قرآن کہانی:حضرت نوح عليہ السلام (حصہ آخر)

پسر نوح كا درد ناك انجام
پسر نوح عليہ السلام ايك طرف اپنے باپ سے الگ كھڑا تھا نوح عليہ السلام نے پكارا: ”ميرے بيٹے،ہمارے ساتھ سوارہوجائو اور كافروں كے ساتھ نہ ہوورنہ فناہوجائوگے ”۔( سورت ہو دآيت43)
پيغمبر بزر گوارحضرت نوح عليہ السلام نے نہ صرف باپ كى حيثيت سے بلكہ ايك انتھك پر اميد مربى كے طور پر آخرى لمحے تك اپنى ذمہ دارى سے دست بردارى نہ كى ،اس اميدپر كہ شايد ان كى بات سنگدل بيٹے پر اثر كرجائے ليكن افسوس كہ برے ساتھى كى بات اس كے لئے زيادہ پرتاثير تھى لہذا دلسوز باپ كى گفتگو اپنا مطلوبہ اثر نہ كرسكي، وہ ہٹ دھرم اور كوتاہ فكر تھا اسے گمان تھا كہ غضب خداكا مقابلہ بھى كيا جاسكتا تھا اس لئے اس نے پكار كركہا :” اباميرے لئے جوش ميں نہ آئو ميں عنقريب پہاڑپر پناہ لے لوںگا جس تك يہ سيلاب نہيں پہنچ سكتا”۔( سورت ہو دآيت43)
نوح عليہ السلام پھربھى مايوس نہ ہوئے دوبارہ نصيحت كرنے لگے كہ شايد كوتاہ فكر بيٹا غرور اور خود سرى كے مركب سے اترآئے اور راہ حق پرچلنے لگے۔انہوں نے كہا :”ميرے بيٹے آج حكم خدا كے مقابلے ميں كوئي طاقت پناہ نہيں دے سكتى ،نجات صرف اس شخص كے لئے ہے رحمت خدا جس كے شامل حال ہو ”۔
( سورت ہو دآيت43) پہاڑتو معمولى سى چيزہے خود كرہ ارض بھى معمولى سى چيز ہے سورج اور تمام نظام شمسى اپنے خيرہ كن عظمت كے باوجود خدا كى قدرت لايزال كے سامنے ذرئہ بے مقدار سے زيادہ حيثيت نہيں ركھتا۔
اسى دوران ايك موج اٹھى اور آگے آئي،مزيد آگے بڑھى اور پسر نوح كو ايك تنكے كى طرح اس كى جگہ سے اٹھايا اوراپنے اندر درہم برہم كرديا،”اور باپ بيٹے كے درميان جدائي ڈال دى اور اسے غرق ہونے والوں ميںشامل كرديا ”
۔( سورت ہو دآيت43)
اے نوح عليہ السلام تمہارا بيٹا تمہارے اہل سے نہيں ہے
جب حضرت نوح عليہ السلام نے اپنے بيٹے كو موجوں كے درميان ديكھا تو شفقت پدرى نے جوش مارا انہيں اپنے بيٹے كى نجات كے بارے ميں وعدہ الہى ياد آيا انہوں نے درگاہ الہى كا رخ كيا اور كہا :”پروردگار ا ميرا بيٹا ميرے اہل اور ميرے خاندان ميں سے ہے اور تو نے وعدہ فرماياتھا كہ ميرے خاندان كو طوفان اور ہلاكت سے نجات دے گا اور تو تمام حكم كرنے والوں سے برترہے اور تو ايفائے عہد كرنے ميں محكم ترہے ”۔( سورت ہو دآيت45)
يہ وعدہ اسى چيز كى طرف اشارہ ہے جو سورت ہود ميں موجود ہے جہاں فرمايا گيا ہے :
”ہم نے نوح عليہ السلام كو حكم ديا كہ جانوروں كى ہر نوع ميں سے ايك جوڑا كشتى ميں سوار كرلو اور اسى طرح اپنے خاندان كو سوائے اس شخص كے جس كى نابودى كے لئے فرمان خدا جارى ہوچكا ہے ”
۔( سورت ہو دآيت40)
حضرت نوح عليہ السلام نے خيال كيا كہ ”سوائے اس كے كہ جس كى نابود ى كے لئے فرمان خدا جارى ہوچكا ہے ،اس سے مرادصرف ان كى بے ايمان اور مشرك بيوى ہے اور ان كا بيٹا كنعان اس ميں شامل نہيں ہے لہذاانہوں نے بارگاہ خداوندى ميں ايسا تقاضاكيا ليكن فورا ًجواب ملا (ہلادينے والا جواب اور ايك عظيم حقيقت واضح كرنے والا جواب )”اے نوح وہ تيرے اہل اور خاندان ميں سے نہيں ہے ،بلكہ وہ غيرصالح عمل ہے”
۔(سورت ہو دآيت46)
وہ نالائق شخص ہے اور تجھ سے مكتبى اور مذہبى رشتہ ٹوٹنے كى وجہ سے خاندانى رشتے كى كوئي حيثيت نہيں رہي۔
”اب جبكہ ايسا ہے تو مجھ سے ايسى چيزكا تقاضانہ كر جس كے بارے ميں تجھے علم نہيں ،ميں تجھے نصيحت كرتا ہوں كہ جاہلوں ميں سے نہ ہوجا ”
۔(سورت ہو دآيت46)
حضرت نوح عليہ السلام سمجھ گئے كہ يہ تقاضا بارگاہ الہى ميں صحيح نہ تھا اور ايسے بيٹے كى نجات كو خاندان كى نجات كے بارے ميں خدا كے وعدے ميں شامل نہيں سمجھنا چاہئے تھا لہذا آپ نے پروردگار كا رخ كيا اور كہا :
”پروردگار ا : ميں تجھ سے پناہ مانگتا ہوں اس امر سے تجھ سے كسى ايسى چيز كى خواہش كروں جس كا علم مجھے نہيں ،اور اگر تو نے مجھے نہ بخشا اور اپنى رحمت ميرے شامل حال نہ كى تو ميں زياں كاروں ميں سے ہوجائوںگا ”۔
(سورت ہو دآيت47)
اس داستان كا اختتام
آخركار پانى كى ٹھاٹھيںمارتى ہوئي لہروںنے تمام جگہوں كو گھيرليا پانى كى سطح بلند سے بلند تر ہوتى چلى گئي جاہل گنہگاروںنے يہ گمان كيا كہ يہ ايك معمولى سا طوفان ہے وہ اونچى جگہوں اور پہاڑوں پر پناہ گزين ہو جائيںگے، ليكن پانى ان كے اوپر سے بھى گزر گيا اور تمام جگہيںپانى كے نيچے چھپ گئيں ان طغيان گروں كے جسم ،ان كے بچے كچے، گھراور زندگى كا سازوسامان پانى كى جھاگ ميں نظر آرہا تھا۔
حضرت نوح عليہ السلام نے زمام كشتى خدا كے ہاتھ ميں دى موجيں كشتى كوادھر سے ادھرلےجاتى تھيں روايات ميں آيا ہے كہ كشتى پورے چھ ماہ سرگرداںرہى يہ مدت ابتدائے ماہ رجب سے لے كر ذى الحجہ كے اختتام تك تھى ايك اورروايت كے مطابق دس رجب سے لے كر روزعاشورہ تك كشتى پانى كى موجوں ميں سرگرداں رہي۔
اس دوران كشتى نے مختلف علاقوں كى سيركى يہاں تك كہ بعض روايات كے مطابق سرزمين مكہ اور خانہ كعبہ كے اطراف كى بھى سيركي، آخر كارعذاب كے خاتمے كا اور زمين كے معمول كى حالت ميں لوٹ آنے كا حكم صادر ہوا ،قران ميںاس فرمان كى كيفيت ،جزئيات اور نتيجہ بہت مختصر مگرانتہائي عمدہ اور جاذب وخوبصورت عبارت ميں چھ جملوںميں بيان كيا گيا ہے : پہلے ارشاد ہوتا ہے :”حكم دياگيا كہ اے زمين:اپنا: پانى نگل جا،اورآسمان كو حكم ہوا’اے آسمان ہاتھ روك لے،،۔
”پانى نيچے بيٹھ گيا ”
”اوركام ختم ہوگيا”
”اوركشتى كو ہ جو دى كے دامن سے آلگي”۔
”اس وقت كہا گيا : دور ہوظالم قوم ”
۔( سورت ہودايت 44)
مندر جہ بالا قرآنى تعبيرات مختصر ہوتے ہوئے بھى نہايت مو ثراوردلنشين ہيں ،يہ بولتى ہوئي زندہ تعبيرات ہيں اورتمام ترزيبائي كے باوجود ہلا دينے والى ہيںبعض علماء عرب كے بقول مذكورہ آيت قرآن ميں سے فصيح ترين اوربليغ ترين آيت ہے۔( روايات اور تو اريخ ميں اس كى شہادت موجود ہے، لكھا ہے : كچھ كفارقريش قرآن سے مقابلے كے لئے اٹھ كھڑے ہوئے انہوں نے مصمم ارادہ كرليا كہ قرآنى آيات جيسى كچھ آيات گھڑيں ان سے تعلق ركھنے والوں نے انہيں چاليس دن تك بہترين غذائيں مہيا كيں ،مشروبات فراہم كيے اور ان كى ہر فرمائشے پورى كى خالص گندم كا ميدہ ،بكرے كا گوشت ،پرانى شراب غرض سب كچھ انہيں لاكر ديا تا كہ وہ آرام وراحت كے ساتھ قرآنى آيات جيسے جملوں كى تركيب بندى كريں ليكن جب وہ مذكورہ آيت تك پہنچے تو اس نے انہيں اس طرح سے ہلاكر ركھ ديا كہ انہوں نے ايك دوسرے كى طرف ديكھ كركہا كہ يہ ايسى گفتگو ہے كوئي كلام اس سے مشا بہت نہيں ركھتا ،يہ كہہ كر انہوں نے اپناہ ارادہ ترك كرديا اور مايوس ہوكر ادھر ادھرچلے گئے۔)
كوہ جودى كہاں ہے ؟
بہت سے مفسرين نے كہا ہے كہ كو ہ جو دى جس كے كنارے كشتى نوح عليہ السلام آكر لگى تھى اور جس كا ذكر قرآن ميں آيا ہے وہى مشہور پہاڑہے جو موصل كے قريب ہے ،بعض دوسرے مفسرين نے اسے حدود شام ميں يا ” آمد ” كے نزيك يا عراق كے شمالى پہاڑسمجھا ہے۔
كتاب مفردات راغب نے كہا ہے كہ يہ وہ پہاڑ ہے جو موصل اور الجزيرہ كے درميان ہے ”الجزيرہ” شمالى عراق ميں ايك جگہ ہے اور يہ ”الجزائر”يا ”الجزيرہ ”نہيں جو آج كل مشہور ہے ،بعيد نہيں كہ ان سب كى بازگشت ايك ہى طرف ہو كيونكہ موصل ،آمد اور الجزيرہ سب عراق كے شمالى علاقوں ميں ہيں اور شام كے نزديك ہيں۔بعض مفسرين نے يہ احتمال ظاہر كيا ہے كہ جودى سے مراد ہر مضبوط پہاڑ اور محكم زمين ہے، يعنى كشتى نوح ايك محكم زمين پر لنگر انداز ہوئي جو اس كى سواريوں كے اترنے كے لئے مناسب تھى ليكن مشہور معروف وہى پہلا معنى ہے۔
حضرت نوح عليہ السلام باسلامت اترآئے
حضرت نوح عليہ السلام اور ان كى سبق آموزسرگزشت كے بارے ميں يہ آخرى حصہ ہے ہيں ان ميں حضرت نوح عليہ السلام كے كشتى سے اترنے اور نئے سرے سے روئے زمين پر معمول كى زندگى گزارنے كى طرف اشارہ كيا گيا ہے۔
قرآن ميں ارشاد ہوتا ہے :” نوح عليہ السلام سے كہا گيا كہ سلامتى اور بركت كے ساتھ جو ہمارى طرف سے تم پر اور تمہارے ساتھيوں پر ہے، اترآئو”۔
( سورت ہو دآيت48)
اس ميں شك نہيںكہ ”طوفان ”نے زندگى كے تمام آثار كو درہم برہم كردےا تھا فطرى طور پر آباد زمينيں،لہلہاتى چراگا ہيں اور سرسبز باغ سب كے سب ويران ہوچكے تھے اس موقع پر شديد خطرہ تھا كہ حضرت نوح اور ان كے اصحاب اور ساتھى زندگى گزارنے اور غذا كے سلسلے ميں بہت تنگى كا شكار ہوںگے۔ليكن خدا نے ان مومنين كو اطمينان دلايا كہ بركات الہى كے دروازے تم پر كھل جائيں گے اور زندگى اور معاش كے حوالے سے تمہيں كوئي پريشانى لاحق نہيں ہوگي۔
علاوہ ازيں ممكن تھا كہ حضرت نوح اور ان كے پيروكاروں كو اپنى سلامتى كے حوالے سے يہ پريشانى ہوتى كہ طوفان كے بعد باقى ماندہ ان گندے پانيوں ،جو ہڑوں اور دلدلوں كے ہوتے ہوئے زندگى خطرے سے دوچار ہوگى لہذا خدا تعالى اس سلسلے ميں بھى انہيں اطمنان دلاتا ہے كہ تمہيں كسى قسم كا كوئي خطرہ لاحق نہيں ہوگا اور وہ ذات جس نے ظالموں كى نابودى كے لئے طوفان بھيجا ہے اہل ايمان كى سلامتى اور بركت كے لئے بھى ماحول فراہم كرسكتى ہے۔
اس بناء پر جس طرح حضرت نوح اور ان كے ساتھى پروردگار كے لامتناہى لطف وكرم كے سائے ميںطوفان كے بعد ان تمام مشكلات كے باوجود سلامتى وبركت كے ساتھ جيتے رہے ،اسى طرح مختلف قسم كے جانور جو حضرت نوح كے ساتھ كشتى سے اترے تھے خدا كى طرف سے سلامتى وحفا ظت كے ساتھ اور اس كے لطف وكرم كے سائے ميں زندگى بسر كرتے رہے۔
كيا طوفان نوح عليہ السلام عالمگير تھا ؟
قرآنى بہت سى آيات كے ظاہر سے معلوم ہوتا ہے كہ طوفان نوح كسى خاص علاقے كے لئے نہ تھابلكہ پورى زمين پر رونما ہوا تھا كيونكہ لفظ ”ارض ”(زمين)مطلق طور پر آيا ہے :
”خداوندا روئے زمين پر ان كافروں ميں سے كسى كو زندہ نہ رہنے دے كہ جن كے بارے ميں اصلاح كى كوئي اميد نہيں ہے ”۔
( سورت نوح ايت 26)
اسى طرح سورت ہود ميں ارشاد ہوتا ہے: ”اے زمين اپنا پانى نگل لے ”۔
( سورت ہود آيت44)
بہت سى تواريخ سے بھى طوفان نوح عليہ السلام كے عالمگير ہونے كى خبر ملتى ہے اسى لئے كہا جاتاہے كہ موجودہ تمام نسليں حضرت نوح عليہ السلام كے تين بيٹوں حام،سام اور يافث كى اولاد ميں سے ہيں جو كہ زندہ بچ گئے تھے۔
طبيعى تاريخ بھى سيلابى بارشوں كے نام سے ايك دور كا پتہ چلتاہے اس دور كو اگر لازمى طور پرجانداروں كى پيدائشے سے قبل سے مربوط نہ سمجھيں تو وہ بھى طوفان نوح پر منطبق ہوسكتا ہے۔( زمين كى طبيعى تاريخ ميں يہ نظر يہ بھى ہے كہ كرہ زمين كا محور تدريجى طور پر تغير پيدا كرتا ہے يعنى قطب شمالى اور قطب جنوبى خطّ استوا ميں تبديل ہوجاتے ہيں اور خط استوا قطب جنوبى كى جگہ لے ليتا ہے، واضح ہے كہ جب قطب شمالى وجنوبى ميں موجود بہت زيادہ برف پگھل پڑے تو دريائوں اور سمندروں كے پانى كى سطح اس قدر اوپر آجائے گى كہ بہت سى خشكيوں كو اپنى لپيٹ ميں لے لے گى اور پانى زمين ميں جہاں جہاں اسے گنجائشے ملے گى ابلتے ہوئے چشموںكى صورت ميں نكلے گا، پانى كى يہى وسعت بادلوں كى تخليق كا سبب بنتى ہے اور پھر زيادہ سے زيادہ بارشيں انہى بادلوں سے ہوتى ہيں
يہ امر كہ حضرت نوح نے زمين كے جانوروں كے چند نمونے بھى اپنے ساتھ لئے تھے طوفان كے عالمگير ہونے كا مو يد ہے۔
طوفان كے ذريعے سزا كيوں دى گئي ؟
يہ صحيح ہے كہ ايك فاسداور برى قوم كو نابود ہونا چاہئے ،چاہے وہ كسى ذريعے سے نابودہو، اس سے فرق نہيں پڑتا ليكن آيات قرآنى ميں غور كرنے سے پتہ چلتا ہے كہ عذاب و سزا اور قوموں كے گناہوں ميں ايك قسم كى مناسبت تھى اور ہے ،فرعون نے عظيم دريائے نيل اور اس كے پر بركت پانى كو اپنى قوت وطاقت كا ذريعہ بناركھا تھا يہ با ت جا ذب نظر ہے كہ وہى اس كى نابودى كا سبب بنا
نمرود كو اپنے عظيم ظلم پر بھروسہ تھا اور ہم جانتے ہيں كہ حشرات الارض كے چھوٹے سے لشكر نے اسے اور اس كے ساتھيوں كو شكست دےدي۔ قوم نوح زراعت پيشہ تھى ان كى كثير دولت كا دارومدار زراعت پر ہى تھا
جيسا كہ بہت سى روايات سے معلوم ہوتا ہے كہ حضرت نوح كوفہ ميں رہتے تھے دوسرى طرف بعض روايات كے مطابق طوفان مكہ اور خانہ كعبہ تك پھيلا ہوا تھا تو يہ صورت بھى اس بات كى مو يد ہے كہ طوفان عالمگير تھا۔
ليكن ان تمام چيزوں كے باوجود اس امر كى بھى بالكل نفى نہيں كى جاسكتى كہ طوفان نوح ايك منطقہ كے ساتھ مخصوص تھا كيونكہ لفظ ”ارض ”
(زمين ) كا اطلاق قرآن ميں كئي مرتبہ زمين كے ايك وسيع قطعے پر بھى ہوا ہے جيسا كہ بنى اسرائيل كى سرگزشت ميں ہے : ”ہم نے زمين كے مشارق اور مغارب بنى اسرائيل كے مستضعفين كے قبضے ميں ديئے”(سورت اعراف آيت137)
كشتى ميں جانوروں كوشايد اس بناء پر ركھا گيا ہو كہ زمين كے اس حصے ميںجانوروں كى نسل منقطع نہ ہو خصوصاً اس زمانے ميں جانوروں كا دور دراز علاقوں سے منتقل ہونا كوئي آسان كام نہيں تھا۔ اسى طرح ديگر مذكورہ قرائن اس بات پر منطبق ہوسكتے ہيں كہ طوفان نوح ايك خاص علاقہ ميں آيا تھا۔ يہ نكتہ بھى قابل توجہ ہے كہ طوفان نوح تو اس سركش قوم كى سزا اور عذاب كے طورپر تھا اورہمارے پاس كوئي ايسى دليل نہيں ہے كہ جس كى بنا پر يہ كہا جاسكے كہ حضرت نوح كى دعوت تمام روئے زمين پر پہنچى تھى
اصولى طور پر اس زمانے كے وسائل وذرائع كے ساتھ ايك پيغمبر كى دعوت كا
(اس كے اپنے زمانے ميں ) زمين كے تمام خطوں اور علاقوں تك پہنچنا بعيد نظر آتا ہے بہرحال اس عبرت خيز واقعے كو بيان كرنے سے قرآ ن كا مقصد يہ ہے كہ اس ميں چھپے اہم تربيتى نكات بيان كيے جائيں ، اس سے كوئي فرق نہيں پڑنا چاہيے كہ يہ واقعہ عالمى ہو يا كسى ايك علاقے سے تعلق ركھتا ہو۔
ہم جانتے ہيں كہ ايسے لوگ اپنا سب كچھ بارش كے حيات بخش قطروں كو سمجھتے ہيں ليكن آخر كار بارش ہى نے انہيں تباہ وبر باد كرڈالا۔
جناب نوح عليہ السلام كى بيوي

قرآن مجيد دوبے تقوى عورتوںكى سرنوشت جو دو بزرگ پيغمبر وں كے گھر ميں تھيں ،اور دومومن وايثارگر خواتين كى سرنوشت بيان كرتاہے جن ميں سے ايك تاريخ كے جابرترين شخص كے گھر ميں تھى۔
پہلے فرماتا ہے ”خدا نے كافروں كے لئے ايك مثال بيان كى ہے نوح كى بيوى كى مثال اور لوط كى بيوى كى مثال ” وہ دونوں ہمارے دوصالح بندوں كے ما تحت تھيں ليكن انہوں نے ان سے خيانت كى ليكن ان دو عظيم پيغمبر وں سے ان كے ارتباط نے عذاب الہى كے مقابلہ ميں انھيں كوئي نفع نہيں ديا ”۔
( سورت تحريم آيت 10)
حضرت نوح كى بيوى كا نام ”والھہ” اور حضرت لوط كى بيوى كا نام ”والعة”تھا 1 اور بعض نے اس كے برعكس لكھا ہے يعنى نوح كى بيوى كانام”والعة” اورلوط كى بيوى كا نام ”والھہ” يا ”واہلہ” كہا ہے۔
بہرحال ان دونوں عورتوں نے ان دونوں عظيم پيغمبروں كے ساتھ خيانت كى ،البتہ ان كى خيانت جائدہ عفت سے انحراف ہرگزنہيں تھا كيونكہ كسى پيغمبر كى بيوى ہرگز بے عفتى سے آلودہ نہيں ہوتى جيسا كہ پيغمبر اسلام سے ايك حديث ميں صراحت كے ساتھ بيان ہواہے : ”كسى بھى پيغمبر كى بيوى ہرگز منافى عفت عمل سے آلودہ نہيں ہوئي”۔ حضرت لوط كى بيوى كى خيانت يہ تھى كہ وہ اس پيغمبر كے دشمنوں كے ساتھ تعاون كرتى تھى اور ان كے گھر كے راز انھيں بتاتى تھى اور حضرت نوح كى بيوى بھى ايسى ہى تھى۔
قرآن آخر ميں كہتا ہے: ”اور ان سے كہا گيا كہ تم بھى آگ ميں داخل ہونے والے لوگوں كے ساتھ آگ ميں داخل ہوجائو ”
(سورت تحريم آيت 10)

Advertisements

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | Dars e Nizami Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

I am woman, hear me roar

This blog contains the feminist point of view on anything and everything.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

MAHA S. KAMAL

INTERNATIONAL RELATIONS | POLITICS| POLICY | WRITING

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

%d bloggers like this: