عبد الماجد دریا بادی (حصہ ششم)

گزشتہ سے پیوستہ
دوسروں کی معرکہ آرائیاں جاری تھیں کہ وہ خود بھی ایک معرکہ آرائی کی زد میں آگئے۔ ان کہ وہ دوست جنہوں نے ان کے اخبار کا نام”سچ”تجویز کیا تھا عین جوانی میں انتقال کر گئے۔ایک بیوہ اور کم سن بچی ترکہ میں چھوڑی۔بیوہ کی عمر 26یا 27سال کی تھی۔ عبدالماجدکے بڑے بھائی عبدالمجید نے خط کے ذریعے انہیں بیوہ  کا عقد ثانی کروانے کا مشورہ دیا۔ عبدالماجد مصروفیات کی بنا ء پر اس بات کو نظر انداز کرتے رہے۔بار بار خطوط کی آمد پر آخر کار انہیں دلچسپی ظاہر کرنا ہی پڑی،اس سلسلے میں ان کی بیوہ سے بھی کئی بار ملاقات ہوئی۔نکاح ثانی  کی اپنی جانب سے کئی کوششوں میں ناکامی کے سامنےپر اور اپنی بیوی کی بیماری کو مدّنظر رکھتے ہوئے بیگم عفت النساء سے رضامندی حاصل کرنے کے بعد (کافی ردّوکد کے بعد)انہوں نے بیوہ سے عقد ثانی کر لیا۔
نکاح کے ردّعمل کے طور پر خاندان بھر میں ہلچل مچ گئی،جیسے گناہ عظیم کر لیا ہو۔سسرال والے برافروختہ تھے بار بار طلبی ہو رہی تھی دھمکیاں ملنے لگیں کہ طلاق دو،ہماری بہن کو رکھو یا دوسری عورت کو۔ادھر عبدالماجدبضد تھے کہ جس غریب بے آسرا عورت کو سہارادیا اب اسے دست کش نہیں ہوں گے۔ادھر عفت کو ہسٹریا کے دورے پڑنا شروع ہو گئے بات بات پر لڑنے لگیں،کمزوری حدسے بڑھ گئی کھڑے کھڑے گرنے لگیں خوب چوٹیں آئیں۔حالانکہ رضامندی خود بھی ظاہر کر دی تھی مگر اب وہی ان کی زبان پر تھا جو ان کے گھر والے چاہتے تھے۔آخر کار 8ماہ بعد ہی عبدالماجد کو طلاق دیتے ہی بنی۔
اب طلاق کے بعد سب دشمن سامنے آگئے،وہ جن کی خبر "سچ”میں لی گئی تھی۔حالانکہ یہ ایک خانگی معاملہ تھا مگر مخالفین نے خوب اچھالا ،پھر ایک پمفلٹ بھی چھاپہ گیا اور اسے گھر گھر تقسیم کرایا گیا،اس میں عبدالماجد پر رکیک الزامات عائد تھے ۔اور ان کی زندگی کو ایک مزاق بنادیا گیا تھا۔انہیں ظالم اور فریبی جانے کیا کچھ نہیں کہا گیا تھا ۔عبدالماجد کو گمان تھا کہ اس کے پیچھے "نگار”کے ایڈیٹر نیاز شیخ پوری ہیں۔نگار نے اس پمفلٹ کے بعد 8صفحات اس معاملے کے لئے مختص کر دئے تھے،اور عنوان لکھ ڈالا "عبدالماجد دریا بادی بے نقاب”
اس کے بعد مساجد کے باہر پوسٹر لگوائے گئے کہ جمعہ کے دن ہر مسجد کے منبر سے عبدالماجد پر لعنت کی جائے۔13سے14ماہ تک یہ ہنگامہ جاری رہا تب جا کر بالآخر یہ ذہنی اذیت کا باب بند ہوا۔
وہ بھی اس وجہ سے کے مرزا عظیم بیگ چختائی کی چند تصانیف اور کتابیں جن میں "حدیث اور پردہ”،”قرآن اور پردہ’حریم”،”رقص و سرور "قابل ذکر ہیں میں افسوسناک عبادتوں اور خیالات کا اظہار کیا گیا تھا ۔آیات کے غلط مطالب نکالے گئے تھے۔احادیث کو جھوٹ کا پلندہ (نعوذ باللہ)بتایا گیا تھا۔یہ وہی صاحب تھے جن کی بہن عصمت چغتائی نے لکھا کہ وہ قرآن لیٹی لیٹے پڑھتےاور پڑھتے پڑھتے سو جایا کرتے تھے۔قرآن پر اخبار چڑھا لیا کرتے کہ کوئی یہ نہ سمجھے قرآن مجید ہے قانون کی کتاب سمجھے۔
ان کتابوں سے ایک ہلچل مچ  گئی ہر وہ شخص جس کے دل میں ذرہ بھر بھی ایمان تھا اس کے دل کو بڑی ٹھیس پہنچی۔ اخبار رسائل جرائد ہر جگہ مضامین کی قطار لگ گئی۔مگر کوئی خاص بات بن نہیں رہی تھی کہ کتاب پر پابندی لگ سکے اب ر سب کی نگاہ "سچ ” پر ٹکی تھی کہ عبدالماجد ہی اس کتاب پر کچھ لکھیں تو بات بنے۔”سچ” کے دفاتر میں خطوط کے انبار جمع تھے جن میں یہی درج تھا کہ اس وقت "سچ”خاموش کیوں ہے؟
عبدالماجدنے مرزا عظیم کا نام سن رکھا تھا کسی تصنیف کا مطالعہ نہ کیا تھا کیونکہ مرزا عظیم مزاحیہ ناول لکھا کرتے تھے جو عبدالماجد کا میدان نہ تھا پھر عظیم کو جانے کیوں اچانک مذہبی تصانیف کا خیال آیا اور کئی کتابیں لکھ ڈالیں عبدالماجد پہلے تو وہ مسلکی فرق سمجھے اور نطر انداز کر ڈالیں ۔ عبدالماجد کتابیں پڑھے بنا مجرم قرار نہیں دے سکتے تھے اس کا اظہار اخبار میں بھی کر دیا تھا ایک دن دکن سے کسی صاحب نے انہیں کتابیں بھیج دیں ۔اب انہیں پڑھنا ضروری تھا۔کتاب اٹھائی ،ورق التے تو ایک جگہ لکھا دیکھا کہ”حدیث بڑی فرسٹ کلاس ہے”چونک گئے کہ یہ کون سا طرز بیان ہے،مزید ورق الٹے۔ایک جگہ لکھا پایا”ملاّوں  نے قرآن شریف کو محض سنی سنائی بات پر (جو دو ،ڈھائی سو سال برس بعد )سے قربان کر کے پھینک دیا ۔۔۔۔”
عبدالماجد ٹھنک اٹھے ۔یا یہ شخص تو حدیث کو سنی سنائی بات سے تعبیر کرتا ہے،محدثین نے محنے کر کے اچھی طرح تحقیق کر کے جن احادیث کو جمع کیا اس کے نزدیک یہ محض سنی سنائی باتیں ہیں اور پھر اس آدمی کا لہجہ کتنا تحقیر آمیز ہے۔
"ہم ان چاروں اماموں کے اقوال کو اٹھا کر زور سے دیوار پر مارتے ہیں کہ یہ تمام اقوال مردود ہیں۔”
عبدالماجد سنبھل کر بیٹھ گئے اور مطالعہ شروع کر دیااب جوں جوں پڑھتے جاتے خون کھولتا جاتا غصے کہ وہ پہلے ہی تیز تھے لیکن اس وقت مصنف سامنے نہ تھا اقتباسات نوٹ کرتے رہے۔
یہ کتاب ختم ہوئی تو "تفویض”اٹھا لی ،اس کا بھی یہی حال تھا۔
"لوگ کہتے ہیں کہ مسلمان عورتوں کی ناگفتہ حالت اس وجہ سے ہے کہ انہوں نے اپنا دین چھوڑ دیا ہے،اور میں یہ کہتا ہوں کہ ان کی جان محض اس وجہ سے مصیبت میں ہےت کہ وہ مسلمان ہیں۔آج وہ اپنا مذہب چھوڑ دیں اور کل ان کی دنیاوی مصیبتیں ختم ہو جائیں گی۔”
اخلاق و متانت سے گری ان تحریروں کو دیکھ عبد الماجد نے مصنف کو سبق سکھانے کا سوچ لیا۔۔قلم اٹھایا اور "امر عظیم” کے عنوان سےاپنی تحریر "سچ” کے سپرد کر دی۔
مضمون میں ان کے لہجے و رکیک جملوں پر خاص تنقید کی گئی تھی اور بتایا گیا تھا کہ اگر پردے کے مسئلے میں جمہور مسلمین کی روش سے کوئی اختلاف ہے تو شرافت و متانت روش سے اس کے اظہار میں وہ (ـچغتائی )بالکل آزاد تھے،لیکن جو لب لہجہ انہوں نے اختیار کیا عامہ مسلمین کی دل آزاری پر کون مسلمان صبر کر سکتا ہے؟محدیثین ،آئمہ کرام بلکہ خود صحابہ تک سے جس طرح زبان درازی کی گئی اس کا کیا جواز ان کے پاس ہے؟
غلط بیانیوں کی تصحیح کی جا سکتی ہے لیکن ایک پڑھا لکھا شخص محض مسخرہ پن اور استہزا پر اتر آئے اور لاکھوں ،کروڑوں افراد کے بزرگوں اور ساتھ ساتھ اپنی فہم کی سنجیدگی کا بھی تمسخر کرنا شروع کر دے تو ملت کے عوام و خواص دونوں کے لئے صبرو قرار،ضبط و تحمل کا قائم رکھنا کس قدر دشوار ہو جائے گا۔
کتاب "حدیث اورپردہ”کا سب سے گندہ ترین حصہ وہ ہے جہاں ایک روایت کی آڑ لے کر نعوذ باللہ حضورﷺ ایک نا محرم عورت سے تمتع بہ قدر تقبیل کرنا چاہتے تھے۔اتنا بڑا گندہ ناپاک ترین افتراان پاکوں کے سردار پر کنایہ سہی آج تک کبھی کسی نے نہیں ایسا نہیں کیا ۔لیکھ رام ہو یا راجپال  کسی نے ایسا نہیں کیا۔ کیا اس گندہ ذہنی کے بعد مصنف کو توقع ہے کہ سادہ دل مسلمان اس کے عذر کو قبول کر کے اسے معاف کر سکتے ہیں؟
عبد الماجدکی ابتداء کرنی تھی کہ دوسروں کو بھی حوصلہ ملا اور اس طرح احتجاتی مراسلے و مضامین اشاعت کےلئے آنے لگے اور ایک نئی بحث کا آغاز ہو گیا۔چغتائی یہ سب دیکھ کر پریشان ہو گیا۔مزید یہ کہ ان تمام مضامین کی کتب بنا کر عظیم بیگ چغتائی کو بھجوادی گئیں اس طرح ان سے ان دونوں میں مراسلات کی ابتداء ہوئی۔بالآخر وہ اپنی صفائی میں مضمون دینے پر آمادہ ہو گئے۔یہ مضمون بھی چھپ گیا اور اس میں ان کا لہجہ بھی نہایت معقول تھا۔اس میں دل آزاری پر معافی اور اللہ سے توبہ کی درخواست کی گئی تھی۔مصنف (چغتائی )کو مشورہ بھی دیا گیا کہ وہ اپنی کتاب ہندوستان کے مصنف اعظم مولانا سید سلیمان ندوی کی خدمت میں بھیج دیں جب تک وہ ضروری ترمیمات نہ کر لیں ان کی کتابوں کی اشاعت ملتوی جائے۔انہیں مشورہ ماننا پڑااور کظ کے ذریعے اس کی اطلاع بھی "سچ”میں دی۔اس پر "اجر عظیم”کے عنوان سے عبدالماجد نے مضمون بھی لکھ دالا۔
ابھی یہ ہنگامہ آرائی جاری تھی کہ لکھنؤ کے ایک ناشر نے”انگارے”شائع کر دی۔ عبد الماجد نے اسے بھی آڑے ہاتھو ں لیا "سچ”کے ساتھ ساتھ دوسرے رسائل میں بھی مضامین لکھےاسے ایک "شرمناک کتاب "کے نام سے موسوم کیا۔یہ کتاب نفس مذہب کے علاوہ فھاشی،ابتذال اور زبان و بیان کی فاش غلطیوں کے اعتبار سے بھی ایک شاہکار قرار دی گئی۔”انگارے”کی حمایت میں مضامین بھی شائع ہو رہے تھے،مگر علماؤں اور خاص کر عبد الماجدکی کوششوں سےاور ان کےمضامین کے دلائل کےآگے صوبہ متحدہ(یوپی)کی حکومت نے اس کتاب کو ضبط کرنےکے احکامات جاری کر دئے۔
سچ کی ہنگامہ آرائیوں میں مصروف رہ کر وہ اپنے علمی کاموں سے دور ہوتے جا رہے تھے،قرآن مجید کے انگریزی ترجمے اور تفسیر کا کام شروع کر چکے تھے جس کے لئے کافی وقت درکار تھا ۔انہوں نے "سچ”کو اس کارنامہ عظیم کی خاطر بند کر دیا۔
دریا باد کی تنہائیوں میں وہ کام سرانجام دینے لگے جو علوم دینی میں ایک اہم باب کا اضافہ کرنے والا تھا۔اپنے آپ کو قرآن اور متعلقات قرآن تک محدود کر لیا تھا۔۔نہایت جانفشانی سے ترجمہ قران(انگریزی)مکمل کرنے کے بعد تفسیر ماجدی(انگریزی،اردو)کا کام شروع کر دیا ۔تفسیر مکمل ہوئی تو نئے خاکے لکھنا شروع کر دیئے۔ جنہیں کتاب کی صورت ملنے لگی۔ان میں مسائل القصص، الحیوانات فی القرآن، ارض القرآن،اعلام القرآن، بشریت انبیاء، سیرت نبوی قرآنی،اور مشکلات القرآن جیسی کتب پڑھنے والوں کے سامنے آئیں۔
وہ 2شخصیات کو کو قرآن کی تصانیف کےلئے اپنا محسن گردانتے تھے۔1-جناب مولانا اشرف علی تھانوی اور2-مولانا محمد علی جوہر،ان شخصیات نے ہر قدم پر ان کی رہنمائی کی ،قدم قدم معاون رہے۔انہوں نے انکی شکر گزاری کے لئے دونوں کی سوانح عمریاں تصنیف کیں۔ان کتابوں کو مولانا اشرف علی تھانوی پر "نقوش و تاثرات”اور مولانا محمد علی جہر پر”محمد علی ،ذاتی ڈائری کے چند اوراق”کے نام سے شائع کروایا۔
کسی عالم دین سے کب توقع تھی کہ وہ سوانح نگاری ،خاکہ نگاری  اور انشائی تحریروں میں بھی دماغ کھپائے گا لیکن عبد الماجدنے تو جیسے تہہ کر لیا تھا کہ وہ ادب کے ہر گھر میں جھانکے بنا نہیں رہیں گے۔شاعری بھی کی اور غزل کو ہاتھ لگایا۔تنقید بھی کی اور تحقیق تو ان کا خیر میدان ہی تھا ،غرض بڑی تعداد میں خاکے لکھے۔ عبد الماجد کو دینی صفات نے چھپا لیا ورنہ وہ بہت بڑے خاکہ نگار بھی تھے۔
عبد الماجدنے جس تصنیف میں بھی ہاتھ ڈالا اسے تکمیل تک پہنچا ڈالا۔ایسی عظیم الشان زندگی کہ ہر منصوبہ پایۂ تکمیل تک پہنچا سوائے 1منصوبہ جو مکمل نہ ہو سکا اور اگر وہ مکمل ہو جاتا تو اردو زبان اپنی خوش قسمتی پر نازاں اور فخر کرتی اور پوری اسلامی دنیا ان کی احسان مند ہوتی۔
ایک بار راجہ صاحب محمود آباد کے ساتھ ان کی اقامت گاہ ٌر عبد الماجد بیٹھے تھے کہ دوران گفتگو انگریزی زبان کے ذخیرہ علمی کا ذکر نکل آیا۔بات نکل آئی انسائکلو پیڈیا برٹانیکاکی۔راجہ صاحب نے اردو میں ترجمہ کی درخواست کی۔ عبد الماجدنے سرمایہ کثیر کی درخواست کی۔راجہ صاحب نے 1لاکھ کی خطیر رقم مختص کرنے کی رضامندی ظاہر کی اور مزید کا بھی وعدہ فرمایا۔وعدہ تو کر لیا مگر کسی سے مشورہ نہ کر سکے تھےان کے مشیر و مصلح سید سلیمان ندوی تھے ان سے مشورہ کیا انہیں منصوبہ بھی پسند آیا اور ایک مشورہ بھی اس سلسلے میں دیا کہ "ترجمہ تو ترجمہ ہوتا ہے اصل تصنیف کا مقابلہ نہیں کر سکتا یہ تو اہل یورپ کی خدمت ہوگی ۔انسائیکلو پیڈیا کے مصنفین کے ابواب کے پابند ہوں گے ،بہتر یہ ہے کہ برٹانیکا کے طرز پر ایک اردو انسائیکلو پیڈیا یا دائرہ معارف تیار ہو ،جس میں تاریخ، طب، قانون،سیاست، مذہب ،فلسفہ اور سائنس وغیرہ کی ہر شاخ پر مستند فاصلوں سے مقالے تیار کروائے جائیں ۔یہ ایک اوریجنل چیز ہو گی جس کی وقعت بھی ہو گی اور اس میں ہم آزاد بھی ہوں گے۔”
راجہ صاحب کو اس سے آگاہ کیا گیا انہوں نے بھی اس منصوبے کی منظوری دے دی۔منصوبے کو مشتہر کرنے کے لئے سید سلیمان ندوی سے تفصیلی مضامین بھی شائع کروائے گئے۔جو مختلف رسائل میں شائع ہوئے ۔ان مراسلوں کےجواب میں تجاویز بھی آئیں۔اس منصوبے کو سراہا بھی گیا مگر پھر چند نا گزیر وجوہات کی بنا پر تاخیر ہوتی چلی گئی اور رفتہ رفتہ لوگ اسے بھول گئے کہ کس عظیم منصوبے کا آغازہونے والا تھا۔
جاری ہے
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: