عبد الماجد دریا بادی (مکمل)

وہ ملحد تھا،قابل گردن زنی تھا۔اس نے حضورپاک ﷺ کی شان میں بھی گستاخی کی تھی،مگر جب اسے حق کا ادراک ہوا تو ایمان کا نور دل و دماغ میں جگمگایا تو وہ دنیائے اسلام میں ایک قد آور شخصیت بن کر ابھرا۔قلم کا جادو گر ، دنیائے صحافت کا ایک درخشاں ستارہ،اسلام کا سچا سپاہی۔ اپنی ذمّہ داریوں کو بھرپور انداز میں سرانجام دینے کی خاطر شب و روز عوامی جذبے کی ترجمانی میں مصروف ہو گیا،کیونکہ اسے ادارک ہو گیا تھا کہ جو قلم کار سچے جذبے کی ترجمانی نہ کر سکے اس کے الفاظ کتنے ہی حسین کیوں نہ ہوں،تحریر موثر نہ ہو سکے گی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

عبدالقادر لکھیم پور کھیری میں ڈپٹی کلیکٹر تھے۔مگر اہل خانہ دریا آباد میں رہائش پزیر تھے۔ان کے گھر ایک بچے نے1892؁ جنم لیا ۔یہ ان کا پہلا بچہ تو نہ تھا پر نجانے کیوں اس کی پیدائش پر دل کچھ زیادہ ہی خوش ہو رہا تھا،اس کی چاہت دوسرے بچوں کی نسبت زیادہ تھی اس کی وجہ بھی وہ نہیں جان پا رہے تھے۔انہوں نےبچے کا نام عبدالماجد رکھ دیا۔ اسکی والدہ کا نام نصیر النساء تھا ۔ ماجد کا تعلق قدوائی خاندان سے تھا۔جن کے آباء قاضی اور مفتیوں کا خاندان کہلایا جاتا تھا۔
شیخ محمد آبگش چشتی نظامی ایک نامور بزرگ گذرے ہیں۔یہ عبدالماجد کے مورث اعلٰی تھے۔آبگش اس لئے کہلائے کہ یہ لوگوں کو کنوؤں سے پانی بھر بھر کر لوگوں کو پلاتے اوروضو کرواتے تھے۔ان کی شہرت سن کر محمود آباد کےشاہی عامل دریا خان انہیں ایک ویران خطہ میں لے آئے جگہ کا نام دریا آباد رکھا اور یہاں آبادی کی بنیاد ڈالی۔حضرت آبگش کا انتقال ہوا تو دریا آباد ہی میں مدفن ہوئے۔
نسل چلتی رہی اور یہاں تک کہ عبدالماجد کے حقیقی دادا مفتی مظہر کریم زمانہ شاہی میں مفتی تھے۔انگریزوں کا نیا نیا دور تھا۔شاہ جہاں پور کو ضلع قرار دیا جا چکا تھا۔1857؁میں جنگ آزادی چھڑی تو ان پر الزام لگا کہ جہاد پر جو فتوی لگا تھا اس پر ان کے دستخط بھی تھے لہذٰا 14سال کی عبوردریا شور کی سزا ملی۔
نور محمد کریم جو عبدالماجد کے حقیقی نانا تھےعلم و فضیلت میں اپنی مثال آپ تھے۔علوم عربیہ و فارسیہ کی تحصیل علمائے فرنگی محل سے حاصل کی تھی۔طب کی تعلیم تو حاصل کی مگر مطب کھولنے کے بجائے ساری زندگی شاگردوں کو طب کی تعلیم ہی دیتے رہے۔اس زمانے میں قاعدہ یہ تھا کہ طب کا علم کسی کو سکھایا نہیں جاتا تھا۔مگر نور محمد صاحب نے اسے کار ہائے خیر سمجھ کر عام کیا۔
عبدالماجد نے بھی دینی تعلیم اپنے والد صاحب کی طرح فرنگی محل سے دینی تعلیم حاصل کی ۔باقاعدہ عالم تو نہ سہی پر اتنی کتابیں پڑھ لی تھیں کہ عالم کہا جا سکتا تھا۔سرکاری ملازمت کی طرف رغبت تھی اس لئے اسکول کی تدریسی سے ترقی کرتے کرتے ڈپٹی کلیکٹر کے عہدے پر جا پہنچا۔
والدہ بھی ایسی ہی تھیں کسی نے کبھی تہجد میں بھی ناغہ نہ دیکھا تھا۔عفت و حیا ایسی کہ اجنبی عورتوں سے بھی پردہ کرتی تھیں۔گو کہ زیادہ پڑھی لکھی نہ تھیں ردو بھی اٹک اٹک کر پڑھتی تھیں مگر علم کی قدر خوب جانتی تھیں۔اور چاہتی تھیں کہ عبدالماجد بھی بڑے بھائی عبدالمجید کی طرح خوب پڑھے لکھے۔
جب ماں باپ ایسے ہوں تو بلاشبہ بچے پر تو علم و ادب اور دین و مذہب کا رعب تو حاوی ہونا ہی ہے۔ایسا ذہن پایا کہ جو پڑھتا حفظ ہو جاتا۔ جو دیکھتے نقش ہو جاتا ۔دیکھتے ہی دیکھتے منزلیں طے کر لیں۔کھانے کا ہوش رہتا تھا نہ پینے کا بس کتابیں ہی اوڑھنا بچھونا بنا رکھا تھا ۔عربی فارسی جو کچھ بھی میسر آتا چھوٹی سی عمر میں ہی پڑھ ڈالنے کا شوق شروع ہی سے تھا۔بچپن سے ہی والدین کی طرف سے تمام ملازمین کو حکم تھا کہ عبدالماجد کی کسی بات کو رد نہ کیا جائے لہذا کچھ تحکمانہ میلان عبدالماجد کا ہو چکا تھا پر اچھی تربیت کی وجہ سے دیگر ضدی بچوں کی طرح بگڑانہیں تھا۔
بڑے بھائی کو روز اسکول جاتا دیکھ کر دل میں خواہش ابھری کے وہ بھی اسکول جائے۔زبان سے اظہار کی دیر تھی اور اسکول میں داخلہ کروادیا گیا۔اب حال یہ تھا کہ کلاس میں وہ ہم جماعتوں میں علم و فاضل مشہور ہوگیاتھا۔گھر پر بھی مولوی صاحب پڑھانے آتے تھے ۔
زندگی خوب چل رہی تھی کہ ایک دن عبدالقادر صاحب گھر آکر نئی خبر سنانے لگے کے تبادلہ سیتا پور ہو گیا ہے اور وہ چاہتے ہیں کہ پورا گھرانہ ان کے ساتھ سیتا پور منتقل ہو۔ عبدالماجدکو بہت خوشی ہوئی اسے نئی نئی جگہ دیکھنے کا بہت شوق تھا۔جبکہ والدہ کو دریا باد چھوڑنے کا دکھ تھا پر میاں کی خوشی میں وہ بھی خوش تھیں۔
سیتا پور میں بھی سوائے ماحول کے کچھ نہیں بدلا تھا ،خوشحالی گھوڑے گاڑیاں ،خدمت گار سب کچھ ساتھ چلا آیا تھا۔بچپن ختم ہوا تو لڑکپن کے ساتھ ہی مردان خانے میں جانے کی اجازت مل گئی۔وہاں ریاض خیر آبادی،طیش دہلوی،افتخار حسین ڈپٹی کللیکٹر ،ان کے چچا زاد بھائی عبد الحلیم اثر اور جانے کس کس کو مردان خانے میں آتے جاتے دیکھا۔علم و ادب، شعر و شاعری ،سیاست و معاشرت ،عربی، فارسی، انگریزی اور جانے کس کس زبان میں گفتگو جاری رہا کرتی تھی ۔ عبدالماجد کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتیں ۔کتابوں کے انبار تھے کہ پہاڑ وہ وہاں سے کتابیں رسالے اخبارات لے کر پڑھتا رہتا۔
نویں جماعت میں تھا کہ اخباروں کے مطالعے سے یہ راز کھلا کہ علی گڑھ کے بعض تعلیمیافتہ اہل قلم ملحدانہ انداز کے مضامین تواتر سے شائع کر رہے ہیں۔اور بعض نے تو انتہا کر دی کہ قرآن کے احکام معاملات کو حصہ عقائد سے بالکل علحیدہ کر دیا جائے۔اس وقت عبدالماجد کی عمر صرف 12یا 13 سال تھی،مگر مذہبی جذبے نہ ایسا جوش مارا کہ ان مضامین کا جواب تیار کرنے بیٹھ گیا۔
اب سوال یہ تھا کہ ان حضرات کی مدلل تحریر کو جواب کیسے دیا جائے؟خود کو کسی قابل سمجھ نہیں رہا تھا۔ اور مدد کسی کی وہ چاہتا نہیں تھا۔انہی دنوں اس کو ہاتھ “عباسی چڑیا کوٹی “کی کتاب “الاسلام”ان کے ہاتھ آگئی۔کتاب کا مطالعہ کرنا ہی تھا کہ جیسے چراغ سا جل گیا۔کچھ کتاب سے کچھ خود سے ملا جلا ایک مضمون تیار کر کے صوبے کے سب سے بڑے اخبار”اودھ اخبار”میں بھیج دیا ۔اسے امید نہ تھی کہ اس مضمون کو اتنے بڑے اخبار میں جگہ مل پائے گی۔مگر مضمون کو جب پرچہ کی زینت بنا دیکھا تو دل خوشی سے باغ باغ ہو گیا۔اس مضمون سے ان کی ادبی زندگی کا آغاز ہو گیا تھا۔
یہ ہندوستان میں مناظرے بازی کا وور تھا۔لیکن عبدالماجد کی عمر ایسی نہ تھی کہ وہ کسی مناظرے میں شرکت کر سکتے ،لیکن ماہ نامہ “تحفہ محمدی” کے چند شماروں سے معلومات کو اخذ کر کے ایک کاپی میں خوشخط نقل اپنے پاس محفوظ کر لی ۔گویا کہ ان کی پہلی تصنیف تھی ،جو بعد میں ادھر ادھر ہو گئی۔پڑھنے کا اس زمانے میں عبدالماجد کو جنون تھا سمجھ آئے نا آئے ہر مضمون پڑھنا ان کا مشغلہ بن چکا تھا ۔ اب صورت حال یہ تھی کہ وہ حساب کے مضمون میں بے انتہا کمزور رہ گئے تھے مگر رحم دل استاد نے ایک ہندو ہم جماعت کو اس بات پر مامور کر دیا تھا کہ اسکول کے بعد کے اوقات میں وہ انہیں کچھ وقت دیا کرے جس کی بنا پر وہ حساب کے مضمون میں بھی درست رہ پائے اور میٹرک کا امتحان دوسرے درجہ میں پاس کر پائے۔
عبدالقادر صاحب ریٹائر ہو چکے تھے پر بچوں کی تعلیم سے غافل نہ تھے۔کالج کے لئے انہیں کیتگ کالج لکھنؤ میں داخل کرایا گیا۔گھومنے کا تو عبدالماجدکو شوق ہی بہت تھا وہ خوش تھے اور باپ بھی خوش تھے کہ ان کے قریبی محلہ مشک گنج مٰن رہائش رہئے گی۔مگر جب وہ لکھنؤ پہنچےتو یہ وہ لکھنؤ نہ تھا جس کا خواب دیکھا گیا تھا ۔یہ تو غریب لکھنؤ گھرانا تھا ۔سیتا پور کی زندگی کا وہ عادی ہو چکے تھے۔ملازمین کی ایک لمبی قطار حاضر رہا کرتی تھی ۔یہاں 1ہی دن میں نڈھال ہو گئے۔قریب ہی بڑے بھائی سندیلہ میں چھوٹے تعلقہ دار چوہدری نصرت علی کے مکان میں بنا کرائے کے رہا کرتے تھے۔مکان تعلقہ دار اکا تھا سو شاندار مکان تھا اب عبدالماجد کو لگا کہ وہ لکھنؤ میں ہے۔بھائی سے اجازت لے کر وہیں مقیم ہو گئے۔
کالج مین اس نے اختیاری مضامین کے طور پر منطق ، تاریخ اور عربی لئے۔یہ وہ مضامین تھے جن میں اس کی اہلیت کالج کے معیار سے کہیں زیادہ تھی۔
انگریزی لازمی مضمون تھا اور اس کے 2پرچے ہوا کرتے تھے۔ ایک پرچہ کتب نصاب کا اور دوسرا ترجمہ و مضمون نویسی کا۔ انگریزی سے اسے طبعی مناسبت تھی انگریزی اخبار و جرائد اس کے مطالعے میں رہا کرتے تھے لہذا اس مضمون میں بھی اسے پریشانی نہ ہوئی۔
کالج کے باہر خوب رنگین دنیا بکھری پڑی تھی وہ جب بھی گھومنے باہر نکلتا اور “چوک” کی جانب جاتا تو طبلوں کی تھاپ اس کے قدموں کو روک لینے کی کوشش کرتی۔یہ وہ بازار تھا جہاں جھروکوں میں بنی سنوری طوائفیں موجود ہوتیں ۔سولہ سترہ سال کی اس جوانی میں قدم خود بخود بالا خانے چڑھ جاتے ہیں لیکن اس کی خاندانی شرافت نے اس پر پہرا دیا ہوا تھا ۔مذہب کا خیال دل میں تھا ۔اب تک جتنا بھی اسلامی کتب کا مطالعہ کیا تھا اس کے ساتھ ساتھ چلتا تھا۔تہجد گذار ماں کا خیال آتا رہتا اور وہ سیاہ کاریوں سے دور رہتا۔
ایک روز شام کی سیر کو نکلا ہوا تھا اس کی نگاہ “رفاہ عام لائبریری “پر پڑی اس کے قدم لائبریری کی جانب اٹھ گئی۔اندر تو کتابو ں کا بازار تھا ۔اس نے ایک کتاب نکلوائی اور پڑھنے بیٹھ گیا اس دن کے بعد وہ سیر کو نکلتا اور یہیں کتابوں کی سیر کرتا رہتا۔
مطالعہ کی کثرت نے اس کے اندر کے ادیب کو بیدار کرنا شروع کر دیا ۔کالج کے ابتدائی سال تھے عمر نا پختہ تھی مگر کتابوں کے شغف نے اسے اتنی معلومات فراہم کر دی تھی کہ تصنیف و تالیف کی جانب مائل ہو گیا۔مولانا شبلی نعمانی کی سوانحی کتب شائع ہو رہی تھیں ،اس کی نظر سے بھی گذریں اس نے اپنا ہیرو “محمود غزنوی ” کو بنا لیا اور ایک مفصل مقالہ لکھ ڈالا ۔ اس مقالہ میں تاریخ یمنی سے استفادہ کرتے ہوئے یہ بتایا کہ غزنوی پر بخل کا الزام لغو ہیں یہی کام شبلی بھی انہی دنوں کر رہے تھے کہ فرزندان اسلام پر مغرب کے الزامات کی تردید تاریخی حوالوں سے کر رہے تھے۔اس کی کتاب ایک پبلیشر نے شائع کر کے اس کا نام بھی مصنفوں کی فہرست میں ڈال دیا،اور وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ دیگر اہم ادیبوں سے بھی اس کے تعلقات استوار ہوتے چلے گئے۔
اس کتاب کے بعد اس نے ایک کتاب “غذائے انسانی”لکھی اس کتاب میں اس نے ڈاکٹری کتب کے حوالے سے یہ دکھایا کہ انسان کی قدرتی غذا علاوہ نباتات کے گوشت بھی ہے۔پہلے والے پبلیشر نے اس کی دوسری کتاب بھی شائع کر دی۔
ایک دن وہ لکھنؤ کی “ورما لائبریری “میں بیٹھا تھا کی اس کی نگاہ ایک موٹی جلد کی کتاب پر پڑی ۔کتاب ہاتھ میں لی تو سنہری حروف اس کے منتظر تھے۔
Element of Social Scienceکتاب کا نام تھا
اور مصنف کا نام تھا ڈاکٹر ڈریسیڈیل
یہ ایک نیا موضوع تھا جو اب تک اس کی نظر سے نہیں گذرا تھا وہ کتاب پڑھنے بیٹھ گیا۔
وہ کتاب جیسے جیسےآگے جا رہی تھی اس کے اندر کی کیفیات بدلتی جا رہی تھیں۔ایک ہلچل سی تھی جو بیدار ہو رہی تھی۔یہ مذہبی عقائد کی رد میں لکھی کتاب تھی۔الحاد کی دنیا میں ایک مقام رکھتی تھی۔کتاب کا اصل حدف اخلاقی بندشیں تھیں جنہیں مذہب اب تک علوم متعارفہ کے طو ر پر پکڑے ہوئے تھااور ان پر اپنے احکام کی بنیاد رکھے ہوئے تھا۔مثلاً عفت و عصمت، کتاب کا اصل حملہ اسی بنیادی اخلاقی عقائد پر تھا۔۔
کتاب کے مطابق یہ جنسی خواہش تو جسم کا ایک طبعی مطالبہ ہے اسے مٹاتے رہنا اور اس کے لئے باضابطہ عقد کا منتظر رہنا ایک فعل عبث ہے،بلکہ صحت اور جنسی قوتوں کی بالیدگی کے لئے سخت مضر ہے۔اس لئے ایسی پابندیوں کو توڑ ڈالو اور مذہب و اخلاق کے گڑھے ہوئے ضابطہ زندگی کو اپنے پیروں سے روند ڈالو۔(ایسے ہی کئی دوسرے عقائد کی رد میں پوری کتاب لکھی گئی تھی)
کوئی پختہ کار مرد ہوتا تو وہ ان باتوں کو محض باتیں سمجھ کر نظر انداز کر دیتا مگر وہ تو سولہ سال کا نوجوان طفل نادان تھا اس سیلاب کی تاب نہ لا سکا۔ایمان و اخلاق کی کشتی یہاں ڈانواں ڈول ہونے لگی۔اب تک جن چیزوں کو جزو ایمان سمجھتا تھا عقل و تنقید کی کسوٹی پر کمزور اور بے حیثیت نکلیں۔
اس کتاب میں “ایمان” پر براہ راست حملہ نہیں کیا گیا تھا مگر ان چیزوں کو کمزور بنا دیا گیا تھا کہ جو ایمان کو قائم رکھتی ہیں۔پروپیگنڈے کا کمال ہی یہی ہے کہ براہ راست حملہ نہ ہو بلکہ اطراف و جوانب سے گولہ باری کرکے قلعے کی حالت مخدوش کردی جائے ۔وہ بھی اس کتاب کو پڑھ کر پوری طرح گرا نہیں تھا مگر سنبھل بھی نہ سکا تھا۔
عبدالقادر ریٹائر ہو چکے تھے 4سال بعد ان کے ایک عزیز چوہدری شفیق الزاماں ان سے ملنے آئے عبدالقادر نے باتوںمیں بتایا کہ فارغ بیٹھے بیٹھے تنگ آگئے ہیں انہیں اب بیٹوں کے واپس آنے کی بھی امید بھی نہ تھی کہ کہاں لکھنؤ اور کہاں سیتا پور ،مگر وہ سیتا پور سے باہر جانا بھی نہیں چاہتے تھے کہ اخراجات اب قابل برداشت نہیں تھے۔شفیق صاحب نے انہیں اپنے علاقے کی منیجری کا کام سونپنے کی ذمہ داری دی پر شروع میں عبدالقادر نے انکار کیا پر اصرار پر آمادہ ہو گئے۔وہ نہیں جانتے تھے کہ لکھنؤ میں ان کا بیٹا شکوک و الحاد کی کس منزل پر گامزن ہے اور گھریلو تربیت کا گریبان کس تیزی سے دھجیوں میں تبدیل کرنے والا ہے۔
وہاں عبدالماجد کو دشمن دیں کی ایک اور کتاب بھی مل گئی ۔
International Library of Famous Literature کتاب کا نام تھا
یہ کتاب متعدد جلدوں پر مشتمل تھی ۔اس میں ایک جلد قرآن اور اسلام کےذکر پر مشتمل تھی ایک پورے صفحے کا فوٹو “بانی اسلام”کا شامل کیا گیا تھا۔ظاہر ہے تصویر جعلی تھی ،ایک عرب سردار کی جس کے چہرے پر غصیلہ پن نمایا ں اور سج دھج قدیم عرب سرداروں کی تھی اور ہتھیاروں سے سجا لبادہ ۔ عبدالماجد کی تشکیک میں اضافہ ہو گیا۔برسوں کی محنت اور تیاری کا قلعہ مٹی کا ڈھیر بن چکا تھا ۔
رئیسانہ ٹھاٹ کے باوجود ان کی تربیت دینی خطوط پر ہوئی تھی ،آباؤ اجاد سے ایک دینی روایت ساتھ چلی آرہی تھی کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ صرف 2کتابوں کے مطالعے سے وہ مسلمان سے ملحد بن جائیں گے۔
کفر کے اندھیروں میں اترنا ہی تھا کہ ایسے ہی دوستوں کی تلاش بھی شروع ہوئی ۔کالج کے ایک ساتھی طالب علم محمد حفیظ سید سے یارانہ بڑھا ۔وہ بھی ملحد ہو چکے تھے اور ہندوانہ تصوف و فلسفے کے گردیدہ تھے۔فرق صرف اتنا تھا کہ عبدالماجد ملحد یا منکر اور حفیظ تین چوتھائی ہندو ۔ملاقاتیں بڑھتی گئیں اور ملحدانہ رنگ چڑھتا گیا۔
اسی دوران علامہ شبلی کی کتاب “الکلام”منظر پر آئی، عبدالماجد نے مطالعہ کیا ۔ان کے مطابق کچھ خامیاں تھیں سو تنقید کے لئے قلم اٹھا لیا ۔انہیں تو تنقید یکسر عقائد اسلامی،وجود باری تعالٰی ،نبوت اور ضرورت مذہب پر کرنا تھی ۔الکلام تو ایک آڑ تھی۔
ان دنوں ایک رسالہ”الناظر”کے نام سے لکھنؤ سے شائع ہوا کرتا تھا۔اس کے ایڈیٹر ظفر الملک کو شبلی سے کد تھی ، عبدالماجدکو اس سے بہتر تنقید کے لئے دوسرا کوئی رسالہ دکھائی نہ دیا ۔رسالے نے بھی خوش آمدید کہا۔ عبدالماجدکا ایک طویل مقالہ 6اقساط میں شائع ہوا۔یہ قسطیں ایک طالب علم کے نام سے شائع کروائیں۔(شبلی سمجھتے رہے کہ یہ حرکت مولوی عبدالحق کی ہیں،مگر یہ راز بعد میں کھل گیا۔)
مضامین کی ترتیب و تسوید میں عبدالماجد کی عقل اس کی امام تھی۔مذہب کو تو وہ خیر باد کہہ چکے تھے اب عقل ہی ان کی رہ نما تھی جو بھی مذہبی عقیدہ ان کی عقل کے معیا ر پر پورا نہ اترتا وہ بقول عبدالماجد ناقص تھا،جبکہ مذہبی جماعتوں کے وہ عقل ناقص ہے جو کسی مذہبی عقیدے کے مخالف ہو۔
ان مضامین میں عبدالماجد کا لہجہ کڑوا،اور مسموم تھا ۔حتٰی کہ مذہب و سائنس کے اختلافات کی تفصیل درج کرنے کے بعد اس نے یہ نتیجہ نکالا کہ مذہب اب چند روزہ مہمان ہے۔ جوں جوں سائنس کی تعلیم عام ہوتی جائے گی اسی نسبت سے مذہب کا اثر بھی زائل ہوتا جائے گا۔
ان تمام مضامین کا مقصود دراصل مذہب کو مجموعہ توہمات ظاہر کرنا تھا۔ان کا خیال تھا کی اکثر مسائل میں بانیان مذہب غلطیوں اور غلط فہمیوں کا شکار رہے۔ان کا لہجہ یہی بتاتا تھا کی وہ تعلیمات مذاہب کو اللہ کی تعلیم نہیں بلکہ “خود ساختہ انبیاء”سمجھتا تھا۔
عبدالماجد کےان مضامین کا ردّعمل بھی ہوا۔جن کا خلاصہ یہ ہے کہ استدلال نہایت سطحی ہے، قرآن کریم کی بعض آیات کو سمجھنےمیں ٹھوکر کھائی ہیں۔مصنف کا قلم اندھے کی لکڑی کی طرح ہے جو چاروں طرف گھوم رہی ہے کسی کے بھی لگ جائے۔
عبدالماجدکا الحاد اپنی جگہ لیکن “الکلام” پر تنقیدی اقساط اور دوسرے کئی مضامین کے ذریعے وہ اپنے آپ کو ایک ادیب تسلیم کروا چکے تھے۔
بعض ادیبوں سے ان کے تعلقات بھی استوار ہو چکے تھے جو ان کے خاندان سے واقف تھے انہیں دکھ ہوا کرتا تھا کہ کیسے اشرف خاندان کا چراغ کن ہواؤں کے سامنے ہے۔
ان کی تہجد گزار ماں کو جب علم ہوا تو دل پر قیامت گذر گئی۔وہ جو دوسروں کو نماز و روزے کی تلقین کیا کرتی تھیں ان کا اپنا بیٹا منکر نماز و روزہ تھا۔ عبدالقادر صاحب وقت سے پہلے بوڑھے ہو چکے تھے۔سب نے خوب سمجھایا ،پر سب بے سود، عبدالماجدکا مطالعہ اتنا وسیع تھا ان کا الھاد بھی استدلال پر مبنی تھا۔منطق و فلسفہ اس کے خاص مضامین تھے ۔کوئی اس سے نہ جیت سکا۔کوئی قائل نہ کر سکا۔سب نے اسے اس کے حال پر چھوڑ کر دعاؤں کا سہارا پکڑ لیااور معاملہ اللہ کے سپرد کر دیا۔ان کی گمراہی کسی خاص وقت کا انتظار کررہی تھی۔
عبدالماجد کی شدت پسند ی کا یہ حال تھا کہ کالج کے سالانہ امتحان کے فارم میں مذہب کے فارم میں اسلام کے بجائے “ملحد”لکھنا باعث فخر سمجھا
انٹر کے بعد اسی کیتگ کالج میں بی اے میں داخلہ لیا ۔مضامین وہی خاص تھے،عربی اور فلسفہ ۔مذہب کی مخالفت کے لئےفلسفہ ہی بڑا سہارا ہو سکتا ہےجو تمام تر “عقل”پر تکیہ کرتا ہے۔کالج کی لائبریری میں جتنی کتابیں فلسفے کی تھیں سب پڑھ ڈالیں۔ملحد وں و نیم ملحدوں کی کتابوں کے ساتھ وہ کتابیں بھی سامنے آئیں جو فلسفے کی تھیں۔نفسیات کے موضوع پر تھیں،بظاہر مذہب سے تعلق نہ رکھتی تھیں مگر عبدالماجد نے انسانی نفسیات کی بعض خرابیوں کو پیغمبر آخر الزماں حضرت محمد ﷺ کی ذات مبارک پر چسپاں کرکے اپنے مطلب کے نتائج اخذ کئے۔
2کتابیں خاص طور پر اس کے زیر مطالعہ رہیں ۔ایک مرضیات دماغی اور دوسری عضویات دماغی۔خصوصاً مرضیات دماغی اسے عروج پر لے گئی۔ اس کتاب میں اتنی جسارت کی گئی تھی کہ مصنف نے “وحی”کو بھی اس بیماری کا نتیجہ تصور کر لیا۔اور یہ بھی لکھا کہ ممکن ہے اس بیماری میں مبتلا شخص دنیا کے لئے کوئی بڑا کارنامہ کر جائے۔بس یہ پڑھنا تھا کہ عبدالماجد کے دل سے وحی کا تقدس بھی اٹھ گیا۔اور پھر تو وہ سمجھنے لگا کہ (نعوذباللہ )جتنا بھی قرآن و احادیث ہیں وہ سب حضور ﷺ کے اپنے خیالات تھے۔مغرب کے بہت سے لوگ قرآن کو انسانی تصنیف کہا کرتے تھے وہ بھی اس کا قائل ہو گیا۔
ابھی تو بہت کچھ ہونا باقی تھا ۔والد صاحب حج پر جا رہے تھے تمام عزیز و اقارب کے ساتھ وہ بھی انہیں حج پر بھیجنے گیا دل میں سوچ رہا تھا کہ یہ کون سا رونے کا موقع ہے وہ والد صاحب کے آنے پر گلے مل لے گا اور ویسے بھی وہ حج کو عبادت کا درجہ بھی دینے سے منکر تھا ۔مگر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ عبدالقادر صاحب کا وہیں حج پر انتقال ہو گیا ۔
اسی سال بی اے میں اسے کامیابی ملی ۔کالج میں ایم اے (فلسفہ)کا انتظام نہ تھا وہ علی گڑھ چلا گیا۔ایم اے او کالج میں اس نے فلسفہ میں داخلہ لے لیا۔کالج کو اب تک یورنیورسٹی کا درجہ نہ مل سکا تھا۔امتحانات الٰہ آباد یورنیورسٹی کے تحت امتحانات ہوا کرتے تھے ۔اس بار بد قسمتی سے وہ امتحان میں ناکام رہا،سو دلّی کا رخ کیا اور سینٹ اسٹیفنز کالج میں داخل ہوا۔جہاں پروفیسر شارپ جیسا فلسفہ کا استاد موجود تھا مگر والد کے انتقال کی بناء پر معاشی بحران پیدا ہو چکا تھا ۔زندگی بھر کا جمع کیا پیپلز بینک میں رکھوایا گیا تھا ایک دن خبر آئی بینک دیوالیہ ہوگیا ہے ساری پونجی ڈوب گئی۔ اب تعلیم چھوڑ معاش کی فکر میں لگ گئے۔
پہلا خیال اپنا مادر علمی کیتگ کالج کا آیا وہاں فلسفہ کی اسامی خالی تھی۔مولانا شبلی کا سفارشی خط بھی ہمراہ لیا جو پہلے ہی لکھنؤ میں موجود تھی۔ اور اس کے “الحاد” کے باوجود اور یہ خیال کئے بغیر کہ “الکلام”پر تنقید بھی اس ی کے قلم سے نکلی تھی محض اس کے علم و فضل کو مدّ نظر رکھ کر ایک پر زور خط لکھ ہی دیا۔
قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا کہ کالج کے پرنسپل ڈاکٹر کیمرون بھی اس سے خوش تھے ،مگر اس کی قابلیت کے باوجود اس کے پاس مطلوبہ ڈگری نہ تھی۔سو وہاں مایوسی ہی ملی۔
ایک بار پھر قلم کا سہارا لے کر اردو کے 2ماہناموں “ادیب”(الٰہ آباد) اور “الناظر” میں مضامین لکھنا شروع کئے۔کچھ معاوضہ ملا مگر نا کافی تھا ۔اسی دوران پوسٹ آفس اور ریلوے میں افسر گریڈ کے لئے کوششیں بھی کیں مگر ناکامی کا سامنا ہوا۔
مولانا شبلی ان کی بے روزگاری کو دیکھ رہے تھے ان دنوں “سیرت انبیﷺ” پر کام کررہے تھے ایسے آدمی کی تلاش بھی تھی جو انگریزی ماخذات کی تلاش میں ان کی مدد کر سکے 50روپے ماہوار پر انہیں مامور کرلیا،مگر ان کی الحاد پرستی اب کسی سے چھپی نہ تھی لوگوں کو اعتراض ہوا کہ ایک مرتد سیرت محمدی ﷺ پر کام کر رہا ہے بیگم بھوپال کو شکایت لکھ بھیجی گئی جو کہ شبلی کی سیرت نگاری میں مالی اعانت کر رہی تھیں ان کے حکم پر ماجد کو سیرت اسٹاف سے الگ کرنا پڑا۔
مولانا شبلی کے علاوہ ہندوستان بھر کے اہم ادیبوں سے بھی ان کے مراسم قائم ہو چکے تھے ان میں سے اکبر الٰہ آبادی اور حسن نظامی بھی ان کی بے روزگاری کی وجہ سے فکر مند تھے اس کے لئے پنجاب یورنیورسٹی میں اردو کے استاد کی جگہ خالی تھی اس سلسلے میں بھی بات کی گئی مگرناکامی مقدر لکھ دی گئی تھی،سو ملازمت نہ مل سکی۔
شیخ محمد یوسف الزماں آنریری مجسٹریٹ تھے۔اور عبدالقادر صاحب مرحوم سے قرابت داری بھی تھی ۔ان کی صاحبزادی عفت النساء کی ٹانگوں میں شدید درد رہنے لگا جو کسی طرح ختم ہونے ہی نہ آتا تھا، ہر حکیم و ڈاکٹر کو آزما لیا ۔ان کے بیٹے شیخ مسعود الزماں نے ایک دن یوسف صاحب سے عبدالماجد سے علاج کی درخواست کی یوسف صاحب حیران ہوئے کہ وہ کب سے ڈاکٹر ہوئے؟جواب ملا کہ وہ علم تنویم کے ماہر بھی ہیں ۔(یہ ایک نفسیاتی علاج ہوتا ہے جس مین مریض یا مریضہ کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ بیمار نہیں ہے)اجازت مل گئی اور عبدالماجد ایک شام انگریزی لباس میں وہاں پہنچ گئے۔دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پہلی ہی ملاقات میں پسند کر لیا ۔چند روز علاج چلتا رہا اور عفت بھلی چنگی ہو گئی۔لیکن عبدالماجد مریض ہوگیا۔عبدالماجد عفت النساء سے محبت کرنے لگا تھا۔
غیر کا گھر تو تھا نہیں کہ آنے جانے پر پابندی ہوتی یا کوئی پردہ ہوتا ،مزید یہ کہ مسعود الزماں انٹرمیڈیٹ سے اس کے ہم جماعت تھے جبکہ مجسٹریٹ صاحب بھی اس کے خالہ زاد تھے۔بلا تکلف آنا جانا ہوتا تھا باتوں میں عفت بھی شرکت کر لیا کرتی تھی ۔آتش عشق بڑھی تو عبدالماجد شاعر بھی بن گیا غزلوں پر غزلیں ہونے لگیں ۔ان کچھ دنوں کے لئے وہ نہ مسلمان تھا نہ ملحد بس عاشق بن گیا تھا ۔
کچھ غزلیں جمع ہوئیں تو سوچا کہ اکبر الٰہ آبادی کو دکھا دیں ۔اکبر کی جانب سے حوصلہ افزا جواب آیا تو دوسری غزل روانہ کی جس کا شعر تھا:
جانبازیوں کو خبط سے تعبیر کر چلے
تم یہ تو خوب عشق کی توقیر کر چلے
اکبر نے خوب داد دی کو خوشی اور تعجب کا اظہار کیا ۔
عفت کو اکثر غزلیں سنائی جاتیں تو وہ شرما سی جاتیں اور داد بھی دیتیں۔دونوں کو عبدالماجد کی ملازمت کا انتظار تھا کہ ملازمت ہو اور وہ ایک ہو سکیں۔
اسی عشق کے نشے میں ایک دن ان کی نگاہ ہاتھ گدوانے والے پر پڑی اور ہ آستین الٹ کر بیٹھ گیا۔انگریزی میں “عفت”ہاتھ پر گدوا لیا اور ساتھ میں ایک بڑا سا گلاب کا پھول بھی۔
عفت نے دیکھا تو کہا کہ اس کی تو اسلام میں ممانعت ہے ،گناہ ہے گناہ۔ جواب میں عبدالماجد نے کہ کہ میں ان فرسودہ باتوں کو نہیں مانتا۔ بات آئی گئی ہو گئی۔
محبت میں دیوانگی کی حد عبدالماجد ضرور چھو رہا تھا مگر اپنے علمی مرتبے سے بھی غافل نہ تھا۔اس کی 2 کتابیں ۔”سائکالوجی آف لیڈر شپ “اور “فلسفہ اجتماع “آگے پیچھے شائع ہوئیں۔اس نے ان کتابوں میں یہ جسارت کی کہ پیغمبران عظام پر تعریضات کی تھیں اور ان پر خود غرضی کے الزامات لگائے تھے۔
یہ ایسی جسارت تھی کہ اخبارات و رسائل خاموش نہ رہ سکے۔ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔مخالفانہ تبصرے شائع ہوتے چلے گئے۔سب سے اہم فتویٰ وہ تھا جو احمد رضا خان بریلوی کی جانب سے شائع ہوا اور عبدالماجدکو کافر قرار دیا گیا۔اس کے ساتھ ہی بہت سے فتوے اس کی عدم تکفیر میں بھی شائع ہوئے۔جن میں مولانا عبدالباری فرنگی محلی ، سید سلمان ندوی اور مولانا شیر علی جیسے جید نام بھی تھے۔
وہ حضرات یہ سمجھتے تھے کہ عبدالماجد غلط راستے پر پڑ گیا ہے اگر نرمی کا برتاؤ کیا جائے تو جلد ہی راستے پر آجائے گا اگر سختی کی گئی تو مزید ضد پر آجائے گا ۔علما کا یہ برتاؤ اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ عبدالماجد کی علمی وقعت کے قائل ہیں۔وہ دھیرے دھیرے نرمی کے ساتھ اسے اسلام کی طرف لانا چاہ رہے تھے۔اس کے ساتھیوں کو اس سے بڑی محبت تھی ان میں مہدی افادی بھی شامل تھے۔وہ اسے محافظ عقلیات کے لقب سے یاد کیا کرتے تھے اس کی ان کتابوں سے انہیں بھی دکھ ہوا تھا۔
اس کی ان کتابوں کی وجہ سے اس کے خاندان میں بھی چہ مگویاں بڑھ گئی تھیں ماں نے یہ حل سمجھا کہ اس کی شادی کر دی جائے ۔حالانکہ ابھی تک ملازمت کا معاملہ حل نہ ہوا تھا۔
اس وقت معاشرے میں بچپن کی شادی اور منگنی کا رواج تھا عبدالماجدکی نسبت بھی 7-8سال کی عمر میں اپنے حقیقی چچا زاد سے طے ہو چکی تھی۔اب بڑے چاہتے تھے کہ شادی جلد از جلد ہو مگر اب عفت درمیان میں تھی عفت کا پلّہ بھی بھاری تھا کہ پڑھی لکھی معاشرت سے واقف کار ،آنریری مجسٹریٹ کی بیٹی الکھنؤ کی رہنے والی ور سب سے بڑھ کر اس کی محبت جبکہ منگیر دریا باد جیسے فرسودہ ماحول کی رہنے والی۔
سب کے سامجھانے کے باوجود بھی عبدالماجد نہ مانا اور بالآخر طرفین کو اس کی ضد کے آگے ہار ماننی پڑی اور 2جون1916؁ کو اس کا نکاح لکھنؤ میں انجام پا گیا۔
ممتاز شعرانے تاریخیں نکالیں اور سہرے لکھے۔
لایا ہے پیام یہ خوشی کا قاصد
نوشاہ بنے ہیں آج عبدالماجد
وہ روز سعید بھی خدا لائے جلد
بن جائیں جب وہ کسی کے والد ماجد
——–
منکر ہو نہ کوئی اپنی ہمتائی کا
یہ کام کبھی نہیں ہے دانائی کا
اللہ نے اب غرور ان کا توڑا
دعویٰ تھا مرے دوست کو یکتائی کا
(سید سیلمان ندوی)
ماجد کی اہلیہ کا تعلق سندیلہ کے مشہور خاندان دیوان جی سے تھا ۔اس کے خسر اپنی ثروت کی بناء پر “نوٹوں والے”کے نام سے جانے جاتے تھے۔اب شادی کے بعد محبوب بیوی کی آسائش و آرام کی فکر لاحق ہوئی اور ملازمت کے لئے تگ و دو شروع کر دی۔اب کی بار بیوی کی قسمت بھی ساتھ تھی ۔
علی گڑھ کے صاحبزادہ آفتاب احمد خان نے ان کی کتاب “دی سائیکالوجی آف لیڈر شپ” پڑھ رکھی تھی ،خط لکھ کر علی گڑھ بلوایا ۔ایجوکیشنل کانفرنس کے لٹریری اسسٹنٹ کے طور پر 200روپے ماہوار تنخواپ پر ملازم رکھ لیا۔مسئلہ یہ تھا کہ نئی بیوی سے الگ علی گڑھ میں رہنا تھا فیصلہ گراں تھا پر بیوی نے حوصلہ دیا اور وہ چلا گیا۔
وہاں ہنچ کر محمد علی جوہر کو اطلاع دی نوکری کا احوال بتلایا ۔ محمد علی کے جوابی خط نے اسے چوکنا کر دیا ۔اس خط کا مفہوم کچھ یوں تھا کہ آفتاب احمد خان کے ساتھ نباہ کرنا خاصہ مشکل کام ہیں ۔وہ اس سے نوکری کا تجربہ کر چکے ہیں اور نباہ نہ ہو سکا تھا۔محمد علی جوہر کے خط سے صاحبزادہ کے لئے اچھی رائے کا اظہار نہ ہوا اس کا تماشہ خود اس نے بھی دیکھ لیا صاحب زادہ کے مزاج میں سختی اور درشتی تھی بات بات پر الجھ پڑتے تھے۔خود عبدالماجد بھی مزاج کا اکل کھرا تھا۔کسی کی آدھی بات سننے کا حوصلہ نہ تھا جس سرعت سے ملازمت ملی اتنی جلدی چھوٹ بھی گئی۔
انہی دنوں ھیدر آباد میں جامعہ عثمانیہ کےقیام کے لئے تیاریاں جاری تھیں ذریعہ تعلیم اردو ہونا تھا ،کتب کے ترجمہ کے لئے “دارالترجمہ”کا قیام عمل میں آیا بطور اہل علم عبدالماجد کا نام بھی نکل آیا جن کے بیشتر ترجمے داد وصول کر چکے تھے۔
1917؁ میں عبدالماجد حیدر آباد روانہ ہوئے۔اس بار بیوی ہمراہ تھیں۔اور تنخواہ300روپے ماہانہ۔سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا مگر ریاستی سیاست سے ان کا نباہ کرنا مشکل ہو رہا تھا مزید یہ کہ ان کے اور مولوی عبدالحق کے درمیان زبردست شورش پیدا ہو گئی تھی۔یہاں کے ایک اخبار”صحیفہ”نے بھی اس کو خوب چوکھا رنگ دیا ۔ان کی کتابیں پھر سے تبصرے کی زد میں آگئیں۔فضاایسی خلاف ہو گئی کہ ان پر کفر کا فتویٰ لگا دیا گیا۔وہ اتنی شدید مخالفت کا سامنا نہ کر سکے اور استعفیٰ دے کر واپس آگئے۔
معاشی پریشانی لاحق ہو نی تھی کہ اس وقت دار المصنفین اعظم گڑھ ان کے کام آگیا۔انہوں نے دارالمصنفین کی فرمائش پر انہوں نے جارج برکلے کی مشہور انگریزی کتاب کا ترجمہ”مکالمات برکلے”کے نام سے کیا جو اس خوبی سے ہوا کہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہو گیا۔اس کے ساتھ ہی “معارف”کے لئے معاوضے پر لکھنا شروع کر دیا اور گزر بسر ہوتی رہی۔
1919؁ کے اوائل میں ماجد نے نظام حیدر آباد کو وظیفہ علمی کے لئے درخواست دی جس کی ضروری تفصیلات کے لئے انہیں ایک بار پھر سے حیدر آباد جانا پڑا ۔وہاں ان شرائط پر وضیفہ کی منظوری ہوئی کہ وہ سال میں 1تصنیف پیش کیا کریں گےاور اسکے خاکے کا مسودہ محکمہ احتساب کی نظر سے گزارنا ہوگا ،محکمے کی منظوری کے بعد وہ کتاب مکمل کریں گے۔شرائط شائد اسی لئے لگائی گئی ہوں گی کہ عبدالماجدکے الحادی نظریات کو جانچ سکیں ۔
125روپے ماہانا تا حیات منظور ہو گیا جو گھر بیٹھے انہیں ہر ماہ ملنے لگا ۔قیام کی کوئی قید نہ تھی جہاں چاہیں رہ سکتے ہیں۔اس دور میں متعدد ترجمے ان کے قلم سے نکلے جن میں “تاریخ ،تمدّن ، تاریخ اخلاق یورپ”اور ناموران سائنس”بڑی اہم ثابت ہوئیں۔
10سالہ جنگ جو ان کے باطن میں نظریات و افکار کی چھڑی ہوئی تھی اس کے خاتمے کا دور آنے ہی والا تھا ۔ایک ہلچل کو مچی تھی اس کو قرار ملنے ہی والا تھا۔تشکیک و الحاد کے اس حملے سے جس سے وہ مغلوب ہوا تھا اب اس سے نجات کا دن قریب آرہا تھا۔اس کی عقل پر ابر جہالت کا پھاڑ کر ایک نیا سورج طلوع ہونے ہی والا تھا اس کے اندر ایک نیا انسان بیدار ہونے ہی والا تھا۔ اور اس نئے انسان کی بیداری میں اس کے دوستوں کا بڑا ہاتھ تھا جو اس کے دور الحاد میں بھی اس کے ساتھ ہی رہے۔اس کو ٹوکتے رہتے،اس میں ایک ہاتھ ان کتابوں کا بھی تھا جو اس کے مطالعے میں رہتی تھیں انہوں نے اسے روشنی دی ۔کتابوں ہی نے اے بھٹکایا اور اب کتابیں ہی اسے راہ راست پر لا رہی تھیں۔حکیم کنفیو شس کی تعلیمات، بھگوت گیتا، مثنوی مولانا روم، یہ وہ کتابیں تھیں جو اسے کچھ سوچنے پر مجبور کیا کرتی تھیں۔مگر خاص طور پر شبلی کی سیرت النبیﷺ کے مطالعے نے اس کی کایا ہی پلٹ دی تھی ۔نفس شوم کو جو سب سے بڑی ٹھوکر لگی تھی وہ سیرت اقدس ﷺ کی ہی تو تھی۔اور خاص طور پر غزوات و محاربات کا سلسلہ،ظالموں نے نجانے کیا کچھ اس کے دل میں بٹھا دیا تھا ۔اور ذات مبارکﷺ کو نعوذباللہ ایک ظالم فاتح قرار دیا تھا۔ سیرت النبیﷺ نے اصل دوا اسی دردکی ۔
مثنوی مولانا روم کے دفاتر کا مطالعہ شروع کیا پڑھتے گئے اور آنسو بہاتے گئے۔پھر یہی حال مکتوبات مجدد سرہندی کو پڑھ کر ہوا کہ کہیں کہیں چینخ بھی پڑے۔والد مرحوم نے اپنے لخت جگر کے لئے غلاف کعبہ پکڑ کر جو دعا مانگی اس کی قبولیت کا وقت آچکا تھا۔الحاد کی گرہ کھل چکی تھی۔
مدتوں بعد وضو کر کےوہ مصلّے پر بیٹھےاور خدا کے حضور کھڑے ہو گئے کہ جسے وہ بھول چکے تھے۔گناہوں کا خیال آیا تو چینخیں نکل گئیں۔عفت کی آنکھ کھولی تو دیکھا بھٹکے ہوئے عبدالماجد راہ راست پر آچکے تھے۔خدا کا شکر ادا کیا اور شوہر کے آنسوؤں میں ان کے آنسو بھی شامل ہو گئے۔رات بھر گھر میں استغفار کی آوازیں گونجتی رہیں اور صبح ہوئی تو فجر کی نماز کے لئے مسجد کو چل پڑے۔
مسجد میں نما ز کے لئے آستین اونچی کی تو ایک باریش بزرگ نے ہاتھ پر کھدے ناخن کو دکھ کر عجیب سا منہ بنا لیا زبان سے تو کچھ نہ کہا ۔اگلی نماز کے لئے گھر سے وضو بنا کر گئےکہ آستین اونچی نہ کرناپڑے۔ وہ آنکھیں عبدالماجد کو بڑے عرصے تک یاد آتی رہیں۔
اسی چھپا چھپی میں کئی دن گذر گئے احساس شرمندگی نے اسے جب نڈھال کر دیا تو مذہبی کتب میں نام کھدوانے کی وعیدیں دیکھیں اور اپنے دوست ڈاکٹر عبدالعلیٰ کو بلا لیا۔اور سارا ماجرا کہہ ڈالا اور ماضی کی اس یاد گار کو کھرج ڈالنے کے ارادے کا اظہار فرمایا۔انہوں نے بہت سمجھایا تکلیف دہ عمل کی وضاحتیں دیں پر وہ اللہ کی راہ پر چلنے کے لئے ہر تکلیف سہنے کا مصمم ارادہ کر چکے تھے۔نام کھرچ دیا گیا روزآنہ عرصہ تک مرہم پٹی ہوتی رہی ۔لکھنے پڑھنے کے لئے بایاں ہاتھ استعمال کرنے رہے۔
ایک دن گھر پر بیٹھے بیٹھے اپنے نکاح کا خیال آگیا کہ میں تو اس وقت کسی اسلامی رسم کا قائل ہی نہ تھا جب نکاح ہو رہا تھا تو میں دل میں ہنس رہا تھا بس نمائش میں بیٹھا تھا دل سے تو قبول نہیں کیا تھا ۔بس تجدید نکاح کی ٹھان لی بیوی سے ذکر کیا تو وہ ہنسنے لگیں کہ اس عمر میں دولہن بنواؤ گے؟انہوں نے سنجیدگی سے جواب دیا دلہن دلہا بننے کو کون کہہ رہا ہے بس تجدید نکاح ہوگا۔ بیوی نے کہا کہ وہم میں نہ پڑو ،اللہ نیت دیکھتا ہے۔انہوں نے کہا جبھی تو کہہ رہا ہوں کہ اس وقت میری نیت ٹھیک نہ تھی۔ عفت بھی تنک کر فوراًبولیں یعنی آپ مجھے بیوی بنانے پر آمادہ نہ تھے؟انہوں نےپھر سنجیدگی سے کہا کہ بالکل تھا ،مگر ایسے جیسے کہ ایک ہندو ہوتا ہے ،نکاح کے وقت جب آیات پڑھی جارہی تھیں تب میں یہی سوچ رہا تھا کہ یہ کلام الہیٰ نہیں ہے۔پھر عفت کے پاس کہنے سننے کے لئے کچھ نہ رہ گیا تھا۔ایک مولوی بلوایا گیا اور دوبارہ نکاح پڑھوایا گیا۔
تجدید اسلامی کے بعد جوش اٹھا تو آستانہ اجمیری پر حاضری دی۔قوالیوں کی آوازیں چہار سو تھیں ،لوگ چادریں چڑھا رہے تھے منتیں مانی جا رہی تھیں عرس کا زمانہ جو تھا ہر جانب لوگ ہی لوگ تھے کسی نے اشارہ کر دیا کہ وہ دیکھو عبدالماجد دریا بادی۔کھدر کا لباس(گاندھی جی سے عقیدت کے باعث پہننا شروع کر دیا تھا)گورا رنگ،داڑھی سفید گول اور نورانی، نکلتا ہوا قد،آنکھوں پر چشمہ،لباس پر کھدر کی ایک عبا،اور سر پر اپنے ہی طرز کی ٹوپی جس کی بناوٹ اور اونچائی عام توپیوں سے ہٹ کر تھی۔
عارفانہ کلام پڑھا جا رہا تھا اور عبدالماجد جھوم رہے تھے۔لوگ حیران تھے مگر ان کے قلب کی کیفیت کو کوئی سمجھ نہیں پا رہا تھا۔پھر چشم فلک نے انہیں درگاہ خواجہ بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ میں دیکھا ،لکھنؤ میں شاہ مینا رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دیتے دیکھا۔ خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کے پھیرے کاٹتے دیکھا ۔جب تمام مزاروں کے چکر کاٹ چکے تو لکھؤ کی رنگینی کو خیر باد کہہ کر مستقلاً دریا باد منتقل ہو گئے ۔ حویلی سے متصل ان کے مورث اعلٰی حضرت مخدوم آبگش رحمتہ اللہ علیہ کا مزار تھا اس کی صفائی ستھرائی کرائی ،عرس کا زمانہ آیا تو قولوں کو محمد علی جوہر اور اپنی تیار کردہ نعتیہ غزلیں یاد کروائیں،اور محفل سماع منعقد کروایا۔
دریا باد کی خاموشی میں کام کرنے کا خوب موقع ملا۔وقت کے زیاں سے دور رہنے کے لئے طریقہ نکالا کہ جو بھی ملنے والا آتا اس کے سامنے ایک ٹائم پیس رکھ دی جاتی جو ہر 15منٹ بعد بجتی اور ملنے والا سمجھ جاتا کہ وقت ملاقات ختم ہوا۔دوسروں کے گھر جانے سے پرہیز کرتے کہ وہاں آدمی صاحب خانہ کا محتاج ہو جاتا ہے۔
وقت کی بچت کے لئے انہوں نے دوپہر کا کھانا چھوڑ دیا کہ دوپہر کے کھانے کے بعد جم کر لکھنے پڑھنے کا کام نہیں ہوپاتا۔بصارت بھی کمزور ہو چکی تھی سو علمی کاموں کی انجام دہی کے لئے دن کے اوقات ہی میسر تھے۔مغرب سے پون گھنٹہ پہلے سب کچھ سمیٹ کر گھر کے باہری حصے میں آجاتے جہاں علام لوگوں کے لئے گویا دیدار عام کی رسم ادا کی جاتی تھی۔
اسلام کے شرف سے دوبارہ مشرف ہونے کے بعد ان کا میلان زیادہ تر قرآن اور متعلقات قرآن ہی پر وقف ہو گیا تھا۔ایسے ادبی مضامین قلم سے نکلے کہ جو ہمیشہ یاد رکھے گئے۔ان کے ادبی مضامین نے تنقید کی دنیا میں ایک نئی جہت کا آغاز کیا۔”غالب کا ایک فرنگی شاگرد،مرزا رسوا کےقصّے،اردو کا واعظ شاعر، پیام اکبر، اردو کا ایک بدنام شاعر،گل بکاؤلی اور مسائل تصوف اور موت میں زندگی ایسے ہی چند مضامین ہیں۔
تصوف اور قرآن اس دور میں خاص موضوع رہا خد بھی اسی دور سے گذر رہے تھے سو تحقیق اور عقیدت کا شاہکار اور ایک کتاب “تصوف اسلام”شائع کرادی۔رومی کے ملفوطات کو ترتیب دیا۔ قرآن کے انگریزی ترجمے اور تفسیر جیسے بلیغ کام کا آغاز کر دیا۔تفسیر لکھتے لکھتے کئی کتابیں ظہور میں آئیں جو بعد میں”اعلام القرآن، ارض القرآن، مشکلات القرآن”وغیرہ کے نام سے شائع ہوئیں۔
بیسویں صدی کا ہندوستان “اخبارات ” کا ہندوستان تھا کئی اکابرین نے صحافت کے نئے باب رقم کئے تھے، ہندوستان کی سیاسی و مذہبی لہروں کی گونج اخبارات میں سنائی دے رہی تھی۔خود عبدالماجد ایک عرصہ اخبارات سے وابستہ رہے تھے سو جانتے تھے کہ ہنگامی موضوعات کو عوام تک پہنچانے کے لئے اخبارات سے بہتر کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔سوچا کیوں نہ اپنا ایک اخبار ہی نکالا جائے۔مولانا عبدالرحمٰن نگرامی نے اس کی حمایت کی اور اخبار کا نام “سچ” بھی تجویز کر دیا۔وجہ تسمیہ یہ بتائی کہ انگریزی میں ایک ہفتہ وار “ٹرتھ”کے نام سے “گیا”شہر میں وہ رسالے “ندیم” سے وابستہ تھے تو یہ ہر ہفتہ لندن سے منگواتے تھے۔
تیاریاں مکمل ہوئی اور عبدالماجد کی زیر ادارت ہفتہ وار اخبار پابندی سے نکلنا شروع ہوگیا۔اصلاح معاشرہ ،ردبدعات ، تجدد اور ترقی پسندی کی مخالفت اس اخبار کے خاص موضوعات تھے۔
اسلام کی جانب واپسی پر خاندانی رویات بھی واپس آرہی تھی۔خاندان نیم صوفی خاندان تھا ۔والد صاحب بدعات سے بچتے ہوئے محفل سماع میں شریک ہوتے اور مزارات کے بھی معتقد تھے ان کی والدہ تک سلسلہ قادریہ رزاقیہ (بانسہ) میں بیعت تھیں،عبدالماجد بھی کسی سے بیعت کا سوچنے لگے۔مسلم تصوف کی اہم کتابوں کے مطالعہ سے وہ بیعت کی اہمیت کے قائل ہو چکے تھے ۔اب سوال تھا کہ بیعت کس سے کی جائے۔ عبدالماجد عام آدمی تو نہ تھے کہ آنکھ بند کر کے کسی کے بھی مرید ہو جائیں ان کا مرشد بھی انہی کے معیار کا ہونا چاہیئے تھا۔کبھی سوچا کہ محمد علی جوہر سے بیعت کروں تو کبھی کسی دوسرے کا خیال آتا۔ پھر آخر کار ہر جگہ سے مایوس ہو کر ایک راہ سوجھی کہ سفر پر نکلا جائے گوہر مقصود جہاں ملے .حیدر آباد ، دہلی، لکھنؤ، امیر ، کلیر ، دیوہ، بانسہ اور ردولی میں ہر چھوٹے بڑے مرکز میں جا کر بزرگان دین سے مل آئے ۔حال والے بھی دیکھے اور قال والے بھی ۔جھوٹوں کو بھی دیکھا اور سچوں سے بھی ملاقات ہوئی۔ کہین کچھ دیر کو دل اٹکا مگر پھر اکھڑ گیا ۔واپس دریا باد آگئے۔ دنوں تک سوچ بچار کی دھیان میں پھر ایک نام”دیو بند” کا آیا ۔کسی نے وہاں مولانا حسین احمد مدنی کا نام لیا وہ ان کے دیکھے بھالے بھی تھی کہ خلافت کمیٹی کے سلسلے میں ان سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔
اسی سوچ و بچا رمیں تھے کہ وصل بلگرامی جن سے عبدالماجد کا ادیب کی حیثیت سے بڑا یارانہ تھا وہ خود اشرف علی تھانوی کے مرید تھے عبدالماجد کو بھی انہیں کا نام تجویز کیا ۔ عبدالماجدنے جواب دیا کہ کیا سمجھتے ہو اتنا بڑا نام زیر غور نہ ہوگا۔پوچھا گیا پھر تکلف کس بات کا ہے ؟ماجد نے بیان کیا کہ تحریک خلافت کے سخت مخالف ہیں اسی لئے اعتراض برت رہا ہوں۔وصل بلگرامی نے انہیں تھانوی صاحب کے “مواعظ”پڑھنے کو دیئے کہ اس کو پڑھ کر فیصلہ کیجئے ۔
مواعظ پڑھنا تھے کے حقائق و معارف سامنے آکھڑے ہوئے۔ایسا لگا حجاب ہٹ کر سامنے تھانوی قبلہ خود کھڑے ہیں۔دل خود ان کی جانب کھنچتا چلا گیا۔تھانوی صاحب سے مراسلات شروع کوئے 1 سال تک مراسلات پر دلوں کا حال بیان ہوا پھر خود تھانہ بھون پہنچ گئے۔طویل نشستیں رہیں اور آخر کار عبدالماجد کو بیان دینا ہی پڑا کہ اگر میں عقیدہ تناسخ کا قائل ہوتا تو کہہ اٹھتا کہ اماز غزالی رحمۃ اللہ دوبارہ تشریف لے آئے ہیں۔تھانوی صاحب نے عبدالماجدکا میلان دیکھتے ہوئے حسین احمد مدنی کو مشورہ دیا کہ وہ عبدالماجد کو بیعت کر لیں۔ عبدالماجددیوبند گئے اور مدنی صاحب کے ہاتھ پر بیعت فرمائی۔بیعت معدنی صاحب کی ہوئی مگر مرکز عقیدت تھانہ بھون ہی رہا ۔پھر عشق اتنا بڑھ گیا کہ تھانوی صاحب پر پوری ایک پوری کتاب لکھ ڈالی اور کتاب بھی ایسی کہ مرید کا نذرانہ مرشد کے لئے۔کئی لوگ عرصے تک اسی غلط فہمی کا شکار رہے کہ عبدالماجد اشرف علی تھانوی کے نیازمند نہیں مرید ہیں۔
دوسری جانب اخبار “سچ” ایسی معرکہ آرائیوں میں حصہ لے رہا تھا کہ جو اس کی مقبولیت کا سبب بن رہی تھیں۔سچ لکھنے کے لئے عبدالماجد نے کبھی مصلحت کو آڑے آنے نہ دیا ۔خواجہ حسن نظامی ان کے نہایت اچھے دوست تھےلیکن جب نظامی صاحب نے مولانا محمد علی جوہر کو فاسق اور یزید کے نازیبا القابات سے یاد کیا اور متواتر اپنے پرچے میں ان کے خلاف لکھنا شروع کر دیا تو عبدالماجد سے ایک مصلح قوم کی توہین برداشت نہ ہو سکی،سو عبدالماجد نے خواجہ صاحب کی تعریضات کا “نوٹس” “سچ”کے صفحات میں لینا شروع کر دیااور کوب جواب دیا۔خواجہ حصن نظامی نے جب اپنے پرچے “منادی”میں خود کو برٹش گورنمنٹ کا ہمیشہ سے خیر خواہ ظاہر کیا پھر تو عبدالماجد نےخواجہ صاحب کے خوب لتے لئے۔
ایک صاحب تھے”سید نذیر نیازی”انہوں نے “جوزف ہیل”کی ایک کتاب عربوں کا تمد اردو میں ترجمہ کراکے شائع کرادی ،جس میں اسلام اور حضرت محمد ﷺ اور آل محمد ﷺ سے متعلق نازیبا اور دل آزار کلمات تھے۔ عبدالماجدنے نہ صرف کتاب کی مخالفت و مذمت کی بلکہ دوسرے لکھنے والوں کیو بھی اس مہم میں شامل کر لیا،جس میں مولانا ابو الکلام آزاد بھی شامل تھے۔ان حضرات کے مضامین اور مختصر احتجاجی مراسلے “سچ” میں شائع ہوئے،یہاں تک کہ جامعہ ملیہ کو یہ کتاب اپنی فہرست سے خارج کرنا پڑی۔

دوسروں کی معرکہ آرائیاں جاری تھیں کہ وہ خود بھی ایک معرکہ آرائی کی زد میں آگئے۔ ان کہ وہ دوست جنہوں نے ان کے اخبار کا نام”سچ”تجویز کیا تھا عین جوانی میں انتقال کر گئے۔ایک بیوہ اور کم سن بچی ترکہ میں چھوڑی۔بیوہ کی عمر 26یا 27سال کی تھی۔ عبدالماجدکے بڑے بھائی عبدالمجید نے خط کے ذریعے انہیں بیوہ کا عقد ثانی کروانے کا مشورہ دیا۔ عبدالماجد مصروفیات کی بنا ء پر اس بات کو نظر انداز کرتے رہے۔بار بار خطوط کی آمد پر آخر کار انہیں دلچسپی ظاہر کرنا ہی پڑی،اس سلسلے میں ان کی بیوہ سے بھی کئی بار ملاقات ہوئی۔نکاح ثانی کی اپنی جانب سے کئی کوششوں میں ناکامی کے سامنےپر اور اپنی بیوی کی بیماری کو مدّنظر رکھتے ہوئے بیگم عفت النساء سے رضامندی حاصل کرنے کے بعد (کافی ردّوکد کے بعد)انہوں نے بیوہ سے عقد ثانی کر لیا۔
نکاح کے ردّعمل کے طور پر خاندان بھر میں ہلچل مچ گئی،جیسے گناہ عظیم کر لیا ہو۔سسرال والے برافروختہ تھے بار بار طلبی ہو رہی تھی دھمکیاں ملنے لگیں کہ طلاق دو،ہماری بہن کو رکھو یا دوسری عورت کو۔ادھر عبدالماجدبضد تھے کہ جس غریب بے آسرا عورت کو سہارادیا اب اسے دست کش نہیں ہوں گے۔ادھر عفت کو ہسٹریا کے دورے پڑنا شروع ہو گئے بات بات پر لڑنے لگیں،کمزوری حدسے بڑھ گئی کھڑے کھڑے گرنے لگیں خوب چوٹیں آئیں۔حالانکہ رضامندی خود بھی ظاہر کر دی تھی مگر اب وہی ان کی زبان پر تھا جو ان کے گھر والے چاہتے تھے۔آخر کار 8ماہ بعد ہی عبدالماجد کو طلاق دیتے ہی بنی۔
اب طلاق کے بعد سب دشمن سامنے آگئے،وہ جن کی خبر “سچ”میں لی گئی تھی۔حالانکہ یہ ایک خانگی معاملہ تھا مگر مخالفین نے خوب اچھالا ،پھر ایک پمفلٹ بھی چھاپہ گیا اور اسے گھر گھر تقسیم کرایا گیا،اس میں عبدالماجد پر رکیک الزامات عائد تھے ۔اور ان کی زندگی کو ایک مزاق بنادیا گیا تھا۔انہیں ظالم اور فریبی جانے کیا کچھ نہیں کہا گیا تھا ۔عبدالماجد کو گمان تھا کہ اس کے پیچھے “نگار”کے ایڈیٹر نیاز شیخ پوری ہیں۔نگار نے اس پمفلٹ کے بعد 8صفحات اس معاملے کے لئے مختص کر دئے تھے،اور عنوان لکھ ڈالا “عبدالماجد دریا بادی بے نقاب”
اس کے بعد مساجد کے باہر پوسٹر لگوائے گئے کہ جمعہ کے دن ہر مسجد کے منبر سے عبدالماجد پر لعنت کی جائے۔13سے14ماہ تک یہ ہنگامہ جاری رہا تب جا کر بالآخر یہ ذہنی اذیت کا باب بند ہوا۔
وہ بھی اس وجہ سے کے مرزا عظیم بیگ چختائی کی چند تصانیف اور کتابیں جن میں “حدیث اور پردہ”،”قرآن اور پردہ’حریم”،”رقص و سرور “قابل ذکر ہیں میں افسوسناک عبادتوں اور خیالات کا اظہار کیا گیا تھا ۔آیات کے غلط مطالب نکالے گئے تھے۔احادیث کو جھوٹ کا پلندہ (نعوذ باللہ)بتایا گیا تھا۔یہ وہی صاحب تھے جن کی بہن عصمت چغتائی نے لکھا کہ وہ قرآن لیٹی لیٹے پڑھتےاور پڑھتے پڑھتے سو جایا کرتے تھے۔قرآن پر اخبار چڑھا لیا کرتے کہ کوئی یہ نہ سمجھے قرآن مجید ہے قانون کی کتاب سمجھے۔
ان کتابوں سے ایک ہلچل مچ گئی ہر وہ شخص جس کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان تھا اس کے دل کو بڑی ٹھیس پہنچی۔ اخبار رسائل جرائد ہر جگہ مضامین کی قطار لگ گئی۔مگر کوئی خاص بات بن نہیں رہی تھی کہ کتاب پر پابندی لگ سکے اب ر سب کی نگاہ “سچ ” پر ٹکی تھی کہ عبدالماجد ہی اس کتاب پر کچھ لکھیں تو بات بنے۔”سچ” کے دفاتر میں خطوط کے انبار جمع تھے جن میں یہی درج تھا کہ اس وقت “سچ”خاموش کیوں ہے؟
عبدالماجدنے مرزا عظیم کا نام سن رکھا تھا کسی تصنیف کا مطالعہ نہ کیا تھا کیونکہ مرزا عظیم مزاحیہ ناول لکھا کرتے تھے جو عبدالماجد کا میدان نہ تھا پھر عظیم کو جانے کیوں اچانک مذہبی تصانیف کا خیال آیا اور کئی کتابیں لکھ ڈالیں عبدالماجد پہلے تو وہ مسلکی فرق سمجھے اور نطر انداز کر ڈالیں ۔ عبدالماجد کتابیں پڑھے بنا مجرم قرار نہیں دے سکتے تھے اس کا اظہار اخبار میں بھی کر دیا تھا ایک دن دکن سے کسی صاحب نے انہیں کتابیں بھیج دیں ۔اب انہیں پڑھنا ضروری تھا۔کتاب اٹھائی ،ورق التے تو ایک جگہ لکھا دیکھا کہ”حدیث بڑی فرسٹ کلاس ہے”چونک گئے کہ یہ کون سا طرز بیان ہے،مزید ورق الٹے۔ایک جگہ لکھا پایا”ملاّوں نے قرآن شریف کو محض سنی سنائی بات پر (جو دو ،ڈھائی سو سال برس بعد )سے قربان کر کے پھینک دیا ۔۔۔۔”
عبدالماجد ٹھنک اٹھے ۔یا یہ شخص تو حدیث کو سنی سنائی بات سے تعبیر کرتا ہے،محدثین نے محنے کر کے اچھی طرح تحقیق کر کے جن احادیث کو جمع کیا اس کے نزدیک یہ محض سنی سنائی باتیں ہیں اور پھر اس آدمی کا لہجہ کتنا تحقیر آمیز ہے۔
“ہم ان چاروں اماموں کے اقوال کو اٹھا کر زور سے دیوار پر مارتے ہیں کہ یہ تمام اقوال مردود ہیں۔”
عبدالماجد سنبھل کر بیٹھ گئے اور مطالعہ شروع کر دیااب جوں جوں پڑھتے جاتے خون کھولتا جاتا غصے کہ وہ پہلے ہی تیز تھے لیکن اس وقت مصنف سامنے نہ تھا اقتباسات نوٹ کرتے رہے۔
یہ کتاب ختم ہوئی تو “تفویض”اٹھا لی ،اس کا بھی یہی حال تھا۔
“لوگ کہتے ہیں کہ مسلمان عورتوں کی ناگفتہ حالت اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اپنا دین چھوڑ دیا ہے،اور میں یہ کہتا ہوں کہ ان کی جان محض اس وجہ سے مصیبت میں ہےت کہ وہ مسلمان ہیں۔آج وہ اپنا مذہب چھوڑ دیں اور کل ان کی دنیاوی مصیبتیں ختم ہو جائیں گی۔”
اخلاق و متانت سے گری ان تحریروں کو دیکھ عبد الماجد نے مصنف کو سبق سکھانے کا سوچ لیا۔۔قلم اٹھایا اور “امر عظیم” کے عنوان سےاپنی تحریر “سچ” کے سپرد کر دی۔
مضمون میں ان کے لہجے و رکیک جملوں پر خاص تنقید کی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ اگر پردے کے مسئلے میں جمہور مسلمین کی روش سے کوئی اختلاف ہے تو شرافت و متانت روش سے اس کے اظہار میں وہ (ـچغتائی )بالکل آزاد تھے،لیکن جو لب لہجہ انہوں نے اختیار کیا عامہ مسلمین کی دل آزاری پر کون مسلمان صبر کر سکتا ہے؟محدیثین ،آئمہ کرام بلکہ خود صحابہ تک سے جس طرح زبان درازی کی گئی اس کا کیا جواز ان کے پاس ہے؟
غلط بیانیوں کی تصحیح کی جا سکتی ہے لیکن ایک پڑھا لکھا شخص محض مسخرہ پن اور استہزا پر اتر آئے اور لاکھوں ،کروڑوں افراد کے بزرگوں اور ساتھ ساتھ اپنی فہم کی سنجیدگی کا بھی تمسخر کرنا شروع کر دے تو ملت کے عوام و خواص دونوں کے لئے صبرو قرار،ضبط و تحمل کا قائم رکھنا کس قدر دشوار ہو جائے گا۔
کتاب “حدیث اورپردہ”کا سب سے گندہ ترین حصہ وہ ہے جہاں ایک روایت کی آڑ لے کر نعوذ باللہ حضورﷺ ایک نا محرم عورت سے تمتع بہ قدر تقبیل کرنا چاہتے تھے۔اتنا بڑا گندہ ناپاک ترین افتراان پاکوں کے سردار پر کنایہ سہی آج تک کبھی کسی نے نہیں ایسا نہیں کیا ۔لیکھ رام ہو یا راجپال کسی نے ایسا نہیں کیا۔ کیا اس گندہ ذہنی کے بعد مصنف کو توقع ہے کہ سادہ دل مسلمان اس کے عذر کو قبول کر کے اسے معاف کر سکتے ہیں؟
عبد الماجدکی ابتداء کرنی تھی کہ دوسروں کو بھی حوصلہ ملا اور اس طرح احتجاتی مراسلے و مضامین اشاعت کےلئے آنے لگے اور ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا۔چغتائی یہ سب دیکھ کر پریشان ہو گیا۔مزید یہ کہ ان تمام مضامین کی کتب بنا کر عظیم بیگ چغتائی کو بھجوادی گئیں اس طرح ان سے ان دونوں میں مراسلات کی ابتداء ہوئی۔بالآخر وہ اپنی صفائی میں مضمون دینے پر آمادہ ہو گئے۔یہ مضمون بھی چھپ گیا اور اس میں ان کا لہجہ بھی نہایت معقول تھا۔اس میں دل آزاری پر معافی اور اللہ سے توبہ کی درخواست کی گئی تھی۔مصنف (چغتائی )کو مشورہ بھی دیا گیا کہ وہ اپنی کتاب ہندوستان کے مصنف اعظم مولانا سید سلیمان ندوی کی خدمت میں بھیج دیں جب تک وہ ضروری ترمیمات نہ کر لیں ان کی کتابوں کی اشاعت ملتوی جائے۔انہیں مشورہ ماننا پڑااور کظ کے ذریعے اس کی اطلاع بھی “سچ”میں دی۔اس پر “اجر عظیم”کے عنوان سے عبدالماجد نے مضمون بھی لکھ دالا۔
ابھی یہ ہنگامہ آرائی جاری تھی کہ لکھنؤ کے ایک ناشر نے”انگارے”شائع کر دی۔ عبد الماجد نے اسے بھی آڑے ہاتھو ں لیا “سچ”کے ساتھ ساتھ دوسرے رسائل میں بھی مضامین لکھےاسے ایک “شرمناک کتاب “کے نام سے موسوم کیا۔یہ کتاب نفس مذہب کے علاوہ فھاشی،ابتذال اور زبان و بیان کی فاش غلطیوں کے اعتبار سے بھی ایک شاہکار قرار دی گئی۔”انگارے”کی حمایت میں مضامین بھی شائع ہو رہے تھے،مگر علماؤں اور خاص کر عبد الماجدکی کوششوں سےاور ان کےمضامین کے دلائل کےآگے صوبہ متحدہ(یوپی)کی حکومت نے اس کتاب کو ضبط کرنےکے احکامات جاری کر دئے۔
سچ کی ہنگامہ آرائیوں میں مصروف رہ کر وہ اپنے علمی کاموں سے دور ہوتے جا رہے تھے،قرآن مجید کے انگریزی ترجمے اور تفسیر کا کام شروع کر چکے تھے جس کے لئے کافی وقت درکار تھا ۔انہوں نے “سچ”کو اس کارنامہ عظیم کی خاطر بند کر دیا۔
دریا باد کی تنہائیوں میں وہ کام سرانجام دینے لگے جو علوم دینی میں ایک اہم باب کا اضافہ کرنے والا تھا۔اپنے آپ کو قرآن اور متعلقات قرآن تک محدود کر لیا تھا۔۔نہایت جانفشانی سے ترجمہ قران(انگریزی)مکمل کرنے کے بعد تفسیر ماجدی(انگریزی،اردو)کا کام شروع کر دیا ۔تفسیر مکمل ہوئی تو نئے خاکے لکھنا شروع کر دیئے۔ جنہیں کتاب کی صورت ملنے لگی۔ان میں مسائل القصص، الحیوانات فی القرآن، ارض القرآن،اعلام القرآن، بشریت انبیاء، سیرت نبوی قرآنی،اور مشکلات القرآن جیسی کتب پڑھنے والوں کے سامنے آئیں۔
وہ 2شخصیات کو کو قرآن کی تصانیف کےلئے اپنا محسن گردانتے تھے۔1-جناب مولانا اشرف علی تھانوی اور2-مولانا محمد علی جوہر،ان شخصیات نے ہر قدم پر ان کی رہنمائی کی ،قدم قدم معاون رہے۔انہوں نے انکی شکر گزاری کے لئے دونوں کی سوانح عمریاں تصنیف کیں۔ان کتابوں کو مولانا اشرف علی تھانوی پر “نقوش و تاثرات”اور مولانا محمد علی جہر پر”محمد علی ،ذاتی ڈائری کے چند اوراق”کے نام سے شائع کروایا۔
کسی عالم دین سے کب توقع تھی کہ وہ سوانح نگاری ،خاکہ نگاری اور انشائی تحریروں میں بھی دماغ کھپائے گا لیکن عبد الماجدنے تو جیسے تہہ کر لیا تھا کہ وہ ادب کے ہر گھر میں جھانکے بنا نہیں رہیں گے۔شاعری بھی کی اور غزل کو ہاتھ لگایا۔تنقید بھی کی اور تحقیق تو ان کا خیر میدان ہی تھا ،غرض بڑی تعداد میں خاکے لکھے۔ عبد الماجد کو دینی صفات نے چھپا لیا ورنہ وہ بہت بڑے خاکہ نگار بھی تھے۔
عبد الماجدنے جس تصنیف میں بھی ہاتھ ڈالا اسے تکمیل تک پہنچا ڈالا۔ایسی عظیم الشان زندگی کہ ہر منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچا سوائے 1منصوبہ جو مکمل نہ ہو سکا اور اگر وہ مکمل ہو جاتا تو اردو زبان اپنی خوش قسمتی پر نازاں اور فخر کرتی اور پوری اسلامی دنیا ان کی احسان مند ہوتی۔
ایک بار راجہ صاحب محمود آباد کے ساتھ ان کی اقامت گاہ ٌر عبد الماجد بیٹھے تھے کہ دوران گفتگو انگریزی زبان کے ذخیرہ علمی کا ذکر نکل آیا۔بات نکل آئی انسائکلو پیڈیا برٹانیکاکی۔راجہ صاحب نے اردو میں ترجمہ کی درخواست کی۔ عبد الماجدنے سرمایہ کثیر کی درخواست کی۔راجہ صاحب نے 1لاکھ کی خطیر رقم مختص کرنے کی رضامندی ظاہر کی اور مزید کا بھی وعدہ فرمایا۔وعدہ تو کر لیا مگر کسی سے مشورہ نہ کر سکے تھےان کے مشیر و مصلح سید سلیمان ندوی تھے ان سے مشورہ کیا انہیں منصوبہ بھی پسند آیا اور ایک مشورہ بھی اس سلسلے میں دیا کہ “ترجمہ تو ترجمہ ہوتا ہے اصل تصنیف کا مقابلہ نہیں کر سکتا یہ تو اہل یورپ کی خدمت ہوگی ۔انسائیکلو پیڈیا کے مصنفین کے ابواب کے پابند ہوں گے ،بہتر یہ ہے کہ برٹانیکا کے طرز پر ایک اردو انسائیکلو پیڈیا یا دائرہ معارف تیار ہو ،جس میں تاریخ، طب، قانون،سیاست، مذہب ،فلسفہ اور سائنس وغیرہ کی ہر شاخ پر مستند فاصلوں سے مقالے تیار کروائے جائیں ۔یہ ایک اوریجنل چیز ہو گی جس کی وقعت بھی ہو گی اور اس میں ہم آزاد بھی ہوں گے۔”
راجہ صاحب کو اس سے آگاہ کیا گیا انہوں نے بھی اس منصوبے کی منظوری دے دی۔منصوبے کو مشتہر کرنے کے لئے سید سلیمان ندوی سے تفصیلی مضامین بھی شائع کروائے گئے۔جو مختلف رسائل میں شائع ہوئے ۔ان مراسلوں کےجواب میں تجاویز بھی آئیں۔اس منصوبے کو سراہا بھی گیا مگر پھر چند نا گزیر وجوہات کی بنا پر تاخیر ہوتی چلی گئی اور رفتہ رفتہ لوگ اسے بھول گئے کہ کس عظیم منصوبے کا آغازہونے والا تھا۔
عبد الماجدکی صحت ہمیشہ سے ہی ناز رہی تھی 11یا12سال کی عمر میں ان پر ملیریا کا حملہ ہوا تھا عام سی بیماری تھی مگر ٹھیک ہوگئی مگر اگلے ہی سال پھر حملہ ہوا تو تشویش ہوئی یہاں تک کہ 18سے19سال تک سالانہ حملوں کے شکار ہوتے رہے۔پھر نزلہ وزکام کے بھی دائمی مرض میں مبتلا تھے۔جب حیدر آباد میں قیام پزیر تھے تب اپنڈکس کا بھی شکار ہوئے۔ایک خاذق حکیم سے ملاقات ہوئی تو بنا آپریشن نکلیف سے نجات ملی۔ان ملیریا کے سالانہ حملوں اور مسلسل نزلے کے باعث بینائی متاثر ہوئی۔نوجوانی میں کچھ خیال نہ کیا لیٹ کر اور کم روشنی میں پڑھا کرتے تھے،نتیجہ یہ ہوا کہ 37سال کی عمر میں رات کا مطالعہ چھوڑدینا پڑا۔40سال کی عمر میں صحت انتہائی خراب ہو چکی تھی۔مرض قلب میں مبتلا تھے۔ علاج جاری تھاپر افاقہ نہ آرہا تھا کسی کے مشورے پر صبح کی سیر کو معمول بنا لیا تھا اس ہوا خوری سے اچھے اثرات مرتب ہوئے۔اور صحت سنبھلنے لگی۔مگر پھر بھی جب بھی سردیاں آتیں بیمار ضرور پڑتے اور ہفتوں مبتلا رہتے،مگر جوں جوں بڑھاپا آتا جارہا تھا قوت مدافعت جواب دیتی ہی جا رہی تھی بیماری ہفتوں سے مہینوں پر پھیلنا شروع ہو گئی ۔اس پر سے یہ احساس کے عمر کم رہ گئی ہے مزید کام شروع کر دیا کہ جو کرنا ہے جلد کر لو نجانے کب رخصت ہوجانا پڑے۔80سال پار کرنے کے بعد قوت ارادی بھی جواب دے گئی۔یہاں تک کہ اخبار میں چاہنے والوں نے خبر بھی لگا ڈالی کہ “مولانا دریا بادی نے صحافتی قلم رکھ دیا۔”پر کسے معلوم تھا کہ تیاری کسی اور طرف کی ہو رہی ہے۔
14جنوری1974؁ کو مغرب کی نماز کے بعد رہا سہا فالج کا حملہ بھی ہو گیا،اثر دائیں جانب ہواہفتہ ڈیڑھ ہفتہ ڈاکٹری علاج کے بعد لکھنؤ میں ہومیوپیتھی کا شروع ہوا تو مرض جہا ں تھا وہیں رک گیا۔افاقہ ملتے ہی ایک مختصر سانوٹ لکھ اخبار میں بھیج دیا ۔کہ پڑھنے والوں کو ان کے بارے میں آگاہی ہو سکے ۔لاکھوں صفحات لکھنے والے کو یہ چھوٹا رقعہ بھی لکھنے کے لئے ایسا لگا کہ گویا ایک پہاڑ ساکاٹ رہے ہوں۔اخبارات میں بار بار ان کی صحت کی خبریں دیکھ کر حکومت کو بھی ہوش آگیا،ریاستی گورنر خود عیادت کو آئے۔پھر تو حکومتی عہدےداران کا تانتا بندھ سا گیا۔صحت تو سنبھل گئی تھی پر حافظہ جاتا رہا تھا۔کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے قابل نہ رہے تھے۔ان کا لکھا ہواپڑھنا دشوار ہو جاتا تھا۔بولنے میں لکنت آگئی تھی کہ سمجھنا دشوار تھا۔اس پر بھی اللہ کا شکر تھا۔ایک سال جسم کو گھسیٹے رہے ۔بصارت انتہائی کمزور ہو گئی تھی ایک انگریز ڈاکٹر سے کامیاب آپریشن بھی کرولیا مگر قریب کی نگاہ عینک لگانے کے باوجود لکھنے پڑھنے سے معذور تھی۔ان دنوں قیام لکھنؤ میں تھا مسلم یونیورسٹی کے کانووکیشن کے لئے انہیں علیگڑھ بلوایا گیا ۔صحت آنے جانے کے قابل نہ تھی پر احباب کے مجبور کرنے پر اپنے بھتیجے کے ساتھ یورنیورسٹی پہنچے جہاں انہیں ڈاکٹر آف لٹریچر پر اعزازی ڈگری دی گئی۔
رمضان آئے تو دریا باد چلے آئے۔پورا رمضان تراویح میں انتہائی ضعف کے باوجود قرآن مکمل سنا۔اکتوبر کی ایک رات آگئی۔کسی کام سے بستر سے اٹھے تو ٹھوکر لگ گئی پوری رات تکلیف میں گزاردی۔صبح ڈاکٹر نے معائنہ کیا تو علم ہواکہ کولہے کی ہڈی توٹ گئی ہے۔ہڈی جوڑ پاسٹر چڑھا دیا گیا۔چلنے پھرنے سے بھی معذور ہو گئے۔ایک چوبی تخت تھا جس پر لیٹے رہا کرتے تھے،داہنی کروٹ پر لیٹ نہ سکتے تھے پاسٹر جو چڑھا تھا۔لکھنے پڑھنے کا سوال پیدا نہ ہوتا تھا کہ آنکھیں اب اس قابل ہی نہ تھیں۔سب کو یقین آگیا تھا کہ اب عبد الماجد کا وقت رخصت قریب ہےخود عبد الماجدبھی ہر ایک سے اپنی مغفرت کے لئے دعا کا کہتے تھے۔لڑکیوں کو اپنے پا س بلا لیا تھا کہ جب تک جیتے ہیں انہیں دیکھتے رہیں۔ایک دن لڑکیوں کو پاس بلا کر اپنی کتابوں کی تقسیم بھی کر وادی کہ انگریزی کی کتابیں ندوہ کے دارالمطالعے کو اور اردو،عربی اور فارسی کی کتب مسلم یورنیورسٹی کو دے دی ہیں۔یہ جملہ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو بھی آگئے ۔منجھلی بیٹی نے عرض کیا کہ ہمیں علم ہے کس طرح آپ نے انہیں جمع کیا ہے اور اب تقسیم کر رہے ہیں،کتابیں ہمارے پاس اپنی نشانی کے طور پر ہی رہنے دیں۔جواب میں عبدالماجد نے کہا “اچھا یاد دلایا ایسے ہی جمع نہیں ہو گئیں تھیں کتابیں ،ناشتے میں انڈہ بہت پسند تھا لیکن میں نے ابلے آلو انڈے سمجھ کے کھانا شروع کر دئے پیسے جوڑے اور کتابیں خریدیں،کتابوں میں حالی ہیں،شبلی بھی ہیں دل ان سے جدائی کا نہیں چاہتا لیکن تم لوگ اپنے گھروں کی ہو ۔کل چلو جاؤ گی کتب خانے کی حفاظت کون کرے گا ؟بیٹا ہوتا تو اور بات تھی۔
پہلی بار اپنی اولاد نرینہ کی کمی کا بہت احساس ہوا اور اس کا اظہار بھی کیا،یقیناً وہ2 بیٹے ضرور یاد آئے ہوں گے جو عالم شیر خوارگی ہی میں داغ مفارقت دے گئے تھے۔ان کی 4بیٹیاں تھیں (رافت النساء، حمیرا کاتون، زہیرا خاتون اور زاہدہ خاتون)آخر کار وہ دن بھی آگیا جب علی گڑھ سے ٹرک کتابیں لینے ان کے دروازے پر کھڑا تھا اور وہ بے بسی سے اسے لادتے دیکھ رہے تھے۔بیٹی سے اظہار کیا کہ ایسا لگ رہا ہے ایک اور بیٹی کو رخصت کر رہا ہوں۔ان دنوں قیام لکھنؤ میں خاتون منزل پر تھا ۔دسمبر کا مہینے کا آخر تھا کہ نیا حملہ فالج کا ہو گیا ۔احباب ملنے آتے رہے سرہانے بیٹھتے اور چلے جاتے ،عبدالماجد کچھ بھی بولنے سے قاصر تھے ،آنکھوں میں آنسو آجاتےتھے۔حواس قائم نہ رہے تھے،بار بار غفلت طاری ہو جاتی تھی لیکن اس عالم میں بھی بار بار ہاتھ کان تک اٹھاتے اور اس کے بعد نیچے لا کر نماز کے انداز میں باندھ لیتے تھے۔
ایک روز اپنی منجھلی بیٹی کو بلا کر کہنے لگے کہ
“وہ جو آتا ہے ف۔۔۔”
بیٹی نے جملہ مکمل کیا کہ”فرشتہ؟”
بولے ۔”ہاں”اور داہنی جانب اشارہ کیا اور کہا “آگیا ہے۔”
اس واقعے کے4دن بعد ہی 6جنوری1977؁صبح ساڑھے4بجےخاتون منزل (لکھنؤ)میں عبدالماجد دریابادی خالق حقیقی سےجا ملے۔
نماز جنازہ ، وصیت کے مطابق نماز ظہر کے بعد ندوۃالعماء کے میدان میں مولانا ابو الحسن ندوی نے پڑھائی۔اس کے بعد جسد خاکی کو دریا باد لے جایا گیا وہاں بھی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ان کے مکان سے متصل ایک آبائی بزرگ حضرت آب کش کا مزار تھا اس کے قریب ہی آپ کی تدفین ہوئی۔
عالم دیں ،مفسر قرآن
مرد حق محرم رموز حیات
اپنے خالق سے جا ملا آخر
چھوڑ کر یہ جہان مکروہات
ہے کم و بیش یہی تاریخ
پاک دل ، پاک ذات، پاک صفات
1397 ھ =1775-378
پھر وہی ہوا کہ جو عظیم لوگوں کی وفات کے بعد ہوا کرتا ہے۔مجلس شوریٰ دارالعلم دیو بند، بزم اردو اور محمد علی اکادمی مدینہ ،اخبار رہنمائے دکن اور متعدد دیگر اداروں نے تعزیتی قرار دادیں پاس کیں
تصانیف:
(تنقیدات)
اقبالیات ماجد، اکبر نامہ، انشائے ماجد، مضامین ماجد، مقالات ماجد،نشریات ماجد۔
(قرآنیات و متعلقات)
ارض القران، اعلام القران، بشریت انبیاء، تصوف اسلام، تفسیر ماجدی، تمدن اسلام کی کہانی، جدید قصص الانبیاء کے چند ابواب، خطبات ماجد، سچی باتیں، سلطان ما محمدﷺ، سیرن النبوی ﷺ قرآنی، قتل مسیح سے یہودیت کی بریت، مسائل و قصص، مردوں کی مسیحائی، مشکلات القرآن، ندوۃ العلما کا پیام ،یتیم کا راج۔
(آپ بیتی و سوانح)
آپ بیتی(ماجد)، اردو کا ادیب اعظم، چند سونحی تحریریں، حکیم الامت ، نقش و تاثرات، محمد علی ذاتی ڈائری کے چند ورق،(جلد اول و دوم)محمود غزنوی معاصرین،دفیات ماجدی۔
(فلسفہ و نفسیات)
غذائے انسانی،فلسفہ اجتماع، فلسفہ جذبات، فلسفیانہ مضامین، مبادی فلسفہ، ہم آپ۔
(تراجم)
پیام امن، تاریخ اخلاق یورپ، تاریخ تمدن ، مکالمات برکلے، مناجات مقبول، ناموران سائنس۔
(سفر نامے)
تاثرات دکن، ڈھائی ہفتہ پاکستان میں ، سفر حجاز، سیاحت ماجدی۔
(انگریزی)
دی سائیکلوجی آف لیڈر شپ، قرآن حکیم(انگریزی ترجمہ و تفسیر)، ہولی قرآن ود انگلش ٹرانسلیشن
ماخذ:
اس مضمون کی تیاری میں واقعات کے ماخذ درجہ ذیل ہیں۔
ختم شد
18 comments
  1. احمر said:

    اس مضمون کے لیے آپ کا بےحد مشکور ہوں

  2. بھت اچھی اور معلوماتی تحریر پیش کرنے کا شکریھ

    • مزید تحریریں بھی آپ کی منظر ہیں پڑھ کر تجزیہ پیش کیجئے

  3. Saad said:

    بہت اعلی تحریر ہے. اردو انسائیکلو پیڈیا کے بارے میں کچھ بتائیں، میں چاہتا ہوں کہ یہ منصوبہ اج کے دور میں مکمل ہونا چاہئے.

    • اس حوالے سے میں بھی متفق ہوں آپ کی رائے سے
      لیکن اسے سرانجام کو ن دے؟

    • پسندیدگی کا شکریہ
      اپنے احباب و رفقاء کو بھی پڑھنے کو دیججئے
      ہم اپنے اسلاف کو اپنے بزرگوں کو بھولتے جا رہے ہیں
      کوشش ہے مزید ایسے ہی بزرگان دین اور تاریخی ہستیوں کا ذکر جاری رہے
      مزید ایسے ہی حالات شامل تحریر رہیں

  4. Haseeb Khan said:

    kuch miss ho gaya!apki tahreer haqeeqat main buhat tahqiqi hay lakin is abqari shaksiat ki hayyat say kuch miss ho gaya!Maulana ka Mirza Ghulan Kadiani kay baray main mauqaf baqi ummat say alag tha aur ap usay jhoota nabi nahi mantay thay balkay mujadid samajhtay thay jis par Ulama nay unki girift bhi ki thi!

    • جی جتنا مجھے علم ہو سکا میں نے آپکے ساتھ شیئر کیا
      جو کتب مجھے میسر آئیں ان میں اتنے ہی حالات ذکر تھے
      آپ بھی کچھ ہمارے ساتھ شیئر کیجئے یا وہ مواد مجھے دیجئے لنک یا کتب کے حوالاجات
      میں ضرور اس پر لکھنے کی کوشش کروں گی

      • Haseeb Khan said:

        3. Maulana Abdul Majid Daryabadi (d. 1977)

        He was a well-known Muslim theologian of India, and a recognised leader of orthodox opinion.
        In a book about his contemporaries, he includes a section on Maulana Muhammad Ali, in which he writes:
        “It was 1909. … Through reading English books written by agnostics, I had turned from a good believer to a heretic. … My apostasy continued till 1918. … At that time, I read the English Quran commentary by Muhammad Ali of Lahore. It convinced me that the Quran is no collection of hearsay stories, but a collection of deep and sublime truths, and if it was not ‘heavenly’, it was almost heavenly.”

        (Mu‘asareen, Lucknow, India, 1979, p. 43)

        In his autobiography, he wrote:
        “When I finished reading this English Quran [translation and commentary by Maulana Muhammad Ali], on searching my soul I found myself to be a Muslim. I had recited the Kalima unhesitatingly, without deceiving my conscience. May Allah grant this Muhammad Ali paradise! I am not concerned with the question whether his belief about Mirza sahib was right or wrong. What should I do about my personal experience? He was the one who put the last nail in the coffin of my unbelief and apostasy.”

        (Aap Beti, Shadab Book Centre, Lahore, 1979, pp. 254 – 255)

        Reviewing Maulana Muhammad Ali’s English translation of the Holy Quran in the newspaper Such of Lucknow, which he edited, Abdul Majid Daryabadi wrote:
        “To deny the excellence of Maulana Muhammad Ali’s translation, the influence it has exercised and its proselytising utility, would be to deny the light of the sun. The translation certainly helped in bringing thousands of non-Muslims to the Muslim fold and hundreds of thousands of unbelievers much nearer Islam. Speaking of my own self, I gladly admit that this translation was one of the few books which brought me towards Islam fifteen or sixteen years ago when I was groping in darkness, atheism and scepticism. Even Maulana Mohamed Ali of the Comrade [see ref. 2 above] was greatly enthralled by this translation and had nothing but praise for it.”

        (Such, Lucknow, 25 June 1943) Mr Muhammad Ali was the leader of lahoti jammat of kadianees!

  5. Ansari Masood Akhtar Nadvi said:

    السلام علیکم
    دل سے نکلی ہوئی تحریر دل میں اترتی چلی گئی۔ نہ صرف معلومات افزا ہے بلکہ ایمان افروز اور نصیحت اآموز بھی ہے۔ مزید تحریریں بغرض استفادہ کہاں مل سکتی ہیں ۔ بااآسانی نشاندہی فرمانے کی زحمت کیجئے شکاً وجزاک اللہ خیا

    • لائریری جائیے
      یا انٹرنیٹ پر سوانح حیات کھنگالیئے
      جو شخصیت پسند آیئے یا جنہیں سمجھنا چاہتے ہیں ان پر لکھی کتب پڑھیئے

  6. Hammad said:

    عبدالماجد نے “آپ بیتی” میں لکھا ہے کہ وہ ایک قادیانی محمد علی لاہوری کے ترجمہ تفسیر قرآن پڑھ کر مسلمان ہوئے۔ آپ نے اس حقیقت کو چالاکی سے چھپا کر علمی بددیانتی کا ثبوت دیا ہے۔
    دیکھئے صفحہ نمبر 254

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ Log Out / تبدیل کریں )

Connecting to %s

Pak Islamic Library

Authentic Islamic Books

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Urdu Islamic Books

islamic books in urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.wordpress.com

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Contact Us: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

creating happiness everyday

an artist's blog to document her creativity, and everyday aesthetics

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

%d bloggers like this: