اجزائے قرآن کا تعارف : آیات

قرآنی سورتوں کے وہ خاص مقدار کے ٹکرے جن کی حد بندی برہ راست اللہ کی جانب سے ہوئی ہے، آیات قرآنے کہلاتی ہیں۔مقدار کے لحاظ سے قرآنی آیات میں بھی تفاوت ہے۔بعض آیات مختصر ہیں اور بعض طویل ۔ہر آیت کا پورا جملہ ہونا ضروری نہیں ہے،اکثر آیات ایسی ہی ہیں ،لیکن بعض آیات اتنی مختصر ہیں کہ ان اس طرح کی کچھ آیات ملنے سے ہی جملہ مکمل ہوتا ہے۔قرآن مجید میں آیات کا لفظ درج ذیل معنوں میں استعمال ہوا ہے۔
عبرت و استدلال جیسے فقد کان لکم آیۃ فی فئتین التقتا (آل عمران:13)
نشانی جیسےفیہ آیات بینات مقام ابرہیم (آل عمران:51)
کلام اللہ  جیسےاذاتتلی علیھم آیات الرحمٰن (مریم:58)
معجزہ  جیسے وقالو الولاانزل علیہ آیۃ من ربہ (عنکبوت:50)
دلائل حقہ جیسے وفی الارض آیات للموقنین (الذریات :20)
(البرہان علوم القرآن :جلد 1،صفحہ127)
آیت کی اصطلاحی تعریف  کچھ یوں ہے:
قرآن کی کسی صورت میں شامل وہ ٹکڑا ہے جو مطلع و مقطع رکھتا ہے۔(دراسات فی علوم القرآن صفحہ 127)
زمانہ نزول کے اعتبار سے آیات کی 2قسمیں ہیں 1۔مکی اور 2۔مدنی
قبل از ہجرت نازل ہونے والی آیات کو مکّی اور بعد از ہجرت جو بھی صورت چاہے کو مکّہ میں نازل ہی کیوں نہ ہوئی ہو یا کسی اور مقام پر آیات مدنی کہلاتی ہیں۔
تقسیم آیات کی حکمتیں
یہ اس بات کا اظہار کرتی ہیں کہ قرآن کی چھوٹی 3آیات بھی معجزہ ہیں جیسے سورہ کوثر
آیات کی اس پہچان پر بعض احکام فقہیہ مرتب ہوتے ہیں۔(الاتقان :جلد 1صفحہ69)
نماز کی مسنون قرات کی پہچان معرفت آیات کے بغیر ممکن نہیں۔
(یعنی آیات کی پہچان مقصود ہےاچھی قرات والوں ک کے لئے)

Advertisements
8 comments
  1. mahmood said:

    السلام علیکم
    محترمہ آپ نے شائد غور نہیں کیا کہ آپ کی پوسٹ کے نیچے ” کتے ” کی ویڈیو چل رہی ہے ۔ برائے مہربانی اسے ڈیلیٹ کر دیں ۔ کیونکہ آپ اسلامی موضوعات پر لکھتی ہیں ۔ اشتہارات میں کچھ بھی آ سکتا ہے ۔

    • میرے پاس کوئی ویڈیو دکھائی نہیں دے رہی
      اور اشتہارات بھی نہیں ہیں

  2. mahmood said:

    میرے درج بالا کمنٹس کے بعد وہ ویڈیو نظر نہیں آ رہی ۔ اس پر ایڈورٹائزمنٹ لکھا تھا ۔ آپ اپنے بلاگ میں دیکھیں کہیں کوئی آپشن تو نہیں کھلا رہ گیا ۔ اور میرے کمنٹس کو یہیں ختم کر دیں ۔شکریہ

    • اشتہارات شائد میرے بس میں نہیں یا مجھے ٹھیک کرنا نہیں آتے کچھ کرتی ہوں اس سلسلے میں بھی

  3. اس فقرے کی سمجھ نہيں آئی
    ۔” نماز کی مسنون قرات کی پہچان معرفت آیات کے بغیر ممکن نہیں”۔

    آيت کا مطلب نشانی ہے ۔ اسی تعلق سے اللہ کی کتا ” قرآن ” کے ہر جملہ کو آيت کہا گيا ہے کہ يہ اللہ کی نشانياں ہيں

    • معرفت آیات سے مراد آیا ت سے مراد آیات کی پہچان ہونا ضروری ہے
      مجھے ابھی زیر و زبر کی مشق ٹھیک سے نہیں ہو پا سکی ہے

      زیر لگانے میں کاہلی و کنجوسی کے باعث شرمندہ ہوں

  4. haerul hadi said:

    Assalamulaikum…

    hai sister…
    greetings and love from indonesia

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: