیز کرنا اور  گرمی کی شدت سے کسی کا جلنا وغیرہ آتاہے۔ رمضان میں چونکہ روزہ دار بھوک و پیاس کی حدت اور شدت محسوس کرتا ہے اس لئے اسے رمضان کہا جاتا ہے۔﴿ابن منظور، لسان العرب، 7 162﴾
علامہ راغبؒ اصفہانی فرماتے ہیں کہ:’’یہ رمض سے مشتق ہے جس کے معنی سورج کی سمت تپش کے ہیں۔اَرْمَضَتْہٗ  سخت تپش نے اسے جلا دیا، فَرَمَضَ چنانچہ وہ جھلس گیا۔ اَرْضُ رَمْضَۃٍ  سخت گرم سرزمین۔ رَمَضَتِ الْغَنَمُسخت گرمی میں باہر چرنے کی وجہ سے بکریوں کے جگر زخمی ہوگئے۔‘‘ (مفردات القرآن: ۱؍۴۱۵)
ملا علی قاری فرماتے ہیں کہ رمضان رمضاء سے مشتق ہے اس کا معنی سخت گرم زمین ہے لہٰذا رمضان کا معنی سخت گرم ہوا۔ رمضان کا یہ نام اس لیے رکھا گیا ہے کہ جب عربوں نے پرانی لغت سے مہینوں کے نام منتقل کئے تو انہیں اوقات اور زمانوں کے ساتھ موسوم کر دیا۔ جن میں وہ اس وقت واقع تھے۔ اتفاقاً رمضان ان دنوں سخت گرمی کے موسم میں آیا تھا۔ اس لئے اس کا نام رمضان رکھ دیا گیا ﴿ملا علی قاری، مرقاۃ المفاتیح، 4 229﴾
اسی طرح دیگر کتب ِلغت میں ہے: رمض الشيء کسی چیز کی حرارت سخت ہونا۔ رمض الیومدن کابہت گرم ہونا۔ رمضت قدمہگرم زمین سے پاؤں  کاجلنا، رمض النعل نیزے کی نوک کو تیز کرنا۔رمض الصائم،پیاس کی شدت سے روزے دار کااندرونی حصہ گرم ہونا؍جلنا۔
کہاوت ہے: کالمستجیرمن الرمضاء بالناراس کی مثال ایسے ہے جیسے کوئی گرمی کی شدت سے بچنے کے لیے آگ کی پناہ لے۔ یہ کہاوت ایسے شخص کے بارے میں  ہے جس میں دوہری خرابیاں  پائی جائیں ۔ایک سے بچو تو دوسری اس سے زیادہ خطرناک ہو۔(القاموس الوحید، المنجد، مصباح اللغات، المعجم الوسیط،مادہ: رم ض)
سیدنا زید بن ارقمؓ سے مروی ایک حدیث میں  آتاہے : ’’صلاۃ الأوّابین حین ترمض الفصال‘‘’’یعنی نمازِ اوّابین کا (افضل) وقت وہ ہے جب اونٹ کے بچوں  کے پاؤں  دھوپ میں  گرم ریت پرچلنے سے تپنے لگیں ۔‘‘ (مسلم ، کتاب صلاۃ المسافرین، رقم: ۱۷۴۶)
یعنی اونٹ کے بچوں  کے پاؤں  اس درجہ جلنے لگیں  کہ وہ چرنا چھوڑ دیں ۔ یہ نمازِ چاشت کا افضل وقت ہے یعنی جب دھوپ کی شدت ہوتی ہے۔
رمضان کےمزید نام:
ماہ رمضان کو دورِ جاہلیت میں  ناتق بھی کہا جاتاہے۔  علامہ ازہری کہتے ہیں  کہ انجیل وغیرہ کتب میں  اسے حطۃ بھی کہا گیاہے کیونکہ یہ روزے دار کے گناہ گرا دیتا ہے۔(تاج العروس:؟)
سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی حدیث میں  اسے شہرالصبرکہاگیا ہے ۔ (سنن نسائی :۲۴۰۸، قالہ الالبانی: صحیح)
جبکہ ایک دوسرے روایت میں  اسے’شہرمبارک‘ بھی کہا گیا ہے۔(سنن نسائی :۲۱۰۶ قالہ الالبانی: صحیح)
سیدہ عائشہؓ سے مروی ایک حدیث میں اسے’شہر الصوم‘ کہہ کر یاد کیاگیا ہے۔  (سنن ابن ماجہ:۱۶۸۳ قالہ الالبانی: صحیح)
سیدنا سلمان فارسی سے فضائل رمضان پر مروی ایک روایت میں  اس مہینے کے یہ نام بھی بیان کئے گئے ہیں : شہر عظیم، شہر المواساۃ  (سنن ابن ماجہ:۳؍۱۹۲ رقم ۱۸۸۷  ضعیف)
ہمارے ہاں  اسے ماہِ صیام یعنی روزوں  کا مہینوں  بھی کہا جاتاہے۔حافظ ابن حجر عسقلانیؒ فرماتے ہیں  کہ ابوالخیر طالقانی نے اپنی کتاب ’حظائر القدس‘ میں  رمضان کے ساٹھ نام ذکر کئے ہیں ۔(فتح الباری:۷؍۱۳۳) تاہم حافظ ابن حجرؒ نے ان ناموں  کی تفصیل بیان نہیں  کی۔
رمضان کی وجہ تسمیہ
اس میں  اختلاف ہے کہ رمضان المبارک کو رمضان کیوں  کہاجاتا ہے۔ جیساکہ حافظ ابن حجرؒ فرماتے ہیں  ’’واختلف في تسمیۃ ھذا الشھر رمضان‘‘(فتح الباری:۴/۱۴۶) تاہم ذیل میں  ہم چند اقوال بیان کررہے ہیں ۔امید ہے کہ طالبان علم اس سے مستفید ہوسکیں  گے۔
 اس مہینے میں  گرمی کی وجہ سے اونٹ کے بچوں  کے پاؤں  جلنے لگے تھے اس لیے اسے رمضان کہاگیا۔ (غنیۃ الطالبین:۱/۴۸۰)
 اس میں  گرمی کی شدت سے پتھر جلنے لگے تھے رمضاء گرم پتھر کو کہتے ہیں ۔لہٰذا اسی مناسبت سے اسے رمضان کہا گیا۔ (ایضاً)
 اس میں  روزے داروں  کے گناہوں  کو جلایاجاتا ہے اس وجہ سے یہ ماہ رمضان ہے۔(غنیۃ الطالبین:۱/۴۸۰، تفسیر قرطبی:۲/۲۸۶، فتح الباری:۴/۱۴۶)
اس سلسلے میں  ایک روایت بھی بیان کی جاتی ہے کہ رسول اللہ1 نے فرمایا:وانما سمی رمضان لانہ یرمض الذنوب (السلسلہ الضعیفۃ والموضوعۃ، رقم:۳۲۲۳) ماہ رمضان کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ گناہوں  کو جلا دیتا ہے۔ تاہم روایت موضوع ہے۔ علامہ البانیؒ نے اسے موضوع قرار دیا ہے کیونکہ اس کی سند میں زیاد بن میمون راوی کذاب ہے۔
  یہ دلوں  کو گرماتا ہے جس سے دل نصیحت پکڑتے ہیں  اور آخرت پر غور وفکر کرتے ہیں  جیسے ریت اور پتھر سورج کی حرارت جذب کرلیتے ہیں ۔(غنیۃ الطالبین:۱/۴۸۱، تفسیر قرطبی: ۲/۲۸۶)
  خلیل نحوی کے نزدیک ماہ رمضان کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ یہ گناہوں  سے جسم کودھو ڈالتا ہے اوردلوں  کو پاک صاف کردیتا ہے۔(غنیۃ الطالبین:۱/۴۸۱)
 ابن مکیت کہتے ہیں  کہ اس مہینے میں عرب لوگ اپنے ہتھیاروں  کو تیز کیا کرتے تھے تاکہ شوال میں  حرمت والے مہینوں  سے قبل ان ہتھیاروں  کے ذریعے لڑا جاسکے تو اس مہینے میں  ہتھیار تیز کرنے کی وجہ سے اسے رمضان کہاجانے لگا(کیونکہ رمض کا معنی تیز کرنا بھی آتا ہے)(تفسیرقرطبی:۲/۲۶۸)
 علامہ مجدد الدین فیروز آبادی، علامہ الجوہری، ابن فارس اور ابن درید بیان کرتے ہیں  کہ جب قدیم عربوں  کی زبان سے ان مہینوں  کے نام نقل کئے گئے تو اس وقت جو مہینہ جس موسم میں  آیا اس کا اسی مناسبت سے ویسا ہی نام تجویز کیاگیاتو اتفاق سے رمضان کا مہینہ سخت گرمی کے موسم میں  آیا اس لیے اس کا نام رمضان رکھ دیاگیا۔(القاموس المحیط:۲/۱۹۰، لسان العرب :۷/۱۶۰، زاد المسیر :۱/۱۴۳)
ماہ رمضان اگرچہ ہمیشہ ایک ہی موسم یعنی گرمیوں  میں  نہیں  آتا بلکہ چند سالوں  کے بعد کبھی سردیوں  میں بدل جاتا ہے اور کبھی معتدل موسم میں ، لیکن چونکہ اس کا نام سخت گرمیوں  کے زمانے میں  رکھاگیا تھااس لیے موسم کی تبدیلی کے باوجود اس کا نام رمضان ہی رہا۔
سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ایک روایت میں  ہے: لاتقولوا رمضانا فانا رمضانا اسم اﷲ ولکن قولوا شھر رمضان (الکامل لابن عدی:۷/۵۳) ’’تم رمضان نہ کہو بلاشبہ رمضان اللہ کا نام ہے بلکہ تم ماہ رمضان کہا کرو۔‘‘
اس روایت سے تو یہی معلوم ہورہا ہے کہ رمضان المبارک کو ’’رمضان‘‘ بغیر اضافت کے یعنی صرف رمضان کہنا جائز نہیں  کیونکہ رمضان اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں سے ایک اسم ہے۔بعض لوگ اس کے قائل ہیں  جیسے اصحاب مالک ہیں  تاہم جمہور کے نزدیک اس کااستعمال اِضافت (ماہ رمضان) اور بغیر اضافت (رمضان) کے دونوں  طرح جائز ہے۔گو قرآن مجید میں  اس کااستعمال صرف اضافت ہی سے ہے تاہم احادیث میں یہ اضافت اور بغیر اضافت کے دونوں  طرح آیا ہے۔لہٰذا دونوں  طرح جائز ہے۔
علامہ ابن حاجب اور دیگر نحوی کہتے ہیں : لا تضف لفظ شھر بشھر إلا الذی فی اولہ راءیعنی جن مہینوں  کے ناموں  کاپہلا حرف’ر‘ ہے (جیسے رمضان ، ربیع) ان کے سوا کسی اور مہینے کے نام سے پہلےشھر (ماہ) کالفظ ذکر نہیں  کیا جاسکتا۔ مگر ابن حاجب کی اس بات سے بھی یہ ثابت نہیں ہوتا کہ’ر‘ والے ناموں  کے شروع میں شھر(ماہ)کا استعمال ضروری ہے۔(توفیق الباری:۳/۶۳)
جہاں  تک سیدناابوہریرہؓ سے مروی مذکورہ روایت کا تعلق ہے تو وہ بالاتفاق ضعیف اور موضوع ہے جیسا کہ محدثین نے اس کی وضاحت فرمادی ہے۔چنانچہ امام ابن جوزیؒ فرماتے ہیں :
’’ھذا حدیث موضوع لا أصل لہ وأبومعشر اسمہ نجیح کان یحییٰ بن سعید یضعفہ ولا یحدث عنہ ویضحک إذا ذکرہ۔وقال یحییٰ بن معین إسنادہ لیس بشی، قلت! ولم یذکر أحد فی اسماء اﷲ تعالیٰ رمضان ولا یجوز انا یسمی بہ اجماعا‘‘(الموضوعات:۲/۱۸۷)
’’یہ حدیث موضوع ہے اس کی کوئی اصل نہیں اس روایت کا راوی ابومعشر جس کا نامنجیح ہے۔امام یحییٰ بن سعید نے اسے ضعیف کہاہے انہوں  نے اس سے کوئی حدیث بیان نہیں کی بلکہ اس کا ذکر سن کر ہنستے تھے اور یحییٰ بن معین فرماتے ہیں  کہ اس روایت کی سند کچھ حیثیت نہیں  رکھتی۔ میں (ابن جوزی) کہتاہوں  کہ اللہ تعالیٰ کے اسماء حسنیٰ میں  رمضان کسی ایک نے بھی ذکر نہیں  کیا اور اس پر اجماعاً اجماع ہے کہ (اللہ تعالیٰ کا) یہ نام رکھنا جائز نہیں ۔‘‘
علامہ طاہر پٹنی فرماتے ہیں  کہ یہ حدیث موضوع ہے۔ (تذکرۃ الموضوعات:۱/۷۰)
معلوم ہوا کہ یہ روایت موضوع ہے لہٰذا رمضان یا ماہ رمضان کہنادونوں  طرح درست ہے۔چنانچہ داؤد راز دہلوی فرماتے ہیں : لفظ رمضان نبی کریم1 کی زبان مبارک سے ادا ہوا اور شہر رمضان خود اللہ تعالیٰ نے قرآن میں فرمایا۔ ثابت ہوا کہ دونوں  طرح سے اس مہینے کا نام لیاجاسکتا ہے۔(شرح صحیح بخاری:۳/۱۷۳)
المبارک : (اَل مُ بَارَک) المبارک شھرمحذوف کی صفت ہے۔یہ لفظ عام طور پر رمضان کے ساتھ بولا جاتا ہے۔ یعنی کہا جاتا ہے:’رمضان المبارک‘کیونکہ مبارک کا معنی ہے: برکت دیا ہوا، بابرکت،  تو رمضان المبارک کامعنی ہوا کہ  رمضان بابرکت مہینہ ہے۔
اسے رمضان المبارک کہنے کی اس کے سوا اورکیا وجہ ہوسکتی ہے کہ یہ سارے کا سارا مہینہ ہی برکتوں  والاہے۔ خود رسول اللہﷺنے بھی اسےشھر مبارک کہا ہے۔چنانچہ سیدنا ابوہریرہؓ بیان کرتے ہیں  کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا:
أتاکم رمضان،شھر مبارک،فرض اﷲ عزوجل علیکم صیامہ،تفتح فیہ أبواب السماء وتغلق فیہ أبواب الجحیم، وتغل فیہ مردۃ الشیاطین، ﷲ فیہ لیلۃ خیر من ألف شھر من حرم خیرھا فقد حرم(سنن نسائی :۲۱۰۶ صحیح)
’’تمہارے پاس رمضان کا بابرکت مہینہ آیا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اس کے روزے تم پرفرض کئے ہیں ۔ اس میں  آسمان کے دروازے کھول دیے اور جہنم کے دروازے بند کردئیے جاتے ہیں ۔ سرکش شیاطین بھی جکڑ دیے جاتے ہیں ۔اس ماہ میں  ایک ایسی رات بھی ہے جو ہزار مہینوں  سے افضل ہے جو کوئی اس کی خیر و بھلائی سے محروم کردیا گیا تو وہ (ہرخیرسے) محروم کردیاگیا۔‘‘
جاری ہے۔۔۔۔۔۔۔۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: