حضرت یوسف علیہ السلام اور یعقوب علیہ السلام (حصہ ششم)

گزشتہ سے پیوستہ
سر زمین مصر كى جانب
یوسف علیہ السلام  نے كنویں  كى وحشت ناك تاریكى اور ہو لناك تنہائی میں  بہت تلخ گھڑ یاں  گزاریں  لیكن خداپر ایمان اور ایمان كے زیر سایہ ایك اطمینان نے ان كے دل میں  نورامید كى كرنیں  روشن كردیں  تھیں  اور انہیں  ایك توانائی بخشى تا كہ وہ اس ہو لناك تنہا ئی كو برداشت كریں  اور آزمائش  كى اس بھٹى سے كا میابى كے ساتھ نكل آئیں  ،اس حالت میں  وہ كتنے دن رہے ،یہ خدا جانتا ہے بعض مفسرین نے تین دن لكھے ہیں  اور بعض نے دو دن ،بہر حال ”ایك قافلہ آپہنچا ”(سورہ یوسف آیت 19)
اور اس قافلے نے وہیں  نزدیك ہى پڑا ئوڈالا ،واضح ہے كہ قافلے كى پہلى ضرورت یہى ہو تى ہے كہ
ایك رو آیت میں  ہے كہ آپ نے خدا سے یوں  مناجات كى :
بارالہا : اے وہ جو غریب ومسافركا مو نس ہے اور تنہا ئی كا ساتھى ہے اے وہ جو ہر خائف كى پناہ گا ہ ہے ہر غم كو بر طرف كرنے والا ہے ، ہر فریاد سے آگاہ ہے ، ہر شكا یت كر نے والے كى آخرى امید ہے اور ہر مجمع میں  مو جود ہے اے حى : اے قیوم : اے زندہ : اے سارى كا ئنا ت كے حافظ و نگہبان میں  تجھ سے چا ہتا ہوں  كہ اپنى امید میرے دل میں  ڈ ال دے تا كہ تیرے علاوہ كو ئی فكر نہ ركھوں  اور تجھ سے چاہتا ہوں  كہ میرے لئے اس عظیم مشكل سے راہ نجات پیدا كردے كہ تو ہر چیز پر قادر ہے
یہ امر جاذب نظر ہے كہ اس حدیث كے ذیل میں  ہے كہ فرشتوں  نے حضرت یو سف كى آواز سنى تو عر ض كیا :
”الھنا نسمع صوتا ودعا ء ، الصوت صوت صبى والد عا ء دعا ء البتى ”
(پر وردگار : ہم آواز اور دعا سن رہے ہیں  آواز تو بچے كى ہے لیكن دعا نبى كى ہے ۔ )
ایك رو آیت میں  امام صادق رضی اللہ تعالٰی عنہ  سے منقول ہے كہ جناب جبرائیل  علیہ السلام  نے حضرت یوسف كو یہ دعا تعلیم كی:
پروردگارا : میں  تجھ سے دعا كرتا ہوں  ،اے وہ كہ حمد و تعریف تیر ے لئے ہے ، تیرے علاوہ كوئی معبود نہیں  ، تو ہے جو بندوں  كو نعمت بخشتا ہے ، آسمانوں  اور زمین كا پیدا كرنے والا ہے صاحب جلا ل واكرام ہے ، میں  درخواست كرتا ہوں  كہ محمد وآل محمد ﷺ پر در ود بھیج اور جس میں  میں  ہوں  اس سے مجھے كشا ئشے و نجات عطا فرما
لیكن كو ئی مانع نہیں  كہ حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ دونوں  دعائیں  كى ہوں  ۔
وہ پا نى حاصل كر ے اس لئے انہوں  نے پانى پر مامور شخص كو پانى كى تلاش میں  بھیجا ”۔
( سورہ یوسف آیت 19)
اس نے اپنا ڈول كنویں  كى تہ میں ڈالاجس سے جناب یوسف علیہ السلام  كنویں  كے اندرمتوجہ ہو ئے كہ كنو یں  كے اوپر سے كو ئی آواز آرہى ہے سا تھ ہى دیكھا كہ ڈول اور رسى تیزى سے نیچے آرہى ہے انہوں  نے مو قع غنیمت جا نا اور اس عطیئہ الہى سے فائدہ اٹھا یا اور فور اً اس سے لپٹ گئے بہشتى نے محسوس كیا كہ اس كاڈول اندازے سے زیادہ بھا رى ہے جب اس نے زور لگا كر اسے اوپر كھینچا تو اچا نك اس كى نظر ایك چاند سے بچے پر پڑى وہ چلایا : خو شخبرى ہو :” یہ تو پانى كے بجا ئے بچہ ہے” (سورہ یوسف آیت 19)
آہستہ آہستہ قافلے میں  سے چند لوگوں  كو اس بات كا پتہ چل گیا لیكن اس بنا ء پر كہ دوسروں  كو پتہ نہ چلے اور یہ خود ہى مصر میں  اس خوبصورت بچے كو ایك غلام كے طور پر بیچ دیں  ”اسے انہوں  نے ایك اچھا سرمایہ سمجھتے ہو ئے دوسروں  سے مخفى ركھا ”
(سورہ یوسف آیت 19)
جناب یوسف علیہ السلام  كو كم داموں  میں  بیچنا
”آخر كار انہوں  نے یو سف كو تھوڑى سى قیمت پر بیچ دیا ،اور وہ اس كے بیچنے كے سلسلے میں  بے رغبت تھے (تا كہ ان كا راز فاش نہ ہوں )”۔
(سورہ یوسف آیت 20)اگر چہ یوسف علیہ السلام  كو بیچنے والے كون لوگ تھے ،بعض لوگوں  نے ان كو برادران یوسف علیہ السلام  بتایا ہے، لیكن قران سے ایساظاہر ہوتا ہے كہ قافلہ والوں  نے یوسف  علیہ السلام  كو بیچا تھا ۔ ( یہاں  یہ سوال سامنے اتا ہے كہ انھوں  نے حضرت یوسف  علیہ السلام  كو تھوڑى سى قیمت پر كیوں  بیچ دیا،قران نے اے ”ثمن بخس”سے تعبیر كیا ہے كیونكہ حضرت یوسف  علیہ السلام  كم از كم ایك قیمتى غلام سمجھے جاسكتے تھے
لیكن یہ معمول كى بات ہے كہ ہمیشہ چوریا ایسے افرا دجن كے ہاتھ كوئی اہم سرمایہ بغیر كسى زحمت كے اجائے تو وہ اس خوف سے كہ كہیں  دوسروں  كو معلوم نہ ہو جائے اسے فوراً بیچ دیتے ہیں  اور یہ فطرى بات ہے كہ اس جلد بازى میں  وہ زیادہ قیمت حاصل نہیں  كر سكتے)

اس بارے میں  كہ انہوں  نے حضرت یوسف كو كتنے داموں  میں  بیچا اور پھر یہ رقم آپس میں  كس طرح تقسیم كى ، اس سلسلے میں  بھى مفسرین میں  اختلاف ہے بعض نے یہ رقم 20 /درہم ، بعض نے 22 /درہم ، بعض نے 40/ درہم اور بعض نے 18/ درہم لكھى ہے اور اس طرف تو جہ كرتے ہوئے كہ بیچنے والوں  كى تعداد دس بیان كى جاتى ہے ، اس نا چیز رقم میں  سے ہر ایك كا حصہ واضح ہو جا تا ہے ۔  
عزیز مصر كے محل میں
حضرت یوسف  علیہ السلام  كى داستان جب یہاں  تك پہنچى كہ بھا ئی انہیں  كنویں  میں  پھینك چكے تو بہر صورت بھا ئیوں  كے سا تھ والا مسئلہ ختم ہو گیا اب اس ننھے بچے كى زندگى كا ایك نیا مر حلہ مصر میں  شروع ہوا اس طرح سے كہ آخر كار یو سف مصر لائے گئے وہاں  انہیں  فروخت كے لئے پیش كیا گیا چو نكہ یہ ایك نفیس تحفہ تھا لہذا معمول كے مطابق ”عزیز مصر ” كو نصیب ہوا كہ جو درحقیقت فرعونوں  كى طرف سے وزیر اعظم تھا اور ایسے ہى لوگ ”تمام پہلوئوں  سے ممتا ز اس غلام ” كى زیادہ قیمت دے سكتے تھے، اب دیكھتے ہیں  كہ عزیز مصر كے گھر یوسف پر كیا گزر تى ہے ۔
قرآن كہتا ہے :” جس نے مصر میں  یو سف كو خریدا اس نے اپنى بیوى سے اس كى سفارش كى اور كہا كہ اس غلام كى منزلت كا احترام كرنا اور اسے غلاموں  والى نگاہ سے نہ دیكھنا كیو نكہ ہمیں  امید ہے كہ مستقبل میں  ہم اس غلام سے بہت فائدہ اٹھا ئیں  گے یا اسے فرزند كے طور پر اپنا لیں  گے۔ ”
(سورہ یوسف آیت 21)
اس جملے سے معلوم ہو تا ہے كہ عزیز مصر كى كو ئی اولاد نہ تھى اور وہ بیٹے كے شوق میں  زند گى بسر كر رہا تھا جب اس كى آنكھ اس خوبصورت اور آبرومند بچے پر پڑى تو اس كے دل میں  آیا كہ یہ اس كے بیٹے كے طور پر ہو ۔
اس كے بعد قرآن مجید كہتا ہے :”اس طرح اس سر زمین میں  ہم نے یوسف كو متمكن اور صا حب نعمت و اختیار كیا،ہم نے یہ كام كیا تا كہ ان كو تعبیر خواب كا علم عطا ہو۔ ”
(سورہ یوسف آیت 21)
جناب یوسف  علیہ السلام  كى پاكیز گى كا انعام
یہاں  پرایك سوال یہ پیدا ہو تا ہے كہ علم تعبیر خواب اور عز یز مصر كے محل میں  حضرت یو سف كى مو جود گى كا كیا ربط ہے كہ اسے كس طرف ”لنعلمہ” كى ”لام ”كہ جو لام غ آیت ہے كہ ذریعے اشارہ كیا گیا ہے ۔
لیكن اگر ہم اس نكتے كى طرف تو جہ دیں  تو ہو سكتا ہے مذكورہ سوال كا جواب واضح ہو جا ئے كہ خداوندعالم بہت سى علمى نعمتیں اورعنا یا ت; گناہ سے پر ہیز اور سر كش ہوا وہوس كے مقابلے میں  استقامت كى وجہ سے بخشتا ہے دوسرے لفظوں  میں  یہ نعمات كہ جو دل كى نورا نیت كا ثمر ہ ہیں  ، ایك انعام ہیں  كہ جو خدا اس قسم كے اشخاص كو بخشتا ہے ۔
”ابن سیرین” تعبیر خواب جاننے میں  بڑے مشہور ہیں  انكے حالات میں  لكھا ہے كہ وہ كپڑا بیچا كرتے تھے اور بہت ہى خوبصورت تھے ایك عورت انہیں  اپنا دل دے بیٹھى بڑے حیلے بہانے كر كے انہیں  اپنے گھر میں  لے گئی اور دروازے بند كر لئے ، لیكن انہوں  نے عورت كى ہوس كے سامنے سر تسلیم خم نہ كیا اور مسلسل اس عظیم گناہ كے مفا سد اس كے سا منے بیان كرتے رہے لیكن اس عورت كى ہو س كى آگ اس قدر سر كش تھى كہ وعظ و نصیحت كا پانى اسے نہیں  بجھا سكتا تھا ۔
”ابن سیرین” كو اس چنگل سے نجات پانے كے لئے ایك تد بیر سو جھى وہ اٹھے اور اپنے بدن كو اس گھر میں  مو جود گند ى چیزوں  سے اس طرح كثیف ،آلودہ اور نفرت انگیز كر لیا كہ جب عورت نے یہ منظر دیكھا توان سے متنفر ہو گئی اور انہیں  گھر سے باہر نكال دیا ۔
كہتے ہیں  اس واقعے كے بعد ابن سیر ین كو تعبیر خواب كے بارے میں  بہت فراست نصیب ہو ئی اور ان كى تعبیر سے متعلق كتابوں  میں  عجیب وغریب واقعات لكھے ہو ئے ہیں  كہ جو اس سلسلے میں  ان كى گہرى معلومات كى خبر دیتے ہیں  ۔ اس بنا ء پر ممكن ہے كہ یہ خا ص علم وآگاہى حضرت یو سف كو عزیز مصر كى بیوى كى انتہائی قوت جزب كے مقا بلے میں  نفس پر كنڑول ركھنے كى بنا ء پر حاصل ہو ئی ہو ۔
جى ہاں  : انہوں  نے بہت سى چیزیں  اس شور وغل كے ماحول میں  سیكھیں  ان كے دل میں  ہمیشہ غم واندوہ كا ایك طوفان مو جز ن ہو تا تھا كیو نكہ ان حالات میں  وہ كچھ نہیں  كر سكتے تھے ،اس دور میں  وہ مسلسل خود سازى اور تہذیب نفس میں  مشغول تھے ۔
قرآن كہتا ہے :” جب وہ بلوغ اور جسم وروح كے تكامل كے مرحلے میں  پہنچا اور انوار وحى قبول كرنے كے قابل ہو گیا ، تو ہم نے اسے حكم
(نبوت)اور علم دیا۔ ” (سورہ یوسف آیت 22 )
عزیز مصر كى بیوى كا عشق سوزاں
حضرت یوسف علیہ السلام  نے اپنے خو بصورت ، پر كشش اور ملكو تى چہرے سے نہ صرف عزیز مصر كو اپنى طرف جذب كرلیا بلكہ عزیز كى بیوى بھى بہت جلد آپ كى گرویدہ ہو گئی آ پ كا عشق اس كى روح كى گہرائیوں  میں  اتر گیا جو ں  جوں  وقت گزر تا گیا اس كے عشق كى حدت میں  اضافہ ہو تا چلا گیا لیكن یو سف كہ جو پاكیز ہ اور پرہیزگا ر انسا ن تھے انہیں  خدا كے علاوہ كسى كى كو ئی فكر اور سو چ نہ تھى ان كے دل نے عشق سو زاں  كو اور بھڑكا دیا
ایك تو اسے اولاد ہو نے كا ارمان تھا ،دوسرا اس كى رنگینیوں  سے بھر پور اشراف كى زند گى تھى ، تیسرا داخلى زندگى میں  اسے كو ئی پریشانى اور مسئلہ نہ تھا جیسا كہ اشراف اور نا زو نعمت میں  پلنے والوں  كى زندگى ہو تى ہے اور چوتھا در بار مصر میں  كسى قسم كى كو ئی پا بندى اور قدغن نہ تھى ان حالات میں  وہ عورت كہ جوایمان و تقوى سے بھى بے بہر ہ تھى شیطا نى وسوسوں  كى مو جوں  میں  غوطہ زن ہو گئی یہا ں  تك كہ اس نے ارادہ كر لیا كہ اپنے دل كا راز یوسف سے بیان كرے اور اپنے دل كى تمنا ان سے پورا كر نے كا تقاضا كرے ۔
اپنے مقصد كے حصول كى خاطر اس نے ہر ذر یعہ اور ہر طورطریقہ اختیار كیا اور بڑى خواہش كے ساتھ كو شش كى كہ ان كے دل كو متا ثر كرے جیسا كہ قرآن كہتا ہے :”جس عورت كے گھر یو سف تھے اس نے اپنى آرزو پو رى كرنے كے لئے پیہم ان سے تقاضا كیا ۔ ”
(سورہ یوسف آیت 23)
آخر كار جو آخرى راستہ اسے نظر آیایہ تھا كہ ایك دن انھیں  تنہا اپنى خلوت گاہ میں  پھنسالے اور ان كے جذبات ابھارنے كے لئے تمام وسائل سے كام لے جاذب تر ین لباس پہنے ، بہتر ین بنائوسنگھار كرے بہت مہك دارعطر لگا ئے اور اس طرح سے آرائش  وزیبائش  كرے كہ یو سف جیسے قوى انسان كو گھٹنے ٹیكنے پر مجبور كردے ۔
قرآن كہتا ہے :” اس نے سارے دروازوں  كو اچھى طرح بند كر لیا اور كہا آئو میں  تمہارے لئے حاضر ہوں ”
(سورہ یوسف آیت 23)
زلیخا نے ساتوں  دروازے بند كر دئے
اس نے تمام دروازے مضبوطى سے بند كئے اس سے ظاہر ہو تا ہے كہ وہ یو سف كو محل كى ایسى جگہ پرلے گئی كہ جہاں  كمرے بنے ہوئے تھے اور جیسا كہ بعض روایات میں  آیا ہے اس نے سات درواز ے بند كئے تا كہ یو سف كے لئے فرار كى كو ئی راہ باقى نہ رہے ۔
علاوہ ازیں  شاید وہ اس طرح حضرت یو سف كو سمجھا نا چاہتى تھى كہ وہ راز فاش ہو نے سے پریشان نہ ہوں  كیو نكہ ان بنددروازوں  كے ہو تے ہوئے كسى شخص كے بس میں  نہیں  كہ وہ اندرآسكے ۔
جب حضرت یو سف  علیہ السلام  نے دیكھا كہ تمام حالات لغزش وگناہ كى حما یت میں  ہیں  اور ان كے لئے كوئی راستہ باقى نہیں  رہ گیا تو انہوں  نے زلیخا كو بس یہ جواب دیا :”میں  خداسے پناہ ما نگتا ہوں ”۔  
(سورہ یوسف آیت 23)
اس طرح حضرت یو سف نے زوجہء عزیز كى خواہش كو قطعى وحتمى طور پر رد ّكردیا اور اسے سمجھایاكہ وہ ہر گز اس كے سامنے سر تسلیم خم نہیں  كر یں  گے آپ نے ضمناً اسے اور تمام افراد كو یہ حقیقت سمجھا دى كہ ایسے سخت اور بحرانى حالات میں  شیطا نى وسو سو ں  اور ان سے كہ جو شیطانى اخلاق وعادات ركھتے ہیں  نجات كیلئے ایك ہى راستہ ہے اور وہ یہ كہ خدا كى طرف پناہ لى جائے ،وہ خدا جس كے لئے خلوت اور بزم ایك سى ہے اور جس كے ارادے كے سامنے كوئی چیز نہیں  ٹھہر سكتى ۔
اس مختصر سے جملے سے انہوں  نے عقیدے اور عمل كے لحاظ سے خدا كى وحدا نیت كا اعتراف كیا اس كے بعد مزید كہا كہ ”تمام چیزوں  سے قطع نظر میں اس خواہش كے سامنے كس طرح سے سرتسلیم خم كرلوں  جبكہ میں عزیز مصر كے گھرمیں  رہتا ہوں  اس كے دستر خوان پر ہوں  او ر اس نے مجھے بہت احترام سے ركھا ہوا ہے”۔( سورہ یوسف آیت 23)
”كیا یہ واضح ظلم اور خیانت نہ ہوگى یقیناستمگار فلاح نہیں  پائیں گے۔ ”
(سورہ یوسف آیت 24)

حضرت یوسف علیہ السلام  كے دل میں  ایك طوفان
یہاں  یو سف اور زوجہ عزیز كا معا ملہ نہ آیت باریك مر حلے اور انتہائی حساس كیفیت تك پہنچ جاتا ہے جس كے متعلق قرآن بہت معنى خیز انداز میں  گفتگو كرتا ہے :” عزیز مصر كى بیوى نے اس كا قصد كیا اور اگر یوسف بھى بر ہان پر ور دگار نہ دیكھتا تو ایسا ارادہ كرلیتا ۔ ”(سورہ یوسف آیت 24)( اس جملہ كے بارے میں  بہت زیادہ اختلاف ہے ،اسى طرح وہ برہان پروردگار جس كے ذریعہ سے جناب یوسف بچ گئے ،كے بارے میں  اختلاف ہےرجوع كریں )
اس جگہ ایك بت تھا كہ جو زوجہ عزیز كا معبود شما ر ہو تا تھا اچا نك اس عورت كى نگاہ اس بت پر پڑى اسے یوں  محسوس ہوا جیسے وہ اسے گھور رہا ہے اور اس كى خیانت آمیز حركات كو غیض وغضب كى نگاہ سے دیكھ رہا ہے وہ اٹھى اور اس بت پر كپڑا ڈال دیا یو سف نے یہ منظر دیكھا تو ان كے دل میں  ایك طوفان اٹھ كھڑا ہو،ا وروہ لرز گئے اور كہنے لگے:
تو تو ایك بے عقل ،بے شعور ،بے حس ، وبے تشخیص عارى بت سے شرم كر تى ہے ،كیسے ممكن ہے كہ میں  اپنے پروردگار سے شرم نہ كروں  جو تمام چیزوں  كو جا نتا ہے اور تمام مخفى امور اور خلوت گا ہوں  سے با خبر ہے۔
اس احساس نے یو سف كو ایك نئی توانائی اور قوت بخشى اور شدید جنگ كہ جوان كى روح كى گہرائیوں  میں  جذ بات اور عقل كے درمیان جارى تھى اس میں  ان كى مدد كى تاكہ وہ جذ بات كى سر كش موجوں  كو پیچھے ڈھكیل سكیں  
۔ ( وہ بے بنیا د روایات جو مفسرین نے نقل كى ہے كہ جن كے مطابق حضرت یوسف نے گناہ كا ارادہ كر لیا تھا اچانك حالت مكاشفہ میں  جبرئیل یا حضرت یعقوب  علیہ السلام  كو دیكھا جو اپنى انگلى دانتوں  سے كاٹ رہے تھے انھیں  دیكھا تو یوسف پیچھے ہٹ گئے، ایسى روایات كى كوئی معتبر سند نہیں  ہے،یہ اسرائیلیات كى طرح ہیں  اور كوتاہ فكر انسانوں  كے دماغوں  كى پیدا وار ہیں  جنھوں  نے مقام انبیاء كو بالكل نہیں  سمجھا۔  )
قران مجید كہتا ہے :ہم نے یوسف  علیہ السلام  كو اپنى ایسى برہان پیش كى تاكہ بدى اور فحشاء كو اس سے دور كریں  ،كیونكہ وہ ہمارے بر گزیدہ اور مخلص بندوں  میں  سے تھا۔ ( سورہ یوسف آیت 24)
یہ اس طرف اشارہ ہے كہ ہم نے جو اس كے لئے غیبى اور روحا نى مدد بھیجى تا كہ وہ بدى اور گناہ سے رہائی پا ئے ،تو یہ بے دلیل نہیں  تھا وہ ایك ایسا بند ہ تھا جس نے اپنے آپ كومعرفت، ایمان پرہیز گارى اور پاكیز ہ عمل سے آراستہ كیا ہوا تھا اور اس كا قلب وروح شرك كى تاریكیوں  سے پاك اور خالص تھا اسى لئے وہ ایسى خدائی امدا د كى اہلیت ولیا قت ركھتا تھا۔
اس دلیل كا ذكر نشاندہى كرتا ہے كہ ایسى خدائی امداد جو طغیانى وبحرانى لمحات میں  یوسف جیسے نبى كو میسر آئی تھى ان سے مخصوص نہ تھى بلكہ جو شخص بھى خدا كے خالص بندوں  اور ”عباد اللہ المخلصین” كے زمرے میں  آتا ہو ایسى نعمات كے لائق ہے۔
 ( متین و پاكیزہ كلام :قران كے عجیب و غریب پہلوو ں  میں  سے ایك یہ بھى ہے كہ جو اعجاز كى ایك نشانى ہے بھى ہے،یہ ہے كہ اس میں  كوئی چھپنے والى ،ركیك،ناموزوں ،متبذل اور عفت و پاكیزگى سے عارى تعبیر نہیں  ہے اور كسى عام ،ان پڑھ جہالت كے ماحول میں  پرورش پانے والے كا كلام طرز كا نہیں  ہو سكتا كیونكہ ہر شخص كى باتیں  اس كے افكار اور ماحول سے ہم اہنگ ہوتى ہیں
قران كى بیان كردہ تمام داستانوں  میں  ایك حقیقى عشقیہ داستان موجود ہے اور یہ حضرت یوسف اور عزیز مصر كى بیوى كى داستان ہے ۔
ایك خوبصورت اور ہوس الود عورت كے ایك زیرك اور پاك دل نوجوان سے شعلہ ور عشق كى داستان ہے ۔
كہنے والے اور لكھنے والے جب ایسے مناظر تك پہنچتے ہیں  تو وہ مجبور ہو جاتے ہیں  كہ یا تو ہیرو اور اس واقعے كے اصلى مناظر كى تصویر كشى كے لئے قلم كھلا چھوڑ دیں  اور بزبان اصطلاح حق سخن ادا كردیں  اگر چہ اس میں  ہزار ہا تحریك امیز چبھنے والے اور غیر اخلاقى لفظ اجائیں  ۔
یا وہ مجبور ہو جاتے ہیں  كہ زبان و قلم كى نزاكت و عفت كى حفاظت كے لئے كچھ مناظر كو پردہ ابہام میں  لپیٹ دیں  اور سامعین و قارئین كو سر بستہ طورپر بات بتائیں  ۔
كہنے والا اور لكھنے والا كتنى بھى مہارت ركھتا ہو اكثر اوقات ان میں  سے كسى ایك مشكل سے دوچار ہو جاتاہے ۔
كیا یہ باور كیا سكتا ہے كہ ایك ان پڑھ شخص ایسے شور ا نگیز عشق كے نہ آیت حساس لمحات كى دقیق اور مكمل تصورى كشى بھى كرے لیكن بغیر اس كے كہ اس میں  معمولى سى تحریك امیز اور عفت سے عارى تعبیر استعمال ہو ۔
لیكن قراان اس داستان كے حسا س ترین مناظر كى تصویر كشى شگفتہ انداز میں  متانت و عفت كے ساتھ كرتا ہے ،بغیر اس كے كہ اس میں  كوئی واقعہ چھوٹ جائے اور اظہار عجز ہو جب كہ تمام اصول اخلاق و پاكیزگى بیان بھى ہے ۔
ہم جانتے ہیں  كہ اس داستان كے تمام مناظر میں  سے زیادہ حساس ”خلوت گاہ عشق”كا ماجرا ہے جسے زوجہ عزیز مصر كى بیقرارى اور ہوا و ہوس نے وجود بخشا ۔
قران اس واقعے كى وضاحت میں  تمام كہنے كى باتیں  بھى كہہ گیا ہے لیكن پاكیزہ اور عفت كے اصول سے ہٹ كر اس نے تھوڑى سے بات بھى نہیں  كی)
جاری ہے
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: