دعا ، خالق و مخلوق کے درمیان بہترین تعلق

خالق یعنی اللہ تعالٰی کو یہ پسند ہے کہ اس کی مخلوق اس سے مانگے توبہ و استغفار کے یہ وہی کلمات ہیں جو حضرت آدم علیہ السلام نے اللہ تبارک و تعالٰی سے سیکھے اور جب حضرت آدم علیہ السلام نے اپنی غلطی پر ندامت و پریشانی کا اظہار کیا اور بارگاہ الٰہی میں تو بہ و استغفار کا اہتمام کیا تو اللہ تعالٰی کی رحمت و مغفرت کے حقدار قرار پائے۔
رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنفُسَنَا وَإِن لَّمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ۔
اے ہمارے رب! ہم نے اپنی جانوں پر زیادتی کی؛ اور اگر تو نے ہم کو نہ بخشا اور ہم پر رحم (نہ) فرمایا تو ہم یقیناً نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔(سورہ نمبر 7:الاعراف: آیت نمبر 23)
گناہ کر کے اس پر اترانا اور اصرار کرنا اور اس کو صحیح قرار دینے کے لئے دلائل کے انبار لگانا شیطانی راستہ ہے جبکہ گناہ کےبعد  احساس ندامت سے مغلوب ہو کر بارگاہ الٰہی میں جھک جانا اور توبہ و استغفار کا اہتمام کرنا بندگان الٰہی کا راستہ ہے۔
رَبِّ إِنِّي ظَلَمْتُ نَفْسِي فَاغْفِرْ لِي فَغَفَرَ لَهُ إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ۔
اے میرے رب!بیشک میں نے اپنی جان پر ظلم کیا سو تو مجھے معاف فرما دے پس اس نے انہیں معاف فرما دیا، بیشک وہ بڑا ہی بخشنے والا نہایت مہربان ہے۔(سورہ نمبر 28:القصص: آیت نمبر 16)
حضرت موسٰی علیہ السلام نے دیکھا کہ 2شخص آپس میں لڑ رہے ہیں 1اسرائیلی اور1قبطی، حضرت موسٰی علیہ السلام سے قبطی نے شکایت کی اور اس کا زور و ظلم بیان کیا جس پر حضرت موسیٰ علیہ السلام کو غصہ آگیا اور 1گھونسہ اسے کھنیچ کر مارا جس سے وہ اسی وقت مر گیا۔حضرت موسٰی علیہ السلام یہ دیکھ کر گھبرا گئے اور کہا کہ یہ تو شیطانی کام ہے اور شیطان دشمن و گمراہ ہے اوردوسروں کو گمراہ کر دینے والا بھی۔پھر حضرت موسٰی علیہ السلام نے اللہ تعالٰی سے معافی طلب کی اور استغفار کرنے لگے۔جس پر اللہ سبحان و تعالٰی نے انہیں بخش دیا کہ وہی بخشنے والا مہربان ہے۔
لَّا إِلَهَ إِلَّا أَنتَ سُبْحَانَكَ إِنِّي كُنتُ مِنَ الظَّالِمِينَ۔
تیرے سوا کوئی معبود نہیں تیری ذات پاک ہے، بیشک میں ہی (اپنی جان پر) زیادتی کرنے والوں میں سے تھا۔
(سورہ نمبر 21:الْأَنْبِيَآء: آیت نمبر 87)
اللہ کے پیغمبر حضرت یونس بن متی علیہ السلام تھے انہیں اللہ تعالٰی نےموصل کے علاقے بستی نینوا کی جانب نبی بنا کر بھیجا گیا۔آپ نے قوم کو اللہ کی راہ کی دعوت دی لیکن قوم ایمان نہ لائی اور آپ علیہ السلام وہاں سے ناراض ہو کر چل دیئے۔ اور ان لوگوں سے کہنے لگے کہ 3دن میں تم پر اللہ کا عذاب نازل ہو گا ۔جب اس بات کی انہیں (قوم نینوا کو)تحقیق ہو گئی اور انہوں نے جان لیا کہ انبیاء کرام علیہ السلام جھوٹے نہیں ہوتےتو یہ سب چھوٹے بڑے اپنے مویشیوں کے ساتھ جنگل میں نکل کھڑے ہوئے اور سب نے بلک بلک کر بارگاہ خداوندی میں فریاد شروع کر دی ۔اس سے رحمت الٰہی متوجہ ہو گئی اورعذاب اٹھا لیا گیا۔
حضرت یونس علیہ السلام یہاں سے چل کر 1کشتی میں سوار ہوئے اور آگے جا کر طوفان کے آثار نمودارہوئے قریب تھا کہ کشتی ڈوب جائے ۔مشورہ ہوا کہ کسی آدمی کو دریا میں ڈال دیا جائے کہ وزن میں کمی واقع ہو قرعہ ڈالا گیا 3بار حضرت یونس علیہ السلام کا ہی نام آیا ۔آپ علیہ السلام اٹھے اور خود دریا میں کودپڑے۔اللہ کے حکم سے ایک مچھلی نمودار ہوئی اور آپ علیہ السلام کو نگل گئی اور اللہ کے حکم سے آپ علیہ السلام کو خراش تک نہ آئی۔آپ علیہ السلام اس مچھلی کے لئے غذا نہ تھے بلکہ مچھلی کا پیٹ آپ کے لئے قید خانہ تھا۔وہاں آپ علیہ السلام نے دعا کی اور اللہ سبحان و تعالٰی نے آپ علیہ السلام کی معافی کو قبول کیا اور مچھلی کو حکم دیا کہ بغیر کسی تکلیف کے کنارے پر اگل دے۔
استغفار موجب نجات ہےجو کئی بھی مصیبت کے وقت حضرت یونس علیہ السلام کی دعا کو پڑھ کر اللہ تبارک و تعالٰی سے مغفرت طلب کرےگااللہ اس کی مصیبتوں کو دکھوں سے نجات دیں گے۔نبی کریمﷺ نے فرمایا جس مسلمان نے بھی کسی معاملہ کے لئے اس دعا کے ساتھ دعا مانگی اللہ تعالٰی نے اس کو قبول فرمایا ہے۔
رَبِّ اجْعَلْنِي مُقِيمَ الصَّلاَةِ وَمِن ذُرِّيَّتِيرَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَاءِرَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَوْمَ يَقُومُ الْحِسَابُ۔
اے میرے رب! مجھے اور میری اولاد کو نماز قائم رکھنے والا بنا دے، اے ہمارے رب! اور تو میری دعا قبول فرما لے۔
اے ہمارے رب! مجھے بخش دے اور میرے والدین کو (بخش دے)اور دیگر سب مومنوں کو بھی، جس دن حساب قائم ہوگا۔
(سورہ نمبر 14:إِبْرَاهِيْم: آیت نمبر 40-41)

یہ دعا حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس وقت کی تھی کہ جب ان کے سامنے یہ واضع نہیں ہو رہا تھا کہ ان کے والداللہ سبحان و تعالٰی کے دشمن ہیں ،جب ان کے سامنے یہ واضع ہوا کہ ان کے والد اللہ کے دشمن ہیں تو اس سے اظہار براءت کر دیا۔اس لئے مشریکن کے لئے دعا کرنا جائز نہیں چاہے وہ قرابت قریبہ سے ہی کیوں نہ ہوں۔

Advertisements
4 comments
  1. Sulaiman said:

    بہت اچھا لکّھا ہے ماشااللہ

    Created using "Urdu for iPhone/iPad” App http://bit.ly/iPYpsF

  2. Khalid Naeem said:

    بسم الله الرحمن الرحيم

    رب اغفر وارحم وانت خير الرحمين

    اے ميرے رب مجهے بخش دے’ مجھ پر رحم فرما ،تو سب سے بہتر رحم فرمانے والا ہے

    آمين ثم آمين يارب العالمين

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: