8مارچ خواتین کا 100واں عالمی دن

آج آٹھ مارچ کو جب عورتوں کا عالمی دن منایا جارہا ہے ۔ اس سال یعنی2011 ء میں اس سلسلے کا 100واں سال منایا جا رہا ہے ۔ ایسے بہت سارے محنت کش خواتین پر جنسی بنیاد پر ظلم و جبر کے سلسلے جاری ہیں جس کی مختلف شکلیں آج پوری دنیا میں موجودہ ہیں۔ آج دنیا کی آدھی سے زیادہ آبادی خواتین کی ہے جہاں آج موجودہ عالمی نظام میں پسماندگی خواتین پربھیانک استحصال کی وجہ ہے وہاں ترقی یافتہ ممالک میں یہی استحصال دوسری شکلوں میں جاری ہے۔

;

خواتین کا عالمی دن بھی محنت کش عورتوں کی جدوجہد کی یاد کو تازہ کرتا ہے اور موجودہ عالمی مالیاتی نظام کے خلاف جو طبقاتی استحصال کے ساتھ وحشی جنسی استحصال کی بنیاد ہے کے خلاف لڑنے کا نیا عزم اور جرات پیدا کرکے انقلابی تحریک کو تیز کرنے کا عہد ہے۔ آج سے سو سال قبل نیو یارک میں کپڑا بنانے والی ایک فیکٹری میں مسلسل دس گھنٹے کام کرنے والی خواتین نے اپنے کام کے اوقات کار میں کمی اور اجرت میں اضافے کے لیے آواز اٹھائی تو ان پر پولیس نے نہ صرف لاٹھی جارج اور وحشیانہ تشدد کیا بلکہ ان خواتین کو گھوڑوں سے بندھ کر سڑکوں پرگھسیٹا گیااس کے بعد اٹھارہ سو اسی میں خواتین نے ووٹ کا حق مانگااور جبری مشقت کے خلاف تحریک چلی جس پر ریاست نے بے انتہا تشدد کیا۔ خواتین کی جرات مند مسلسل جدوجہد اور لازوال بے شمار قربانیوں کانتیجہ تھا کہ انیس سو دس میں کوپن ہیگن میں خواتین کی پہلی عالمی کانفرنس منعقد ہوئی جس میں ستارہ سے زائد ممالک کی سو سے زائد خواتین نے شرکت کی جس میں عورتوں پر ہونے والے ظلم واستحصال کا عالمی دن منانے کا فیصلہ کیا گیا۔
پہلی عالمی جنگ میں بیس لاکھ روسی فوجیوں کی ہلاکت پرخواتین نے ہڑتال کی تب سے یہ دن ترقی یافتہ اور ترقی پذیر ممالک میں عالمی حثیت اختیار کرگیاانیس سو چھپن میں سیاہ فارم مزدوروں پر پابندی کے خلاف بیس ہزار خواتین نے مظاہرے کئے تب آٹھ مارچ کواقوام متحدہ عورتوں کا عالمی دن منانے پر مجبور ہوگئی لیکن اس کے باوجودجنسی بنیاد پرہونے والے ظلم میں مسلسل اضافہ ہورہا ہے۔ دنیا کی ہر تیسری اورجنوبی ایشا کی ہر دوسری عورت آج تشدد کاشکار ہیں ۔ امریکہ میں ہر چھ منٹ کے بعدایک عورت زیاتی کا نشانہ بنتی ہے۔ پاکستان میں ہر سال ایک ہزار عورتیں غیرت کے نام پر قتل کی جاتیں ہیں۔
بھارت میں ہر چھ گھنٹے کے بعد ایک شادی شدہ عورت کو زندہ جلایا جاتا ہے۔ انڈیا میں ہی ہر روز سات ہزار بچیاں پیدائش سے پہلے مار دی جاتیں ہیں۔ یورپ میں چودہ سال سے چوالیس سال تک کی خواتین کا اپائج پن یا وفات کی وجہ گھریوں تشدد ہے۔ جنوبی ایشا میں ساٹھ فیصد سے زیادہ عورتیں گھریوں تشدد کا شکار ہیں اور اسی خطے سے سالانہ ڈیڑھ لاکھ لڑکیاں سمگل کی جاتی ہیں۔ دنیا میں سالانہ پانچ سال سے پندرہ سال تک کی بیس لاکھ بچیوں کو جنسی کاروبار کے لیے سمگل کیا جاتا ہے۔ پاکستان میں ہر دو گھنٹے کے بعد ایک زنا بلجبر کا واقعہ ہوتا ہے پاکستان میں چھپن لاکھ سے زیادہ خواتین جبری مشقت پر مجبور ہیںاور اسی فیصد کسی نہ کسی طرح گھریوں تشدد کا شکار ہیں جبکہ یہ آبادی کا باون فیصد حصہ ہیں۔ دنیا کی اسی فیصد سے زیادہ خواتین کسی کسی گھریوں تشدد کا شکار ہیں ایک عالمی رپورٹ کے مطابق ہرسال چھ لاکھ افراد اغوا ہوتے ہیں جن میں اسی فیصد عورتیں اور بچیاں ہیںجن کو عالمی منڈی میں کسی دوسری جنس کی طرح خریدہ اور فروخت کیا جاتا ہے۔ ان انسانوں کی تجارت سے آج ہر سال بارہ بلین ڈالر سے زیادہ کا منافع کمایا جاتا ہے۔ سالانہ پانچ لاکھ عورتیں حمل اور زچگی کے دوران مر جاتی ہیں۔
لڑکے کی پیدائش جہاں خوشی مسرت کا باعث ہے وہاں لڑکی کا پیدا ہونا آج بدشگونی دکھ درد اور افسوس کا سبب ہے کیونکہ آج کے تمام رشتے روپے پیسے اور سرمایے کے ہیں ۔ عورت کی آزدی کا نہ تو ملا قائل ہے اور نہ ہی جاگیر دار سرمایہ دار اور نہ ہی سامراج کیونکہ جس طرح ملائیت عورت کو چادر چاردیوری میں محصور کر کے زمانہ غلامی کو دوبارہ لانا چاہتی ہے اسی طرح سرمایہ داری کی جدیدیت عورت کو بازار میں لے آئی ہے یا پھر فحاشی کی بہودگی کو ماڈرن لائزیشن کا نام دیتی ہے جبکہ یہ ایک ہی تصویر کے دو رخ ہیں جن کا قطعی عورت کی آزادی سے کوئی تعلق نہیں ہے بلکہ یہ تو غلامی کی ہی دو مختلف شکلیں ہیں ایک جاگیر داری اور دوسری سرمایہ کی ۔ حقیقی آزدای کا تعلق مساوی سماجی حقوق ہیں جس میں عورت کو مردوں کی برابر سیاسی معاشی اور سماجی حقوق کسی تضاد اور شرائط کے بغیر مکمل حاصل ہوں جسکی ضمانت ریاست اور معاشرہ دے۔ آج تو انسان آزاد نہیں محنت کش عوام سرمایے کے غلبے تلے دم توڑ رہی ہے اور ان موجودہ حالات میں عورت کی آزادی ایک جعل سازی ہے دھوکہ اور فراڈ ہے۔ پاکستان جیسے ترقی پذیر ملک میں عورت کی آزدی کو ملا پہلے والد اور بھائیوں اور پھر شوہر کے گھونٹے سے بندھ کر اور اس پر تمبو(پرانے زمانے کا برقع جو اب بھی افغانستان میں عورتیں لیتی ہیں)اوڑھ کراسلام کا نعرہ لگاتا ہے یا پھر بوژوااور مڈل کلاس کی خواتین تنگ اور باریک کپڑے پہن کر جسم کی نمائش کو آزدی اور ماڈرن کہتی ہیں یہ دونوں ماسوائے بے ہودگی اور احساس کمتری کے کچھ نہیں ہے۔
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: