عبد الماجد دریا بادی (حصہ پنجم)

10سالہ جنگ جو ان کے باطن میں نظریات و افکار کی چھڑی ہوئی تھی اس کے خاتمے کا دور آنے ہی والا تھا ۔ایک ہلچل کو مچی تھی اس کو قرار ملنے ہی والا تھا۔تشکیک و الحاد کے اس حملے سے جس سے وہ مغلوب ہوا تھا اب اس سے نجات کا دن قریب آرہا تھا۔اس کی عقل پر ابر جہالت کا پھاڑ کر ایک نیا سورج طلوع ہونے ہی والا تھا اس کے اندر ایک نیا انسان بیدار ہونے ہی والا تھا۔ اور اس نئے انسان کی بیداری میں اس کے دوستوں کا بڑا ہاتھ تھا جو اس کے دور الحاد میں بھی اس کے ساتھ ہی رہے۔اس کو ٹوکتے رہتے،اس میں ایک ہاتھ ان کتابوں کا بھی تھا جو اس کے مطالعے میں رہتی تھیں انہوں نے اسے روشنی دی ۔کتابوں ہی نے اے بھٹکایا اور اب کتابیں ہی اسے راہ راست پر لا رہی تھیں۔حکیم کنفیو شس کی تعلیمات، بھگوت گیتا، مثنوی مولانا روم، یہ وہ کتابیں تھیں جو اسے کچھ سوچنے پر مجبور کیا کرتی تھیں۔مگر خاص طور پر شبلی کی سیرت النبیﷺ کے مطالعے نے اس کی کایا ہی پلٹ دی تھی ۔نفس شوم کو جو سب سے بڑی ٹھوکر لگی تھی وہ سیرت اقدس ﷺ کی ہی تو تھی۔اور خاص طور پر غزوات و محاربات کا سلسلہ،ظالموں نے نجانے کیا کچھ اس کے دل میں بٹھا دیا تھا ۔اور ذات مبارکﷺ کو نعوذباللہ ایک ظالم فاتح قرار دیا تھا۔ سیرت النبیﷺ نے اصل دوا اسی دردکی ۔

مثنوی مولانا روم کے دفاتر کا مطالعہ شروع کیا پڑھتے گئے اور آنسو بہاتے گئے۔پھر یہی حال مکتوبات مجدد سرہندی کو پڑھ کر ہوا کہ کہیں کہیں چینخ بھی پڑے۔والد مرحوم نے اپنے لخت جگر کے لئے غلاف کعبہ پکڑ کر جو دعا مانگی اس کی قبولیت کا وقت آچکا تھا۔الحاد کی گرہ کھل چکی تھی۔

مدتوں بعد وضو کر کےوہ مصلّے پر بیٹھےاور خدا کے حضور کھڑے ہو گئے کہ جسے وہ بھول چکے تھے۔گناہوں کا خیال آیا تو چینخیں نکل گئیں۔عفت کی آنکھ کھولی تو دیکھا بھٹکے ہوئے عبدالماجد راہ راست پر آچکے تھے۔خدا کا شکر ادا کیا اور شوہر کے آنسوؤں میں ان کے آنسو بھی شامل ہو گئے۔رات بھر گھر میں استغفار کی آوازیں گونجتی رہیں اور صبح ہوئی تو فجر کی نماز کے لئے مسجد کو چل پڑے۔

مسجد میں نما ز کے لئے آستین اونچی کی تو ایک باریش بزرگ نے ہاتھ پر کھدے ناخن کو دکھ کر عجیب سا منہ بنا لیا زبان سے تو کچھ نہ کہا ۔اگلی نماز کے لئے گھر سے وضو بنا کر گئےکہ آستین اونچی نہ کرناپڑے۔ وہ آنکھیں عبدالماجد کو بڑے عرصے تک یاد آتی رہیں۔

اسی چھپا چھپی میں کئی دن گذر گئے احساس شرمندگی نے اسے جب نڈھال کر دیا تو مذہبی کتب میں نام کھدوانے کی وعیدیں دیکھیں اور اپنے دوست ڈاکٹر عبدالعلیٰ کو بلا لیا۔اور سارا ماجرا کہہ ڈالا اور ماضی کی اس یاد گار کو کھرج ڈالنے کے ارادے کا اظہار فرمایا۔انہوں نے بہت سمجھایا تکلیف دہ عمل کی وضاحتیں دیں پر وہ اللہ کی راہ پر چلنے کے لئے ہر تکلیف سہنے کا مصمم ارادہ کر چکے تھے۔نام کھرچ دیا گیا روزآنہ عرصہ تک مرہم پٹی ہوتی رہی ۔لکھنے پڑھنے کے لئے بایاں ہاتھ استعمال کرنے رہے۔

ایک دن گھر پر بیٹھے بیٹھے اپنے نکاح کا خیال آگیا کہ میں تو اس وقت کسی اسلامی رسم کا قائل ہی نہ تھا جب نکاح ہو رہا تھا تو میں دل میں ہنس رہا تھا بس نمائش میں بیٹھا تھا دل سے تو قبول نہیں کیا تھا ۔بس تجدید نکاح کی ٹھان لی بیوی سے ذکر کیا تو وہ ہنسنے لگیں کہ اس عمر میں دولہن بنواؤ گے؟انہوں نے سنجیدگی سے جواب دیا دلہن دلہا بننے کو کون کہہ رہا ہے بس تجدید نکاح ہوگا۔ بیوی نے کہا کہ وہم میں نہ پڑو ،اللہ نیت دیکھتا ہے۔انہوں نے کہا جبھی تو کہہ رہا ہوں کہ اس وقت میری نیت ٹھیک نہ تھی۔ عفت بھی تنک کر فوراًبولیں یعنی آپ مجھے بیوی بنانے پر آمادہ نہ تھے؟انہوں نےپھر سنجیدگی سے کہا کہ بالکل تھا ،مگر ایسے جیسے کہ ایک ہندو ہوتا ہے ،نکاح کے وقت جب آیات پڑھی جارہی تھیں تب میں یہی سوچ رہا تھا کہ یہ کلام الہیٰ نہیں ہے۔پھر عفت کے پاس کہنے سننے کے لئے کچھ نہ رہ گیا تھا۔ایک مولوی بلوایا گیا اور دوبارہ نکاح پڑھوایا گیا۔

تجدید اسلامی کے بعد جوش اٹھا تو آستانہ اجمیری پر حاضری دی۔قوالیوں کی آوازیں چہار سو تھیں ،لوگ چادریں چڑھا رہے تھے منتیں مانی جا رہی تھیں عرس کا زمانہ جو تھا ہر جانب لوگ ہی لوگ تھے کسی نے اشارہ کر دیا کہ وہ دیکھو عبدالماجد دریا بادی۔کھدر کا لباس(گاندھی جی سے عقیدت کے باعث پہننا شروع کر دیا تھا)گورا رنگ،داڑھی سفید گول اور نورانی، نکلتا ہوا قد،آنکھوں پر چشمہ،لباس پر کھدر کی ایک عبا،اور سر پر اپنے ہی طرز کی ٹوپی جس کی بناوٹ اور اونچائی عام توپیوں سے ہٹ کر تھی۔

عارفانہ کلام پڑھا جا رہا تھا اور عبدالماجد جھوم رہے تھے۔لوگ حیران تھے مگر ان کے قلب کی کیفیت کو کوئی سمجھ نہیں پا رہا تھا۔پھر چشم فلک نے انہیں درگاہ خواجہ بختیار کاکی رحمتہ اللہ علیہ میں دیکھا ،لکھنؤ میں شاہ مینا رحمتہ اللہ علیہ کے مزار پر حاضری دیتے دیکھا۔ خواجہ نظام الدین اولیاء رحمتہ اللہ علیہ کے پھیرے کاٹتے دیکھا ۔جب تمام مزاروں کے چکر کاٹ چکے تو لکھؤ کی رنگینی کو خیر باد کہہ کر مستقلاً دریا باد منتقل ہو گئے ۔ حویلی سے متصل ان کے مورث اعلٰی حضرت مخدوم آبگش رحمتہ اللہ علیہ کا مزار تھا اس کی صفائی ستھرائی کرائی ،عرس کا زمانہ آیا تو قولوں کو محمد علی جوہر اور اپنی تیار کردہ نعتیہ غزلیں یاد کروائیں،اور محفل سماع منعقد کروایا۔

دریا باد کی خاموشی میں کام کرنے کا خوب موقع ملا۔وقت کے زیاں سے دور رہنے کے لئے طریقہ نکالا کہ جو بھی ملنے والا آتا اس کے سامنے ایک ٹائم پیس رکھ دی جاتی جو ہر 15منٹ بعد بجتی اور ملنے والا سمجھ جاتا کہ وقت ملاقات ختم ہوا۔دوسروں کے گھر جانے سے پرہیز کرتے کہ وہاں آدمی صاحب خانہ کا محتاج ہو جاتا ہے۔

وقت کی بچت کے لئے انہوں نے دوپہر کا کھانا چھوڑ دیا کہ دوپہر کے کھانے کے بعد جم کر لکھنے پڑھنے کا کام نہیں ہوپاتا۔بصارت بھی کمزور ہو چکی تھی سو علمی کاموں کی انجام دہی کے لئے دن کے اوقات ہی میسر تھے۔مغرب سے پون گھنٹہ پہلے سب کچھ سمیٹ کر گھر کے باہری حصے میں آجاتے جہاں علام لوگوں کے لئے گویا دیدار عام کی رسم ادا کی جاتی تھی۔

اسلام کے شرف سے دوبارہ مشرف ہونے کے بعد ان کا میلان زیادہ تر قرآن اور متعلقات قرآن ہی پر وقف ہو گیا تھا۔ایسے ادبی مضامین قلم سے نکلے کہ جو ہمیشہ یاد رکھے گئے۔ان کے ادبی مضامین نے تنقید کی دنیا میں ایک نئی جہت کا آغاز کیا۔”غالب کا ایک فرنگی شاگرد،مرزا رسوا کےقصّے،اردو کا واعظ شاعر، پیام اکبر، اردو کا ایک بدنام شاعر،گل بکاؤلی اور مسائل تصوف اور موت میں زندگی ایسے ہی چند مضامین ہیں۔

تصوف اور قرآن اس دور میں خاص موضوع رہا خد بھی اسی دور سے گذر رہے تھے سو تحقیق اور عقیدت کا شاہکار اور ایک کتاب "تصوف اسلام”شائع کرادی۔رومی کے ملفوطات کو ترتیب دیا۔ قرآن کے انگریزی ترجمے اور تفسیر جیسے بلیغ کام کا آغاز کر دیا۔تفسیر لکھتے لکھتے کئی کتابیں ظہور میں آئیں جو بعد میں”اعلام القرآن، ارض القرآن، مشکلات القرآن”وغیرہ کے نام سے شائع ہوئیں۔

بیسویں صدی کا ہندوستان "اخبارات ” کا ہندوستان تھا کئی اکابرین نے صحافت کے نئے باب رقم کئے تھے، ہندوستان کی سیاسی و مذہبی لہروں کی گونج اخبارات میں سنائی دے رہی تھی۔خود عبدالماجد ایک عرصہ اخبارات سے وابستہ رہے تھے سو جانتے تھے کہ ہنگامی موضوعات کو عوام تک پہنچانے کے لئے اخبارات سے بہتر کوئی دوسرا ذریعہ نہیں ہے۔سوچا کیوں نہ اپنا ایک اخبار ہی نکالا جائے۔مولانا عبدالرحمٰن نگرامی نے اس کی حمایت کی اور اخبار کا نام "سچ” بھی تجویز کر دیا۔وجہ تسمیہ یہ بتائی کہ انگریزی میں ایک ہفتہ وار "ٹرتھ”کے نام سے "گیا”شہر میں وہ رسالے "ندیم” سے وابستہ تھے تو یہ ہر ہفتہ لندن سے منگواتے تھے۔

تیاریاں مکمل ہوئی اور عبدالماجد کی زیر ادارت ہفتہ وار اخبار پابندی سے نکلنا شروع ہوگیا۔اصلاح معاشرہ ،ردبدعات ، تجدد اور ترقی پسندی کی مخالفت اس اخبار کے خاص موضوعات تھے۔

اسلام کی جانب واپسی پر خاندانی رویات بھی واپس آرہی تھی۔خاندان نیم صوفی خاندان تھا ۔والد صاحب بدعات سے بچتے ہوئے محفل سماع میں شریک ہوتے اور مزارات کے بھی معتقد تھے ان کی والدہ تک سلسلہ قادریہ رزاقیہ (بانسہ) میں بیعت تھیں،عبدالماجد بھی کسی سے بیعت کا سوچنے لگے۔مسلم تصوف کی اہم کتابوں کے مطالعہ سے وہ بیعت کی اہمیت کے قائل ہو چکے تھے ۔اب سوال تھا کہ بیعت کس سے کی جائے۔ عبدالماجد عام آدمی تو نہ تھے کہ آنکھ بند کر کے کسی کے بھی مرید ہو جائیں ان کا مرشد بھی انہی کے معیار کا ہونا چاہیئے تھا۔کبھی سوچا کہ محمد علی جوہر سے بیعت کروں تو کبھی کسی دوسرے کا خیال آتا۔ پھر آخر کار ہر جگہ سے مایوس ہو کر ایک راہ سوجھی کہ سفر پر نکلا جائے گوہر مقصود جہاں ملے .حیدر آباد ، دہلی، لکھنؤ، امیر ، کلیر ، دیوہ، بانسہ اور ردولی میں ہر چھوٹے بڑے مرکز میں جا کر بزرگان دین سے مل آئے ۔حال والے بھی دیکھے اور قال والے بھی ۔جھوٹوں کو بھی دیکھا اور سچوں سے بھی ملاقات ہوئی۔ کہین کچھ دیر کو دل اٹکا مگر پھر اکھڑ گیا ۔واپس دریا باد آگئے۔ دنوں تک سوچ بچار کی دھیان میں پھر ایک نام”دیو بند” کا آیا ۔کسی نے وہاں مولانا حسین احمد مدنی کا نام لیا وہ ان کے دیکھے بھالے بھی تھی کہ خلافت کمیٹی کے سلسلے میں ان سے ملاقات بھی ہوئی تھی۔

اسی سوچ و بچا رمیں تھے کہ وصل بلگرامی جن سے عبدالماجد کا ادیب کی حیثیت سے بڑا یارانہ تھا وہ خود اشرف علی تھانوی کے مرید تھے عبدالماجد کو بھی انہیں کا نام تجویز کیا ۔ عبدالماجدنے جواب دیا کہ کیا سمجھتے ہو اتنا بڑا نام زیر غور نہ ہوگا۔پوچھا گیا پھر تکلف کس بات کا ہے ؟ماجد نے بیان کیا کہ تحریک خلافت کے سخت مخالف ہیں اسی لئے اعتراض برت رہا ہوں۔وصل بلگرامی نے انہیں تھانوی صاحب کے "مواعظ”پڑھنے کو دیئے کہ اس کو پڑھ کر فیصلہ کیجئے ۔

مواعظ پڑھنا تھے کے حقائق و معارف سامنے آکھڑے ہوئے۔ایسا لگا حجاب ہٹ کر سامنے تھانوی قبلہ خود کھڑے ہیں۔دل خود ان کی جانب کھنچتا چلا گیا۔تھانوی صاحب سے مراسلات شروع کوئے 1 سال تک مراسلات پر دلوں کا حال بیان ہوا پھر خود تھانہ بھون پہنچ گئے۔طویل نشستیں رہیں اور آخر کار عبدالماجد کو بیان دینا ہی پڑا کہ اگر میں عقیدہ تناسخ کا قائل ہوتا تو کہہ اٹھتا کہ اماز غزالی رحمۃ اللہ دوبارہ تشریف لے آئے ہیں۔تھانوی صاحب نے عبدالماجدکا میلان دیکھتے ہوئے حسین احمد مدنی کو مشورہ دیا کہ وہ عبدالماجد کو بیعت کر لیں۔ عبدالماجددیوبند گئے اور مدنی صاحب کے ہاتھ پر بیعت فرمائی۔بیعت معدنی صاحب کی ہوئی مگر مرکز عقیدت تھانہ بھون ہی رہا ۔پھر عشق اتنا بڑھ گیا کہ تھانوی صاحب پر پوری ایک پوری کتاب لکھ ڈالی اور کتاب بھی ایسی کہ مرید کا نذرانہ مرشد کے لئے۔کئی لوگ عرصے تک اسی غلط فہمی کا شکار رہے کہ عبدالماجد اشرف علی تھانوی کے نیازمند نہیں مرید ہیں۔

دوسری جانب اخبار "سچ” ایسی معرکہ آرائیوں میں حصہ لے رہا تھا کہ جو اس کی مقبولیت کا سبب بن رہی تھیں۔سچ لکھنے کے لئے عبدالماجد نے کبھی مصلحت کو آڑے آنے نہ دیا ۔خواجہ حسن نظامی ان کے نہایت اچھے دوست تھےلیکن جب نظامی صاحب نے مولانا محمد علی جوہر کو فاسق اور یزید کے نازیبا القابات سے یاد کیا اور متواتر اپنے پرچے میں ان کے خلاف لکھنا شروع کر دیا تو عبدالماجد سے ایک مصلح قوم کی توہین برداشت نہ ہو سکی،سو عبدالماجد نے خواجہ صاحب کی تعریضات کا "نوٹس” "سچ”کے صفحات میں لینا شروع کر دیااور کوب جواب دیا۔خواجہ حصن نظامی نے جب اپنے پرچے "منادی”میں خود کو برٹش گورنمنٹ کا ہمیشہ سے خیر خواہ ظاہر کیا پھر تو عبدالماجد نےخواجہ صاحب کے خوب لتے لئے۔

ایک صاحب تھے”سید نذیر نیازی”انہوں نے "جوزف ہیل”کی ایک کتاب عربوں کا تمد اردو میں ترجمہ کراکے شائع کرادی ،جس میں اسلام اور حضرت محمد ﷺ اور آل محمد ﷺ سے متعلق نازیبا اور دل آزار کلمات تھے۔ عبدالماجدنے نہ صرف کتاب کی مخالفت و مذمت کی بلکہ دوسرے لکھنے والوں کیو بھی اس مہم میں شامل کر لیا،جس میں مولانا ابو الکلام آزاد بھی شامل تھے۔ان حضرات کے مضامین اور مختصر احتجاجی مراسلے "سچ” میں شائع ہوئے،یہاں تک کہ جامعہ ملیہ کو یہ کتاب اپنی فہرست سے خارج کرنا پڑی۔

Advertisements
6 comments
  1. Md-Noor said:

    کتنی قسطوں میں ختم کرنے کا ارادہ ہے ؟ یہ میں اسلیے پوچھ رہا ہوں کہ عبدالماجد دریا بادی کی آپ بیتی کو حوالہ بنا کر کچھ اپنی بات کہنا چاہتا ہوں یعنی ایک پوسٹ لکھنے کا خاکہ ذہن میں بن گیا ہے ۔ انتظار اس بات کا ہے کہ آپکی آخری قسط آجائے ۔ بہت شُکریہ ۔( ایم ۔ ڈی )۔

    • آپ کیا کہنا چاہتے ہیں ابھی کیوں نہیں کہہ دیتے
      ابھی سے آپ کو کیا جلدی ہے ابھی تو بہت کچھ باقی ہے اور ابھی میرے پاس لکھنے کو وقت بھی بہت کم ہونے لگا ہے
      کم لکھنے کی وجہ سے تحریر کمم اور کافی وقتوںکے بعد شائع ہو گی جس سے اقساط میں مزید طولانی آئے گی

      آپ کہیئے اس بہانے کچھ تبصرہ جات ہی ہو جائیں گے آپ سے کہ اب کوئی آتا بھی تو نہیں یہاں

  2. احمر said:

    آپ کا یہ جملہ کہ "اب یہاں کوی بھی نہیں آتا”، نے مجبور کردیا کہ اپنی آمد کے کچھ نشانات چھوڑ جاییں،

    آپ بہت محنت سے لکھتی ہیں ہم سب کو اس بات کا اعتراف ہے

    آپ کی اس موجودہ پوسٹ کے سلسلے کو بھی دلچسپی سے پڑھ رہا ہوں

    شکریہ

    • شکریہ
      مین سمجھی بس آپ شروع مین آیا کرتے تھے اب نہیں
      خاموشی سے بہتر کچھ تبصرہ کر دیجئے
      پسند اور نا پسندیگی کا اظہار کیجئے
      ہمت بڑھتی ہے لکھنے کی

  3. irfan said:

    سلام
    آپ نے دعوتِ مطالعہ دے کر کرم نوازی فرمائی، مفسر ِ قرآن مولانا عبد الماجد دریا بادی، آپ نے کیا موضوع چھیڑ دیا ، 20 صدی کی جن علمی ہستیوں کا سب سے زیادہ اثر اور رنگ بندہ نے قبول کیا ہے وہ مولانا ماجدی ہی کی ذاتِ گرامی ہے۔ 11، 12 سال پہلے آپ بیتی پڑھی تھی، کچھ کچھ محو ہوگی تھی، پھر وہ آپ کی محفل میں شوق ِ ماجدی کا آتش جوان ہوگیا، پھر فیض ماجدی برسنے لگا، میں جب تفسیر ِ ماجدی پڑھتا ہوں تو یوں لگتا ہے مولانا خود پڑھے رہے ہیں اور یہی وہ نسبت اور تعلق ہے کہ جس بنا ء پر کچھ نہ کچھ اردو تفاسیر کے ذخیرہ پر نظر ہو گئی ہے اور برابر یہ مہم ایک فطری جبلت و خصلت کی طرح میری نفسیات میں پیوست ہوگئی ہے۔ یہ سب فیض ماجدی ہے۔
    خلاصہ وہ بھی سوانح کا یا سیرت کا کسی بھی علمی شخصیت کا تیار کرنا خاصہ مشکل ہوتا ہے چہ جائیکہ مولانا عبدالماجد جیسی ہمہ جہت اور نابغہء روزگار شخصیت کا احاطہ کرنا،،، پھر بھی آپ بلا کسی مداہنت کے یہ اعتراف کرنا پڑتا ہے بہت کامیاب رہی ہیں مولانا کی ذات کی منظر کشی کرتے ہوئے تقریبا تمام رنگ آ ہی گئے ہیں یہ اور بات ہے میری نظر میں مولانا کی ترجمانی یا انکی اپنی نظرمیں انکے کون سے رنگ زیادہ گہرے اور نمایاں ہونے چاہیں تھے وہ کہیں کہیں چھپ گئے یا پھیکے لگے، خیر یہ نکتہ نظر ذرا عقیدت و قلبی نسبت سے بھی متاثر ہے لہذا کوئی بڑا خلجان اس تحریر پر نہیں مجموعی تاثر یہی ہے آپ نے لکھا خوب ہے۔
    ارتقاء حیات کی اسی قسط پر نظر کی ہے، باقی بقدر حیات و فرصت
    ایک بار پھر آپکی ذرہ نوازی کا ممنون ہوں۔

    • محترم عرفان صاحب
      وعلیکم السلام
      آپ نے مذکورہ تحریت کا مطالعہ کیا پھر پسندیی کا اظہار کیا
      جو باعث شکر گزاری ہے جواب دینا میرا
      صد افسوس کہ مصروفیات کے باعث آپ کی رائے کا انتہائی دیر سے جواب دیا جا رہا ہے
      امید ہے دیری کو درگزر فرمائین گے
      اور دیگر اقساط کا بھرپور مطالعہ کرین گے
      ویسے میں نے کوشش کی ہے کہ ان اقساط کو یکجا کر دوں
      اور ساتھ ہی انکی 1عدد ڈاؤنلوڈ فائل ورڈ پر قارئین کی آسانی کے لئے پیش کر دوں
      شائد کئی لوگ میری طرح کمپیوٹر پر پڑھنے کے قابل نہ ہوں اس کا پرنٹ لینا چاہیں

      ایک بار پھر سے شکرئی تریف لانے اور تحریر کو پسند کرنے کا

      آپ لوگوں کی حوصلہ افزائی رہی تو مزید قلم کی قلمکاری جاری رہے گی

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: