قطب شاہی سلطنت کا خاتمہ

آج تقریباً600سال پیشتر27ذوالحجہ کو سلطان عبداللہ قطب شاہ اپنے شاہی ہاتھی”مورت”پر سوارحیدر آباد سے گولکنڈہ جا رہا تھا۔موسٰی ندی چڑھی ہوئی تھی اور پانی ایک مہیب شورکے ساتھ بہہ رہا تھا۔ہاتھی جوش تلاطم دیکھ کر مست ہو گیا۔مہاوت کو ہلاک کر کے جنگل کی طرف نکل گیا۔سلطان نے بہت کوشش کی کہ ہاتھی سے اتر جائے مگر کامیابی نہ ہوسکی،اور وہ ناچار سوار رہا۔ہاتھی جدھر چاہتا چلا جاتا رہا۔یہ اطلاع سلطان کی والدہ حیات بخش بیگم کو ہوئی تو اس نے حکم دیا کہ جنگل کے درختوں پر کھانا اور پانی باندھ دیا جائے ۔تاکہ ہاتھی جس درخت کے نیچے ٹھہرے سلطان کو غذا میسر آسکے۔آخرذوالحجہ تک یہی حالت برقرار رہی۔محرم کا چاند دیکھ کر حیات بیگم نے منت مانی کہ اگر سلطان صحیح سلامت واپس آئے تو 40من سونے کی زنجیر بنا کر حسینی علم پر لے جائےگی۔اور وہاں خیرات کر دی جائے گی۔اس منت کے بعد ہاتھی کی مستی ختم ہو گئی،اور وہ سلطان کو لے کر گولکنڈہ آگئی۔منت کے مطابق حیات بیگم نے سونے کی زنجیر بنائی اور سلطان کو باندھ کر حسینی علم روانہ کیا یہاں اس کو توڑ کر خیرات کر دیا گیا۔اس کے بعد یہاں ہر سال یہ تقسیم ہوتی رہی حتٰی کہ قطب شاہی سلطنت کا خاتمہ ہو گیا۔

(اقتباس :دکنی کلچر از محمد نصیر الدین ہاشمی)

Advertisements
2 comments

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: