تحریک آذادی میں علماء کا کردار


1918؁ کا زمانہ تھا۔انگریزترکی کی سلطنت کے ٹکڑے ٹکڑے کردینا چاہتے تھے۔شیخ الہندؒ  مولانا محمود الحسن ؒ  نے محسوس کیا کہ اس وقت درسگاہ سے زیادہ سیاست کا میدان اہم ہے۔چنانچہ دارالعلوم دیو بند سے مستعفی ہو کر انہوں نے ریشمی رومال کی تحریک میں زبردست حصہ لیا۔
وہ مسلم طاقتوں سے مل کر ہندوستان میں انگریزوں کا تختہ الٹ دینا چاہتے تھے۔ اس اسکیم کی آخری کڑی یہ تھی کہ ترکی کے غازی انور بے  مکہ مکرمہ آئیں گے اور وہاں شیخ الہند کے ساتھ آخری منصوبہ طے ہو گا۔انگریزوں پر یہ راز کسی طرح کھل گیا۔انہوں نے شریف مکہ کے ذریعے شیخ الہند کو گرفتار کر کہ4سال کے لئے مالٹا بھیج دیا ،
اسیری کے بعد شیخ الہند دوبارہ تشریف لائے مگر زندگی نے زیادہ دیر وفا نہ کی اور آپ خالق حقیقی سے جا ملے ۔ ان کی زمانے کی سیاست کا جھنڈا مسلمانوں کے ہاتھ میں تھا اور کانگریس ان کے پیچھے ہاتھ باندھ کر چلا کرتی تھی،لیکن حالات کی تبدیلی کے ساتھ  معاملات بدلتے چلے گئے اور 1935؁کے آخر میں نوبت یہاں تک آگئی کہ سیاست کا علم ہندو کانگریس کے ہاتھ میں اور مسلمان اس کے پیچھے پیچھے چل رہے تھے۔(ماخوذ )
Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: