عبد الماجد دریا بادی (حصہ چہارم)

 

گزشتہ سے پیوستہ
2کتابیں خاص طور پر اس کے زیر مطالعہ رہیں ۔ایک مرضیات دماغی اور دوسری عضویات دماغی۔خصوصاً مرضیات دماغی اسے عروج پر لے گئی۔ اس کتاب میں  اتنی جسارت کی گئی تھی کہ مصنف نے "وحی”کو بھی اس بیماری کا نتیجہ تصور کر لیا۔اور یہ بھی لکھا کہ ممکن ہے اس بیماری میں مبتلا شخص دنیا کے لئے کوئی بڑا کارنامہ کر جائے۔بس یہ پڑھنا تھا کہ عبدالماجد کے دل سے وحی کا تقدس بھی اٹھ گیا۔اور پھر تو وہ سمجھنے لگا کہ (نعوذباللہ )جتنا  بھی قرآن و احادیث ہیں وہ سب حضور ﷺ کے اپنے خیالات تھے۔مغرب کے بہت سے لوگ قرآن کو انسانی تصنیف کہا کرتے تھے وہ بھی اس کا قائل ہو گیا۔
ابھی تو بہت کچھ ہونا باقی تھا ۔والد صاحب حج پر جا رہے تھے تمام عزیز و اقارب کے ساتھ وہ بھی انہیں حج پر بھیجنے گیا دل میں سوچ رہا تھا کہ یہ کون سا رونے کا موقع ہے وہ والد صاحب کے آنے پر گلے مل لے گا اور ویسے بھی وہ حج کو عبادت کا درجہ بھی دینے سے منکر تھا ۔مگر اللہ کا کرنا ایسا ہوا کہ عبدالقادر صاحب کا وہیں حج پر انتقال ہو گیا ۔
اسی سال بی اے میں اسے کامیابی ملی ۔کالج میں ایم اے (فلسفہ)کا انتظام نہ تھا وہ علی گڑھ چلا گیا۔ایم اے او کالج میں اس نے فلسفہ میں داخلہ لے لیا۔کالج کو اب تک یورنیورسٹی کا درجہ نہ مل سکا تھا۔امتحانات الٰہ آباد یورنیورسٹی کے تحت امتحانات ہوا کرتے تھے ۔اس بار بد قسمتی سے وہ امتحان میں ناکام رہا،سو دلّی کا رخ کیا اور سینٹ اسٹیفنز کالج میں داخل ہوا۔جہاں پروفیسر شارپ جیسا فلسفہ کا استاد موجود تھا مگر والد کے انتقال کی بناء پر معاشی بحران پیدا ہو چکا تھا ۔زندگی بھر کا جمع کیا پیپلز بینک میں رکھوایا گیا تھا ایک دن خبر آئی بینک دیوالیہ ہوگیا ہے ساری پونجی ڈوب گئی۔ اب تعلیم چھوڑ معاش کی فکر میں لگ گئے۔
پہلا خیال اپنا مادر علمی کیتگ کالج کا آیا وہاں فلسفہ کی اسامی خالی تھی۔مولانا شبلی کا سفارشی خط بھی ہمراہ لیا جو پہلے ہی لکھنؤ میں موجود تھی۔ اور اس کے "الحاد” کے باوجود اور یہ خیال کئے بغیر کہ "الکلام”پر تنقید بھی اس ی کے قلم سے نکلی تھی محض اس کے علم و فضل کو مدّ نظر رکھ کر ایک پر زور خط لکھ ہی دیا۔
قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا کہ کالج کے پرنسپل  ڈاکٹر کیمرون بھی اس سے خوش تھے ،مگر اس کی قابلیت کے باوجود اس کے پاس مطلوبہ ڈگری نہ تھی۔سو وہاں مایوسی ہی ملی۔
ایک بار پھر قلم کا سہارا لے کر اردو کے 2ماہناموں "ادیب”(الٰہ آباد) اور "الناظر” میں مضامین لکھنا شروع کئے۔کچھ معاوضہ ملا مگر نا کافی تھا ۔اسی دوران پوسٹ آفس اور ریلوے میں افسر گریڈ کے لئے کوششیں بھی کیں مگر ناکامی کا سامنا ہوا۔
مولانا شبلی ان کی بے روزگاری کو دیکھ رہے تھے ان دنوں "سیرت انبیﷺ” پر کام کررہے تھے ایسے آدمی کی تلاش بھی تھی جو انگریزی ماخذات کی تلاش میں ان کی مدد کر سکے 50روپے ماہوار پر انہیں مامور کرلیا،مگر ان کی الحاد پرستی اب کسی سے چھپی نہ تھی لوگوں کو اعتراض ہوا کہ ایک مرتد سیرت محمدی ﷺ پر کام کر رہا ہے بیگم بھوپال کو شکایت لکھ بھیجی گئی جو کہ شبلی کی سیرت نگاری میں مالی اعانت کر رہی تھیں ان کے حکم پر ماجد کو سیرت اسٹاف سے الگ کرنا پڑا۔
مولانا شبلی  کے علاوہ ہندوستان بھر کے اہم ادیبوں سے بھی ان کے مراسم قائم ہو چکے تھے ان میں سے اکبر الٰہ آبادی اور حسن نظامی بھی ان کی بے روزگاری کی وجہ سے فکر مند تھے اس کے لئے پنجاب یورنیورسٹی  میں اردو کے استاد کی جگہ خالی تھی اس سلسلے میں بھی بات کی گئی مگرناکامی مقدر لکھ دی گئی تھی،سو ملازمت نہ مل سکی۔
شیخ محمد یوسف الزماں آنریری مجسٹریٹ تھے۔اور عبدالقادر صاحب مرحوم سے قرابت داری بھی تھی ۔ان کی صاحبزادی عفت النساء کی ٹانگوں میں شدید درد رہنے لگا جو کسی طرح ختم ہونے ہی نہ آتا تھا، ہر حکیم و ڈاکٹر کو آزما لیا ۔ان کے بیٹے شیخ مسعود الزماں نے ایک دن یوسف صاحب سے عبدالماجد سے علاج کی درخواست کی یوسف صاحب حیران ہوئے کہ وہ کب سے ڈاکٹر ہوئے؟جواب ملا کہ وہ علم تنویم کے ماہر بھی ہیں ۔(یہ ایک نفسیاتی علاج ہوتا ہے جس مین مریض یا مریضہ کو یہ احساس دلایا جاتا ہے کہ وہ بیمار نہیں ہے)اجازت مل گئی اور عبدالماجد ایک شام انگریزی لباس میں وہاں پہنچ گئے۔دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا اور پہلی ہی ملاقات میں پسند کر لیا ۔چند روز علاج چلتا رہا اور عفت بھلی چنگی ہو گئی۔لیکن عبدالماجد مریض ہوگیا۔عبدالماجد عفت النساء سے محبت کرنے لگا تھا۔
غیر کا گھر تو تھا نہیں کہ آنے جانے پر پابندی ہوتی یا کوئی پردہ ہوتا ،مزید یہ کہ مسعود الزماں انٹرمیڈیٹ سے اس کے ہم جماعت تھے جبکہ مجسٹریٹ صاحب بھی اس کے خالہ زاد تھے۔بلا تکلف آنا جانا ہوتا تھا باتوں میں عفت بھی شرکت کر لیا کرتی تھی ۔آتش عشق بڑھی تو عبدالماجد شاعر بھی بن گیا غزلوں پر غزلیں ہونے لگیں ۔ان کچھ دنوں کے لئے وہ نہ مسلمان تھا نہ ملحد بس عاشق بن گیا تھا ۔
کچھ غزلیں جمع ہوئیں تو سوچا کہ اکبر الٰہ آبادی کو دکھا دیں ۔اکبر کی جانب سے حوصلہ افزا جواب آیا تو دوسری غزل روانہ کی جس کا شعر تھا:
جانبازیوں کو خبط سے تعبیر کر چلے
تم یہ تو خوب عشق کی توقیر کر چلے
اکبر نے خوب داد دی کو خوشی اور تعجب کا اظہار کیا ۔
عفت کو اکثر غزلیں سنائی جاتیں تو وہ شرما سی جاتیں اور داد بھی دیتیں۔دونوں کو عبدالماجد کی ملازمت کا انتظار تھا کہ ملازمت ہو اور وہ ایک ہو سکیں۔
اسی عشق کے نشے میں ایک دن ان کی نگاہ ہاتھ گدوانے والے پر پڑی اور ہ آستین الٹ کر بیٹھ گیا۔انگریزی میں "عفت”ہاتھ پر گدوا لیا اور ساتھ میں ایک بڑا سا گلاب کا پھول بھی۔
عفت نے دیکھا تو کہا کہ اس کی تو اسلام میں ممانعت ہے ،گناہ ہے گناہ۔ جواب میں عبدالماجد نے کہ کہ میں ان فرسودہ باتوں کو نہیں مانتا۔ بات آئی گئی ہو گئی۔
محبت میں دیوانگی کی حد عبدالماجد ضرور چھو رہا تھا مگر اپنے علمی مرتبے سے بھی غافل نہ تھا۔اس کی 2 کتابیں ۔”سائکالوجی آف لیڈر شپ "اور "فلسفہ اجتماع "آگے پیچھے شائع ہوئیں۔اس نے ان کتابوں میں یہ جسارت کی کہ پیغمبران عظام پر تعریضات کی تھیں اور ان پر خود غرضی کے الزامات لگائے تھے۔
یہ ایسی جسارت تھی کہ اخبارات و رسائل خاموش نہ رہ سکے۔ایک ہنگامہ برپا ہو گیا۔مخالفانہ تبصرے شائع ہوتے چلے گئے۔سب سے اہم فتویٰ وہ تھا جو احمد رضا خان بریلوی کی جانب سے شائع ہوا اور عبدالماجدکو کافر قرار دیا گیا۔اس کے ساتھ ہی بہت سے فتوے اس کی عدم تکفیر میں بھی شائع ہوئے۔جن میں مولانا عبدالباری فرنگی  محلی ، سید سلمان ندوی اور مولانا شیر علی جیسے جید نام بھی تھے۔
وہ حضرات یہ سمجھتے تھے کہ عبدالماجد غلط راستے پر پڑ گیا ہے اگر نرمی کا برتاؤ کیا جائے تو جلد ہی راستے پر آجائے گا اگر سختی کی گئی تو مزید ضد پر آجائے گا ۔علما کا یہ برتاؤ اس بات کا ثبوت تھا کہ وہ عبدالماجد کی علمی وقعت کے قائل ہیں۔وہ دھیرے دھیرے نرمی کے ساتھ اسے اسلام کی طرف لانا چاہ رہے تھے۔اس کے ساتھیوں کو اس سے بڑی محبت تھی ان میں مہدی افادی بھی شامل تھے۔وہ اسے محافظ عقلیات کے لقب سے یاد کیا کرتے تھے اس کی ان کتابوں سے انہیں بھی دکھ ہوا تھا۔
اس کی ان کتابوں کی وجہ سے اس کے خاندان میں بھی چہ مگویاں بڑھ گئی تھیں ماں نے یہ حل سمجھا کہ اس کی شادی کر دی جائے ۔حالانکہ ابھی تک ملازمت کا معاملہ حل نہ ہوا تھا۔
اس وقت معاشرے میں بچپن کی شادی اور منگنی کا رواج تھا عبدالماجدکی نسبت بھی 7-8سال کی عمر میں اپنے حقیقی چچا زاد سے طے ہو چکی تھی۔اب بڑے چاہتے تھے کہ شادی جلد از جلد ہو مگر اب عفت درمیان میں تھی عفت کا پلّہ بھی بھاری تھا کہ پڑھی لکھی معاشرت سے واقف کار ،آنریری مجسٹریٹ کی بیٹی  الکھنؤ کی رہنے والی ور سب سے بڑھ کر اس کی محبت جبکہ منگیر دریا باد جیسے فرسودہ ماحول کی رہنے والی۔
سب کے سامجھانے کے باوجود بھی عبدالماجد نہ مانا اور بالآخر طرفین کو اس کی ضد کے آگے ہار ماننی پڑی اور 2جون1916؁ کو اس کا نکاح لکھنؤ میں انجام پا گیا۔
ممتاز شعرانے تاریخیں نکالیں اور سہرے لکھے۔
لایا ہے پیام یہ خوشی کا قاصد
نوشاہ بنے ہیں آج عبدالماجد
وہ روز سعید بھی خدا لائے جلد
بن جائیں جب وہ کسی کے والد ماجد
——–
منکر ہو نہ کوئی اپنی ہمتائی کا
یہ کام کبھی نہیں ہے دانائی کا
اللہ نے اب غرور ان کا توڑا
دعویٰ تھا مرے دوست کو یکتائی کا
(سید سیلمان ندوی)
ماجد کی اہلیہ کا تعلق سندیلہ کے مشہور خاندان دیوان جی سے تھا ۔اس کے خسر اپنی ثروت کی بناء پر "نوٹوں والے”کے نام سے جانے جاتے تھے۔اب شادی کے بعد محبوب بیوی کی آسائش و آرام کی فکر لاحق ہوئی اور ملازمت کے لئے تگ و دو شروع کر دی۔اب کی بار بیوی کی قسمت بھی ساتھ تھی ۔
علی گڑھ کے صاحبزادہ آفتاب احمد خان نے ان کی کتاب "دی سائیکالوجی آف لیڈر شپ” پڑھ رکھی تھی ،خط لکھ کر علی گڑھ بلوایا ۔ایجوکیشنل کانفرنس کے لٹریری اسسٹنٹ کے طور پر 200روپے ماہوار تنخواپ پر ملازم رکھ لیا۔مسئلہ یہ تھا کہ نئی بیوی سے الگ علی گڑھ میں رہنا تھا فیصلہ گراں تھا پر بیوی نے حوصلہ دیا اور وہ چلا گیا۔
وہاں ہنچ کر محمد علی جوہر کو اطلاع دی نوکری کا احوال بتلایا ۔ محمد علی  کے جوابی خط  نے اسے چوکنا کر دیا ۔اس خط کا مفہوم کچھ یوں تھا کہ آفتاب احمد خان کے ساتھ نباہ کرنا خاصہ مشکل کام ہیں ۔وہ اس سے نوکری کا تجربہ کر چکے ہیں اور نباہ نہ ہو سکا تھا۔محمد علی جوہر کے خط سے صاحبزادہ کے لئے اچھی رائے کا اظہار نہ ہوا اس کا تماشہ خود اس نے بھی دیکھ لیا صاحب زادہ کے مزاج میں سختی اور درشتی تھی بات بات پر الجھ پڑتے تھے۔خود عبدالماجد بھی مزاج کا اکل کھرا تھا۔کسی کی آدھی بات سننے کا حوصلہ نہ تھا جس سرعت سے ملازمت ملی اتنی جلدی چھوٹ بھی گئی۔
انہی دنوں ھیدر آباد میں جامعہ عثمانیہ کےقیام کے لئے تیاریاں جاری تھیں ذریعہ تعلیم اردو ہونا تھا ،کتب کے ترجمہ کے لئے "دارالترجمہ”کا قیام عمل میں آیا بطور اہل علم عبدالماجد کا نام بھی نکل آیا جن کے بیشتر ترجمے داد وصول کر چکے تھے۔
1917؁ میں عبدالماجد حیدر آباد روانہ ہوئے۔اس بار بیوی ہمراہ تھیں۔اور تنخواہ300روپے ماہانہ۔سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا مگر ریاستی سیاست سے ان کا نباہ کرنا مشکل ہو رہا تھا مزید یہ کہ ان کے اور مولوی عبدالحق کے درمیان زبردست شورش پیدا ہو گئی تھی۔یہاں کے ایک اخبار”صحیفہ”نے بھی اس  کو خوب چوکھا رنگ دیا ۔ان کی کتابیں پھر سے تبصرے کی زد میں آگئیں۔فضاایسی خلاف ہو گئی کہ ان پر کفر کا فتویٰ لگا دیا گیا۔وہ اتنی شدید مخالفت کا سامنا نہ کر سکے اور استعفیٰ دے کر واپس آگئے۔
معاشی پریشانی لاحق ہو نی تھی کہ اس وقت دار المصنفین اعظم گڑھ ان کے کام آگیا۔انہوں نے دارالمصنفین کی فرمائش پر انہوں نے جارج برکلے کی مشہور انگریزی کتاب کا ترجمہ”مکالمات برکلے”کے نام سے کیا جو اس خوبی سے ہوا کہ ہمیشہ کے لئے زندہ ہو گیا۔اس کے ساتھ ہی "معارف”کے لئے معاوضے پر لکھنا شروع کر دیا اور گزر بسر ہوتی رہی۔
1919؁ کے اوائل میں ماجد نے نظام حیدر آباد کو وظیفہ علمی کے لئے درخواست دی جس کی ضروری تفصیلات کے لئے انہیں ایک بار پھر سے حیدر آباد جانا پڑا ۔وہاں ان شرائط پر وضیفہ کی منظوری ہوئی کہ وہ سال میں 1تصنیف پیش کیا کریں گےاور اسکے خاکے کا مسودہ محکمہ احتساب کی نظر سے گزارنا ہوگا ،محکمے کی منظوری کے بعد وہ کتاب مکمل کریں گے۔شرائط شائد اسی لئے لگائی گئی ہوں گی کہ عبدالماجدکے الحادی نظریات کو جانچ سکیں ۔
125روپے ماہانا تا حیات منظور ہو گیا جو گھر بیٹھے انہیں ہر ماہ ملنے لگا ۔قیام کی کوئی قید نہ تھی جہاں چاہیں رہ سکتے ہیں۔اس دور میں متعدد ترجمے ان کے قلم سے نکلے جن میں "تاریخ ،تمدّن ، تاریخ اخلاق یورپ”اور ناموران سائنس”بڑی اہم ثابت ہوئیں۔
جاری ہے
Advertisements
2 comments
  1. mdnoor7 said:

    آپ نے محترم جناب اجمل بھوپالی صاحب کے تبصروں کے جواب میں اس کتاب کا لنک فراہم کردیا تھا ،جس سے میں یہ سمجھ بیٹھا کہ لنک فراہم کرنے بعد آپ اس پر مزید نہیں لکھیں گیں ۔ اس لیے میں نے کتاب لنک سے اُٹھائی ،اچّھی لگی ، پوری پڑھ ڈالی ، خاص کر دوسری شادی کی منظر کشی اچّھی لگی ، چونکہ اس میں ایک مرد اور ایک عورت کی سائکی کی بھر پور عکاسی ملتی ہے ۔۔۔ اسکے علاوہ کتاب سے اس عام تاثر کو بھی مزید تقویت ملی کہ مفکروں کی لکھی کتابیں انسانی خیالات کو تبدیل کردیتی ہیں۔۔۔(ایم۔ ڈی)۔

    • اچھی بات ہے نور صاحب کہ آپ نے کتاب پڑھ لی
      لنک میں نے اس لئے دیا تھا کہ کوئی اسے من گھڑت یا ایک جھوٹی کہانی نہ سمجھ بیٹھے
      اور ان شاء اللہ کہانی مکمل کروں گی اور ایسی ہی کئی مزید کہانیاں آپ لوگوں کی خدمت میں پیش کرنے کا ارادہ ہے بشرط آپ کی پسند و دلچسپی اور میری زندگی و مستقل مزاجی

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: