حضرت یوسف علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام (حصہ ہفتم)

گزشتہ سے پیوستہ
زوجہ عزیز مصر كى رسوائی
یوسف كى انہتا ئی استقامت نے زوجہء عزیز كوتقریبا” مایوس كردیا یوسف اس معر كہ میں  اس نا زوا دا والى اور سر كش ہوا وہو س والى عورت كے مقابلے میں  كا میاب ہو گئے تھے انہوں  نے محسوس كیا كہ اس لغزش گا ہ میں  مزید ٹھہر نا خطر ناك ہے انہوں  نے اس محل سے نكل جانے كا ارادہ كیا لہذا وہ تیزى سے قصر كے دروازے كى طرف بھا گے تاكہ دروازہ كھول كر نكل جائیں  زوجہ ء عزیزبھى بے اعتنا نہ رہى وہ بھى یوسف كے پیچھے دروازے كى طرف بھاگى تا كہ یوسف كو باہر نكلنے سے روكے اس نے اس مقصد كے لئے یوسف كى قمیص پیچھے سے پكڑلى اور اسے اپنى طرف كھینچا اس طرح سے كہ قمیص پیچھے سے لمبائی كے رخ پھٹ گئی ۔ ”(سورہ یوسف آیت 25)
لیكن جس طرح بھى ہوا یوسف درواز ے تك پہنچ گئے اور در وازہ كھول لیا اچانك عزیز مصر كو دروازے كے پیچھے دیكھاجیسا كہ قرآن كہتا ہے:”ان دونوں  نے اس عورت كے آقا كو دروازے پر پایا۔ ”
(سورہ یوسف آیت 25)
اب جبكہ زوجہ عزیز نے ایك طرف اپنے كورسوائی كے آستا نے پر دیكھا اور دوسرى طر ف انتقام كى آگ اس كى روح میں  بھڑك اٹھى تو پہلى بات جو اسے سو جھى یہ تھى كہ اس نے اپنے آپ كو حق بجا نب ظاہر كرتے ہو ئے اپنے شو ہر كى طرف رخ كیا اور یوسف پر تہمت لگائی:اس نے پكا ر كر كہا : ”جو شخض تیرى اہلیہ سے خیا نت كا ارادہ كرے اس كى سزا زندان یا در د نا ك عذاب كے سوا اوركیا ہو سكتى ہے۔  ”(سورہ یوسف آیت 25)
یہ امر قابل توجہ ہے كہ اس خیانت كار عورت نے جب تك اپنے آپ كو رسوائی كے آستا نے پر نہیں  دیكھا تھا ، بھول چكى تھى كہ وہ عزیز مصر كى بیوى ہے لیكن اس مو قع پر اس نے ”اہلك ‘‘(تیرى گھر والى ) كا لفظ استعمال كركے عزیز كى غیرت كو ابھارا كہ میں  تیرے سا تھ مخصوص ہو ں  لہذا كسى دوسرے كو میرى طرف حرص كى آنكھ سے نہیں  دیكھنا چاہئے۔
دوسرا قابل توجہ نكتہ یہ ہے كہ عزیز مصر كى بیوى نے یہ ہر گز نہیں  كہا كہ یوسف میرے بارے میں  برا ارادہ ركھتا تھا بلكہ عزیز مصر سے اس كى سزا كے بارے میں  بات كى اس طرح سے كہ اصل مسئلہ مسلم ہے اور بات صرف اس كى سزا كے بارے میں  ہے ایسے لمحے میں  جب وہ عورت اپنے آپ كو بھول چكى تھى اس كى یہ جچى تلى گفتگو اس كى انتہائی حیلہ گرى كى نشانى ہے ۔ پھر یہ كہ پہلے وہ قید خانے كے بارے میں  بات كرتى ہے اور بعد میں  گو یا وہ قید پر بھى مطمئن نہیں  ہے ایك قدم اور آگے بڑھا تى ہے اور ”عذاب الیم ”كا ذكر كر تى ہے كہ جو سخت جسما نى سزا اور قتل تك بھى ہو سكتى ہے ۔
اس مقام پر حضرت یوسف نے خا مو شى كو كسى طور پر جائز نہ سمجھا اور صرا حت سے زوجہ عزیز مصر كے عشق سے پر دہ اٹھا یا انہوں  نے كہا : ”اس نے مجھے اصرار اور التما س سے اپنى طرف دعوت دى تھی۔ ”
(سورہ یوسف آیت 26)
واضح ہے اس قسم كے موقع پر ہر شخص ابتدا ء میں  بڑى مشكل سے یہ باور كر سكتا ہے كہ ایك نو خیز جوان غلام كہ جو شادى شدہ نہیں  ،بے گنا ہ ہو اور ایك شوہر دارعو رت كہ جو ظاہر ا ًباوقار ہے گنہگار ہو ،اس بنا ء پرزیادہ الزام زوجہ عزیز كى نسبت یوسف كے دامن پر لگتا تھا ۔  
شاہد گواہى دیتا ہے
لیكن چو نكہ خدا نیك اور پاك افراد كا حامى ومدد گار ہے وہ اجا زت نہیں  دیتا كہ یہ نیك اور پار سا مجا ہد نو جوان تہمت كے شعلو ں  كى لپیٹ میں  آئے، لہذا قرآن كہتا ہے: اس مو قع اس عورت كے اہل خاندان میں  سے ایك گواہ نے گواہى دى كہ اصلى مجرم كى پہچان كے لئے اس واضح دلیل سے استفادہ كیا جا ئے كہ اگر یوسف كا كر تہ آگے كى طرف سے پھٹا ہے تو وہ عورت سچ كہتى ہے اور یوسف جھو ٹا ہے ” اور اگر اس كا كرتہ پیچھے سے پھٹا ہے تو وہ عورت جھوٹى اور یوسف سچا ہے ۔ ”(سورہ یوسف آیت 27)
اس سے زیا دہ مضبوط دلیل اور كیا ہو گى ،كیو نكہ زوجہ عزیز كى طرف سے تقا ضا تھا تو وہ یوسف كے پیچھے دو ڑى ہے اور یوسف اس سے بھا گ رہے تھے كہ وہ ان كے كر تے سے لپٹى ہے ، تو یقینا وہ پیچھے سے پھٹا ہے اور اگر یوسف نے عزیز كى بیوى پر حملہ كیا ہے اور وہ بھا گى ہے یا سا منے سے اپنا دفاع كیا ہے تو یقینا یوسف كا كر تہ آگے سے پھٹا ہے ،یہ امر كس قدر جاذب نظر ہے كہ كر تہ پھٹنے كا سا دہ سا مسئلہ بے گناہى كا تعین كردیتا ہے ،یہى چھوٹى سى چیز ان كى پاكیز گى كى سند اور مجرم كى رسوائی كا سبب ہو گئی ۔
عزیز مصر نے یہ فیصلہ كہ جو بہت ہى جچا تلا تھا بہت پسند كیا یوسف كى قمیص كو غور سے دیكھا ”اور جب اس نے دیكھا كہ ان كى قمیص پیچھے سے
پھٹى ہے ( خصوصا اس طرف تو جہ كر تے ہو ئے كہ اس دن تك اس نے كبھى یوسف سے كو ئی جھو ٹ نہیں  سنا تھا )
اس نے اپنى بیوى كى طرف رخ كیا اور كہا :
”یہ كام تم عو ر توں  كے مكر و فریب میں  سے ہے ، بے شك تم عورتوں  كا مكر وفریب عظیم ہے۔  ”
(سورہ یوسف آیت 28)
اس وقت عزیز كو خو ف ہوا كہ یہ رسو اكن واقعہ ظاہر نہ ہو جا ئے اور مصر میں  اس كى آبرو نہ جا تى رہے اس نے بہتر سمجھا كہ معا ملے كو سمیٹ كر دبا دیا جا ئے اس نے یوسف كى طرف رخ كیا اور كہا :
” اے یوسف تم صر ف نظر كر و اور اس واقعے كے بارے میں  كو ئی با ت نہ كہو”
(سورہ یوسف آیت 29)
پھر اس نے بیوى كى جا نب رخ كیا اور كہا :”تم بھى اپنے گناہ سے استغفار كرو كہ تم خطا كا روں  میں  سے تھی”
(سورہ یوسف آیت 29)
شاہد كون تھا ؟
شاہد كون تھا كہ جس نے یوسف اور عزیز مصر كى فائل اتنى جلد ى درست كر دى اور مہرلگادى اور بے گناہ كو، گہنگار سے الگ كر دكھا یا،اس بارے میں  مفسر ین كے درمیان اختلاف ہے ۔
بعض نے كہا ہے كہ وہ عزیز مصر كى بیوى كے رشتہ داروں  میں  سے تھا اور قاعد تاً ایك حكیم ، دانش مند اور سمجھدار شخص تھا ، اس واقعے میں  كہ جس كا كو ئی عینى شا ہد نہ تھا اس نے شگا ف پیرا ہن سے حقیقت معلو م كرلی، كہتے ہیں  كہ یہ شخص عزیز مصر كے مشیروں  میں  سے تھا اور اس وقت اس كے ساتھ تھا ۔
دوسرى تفسیر یہ ہے كہ وہ شیر خوار بچہ تھا یہ بچہ عزیز مصر كى بیوى كے رشتہ داروں  میں  سے تھا اس وقت یہ بچہ وہیں  قریب تھا یوسف نے عزیز سے خواہش كى اس سے فیصلہ كروا لو، عزیزكو پہلے تو بہت تعجب ہوا كہ كیا ایسا ہو سكتا ہے لیكن جب وہ شیر خوار حضرت عیسى كى طرح گہوارے میں  بول اٹھا اور اس نے گنہگا ر كو بے گنا ہ سے الگ كر كے معیار بتا یا تو وہ متوجہ ہوا كہ یوسف ایك غلام نہیں  بلكہ نبى ہے یا نبى جیسا ہے ۔
( حضرت امام صاد ق علیہ السلام سے ایك رو آیت منقول ہے :
”شہادت دینے والا گہوارہ میں  ایك چھوٹا بچہ تھا”لیكن توجہ رہے كہ اس حدیث كى كوئی محكم سند نہیں  ہے)
زوجہ عزیز مصر كى ایك اور سازش
زوجہ عزیز كے اظہا ر عشق كا معاملہ مذ كورہ داستان میں  اگر چہ خاص لوگوں  تك تھا اور خود عزیز نے بھى اسے چھپا نے كى تاكید كى تھى تاہم ایسى باتیں  چھپا ئے نہیں  چھپتیں  خصوصاً بادشا ہوں  اور اہل دولت واقتدار كے تو محلوں  كى دیوار یں  بھى سنتى ہیں  بہر حال آخر كا ر یہ راز قصر سے باہر نكل گیا اور جیسا كہ قرآن كہتا ہے شہر كى كچھ عور تیں  اس بارے میں  ایك دوسرے سے باتیں  كرتى تھیں  اور اس بات كا چر چا كر تى تھیں ” كہ عزیز كى بیوى نے اپنے غلام سے راہ ورسم پیدا كر لى ہے اور اسے اپنى طرف دعوت دیتى ہے” (سورہ یوسف آیت 30)
”اور غلام كا عشق تو اس كے دل كى گہرائیوں  میں  اتر گیا ہے”
(سورہ یوسف آیت 30)
پھر وہ یہ كہہ كر اس پر تنقید كر تیں  كہ ”ہمارى نظر میں  تو وہ واضح گمراہى میں  ہے ‘
‘(سورہ یوسف آیت 30)
واضح ہے كہ ایسى باتیں  كرنے والى مصر كے طبق ہ امر ا ء كى عور تیں  تھیں  جن كے لئے فرعونیوں  اورمستكبرین كے محلات كى گھٹیا كہا نیاں  بہت دلچسپ ہو تى تھیں  اور وہ ہمیشہ ان كى ٹوہ میں  لگى رہتى تھیں  ۔
اشراف كى یہ عور تیں  كہ جو خود بھى زوجہ عزیز كى نسبت ہو س رانى میں  كسى طرح كم نہ تھیں  ان كى چو نكہ یوسف تك رسائی نہیں  تھى لہذا بقو لے ”جانماز آب مى كشید ند ”مكر وفریب میں  لگى ہو ئی تھیں  اور زوجہ ء عزیز كو اس كے عشق پر واضح گمراہى میں  قرار دیتى تھیں  ، یہاں  تك كہ بعض مفسرین نے یہ احتمال بھى ذكر كیا ہے كہ یہ رازبعض زنان مصر نے ایك سا زش كے تحت پھیلا یا وہ چا ہتى تھیں  كہ زوجہ ء عزیز مصر اپنى بے گنا ہى ثابت كرنے كے لئے انہیں  اپنے محل میں  دعوت دے تاكہ وہ خود وہاں  یوسف كو دیكھ سكیں  ان كا خیا ل تھا كہ وہ یوسف كے سامنے ہوں  تو ہو سكتا ہے اس كى نظر ان كى طرف مائل ہو جا ئے كہ جو شاید زوجہ عزیز مصر سے بھى بڑھ كر حسین تھیں  اور پھر یوسف كے لئے ان كا جمال بھى نیا تھا اور پھر یوسف كے لئے عزیز كى بیوى ما ں  یا مولى یا ولى نعمت كا مقام ركھتى تھى اور ایسى كو ئی صورت ان كے لئے نہ تھى لہذا وہ سمجھتى تھیں  كہ زوجہ عزیز كى نسبت ان كے اثر كا احتمال زیادہ ہے ۔
یہ نكتہ بھى قابل تو جہ ہے كہ كس شخص نے یہ راز فاش كیا تھا ، زوجہ ء عزیز تو یہ رسوا ئی ہر گز گوارا نہ كر تى تھى اور عزیز نے تو خود اسے چھپا نے كى تاكید كى تھى رہ گیا وہ حكیم ودانا كہ جس نے اس كا فیصلہ كیا تھا ، اس سے تو ویسے ہى یہ كا م بعیدنظر آتا ہے بہر حال جیسا كہ ہم نے كہا كہ خرابیوں  سے پُران محلات میں  ایسى كوئی چیز نہیں  كہ جسے مخفى ركھا جا سكے اور آخر كا ر ہر بات نا معلوم افراد كى زبانوں  سے درباریوں  تك اور ان سے باہر كى طرف پہنچ جاتى ہے اور یہ فطرى امر ہے كہ لو گ اسے زیب داستان كے لئے اور بڑھا چڑھا كر دوسروں  تك پہنچا تے ہیں  ۔  
جنا ب یوسف علیہ السلام  كے پاس مصر كے عور تیں
”زوجہ عزیز كومصر كى حیلہ گر عورتوں  كے بارے میں  پتہ چلا تو پہلے وہ پریشان ہو ئی پھر اسے ایك تدبیر سو جھى اس نے انہیں  ایك دعوت پر مد عو كیا فر ش سجایا اور قیمتى گا ئو تكئے لگا دیئے وہ آبیٹھیں  تو ہر ایك كے ہاتھ میں  پھل كا ٹنے كے لئے چھرى تھمادی”۔ ( سورہ یوسف 31)(یہ چھر یا ں  پھل كا ٹنے كى ضرورت سے زیادہ تیز تھیں  )
یہ كا م خود اس امر كى دلیل ہے كہ وہ اپنے شوہر كى پرواہ نہ كر تى تھى اور گزشتہ رسوائی سے اس نے كوئی سبق نہ سیكھا تھا ۔
اس كے بعد اس نے یوسف كو حكم دیا كہ” اس مجلس میں  داخل ہو تا”۔
( سورہ یوسف 31)
كہ تنقید كرنے والى عورتیں  اس كے حسن وجمال كو دیكھ كر اسے اس كے عشق پر ملامت نہ كریں ”۔
( سورہ یوسف 31)
زوجہ عزیز نے حضرت یوسف كو كہیں  باہر نہیں  بٹھا ركھا تھا بلكہ اندر كے كسى كمرے میں  كہ غالبا جہاں  غذا اور پھل ركھا گیا تھا مشغول ركھا تھا تا كہ وہ محفل میں  داخل ہو نے والے درواز ے سے نہ آئیں  بلكہ با لكل غیر متو قع طور پر اور اچا نك آئیں  ۔  
مصر كى عورتوں  نے اپنے ہاتھ كا ٹ لئے
زنان مصر جو بعض روایات كے مطا بق دس یا اس سے زیادہ تھیں  جب انہوں  نے زیبا قا مت اور نورانى چہرہ دیكھا اور ان كى نظر یوسف كے دلربا چہر ے پر پڑى تو انہیں  یوں  لگا جیسے اس محل میں  آفتاب اچا نك بادلوں  كى اوٹ سے نكل آیا ہے اور آنكھو ں كو خیر ہ كر رہا ہے۔
وہ اس قدر حیران اور دم بخود ہوئیں  كہ انھیں  ہاتھ اور پائو ں  میں  اور ہاتھ اور تر نج بین میں  فرق بھول گئیں انہوں  نے یوسف كو دیكھتے ہى كہا یہ تو غیر معمولى ہے، وہ خود سے قدر بے خود ہوئیں  كہ
( ترنج بین كى بجائے ) اپنے ہاتھ كا ٹ لئے اور جب انہوں  نے دیكھا كہ ان كى دلكش آنكھوں  میں  تو عفت وحیا كا نورضو فشاں  ہے اور ان كے معصوم رخسار شر م وحیا سے گلگوں  ہیں  تو ”سب پكار اٹھیں  كہ نہیں  یہ جوان ہر گز گناہ سے آلودہ نہیں  ہے یہ تو كوئی بزرگوارآسمانى فرشتہ ہے” (سورہ یوسف 31)( اس بارے میں  كہ زنان مصر نے اس وقت اپنے ہاتھوں  كى كتنى مقدار كاٹى تھى ،مفسرین كے درمیان اختلاف ہے بعض نے یہ بات مبالغہ امیز طورپر نقل كى ہے لیكن قران سے اجمالاً یہى معلوم ہوتا ہے كہ انھوں  نے ہاتھ كاٹ لئے تھے)
تو پھر یوسف سے عشق میں  مجھے كیوں  ملامت كرتى ہو ؟
اس وقت مصر كى عورتیں  پورى بازى ہار چكى تھیں  ان كے زخمى ہا تھوں  سے خون بہہ رہا تھا پر یشا نى كے عالم میں  وہ بے روح مجسمے كى طرح اپنى جگہ چپكى سى بیٹھى تھیں  ان كى حالت كہہ رہى تھى كہ وہ بھى نے زوجہ عزیزسے كچھ كم نہیں ہیں ، كیا اس نے اس مو قع كو غنیمت سمجھا اور كہا :” یہ ہے وہ شخص جس كے عشق پر تم مجھے طعنے دیتى تھیں  ” (سورہ یوسف آیت 32)
گو یا زوجہ عزیز چاہتى تھى كہ ان سے كہے كہ تم نے تو یوسف كو ایك مر تبہ دیكھا ہے اور یوں  اپنے ہوش وحواس گنوا بیٹھى ہو تو پھر مجھے كیو نكر ملا مت كرتى ہو جبكہ میں  صبح وشام اس كے سا تھ اٹھتى بیٹھى ہوں  ،زوجہ عزیز نے جو منصو بہ بنایا تھا اس میں  اپنى كا میابى پر وہ بہت مغرور اور پورى صراحت كے سا تھ اپنے گناہ كا اعترف كیا اور كہا : جى ہاں  : ”میں  نے اسے اپنى آرزو پورا كرنے كے لئے دعوت دى تھى لیكن یہ بچا رہا۔ ”
(سورہ یوسف آیت 32)
اس كے بعد بجائے اس كے كہ اپنے گناہ پر اظہا ر ندامت كر تى یا كم از كم مہمانو ں  كے سا منے كچھ پردہ پڑا رہنے دیتى اس نے بڑى بے اعتنائی اور سخت انداز میں  كہ جس سے اس كا قطعى ارا دہ ظاہر ہو تا تھا ، صراحت كے سا تھ اعلان كیا :” اگر اس
(یوسف ) نے میرا حكم نہ ما نا اور میرے عشق سوزاں  كے سامنے سر نہ جھكا یا تو یقینا اسے قید میں  جانا پڑے گا ”(سورہ یوسف آیت 32) ”نہ صر ف یہ كہ میں  اسے زندان میں  ڈال دوں  گى بلكہ قید خا نے كے اندر بھى ذلیل و خوار ہو گا۔ ”(سورہ یوسف آیت 32) فطرى امر ہے كہ جب عزیز مصر نے اس واضح خیانت پر اپنى زوجہ سے فقط یہى كہنے پر قنا عت كى كہ” اپنے گناہ پر استغفار كر” تو اس كى بیوى رسوائی كى اس منزل تك آپہنچى اصولى طور پر جیسا كہ ہم نے كہا ہے مصر كے فرعون اور عزیزوں  كے در بار میں  ایسے مسائل كو ئی نئی بات نہ تھى ۔
اے یوسف علیہ السلام  قبول كر لو
بعض نے تو اس مو قع پر ایك تعجب انگیز رو آیت نقل كى ہے وہ یہ كہ چند زنان مصر جو اس دعوت میں  مو جود تھیں  وہ زوجہ عزیز كى حم آیت میں  اٹھ كھڑى ہو ئیں  اور اسے حق بجا نب قراردیا وہ یوسف كے گرد جمع ہو گئیں  اور ہر ایك نے یوسف كو رغبت دلانے كے لئے مختلف بات كى ۔
ایك نے كہا : اے جوان : یہ اپنے آپ كو بچا نا ، یہ نا زو نخرے آخر كس لئے ؟ كیوں  اس عاشق دلدادہ پر رحم نہیں  كرتے ؟ اس خیرہ كن جمال دل آرا كو نہیں  دیكھتے ؟ كیا تمہارے سینے میں  دل نہیں  ہے ؟ كیا تم جوان نہیں  ہو ؟ كیا تمہیں عشق وزیبا ئی سے كو ئی رغیبت نہیں  اور كیا تم پتھر اور لكڑى كے بنے ہوئے ہو ۔
دوسرى نے كہا : میں  حیران ہوں  چونكہ حسن وعشق كى وجہ سے میرى سمجھ میں كچھ نہیں  آتا لیكن كیا تم سمجھتے نہیں  ہو كہ وہ عزیز مصر اور اس ملك كے صاحب اقتدا ر كى بیوى ہے ؟ كیا تم یہ نہیں  سو چتے كہ اس كا دل تمہارے ہا تھ میں  ہو تو یہ سارى حكومت تمہارے قبضے میں ہو گى اور تم جو مقام چا ہو تمہیں  مل جائے گا ؟
تیسرى نے كہا : میں  حیر ان ہوں  كہ نہ تم اس كے جمال زیبا كى طرف مائل ہو اور نہ اس كے مقام ومال كى طرف لیكن كیا تم یہ بھى نہیں  جا نتے كہ وہ ایك خطر ناك انتقام جو عورت ہے اور انتقام لینے كى طاقت بھى پورى طرح اس كے ہاتھ میں  ہے ؟ كیا تمہیں  اس كے وحشتنا ك اور تاریك زندان كا كو ئی خوف نہیں  ؟ كیا تم اس قید تنہا ئی كے عالم غربت وبیچا ر گى كے بارے میں  غور وفكر نہیں  كرتے ؟
زندان كى تمنا
ایك طرف عزیز كى دھمكى اور ان آلودہ گناہ عور توں  كا وسوسہ تھا كہ جو اس وقت دلالى كا كھیل كھیل رہیں  تھیں  اور دوسرى طرف یوسف كے لئے ایك شدید بحرانى لمحہ تھا ،ہر طرف سے مشكلات كے طوفان نے انہیں  گھیر ركھا تھا لیكن وہ تو پہلے سے اپنے آپ كو اسلحہ سے آراستہ كئے ہو ئے تھے نور ایمان ‘ پاكیز گى اور تقوى نے ان كى روح میں  ایك خاص اطمینان پیدا كر ركھا تھا وہ بڑى شجاعت اور عزم سے اپنے موقف پر اڑے رہے بغیر اس كے كہ وہ ان ہوس باز اور ہو س ران عورتوں  سے باتوں  میں  الجھتے ،انہوں  نے پرور گار كى بارگاہ كا رخ كیا اور اس طرح سے ان دعا كرنے لگے : بارالہا پر ور دگار : ”جس كى طرف یہ عورتیں  مجھے دعوت دیتى ہیں  اس كى نسبت قید خانہ اپنى تمام تر سختیوں  كے باوجود مجھے زیادہ محب ہے” ۔ ( سورہ یوسف آیت 33)
اس كے بعد چو نكہ وہ جانتے تھے كہ تمام حالات میں  خصوصاً مشكلات میں  لطف الہى كے سوا كو ئی راہ نجات نہیں  كہ جس پر بھر وسہ كیا جائے ، انہوں  نے اپنے آپ كو خدا كے سپر د كیا اور اس سے مدد ما نگى اور پكارے: پر ور دگارا :”اگر تو مجھے ان عور توں  كے مكر اور خطر ناك منصوبوں  سے نہ بچا ئے تو میرا دل ان كى طرف مائل ہو جائے گا اور میں  جاہلوں  میں  سے ہو جائوں ”
(سورہ یوسف آیت 33)
خدا وندا : میں  تیرے فرمان كا احترام كرتے ہوئے اور اپنى پاكدامنى كى حفاظت كرتے ہو ئے اس وحشت ناك قید خا نے كا استقبال كرتا ہوں  وہ قید خانہ كہ جس میں  میرى روح آزاد ہے اور میرا دامن پاك ہے اس كے بدلے میں  اس ظاہر ى آزادى كوٹھوكر مارتا ہوں  كہ جس میں  میرى روح كو زندا ن ہو س نے قید كرركھا ہو اور جو میرے دامن كو آلودہ كرسكتى ہے ۔
خدا یا : میرى مدد فرما ، مجھے قوت بخش ،اور میرى عقل ،ایمان اور تقوى كى طاقت میں  اضافہ فر ماتا كہ میں  ان شیطانى وسو سوں  پر كا میا بى حاصل كروں  ۔
اور چو نكہ خداوندعالم كا ہمیشہ سے وعدہ ہے كہ وہ مخلص مجاہد ین كى ( چاہے وہ نفس كے خلاف برسر پیكا ر ہوں  یا ظاہرى دشمن كے خلاف ) مدد كرے گا ، اس نے یوسف كو اس عالم میں  تنہا نہ چھوڑا حق تعالى كا لطف وكرم اس كى مدد كو آگے بڑھا، جیسا كہ قرآن كہتا ہے:” اس كے پروردگا ر نے اس كى اس مخلصا نہ دعا كو قبول كیا، ان كے مكر اور سازشوں  كو پلٹا دیا،كیو نكہ وہ سننے اور جاننے والا ہے۔ ”
(سورہ یوسف 34)
وہ بندوں  كى دعا بھى سنتا ہے اور ان كے اندر ونى اسرار سے بھى آگاہ ہے اور انہیں  مشكلات سے بچا نے كى راہ سے بھى واقف ہے ۔  
جاری ہے
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: