دیکھا جائے گا …….!!!

دیکھا جائے گا ۔۔۔۔!!!
یہ مکالمہ اکثر اوقات کافی جگہوں پر کام کر جاتا ہے لیکن 1جگہ یہ بالکل ناکام ہو جاتا ہے وہ ہے انسان کی موت ۔اس پر آکر انسان بے بس و مجبور ہو جاتا ہے اور اس کی ایک نہیں چلتی۔موت کے متعلق سب جانتے ہیں ،سمجھتے ہیں اور روزآنہ اپنے اردگرد مختلف انسانوں کی موت کی خبریں بھی سنتے اور پڑھتے ہیں۔ یہ انسان بالکل ہم جیسے ہی ہوتے ہیں اور ان میں سے کچھ ہمارے اپنےاور بہت پیارے بھی ہوتے ہیں۔ہم میں سے اکثر موت کو بالکل ایسے لیتے ہیں جیسے بلی کے سامنے کبوتر ،جو بلی کو سامنے دیکھ اپنی آنکھیں بند کر یہ سمجھ لیتا ہے کہ اب بلی اسے نہیں دیکھ رہی،اور پھر بلی اسے دبوچ لیتی ہے۔بالکل  اسی طرح موت بھی انسان کے ساتھ ایسا ہی کرتی ہے اچانک کسی بھی وقت دبوچ لیتی ہے۔کوئی شک نہیں کہ ہمیں موت یاد آتی جب کسی کو بہت زیادہ بیمار دیکھیں یا قبرستان میں کسی کے جنازے میں جائیں اور یاد کی یہ کیفیت چند لمحات بعد ہی ختم ہو جاتی ہے۔موت کیا ہے؟عالم فانی سے عالم حقیقی کا سفر؟موت وہ پیالہ ہے جسے سب کو پینا ہےاور قبر وہ دروازہ ہے جس میں سب نے داخل ہونا ہے۔موت کے معنی ایک نئی زندگی بھی ہے ۔یعنی ابدی زندگی۔
موت کیوں بنائی گئی؟
آئیے قرآن کی زبان میں جانتے ہیں۔
الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ لِيَبْلُوَكُمْ أَيُّكُمْ أَحْسَنُ عَمَلًا وَهُوَ الْعَزِيزُ الْغَفُورُ۔
جس نے موت اور زندگی کو (اِس لئے) پیدا فرمایا کہ وہ تمہیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل کے لحاظ سے بہتر ہے، اور وہ غالب ہے بڑا بخشنے والا ہے۔(سورہ نمبر 67:الْمُلْک: آیت نمبر2)
جب ہم سب کچھ جانتے ہیں تو ہم پر اثر کیوں نہیں ہوتا ؟
یہ سوال ہمیں خود اپنے آپ سے پوچھنا چاہیئےکہ ہم سب کچھ جانتے ہوئے بھی گناہوں ، غلطیوں اور خطاؤں سےاجتناب کیوں نہیں کرتے؟
ہم سب اتنے بچے یا نا سمجھ نہیں کہ یہ نہ جانتے ہوں کہ اللہ ہم سے کون سے اچھے کام لینا چاہتاہے؟اور کون سے برے کاموں سے ہمیں دور دیکھنا چاہتا ہے؟اچھائی اور برائی کے متعلق ہم سب جانتے ہیں اور خصوصاً آج کے جدید دور میں جب ہر قسم کی معلومات انسانی پہنچ سے دور نہیں ہیں۔
اللہ تعالٰی فرماتے ہیں
وَلَنَبْلُوَنَّكُمْ حَتَّى نَعْلَمَ الْمُجَاهِدِينَ مِنكُمْ وَالصَّابِرِينَ وَنَبْلُوَاْ أَخْبَارَكُمْ۔
اور ہم ضرور تمہاری آزمائش کریں گے یہاں تک کہ تم میں سے (ثابت قدمی کے ساتھ) جہاد کرنے والوں اور صبر کرنے والوں کو (بھی) ظاہر کر دیں اور تمہاری (منافقانہ بزدلی کی مخفی) خبریں (بھی) ظاہر کر دیں۔(سورہ نمبر 47:مُحَمَّد: آیت نمبر31)
ان سب کے باوجود ہم لاپرواہی سے یہ کیوں کہتے ہیں کہ دیکھا جائے گا؟یہ ایک المیہ ہے کہ ہم موت کی حقیقت کو جانتے ہووئے بھی اس سے بے خبر رہتے ہیں ۔وہی کرتے ہیں جو ہمارا دل کہتا ہے اور خود کو دنیا اکٹھی کرنے میں اتنا مشغول کر لیتے ہیں کہ قبرتک پہنچ جاتے ہیں اور پھر اس امتحان کی تیاری بھی صحیح سے نہیں ہو پاتی جس کے متعلق بار بار قرآن میں ذکر آیا ہے۔
Advertisements
4 comments
  1. asslaam o elaikum ap ke sub post bohat achhe hein laikan aap apny sar par kaprra keyoun nehin rakhten?

  2. Tayyab said:

    Kash hum sab us vaket sy phly samejh jahen

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: