معاشرے میں عاملوں کی بہتات کی وجوہات

2002؁ میں گورنمٹ ایم اے او کالج لاہور کے شعبہ نفسیات کی ایک ریسرچ رپورٹ جو کہ اسی کالج کے دو طالب علموں محمد شفیق اور احسان الٰہی کی مرتب کردہ تھی کہ مطابق عملیات کرانے والوں میں سے60فیصدمرد و خواتین ایسے ہوتے ہیں جو کہ اپنے جسمانی و ذہنی امراض سے پریشان ہوتے ہیں،کچھ لوگوں کے پاس علاج معالجے کے لئے پیسے نہیں ہوتے اور ان کے عزیز و اقارب انہیں آسیب زدہ سمجھ کر عاملوں کے پاس جانے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ایسی خواتین جن کی اولادنہیں ہوتی یا وہ اولاد نرینہ سے محروم ہوتی ہیں ان کی اکثریت عاملین سے رجوع کرتی ہے۔30فیصد افراد کا مسئلہ ذاتی پریشانیاں ہوتی ہیں جیسے کاروبار میں مندی، بیٹیوں کی شادی میں رکاوٹ،ساس بہو کے جھگڑے،مقدمے بازی، ذہنی سکون کی تلاش، انعای بونڈز کے ذریعے دولت کا حصول،ملازمتوں میں ترقی، ٹرانسفر ،اچھی اور پسندیدہ جگہوں پر پوسٹنگ وغیرہ وغیرہ۔
بقیہ 10فیصد رجوع کرنے والے دشمنوں کے خلاف حسداورنفرت کے کارفرما جذبے کے تحت ان سے ملنے پر مجبور ہوتے ہیں۔ان میں بھی خواتین کی تعداد زیادہ ہوتی ہے۔جو محض رقابت کی بناء پر اپنے مخالفین کو ہر طرح نیچا دکھانے کے جذبے سے مغلوب ہوتی ہیں۔زیادہ تر معاملا ت شادی بیاہ و رشتوں سے متعلق ہوتے ہیں،کیونکہ اکثر مرد و خواتین ان لوگوں کے گھروں کو ہنستا بستا دیکھنا نہیں چاہتے جو ان کی مرضی کے خلاف شادی کر لیتے ہیں۔اکثر عورتیں اس بات کا تعویز لیتی ہیں کہ ان کے شوہر کسی اور عورت میں دلچسپی نہ لینے لگیں۔جبکہ نوجوان لڑکے لڑکیاں اپنی پسند کی شادی کے لئے ان سے رجوع کرتے ہیں۔اکثر عورتیں جن میں ماں اور بہنوں کی تعداد زیا دہ ہوتی ہے،اپنی بہن یا بیٹی کے لئے ان کی شادی سے قبل ہی ان عاملین سے رجوع کرتی ہیں کہ کوئی ایسا نقش حاصل کر سکیں کہ جن سے ان کا ہونے والا داماد یا بہنوئی کاٹھ کے الّو کی طرح ان کے اشارے پر چلے اور جلد ا زجلد سسرال کے آس پاس آباد ہو جائے تا کہ اس کی آمدنی پر بلا شرکت شرکت غیرے ان کا راج ہو اور اس کی آمدنی میں لڑکے کے ماں باپ بھائی بہن حصہ دار نہ بن سکیں ۔ان مرتبین نے اس سروے سے یہ نتیجہ اخذ کیا کہ پچھلے 20-25سالوں کے درمیان ہمارے معاشرے میں جادو ٹونے کے رجحان میں 40فیصد اضافہ ہوا ہےجس کی وجوہات ہمارے معاشرے میں پھیلی ہوئی بےچینی،افراتفری،خود غرضی،بے روزگاری ، ازدواجی جھگڑے، غربت ،تنگدستی ،مہنگائی،مقدمے بازی، حسد، رقابت اور راتوں رات امیر بن جانے کی خوہشات کا بہت زیادہ عمل دخل ہے۔اس نئے رجحان کی زیادتی کے سبب بے شمار بےروزگار اور جرائم پیشہ لوگ جعلی عاملوں کا روپ دھار کر بیٹھے ہیں۔کیونکہ اس کاروبار کے لئے نہ تعلیم ضروری ہے اور نہ ہی کسی قسم کے لائسنس درکار ہوتا ہے، اور بہت بڑی سرمایہ کاری کی ضرورت  بھی درکار نہیں ہوتی۔
Advertisements
6 comments
  1. جادو کرنے اور کرانے وال دونوں جہنمی ہیں ۔ باقی جو لوگ سیاسیوں اور پیروں فقیروں کے پاس اپنے واہموں کا علاج ڈھونڈتے ہیں وہ وہ اللہ سے کیوں نہیں مانگتے جو سب کو دیتا ہے اور ہر چیز پر قادر ہے ۔

    • شیطان کا بھی کچھ کام ہے
      سو وہ بھی کر رہا ہے
      اب رحمان کی راہ پر چلنے والوں کو بھی تو آزمائش دینی ہو گی نا؟؟؟

  2. Haroon Khalid said:

    Kash humarey haan bhi jaadu karne waley ki saza mout ho jesa k Saudi Arab mein hai..

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: