بڑا حادثہ

31مارچ1948؁ جو ڈھاکہ میں قائد اعظم محمد علی جناح نے تقریر کرتے ہوئے فرمایا تھا کہ:
"اگر ہم خود کو بنگالی،پنجابی،بلوچی،اور سندھی پہلے اور مسلمان اور پاکستانی بعد میں سمجھنے لگیں گے تو لازماً پاکستان پارہ پارہ ہو کر رہ جائے گا۔”
آج جب پاکستان میں مسلمانوں کی حالت زار کو دیکھا جاتا ہے تو دل میں عجیب سا قلق پیدا ہوجاتا ہے کہ یہاں ہر کوئی نفسا نفسی کےعالم میں مبتلا ہے۔کوئی اپنے آپ کو پنجابی، کوئی سرائیکی ،کوئی پٹھان ،کوئی بلوچی ،کوئی سندھی اور کوئی مہاجر سمجھ رہا ہے اورایک دوسرے کو شک اور تنقید کی نگاہ سے دیکھ رہا ہے۔اگر نفاق کا یہی عالم رہا تو لگتا ہے کہ ہم (خداناخواستہ) بنگلہ دیش جیسے کسی بڑے حادثے کا شکار ہو جائیں گے۔
Advertisements
4 comments
  1. Haroon Khalid said:

    Molana Abul-kalam Aazad ne Pakistan ban’ney se pehle prediction ki thi k
    "agar ye mulk bana tau toot jayega aur yahan lisaani aur ilaqai base per fasaadat honge”
    Aaj yehi kuch ho raha hai…

    • یہ بھی ایک الزام ہے ابو کلام آذاد پر
      لوگوں نے ان کی پاکستان کے ساتھ نہ دینے پر ان کے نام سے جانے کیا کچھ موسوم کر دیا ہے
      حتٰی کہ باقعدہ تاریخ بھی دے ڈالتے ہین کہ اس جگہ پر اس موقع پر اس خطاب میں یہ ارشاد فرمایا
      کہ بھلا تحقیق کون کرے گا
      دو قومی نطریہ بھی اب تو پاکستانی بھول چکے ہیں
      انڈین کلچر سے متاثریت کا اس سے بہتر کیا ثبوت ہو گا
      ہم ہی کیا ہماری نئی نسل کو انڈیا کے ہر تہوار کا علم ہے کہ دیوالی کیا ہے اور ہولی کیا ہے
      دسہرہ کب ہوتا ہے اور پوچھا میں تھالی کا کیا کام ہے
      حتٰی کے بچے تک مورتی کو دیکھ کر پہچان جاتے ہیں کہ رام کے ساتھ سیتا ہوتی ہے اور کالی کی زبان باہر ہوتی ہے
      اماوس کی رات کیا ہے اور جانے کیا کچھ
      مجھے تو جانے کیسی ناول پڑھنے کی لت لگی تھی انٹر کی چھٹیوں میں تو کالا جادو سے لے کر انکا اقابلا اور جانے کیا کچھ پڑھ ڈالا
      تب جا کر کچھ سیکھی کہ کس مذہب میں کیا کچھ ہے
      مگر آج کے بچوں کو اسلام کی باتیں اتنی یاد کیوں نہیں؟

  2. ١۔اسلام آباد تے کراچی وچ اردو یونی ورسٹی ھے پئی۔ہک سرائیکی میڈیم :سرائیکی یونیورسٹی برائے صحت انجینئرنگ تے سائنس آرٹس ٻݨاؤ جیندے کیمپس ہر وݙے شہر وچ ھوون۔.

    ۔٢.۔ تعلیمی پالسی ڈو ھزار نو دے مطابق علاقائی زباناں لازمی مضمون ھوسن تے ذریعہ تعلیم وی ھوسن۔ سرائیکی بارے عمل کرتے سرائیکی کوں سکولاں کالجاں وچ لازمی کیتا ونڄے تے ذریعہ تعلیم تے ذریعہ امتحان بݨاؤ۔.

    ٣۔ پاکستان وچ صرف چار زباناں سرائیکی سندھی پشتو تے اردو کوں قومی زبان دا درجہ ڈیوو.۔.

    ۔٤۔ نادرا سندھی اردو تے انگریزی وچ شناختی کارݙ جاری کریندے۔ سرائیکی وچ وی قومی شناختی کارڈ جاری کرے۔.

    ۔٥۔ ھر ھر قومی اخبار سرائیکی سندھی تے اردو وچ شائع کیتا ونڄے۔کاغذ تے اشتہارات دا کوٹہ وی برابر ݙتا ونڄے۔.

    ۔٦۔ پاکستان دے ہر سرکاری تے نجی ٹی وی چینل تے سرائیکی، سندھی، پشتو ، پنجابی،بلوچی تے اردو کوں ہر روز چار چار گھنٹے ݙتے ونڄن۔.

    ۔٧۔سب نیشنل تے ملٹی نیشنل کمپنیاں سرائیکی زبان کوں تسلیم کرن تے ہر قسم دی تحریر تے تشہیر سرائیکی وچ وی کرن۔.

    ۔٨۔۔سرائیکی ہر ملک وچ وسدن ایں سانگے سرائیکی ہک انٹر نیشنل زبان اے۔ سکولاں وچ عربی لازمی کائنی ، تاں ول انگریزی تے اردو دے لازمی ھووݨ دا کیا ڄواز اے؟.

    • مجھے سمجھ نہیں آیا آپ نے کیا لٓکھا ہے
      پر یقین ہے سرائیکی زبان کی حماہیت میں لکھا ہو گا
      مجھے بھی ہمدردی ہے پر یہ تو سرائیکیوں کو سمجھنا ہو گا کہ وہ اپنی زبان کے ساتھ کیسا رویہ رکھے ہیں
      ہم علاقائی زبان کے مخالف نہیں پر پہچان پاکستان کی اردو ہے
      اس لئے ہم اس زبان کی ترویج کر رہے ہیں

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: