عبدالماجد دریا بادی (آخری حصہ)

گزشتہ سے پیوستہ 

عبد الماجدکی صحت ہمیشہ سے ہی ناز رہی تھی 11یا12سال کی عمر میں ان پر ملیریا کا حملہ ہوا تھا عام سی بیماری تھی مگر ٹھیک ہوگئی مگر اگلے ہی سال پھر حملہ ہوا تو تشویش ہوئی یہاں تک کہ 18سے19سال تک سالانہ حملوں کے شکار ہوتے رہے۔پھر نزلہ وزکام کے بھی دائمی مرض میں مبتلا تھے۔جب حیدر آباد میں قیام پزیر تھے تب اپنڈکس کا بھی شکار ہوئے۔ایک خاذق حکیم سے ملاقات ہوئی تو بنا آپریشن نکلیف سے نجات ملی۔ان ملیریا کے سالانہ حملوں اور مسلسل نزلے کے باعث بینائی متاثر ہوئی۔نوجوانی میں کچھ خیال نہ کیا لیٹ کر اور کم روشنی میں پڑھا کرتے تھے،نتیجہ یہ ہوا کہ 37سال کی عمر میں رات کا مطالعہ چھوڑدینا پڑا۔40سال کی عمر میں صحت انتہائی خراب ہو چکی تھی۔مرض قلب میں مبتلا تھے۔ علاج جاری تھاپر افاقہ نہ آرہا تھا کسی کے مشورے پر صبح کی سیر کو معمول بنا لیا تھا اس ہوا خوری سے اچھے اثرات مرتب ہوئے۔اور صحت سنبھلنے لگی۔مگر پھر بھی جب بھی سردیاں آتیں بیمار ضرور پڑتے اور ہفتوں مبتلا رہتے،مگر جوں جوں بڑھاپا آتا جارہا تھا قوت مدافعت جواب دیتی ہی جا رہی تھی بیماری ہفتوں سے مہینوں پر پھیلنا شروع ہو گئی ۔اس پر سے یہ احساس کے عمر کم رہ گئی ہے مزید کام شروع کر دیا کہ جو کرنا ہے جلد کر لو نجانے کب رخصت ہوجانا پڑے۔80سال پار کرنے کے بعد قوت ارادی بھی جواب دے گئی۔یہاں تک کہ اخبار میں چاہنے والوں نے خبر بھی لگا ڈالی کہ "مولانا دریا بادی نے صحافتی قلم رکھ دیا۔”پر کسے معلوم تھا کہ تیاری کسی اور طرف کی ہو رہی ہے۔
14جنوری1974؁ کو مغرب کی نماز کے بعد رہا سہا فالج کا حملہ بھی ہو گیا،اثر دائیں جانب ہواہفتہ ڈیڑھ ہفتہ ڈاکٹری علاج کے بعد لکھنؤ میں ہومیوپیتھی کا شروع ہوا تو مرض جہا ں تھا وہیں رک گیا۔افاقہ ملتے ہی ایک مختصر سانوٹ لکھ اخبار میں بھیج دیا ۔کہ پڑھنے والوں کو ان کے بارے میں آگاہی ہو سکے ۔لاکھوں صفحات لکھنے والے کو یہ چھوٹا رقعہ بھی لکھنے کے لئے ایسا لگا کہ گویا ایک پہاڑ ساکاٹ رہے ہوں۔اخبارات میں بار بار ان کی صحت کی خبریں دیکھ کر حکومت کو بھی ہوش آگیا،ریاستی گورنر خود عیادت کو آئے۔پھر تو حکومتی عہدےداران کا تانتا بندھ سا گیا۔صحت تو سنبھل گئی تھی پر حافظہ جاتا رہا تھا۔کھڑے ہو کر نماز پڑھنے کے قابل نہ رہے تھے۔ان کا لکھا ہواپڑھنا دشوار ہو جاتا تھا۔بولنے میں لکنت آگئی تھی کہ سمجھنا دشوار تھا۔اس پر بھی اللہ کا شکر تھا۔ایک سال جسم کو گھسیٹے رہے ۔بصارت انتہائی کمزور ہو گئی تھی ایک انگریز ڈاکٹر سے کامیاب آپریشن بھی کرولیا مگر قریب کی نگاہ عینک لگانے کے باوجود لکھنے پڑھنے سے معذور تھی۔ان دنوں قیام لکھنؤ میں تھا مسلم یونیورسٹی کے کانووکیشن کے لئے انہیں علیگڑھ بلوایا گیا ۔صحت آنے جانے کے قابل نہ تھی پر احباب کے مجبور کرنے پر اپنے بھتیجے کے ساتھ یورنیورسٹی پہنچے جہاں انہیں ڈاکٹر آف لٹریچر پر اعزازی ڈگری دی گئی۔
رمضان آئے تو دریا باد چلے آئے۔پورا رمضان تراویح میں انتہائی ضعف کے باوجود قرآن مکمل سنا۔اکتوبر کی ایک رات آگئی۔کسی کام سے بستر سے اٹھے تو ٹھوکر لگ گئی پوری رات تکلیف میں گزاردی۔صبح ڈاکٹر نے معائنہ کیا تو علم ہواکہ کولہے کی ہڈی توٹ گئی ہے۔ہڈی جوڑ پاسٹر چڑھا دیا گیا۔چلنے پھرنے سے بھی معذور ہو گئے۔ایک چوبی تخت تھا جس پر لیٹے رہا کرتے تھے،داہنی کروٹ پر لیٹ نہ سکتے تھے پاسٹر جو چڑھا تھا۔لکھنے پڑھنے کا سوال پیدا نہ ہوتا تھا کہ آنکھیں اب اس قابل ہی نہ تھیں۔سب کو یقین آگیا تھا کہ اب عبد الماجد کا وقت رخصت قریب ہےخود عبد الماجدبھی ہر ایک سے اپنی مغفرت کے لئے دعا کا کہتے تھے۔لڑکیوں کو اپنے پا س بلا لیا تھا کہ جب تک جیتے ہیں انہیں دیکھتے رہیں۔ایک دن لڑکیوں کو پاس بلا کر اپنی کتابوں کی تقسیم بھی کر وادی کہ انگریزی کی کتابیں ندوہ کے دارالمطالعے کو اور اردو،عربی اور فارسی کی کتب مسلم یورنیورسٹی کو دے دی ہیں۔یہ جملہ کہتے ہوئے ان کی آنکھوں میں آنسو بھی آگئے ۔منجھلی بیٹی نے عرض کیا کہ ہمیں علم ہے کس طرح آپ نے انہیں جمع کیا ہے اور اب تقسیم کر رہے ہیں،کتابیں ہمارے پاس اپنی نشانی کے طور پر ہی رہنے دیں۔جواب میں عبدالماجد نے کہا "اچھا یاد دلایا ایسے ہی جمع نہیں ہو گئیں تھیں کتابیں ،ناشتے میں انڈہ بہت پسند تھا لیکن میں نے ابلے آلو انڈے سمجھ کے کھانا شروع کر دئے پیسے جوڑے اور کتابیں خریدیں،کتابوں میں حالی ہیں،شبلی بھی ہیں دل ان سے جدائی کا نہیں چاہتا لیکن تم لوگ اپنے گھروں کی ہو ۔کل چلو جاؤ گی کتب خانے کی حفاظت کون کرے گا ؟بیٹا ہوتا تو اور بات تھی۔
پہلی بار اپنی اولاد نرینہ کی کمی کا بہت احساس ہوا اور اس کا اظہار بھی کیا،یقیناً وہ2 بیٹے ضرور یاد آئے ہوں گے جو عالم شیر خوارگی ہی میں داغ مفارقت دے گئے تھے۔ان کی 4بیٹیاں تھیں (رافت النساء، حمیرا کاتون، زہیرا خاتون اور زاہدہ خاتون)آخر کار وہ دن بھی آگیا جب علی گڑھ سے ٹرک کتابیں لینے ان کے دروازے پر کھڑا تھا اور وہ بے بسی سے اسے لادتے دیکھ رہے تھے۔بیٹی سے اظہار کیا کہ ایسا لگ رہا ہے ایک اور بیٹی کو رخصت کر رہا ہوں۔ان دنوں قیام لکھنؤ میں خاتون منزل پر تھا ۔دسمبر کا مہینے کا آخر تھا کہ نیا حملہ فالج کا ہو گیا ۔احباب ملنے آتے رہے سرہانے بیٹھتے اور چلے جاتے ،عبدالماجد کچھ بھی بولنے سے قاصر تھے ،آنکھوں میں آنسو آجاتےتھے۔حواس قائم نہ رہے تھے،بار بار غفلت طاری ہو جاتی تھی لیکن اس عالم میں بھی بار بار ہاتھ کان تک اٹھاتے اور اس کے بعد نیچے لا کر نماز کے انداز میں باندھ لیتے تھے۔
ایک روز اپنی منجھلی بیٹی کو بلا کر کہنے لگے کہ
"وہ جو آتا ہے ف۔۔۔”
بیٹی نے جملہ مکمل کیا کہ”فرشتہ؟”
بولے ۔”ہاں”اور داہنی جانب اشارہ کیا اور کہا "آگیا ہے۔”
اس واقعے کے4دن بعد ہی 6جنوری1977؁صبح ساڑھے4بجےخاتون منزل (لکھنؤ)میں عبدالماجد دریابادی خالق حقیقی سےجا ملے۔
نماز جنازہ ، وصیت کے مطابق  نماز ظہر کے بعد ندوۃالعماء کے میدان میں مولانا ابو الحسن ندوی نے پڑھائی۔اس کے بعد جسد خاکی کو دریا باد لے جایا گیا وہاں بھی نماز جنازہ ادا کی گئی۔ان کے مکان سے متصل ایک آبائی بزرگ حضرت آب کش کا مزار تھا اس کے قریب ہی آپ کی تدفین ہوئی۔
عالم دیں ،مفسر قرآن
مرد حق محرم رموز حیات
اپنے خالق سے جا ملا آخر
چھوڑ کر یہ جہان مکروہات
ہے کم و بیش یہی تاریخ
پاک دل ، پاک ذات، پاک صفات
1397 ھ =1775-378
پھر وہی ہوا کہ جو عظیم لوگوں کی وفات کے بعد ہوا کرتا ہے۔مجلس شوریٰ دارالعلم دیو بند، بزم اردو اور محمد علی اکادمی مدینہ ،اخبار رہنمائے دکن اور متعدد دیگر اداروں نے تعزیتی قرار دادیں پاس کیں
تصانیف:
(تنقیدات)
 اقبالیات ماجد، اکبر نامہ، انشائے ماجد، مضامین ماجد، مقالات ماجد،نشریات ماجد۔
(قرآنیات و متعلقات)
ارض القران، اعلام القران، بشریت انبیاء، تصوف اسلام، تفسیر ماجدی، تمدن اسلام کی کہانی، جدید قصص الانبیاء کے چند ابواب، خطبات ماجد، سچی باتیں، سلطان ما محمدﷺ، سیرن النبوی ﷺ قرآنی، قتل مسیح سے یہودیت کی بریت، مسائل و قصص، مردوں کی مسیحائی، مشکلات القرآن، ندوۃ العلما کا پیام ،یتیم کا راج۔
(آپ بیتی و سوانح)
آپ بیتی(ماجد)، اردو کا ادیب اعظم، چند سونحی تحریریں، حکیم الامت ، نقش و تاثرات، محمد علی ذاتی ڈائری کے چند ورق،(جلد اول و دوم)محمود غزنوی معاصرین،دفیات ماجدی۔
(فلسفہ و نفسیات)
غذائے انسانی،فلسفہ اجتماع، فلسفہ جذبات، فلسفیانہ مضامین، مبادی فلسفہ، ہم آپ۔
(تراجم)
پیام امن، تاریخ اخلاق یورپ، تاریخ تمدن ، مکالمات برکلے، مناجات مقبول، ناموران سائنس۔
(سفر نامے)
تاثرات دکن، ڈھائی ہفتہ پاکستان میں ، سفر حجاز، سیاحت ماجدی۔
(انگریزی)
دی سائیکلوجی آف لیڈر شپ، قرآن حکیم(انگریزی ترجمہ و تفسیر)، ہولی قرآن ود انگلش ٹرانسلیشن
ماخذ:
اس مضمون کی تیاری میں واقعات کے ماخذ درجہ ذیل ہیں۔
1-جناب ڈاکٹر تحسین فراقی کی تصنیف "عبد الماجد دریا بادی ،احوال و آثار

ختم شد
Advertisements
3 comments
  1. اللہ تعالیٰ ہمارے اسلاف کو جوارِ رحمت میں جگہ دے اور ہمیں اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع کی توفیق دے۔
    مجھے ایسا محسوس ہوتاہے کہ علما دین کی وجہ سے ہی پاکستان کی سرزمین اس وقت تک کافی حد تک حیا دار ہے وہ الگ بات ہے کہ وقت کے ساتھ ساتھ بے حیائی کا بازار گرم ہوتا جارہاہے لیکن پھر بھی علما دین کا کردار قابلِ ذکر ہے۔
    ثاقب شاہ
    colourislam.blogspot.com

  2. میری عقل چھوٹی سی ہے بڑی باتیں کُجا چھوٹی باتیں بھی گھُس نہیں پاتیں ۔ اب یہ بات نہیں گھس رہی میری عقل میں کہ کولہے کی ہڈی توٹ گئی تو پاسٹر کیوں اور کیسے چڑھا دیا گیا ؟

    • http://www.archive.org/stream/AapBeetiByShaykhAbdulMajidDaryabadir.a#page/n0/mode/1up
      میں نہ تو ڈاکٹر ہوں نہ ہی جس کا علم ہو اس پر تنقید کر سکتی ہوں
      سمجھ میری بھی کام نہیں کررہی پر جو کر سکتا ہے اور ہوا ہے وہ درجہ بالا لنک میں ہے
      مذکورہ کتاب کے صفحہ نمبر 392 پر
      سطر نمبر 6 پر

      عقل واقعی چھوٹی چیز ہے پر کام بڑے کر جاتی ہے

      تحریر کو مکمل صورت مین کرنا باقی ہے

      پوری تحریر کیسی لگی ؟
      مزید کچھ تحریر کروں ایسے ہی کہ 1 ہی کافی ہے؟

      کیوں کہ دوسری جلد ہی شروع کرنے والی ہوں
      سوچا پہلے پوچھ لوں؟

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: