ماں کا دن۔۔۔۔۔؟؟؟

دنیا بھر میں یہ روایت قائم ہو چلی ہے کہ کوئی سا ایک دن کسی بھی ہستی کیلئے مخصوص کر دیا گیا ہے ان میں وہ ہستیاں بھی شامل ہیں جنہوں نے اپنی پوری زندگی اپنوں کیلئے وقف کر دی جیسے ماں، دنیا کے ہر مذہب اور ہر ملک میں بہت سے فرق پائے جاتے ہیں لیکن ماں کی محبت اور ماں کااحترام تقریباً ہر جگہ یکساں ہے، ماں ایک رشتے کا ہی نہیں بلکہ ایک جذبے کا بھی نام ہے۔ دنیا بھر میں مختلف دنوں میں ماؤں کو خراجِ تحسین پیش کرنے کے لئے ماؤں کا عالمی دن منایا جاتا ہے، پاکستان میں مئی کے دوسرے اتوار کو یہ دن منایا جاتا ہے۔دنیا کے ہر معاشرے اور مذہب میں ماں کی حیثیت مسلمہ ہے ،ماں کے مقام، حیثیت اور خدمات کے اعتراف میں آج پاکستان سمیت دنیا کے 77ممالک میں ماؤں کا عالمی دن منایا جارہا ہے ،جس کا مقصد محبت کے خالص ترین رنگ لئے ماں کے مقدس ترین رشتہ کی عظمت و اہمیت کو اجاگر کرنا اور ماں کیلئے عقیدت، شکر گزاری اور محبت کے جذبات کو فروغ دیناہوتا ہے۔ جبکہ دوسری جانب پاکستان اور اور دنیا کے مختلف ممالک میں محنت مزدوری کے لئے مقیم اپنے بیٹوں کی راہ دیکھہ رہی ہیں۔ ماں ہی وہ ہستی ہے جو بچے کو اپنے قدموں پہ کھڑا ہونااور زمانے کی بھیڑ کا سامنا کرنا سکھاتی ہے اس امید پر کہ یہ ننھے پودے جب تناور درخت بنیں گے تو ان کی ٹھنڈی چھاں میں اپنی زندگی کے تمام غم بھلا دے گی لیکن ماں کے آنچل میں پناہ لینے والی اولاد بڑھاپے میں ماں کو ایک چھت کا سائبان بھی نہیں دے پاتی اور ایسی بد قسمت خواتین کا مقدر ٹھہرتا ہے اولڈ ہومز یا فلاحی اداروں کے دارالامان ۔ مشرق نے اولڈ ہومز کی روایت بھی مغربی معاشرے سے مستعار لی ہے ۔ابھی کچھ سالوں پہلے تک ہمارے خاندانی نظام میں بوڑھے بزرگ گھر کے سربراہ کی حیثیت رکھتے تھے اور ہر اہم فیصلہ انکے مشورے سے کیا جاتا تھاپر آج جہاں آسائشات نے رشتوں کی جگہ لے لی ہے وہیں گھر کے بزرگ افرادکو فالتو سامان کی طرح اولڈ ہومز میں جمع کروا دیا جاتا ہےجہاں وہ محض یادوں کے سہارے زندگی کے بقیہ دن گزاردیتے ہیں۔

معاشرہ زبوں حالی کا شکار ہے اور لوگوں کے گھروں میں ہی نہیں دلوں میں بھی جگہ کم پڑگئی ہے ، رشتوں میں تنا ، بدترین معاشی حالات اور حساسیت کا فقدان ان بدنصیب ماں کو اولڈہومز تک لے آتا ہے ،پاکستان کے تمام بڑے شہروں میں اولڈ ہومز اور ایسے مراکز موجود ہیں جہاںاولاد کے ہاتھوں ستائی ہوئی بزرگ خواتین اپنی زندگی کے آخری ایام گزار رہی ہیں۔

دوسری جانب ایسے لوگوں کی بھی کمی نہیں جو سمجھتے ہیں کہ بزرگ سایہ دار درخت کی مانندہوتے ہیں جو پورے خاندان کو اپنی مہربان وسعتوں میں سمیٹے رکھتے ہیں،ہمارے ہی معاشرے میں ایسے لوگ بھی ہیں جو مکافات عمل سے ڈرتے ہیںاور ماں کی دعاں کو کامیابی کی علامت قرار دیتے ہیں۔

جس ہستی نے تمام عمر اپنی اولاد کیلئے وقف کر دی ، جسکے قدموں تلے جنت کی بشارت سنا دی گئی ،کیا عجب بات ہے کہ اُسی ہستی کیلئے ہم سال بھر میں محض ایک دن مخصوص کرتے ہیں اور وہ دن بھی اولڈ ہومز میں موجود بے شمار بدنصیب مائیںاس آس اور امید میں گزار دیتی ہیں کہ شاید آج کے دن انکی اولاد ان سے ملنے آئے ،شاید انکے لئے بھی کوئی پھول بھجوائے اور شاید کوئی اُنکے پاس آئے اور انکے جھریوں زدہ ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لے کر کہے۔۔۔

ماں تجھے سلام

 

۔تاریخی اعتبار سے اس دن کا آغاز سن 1870ء میں ہوا جب جولیا وارڈ نامی عورت نے اپنی ماں کی یاد میں اس دن کو شروع کیا جولیا وارڈ اپنے عہد کی ایک ممتاز مصلح، شاعرہ، انسانی حقوق کی کارکن اور سوشل ورکر تھیں۔ بعد ازاں 1877ء کو امریکہ میں پہلا مدر ڈے منایا گیا۔ 1907ء میں امریکی ریاست فلاڈیفیا میں اینا ایم جاروس نامی سکول ٹیچر نے باقاعدہ طور پر اس دن کو منانے کی رسم کا آغاز کیا۔ اس نے اپنی ماں این ماریا ریویس کی یاد میں یہ دن منانے کی تحریک کو قومی سطح پر اجاگر کیا یوں ان کی ماں کی یاد میں باقاعدہ طور پر امریکہ میں اس دن کا آغاز ہوا۔ یہ تقریب امریکہ کے ایک چرچ میں ہوئی۔ اس موقع پر اس نے اپنی ماں کے پسنددیدہ پھول تقریب میں پیش کیے۔ اس تحریک پر اس وقت کے امریکی صدر وڈ رولسن نے ماؤں کے احترام میں مئی کے دوسرے اتوار کو قومی دن کے طور پر منانے کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد یہ دن ہر سال مئی کے دوسرے اتوار کو منایا جاتا ہے۔ اس مناسبت سے برطانیہ میں اس دن کو Mothering Sunday بھی کہا جاتا ہے۔ مغربی دنیا میں لوگ اپنی ماؤں کو تحائف پیش کرتے اور ان سے ملاقات کرتے ہیں۔ یوں سال بھر بوڑھے والدین میں سے ماؤں کو اس دن کا انتظار رہتا ہے۔ امریکہ سمیت یورپ بھر میں بوڑھے والدین کو گھروں کی بجائے اولڈ ہومز میں رکھا جاتا ہے۔ اس لیے لوگ اس دن اولڈ ہومز میں اپنی ماؤں سے ملاقات کرتے اور ان کو سرخ پھولوں کے تحائف پیش کرتے ہیں۔ جن لوگوں کی مائیں اس دنیا میں نہیں ہیں وہ سفید پھولوں کے ساتھ اپنی ماؤں کی قبروں پر جاتے اور وہاں یہ گلدستے سجاتے ہیں۔ ہر ملک میں مدر ڈے کو منانے کے لیے مختلف دن مختص ہیں تاہم امریکہ، ڈنمارک، فن لیند، ترکی، اسٹریلیا اور بیلجیم میں یہ دن مئی کے دوسرے اتوار کو ہی منایا جاتا ہے۔

کچھ  نظمیں اور کچھ اقوال ماں کے نام نذر کرتی ہوں

ماں

ماں اِک ایسی نعمت ہے
جس کے دل میں شفقت ہے
رہتی ہے وہ بے آرام
کرتی ہے وہ دن بھر کام
بچوں کو رکھتی ہے عزیز
ان کو کھلاتی ہے ہر چیز
پھرتی ہے یوں تھکن اُٹھائے
ماتھے پر وہ شکن نہ لائے
کوئی نہیں ہے اُس کا ثانی
کہلاتی ہے دادی نانی
پیرُوں تلے ہے اُس کے جنت
بچوں سے کرتی ہے محبت

ماں

موت کی آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں
تب کہیں جا کر تھوڑا سکوں پاتی ہے ماں
روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھئے
چوٹ لگتی ہے ہمارے اور چلاتی ہے ماں
پیار کہتے ہیں کسے اور مامتا کیا چیز ہے؟
کوئی ان بچوں سے پوچھے جن کی مر جاتی ہے ماں
زندگانی کے سفر میں گردشوں کی دھوپ میں
جب کوئی سایہ نہیں ملتا تو یاد آتی ہے ماں
کب ضرورت ہو مری بچے کو، اتنا سوچ کر
جاگتی رہتی ہیں آنکھیں اور سو جاتی ہے ماں
بھوک سے مجبور ہو کر مہماں کے سامنے
مانگتے ہیں بچے جب روٹی تو شرماتی ہے ماں
جب کھلونے کو مچلتا ہے کوئی غربت کا پھول
آنسوؤں کے ساز پر بچے کو بہلاتی ہے ماں
لوٹ کر واپس سفر سے جب بھی گھر آتے ہیں ہم
ڈال کر بانہیں گلے میں سر کو سہلاتی ہے ماں
ایسا لگتا ہے جیسے آگئے فردوس میں
کھینچ کر بانہوں میں جب سینے سے لپٹاتی ہے ماں
دیر ہو جاتی ہے گھر آنے میں اکثر جب کبھی
ریت پر مچھلی ہو جیسے ایسے گھبراتی ہے ماں
شکر ہو ہی نہیں سکتا کبھی اس کا ادا مرتے مرتے بھی دعا جینے کی دئے جاتی ہے ماں

مری ماں

جنت نظیر ہے مری ماں
رحمت کی تصویر ہے مری ماں
میں ایک خواب ہوں زندگی کا
جس کی تعبیر ہے مری ماں
زندگی کے خطرناک راستوں میں
مشعلِ راہ ہے مری ماں
میرے ہر غم ، ہر درد میں
ایک نیا جوش ، ولولہ ہے مری ماں
میری ہر ناکامی وابستہ مجھ سے ہے
میری جیت میری کامیابی کا راز ہے مری ماں
چھپا لیتی ہے زخم کو وہ مرہم کی طرح
میرے ہر درد ہر غم کی دوا ہے مری ماں
دنیا میں نہیں کوئی نعم البدل اس کا
ممتا میں ہے مکمل فقط مری ماں

ماں

نیند اپنی بُھلا کے سُلایا ہم کو
آنسو اپنے گِرا کے ہنسایا ہم کو
درد کبھی نہ دینا اُن ہستیوں کو
اللہ نے ماں باپ بنایا جن کو
ماں
: ماں ساتھ ہے تو سایہ ٔ قربت بھی ساتھ ہے
ماں کے بغیر دن بھی لگے جیسے رات ہے
میں دور جائوں اُس کا میرے سر پہ ہاتھ ہے
میرے لیے تو ماں ہی میری کائنات ہے
ربِّ جہان نے ماں کو یہ عظمت کمال دی
اُس کی دعا پہ آئی مصیب بھی ٹال دی
قرآن میں ماں کے پیار کی اُس نے مثال دی
جنت اُٹھا کے مائوں کے قدموں میں ڈال دی

 

ماں

موت کی آغوش میں جب تھک کے سو جاتی ہے ماں
تب کہیں جا کر سکوں تھوڑا سا پا جاتی ہے ماں
فکر میں بچوں کی کچھ اسطرح گھل جاتی ہے ماں
نوجواں ہوتے ہوئے بوڑھی نظر آتی ہے ماں
اوڑھتی ہے خود تو غربتوں کا بوسیدہ کفن
چاہتوں کا پیرہن بچوں کو پہناتی ہے ماں
روح کے رشتوں کی یہ گہرائیاں تو دیکھیے
چوٹ لگتی ہے ہمارے اور چلاتی ہے ماں
اپنے پہلو میں لٹا کر اور طوطے کی طرح
اللہ اللہ ہم کو رٹواتی ہے ماں
گھر سے جب بھی دور جاتا ہے کوئی نور نظر
ہاتھ میں قرآن لے کر در پہ آجاتی ہے ماں
دے کے بچوں کو ضمانت میں رضائے پاک کی
پیچھے پیچھے سر جھکائے دور تک جاتی ہے ماں
لوٹ کے جب بھی سفر سے گھر آتے ہیں ہم
ڈال کے بانہیں گلے میں سر کو سہلاتی ہے ماں
وقت آخر ہے اگر پردیس میں نور نظر
اپنی دونوں پتلیاں چوکھٹ پر رکھ جاتی ہے ماں
پیار کہتے ہیں کسے اور مامتا کیا چیز ہے
کوئی ان بچوں سے پوچھے جن کی مر جاتی ہے ماں
سال بھر میں یا کبھی ہفتے میں جمعرات کو
ذندگی بھر کا صلہ اک فاتحہ پاتی ہے ماں

ماں
ہے دُنیا اگر اچھی تو اُس سے بھی اچھی ہے ماں میری۔
اپنا لے جو ہر درد میرا ایسی دوست ہے ماں میری۔
چوٹ لگے مجھے تو بہتے ہیں آنسو آنکھ سے اُس کی،
چُن لے جو ہر کانٹا میرے دامن سے ایسی ماں ہے میری۔
رکھ کر خود کو بھوکا بھرا ہے جس نے پیٹ میرا،
کیسے کروں بیاں کہ کیا ہے میرے لیے ماں میری۔
مہک اُٹھے جس کی خوشبو سے آنگن میرا،
پھولوں کی اِک ایسی وادی ہے ماں میری۔
نہیں دے سکتا مول اے ماں میں تیری محبت کا،
چاہیے بس ساتھ تیرا چاہے لے لے ساری دولت دُنیا میری۔
شُکر کروں میں کیسے ادا اُس پاک ذات کا بدر،
دے دی جنت جس نے مجھے دُنیا میں میری۔
کر دے معاف میری ہر خطا اےماں میری۔
اب پچھتائوے کیا حوت جب نہیں رہی اب ماں تیری۔
بھٹکتا رہے گا یونہی اب تو در بدر،
نکلے گی دُعا تیرے لب سے کہ اے اللہ لوٹا دے مجھ کو ماں میری۔

ماں جیسے ہستی دنیا میں ہے کہاں
نہیں ملے گا بدل،چاہے ڈھونڈ لو ساراجہاں

Advertisements
3 comments
  1. اب میں کیا لکھوں ؟ آپ کراچی سے شروع ہوتی ہیں اور نانگا پربت تک لکھتی چلی جاتی ہیں ۔
    بلاشُبہ ماں ایک ایسا لفظ ہے کہ جس چیز کے ساتھ استعمال کیا جائے وہ محترم و مقدم ہو جاتی ہے ۔
    ماں کی عدم تکریمی بھی اکثر ماں کی غلط تربیت کا نتیجہ ہوتی ہے ۔ کیا یہ درست نہیں کہ مستقبل کی ماں کا وقار موجودہ ماں ہی کم کرتی ہے بیٹے کو بیجا ترجیح دے کر ؟

    • آج کل ماں وہ کردار ہی ادا کہاں کر رہی ہیں
      اچھی تربیت دینا ہی بھول گئیں ہیں سو یہی حال ہو گا
      باقی کا آزمائش ہی کہہ سکتے ہیں

  2. مختار عالم said:

    its verey nice may allah bless you all

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: