قرآن کہانی:حضرت نوح عليہ السلام (حصہ سوم)


كہاں ہے عذاب ؟
قرآن ميں حضرت نوح عليہ السلام اور ان كى قوم كے درميا ن ہونے والى باقى گفتگو كى طرف اشارہ ہوا ہے قرآن ميں پہلے قوم نوح عليہ السلام كى زبانى نقل ہے كہ انہوں نے كہا :
”اے نوح :تم نے يہ سب بحث وتكراراور مجادلہ كيا ہے اب بس كرو ،تم نے ہم سے بہت باتيں كى ہيں اب بحث مباحثے كى گنجائشے نہيں رہي،”اگرسچے ہو تو خدائي عذابوں كے بارے ميں جو سخت وعدے تم نے ہم سے كئے ہيں انہيں پورا كردكھائو اور وہ عذاب لے آئو’
۔ سورت ہو دآيت32
يہ بعينہ اس طرح سے ہے كہ ايك شخص ياكچھ اشخاص كسى مسئلے كہ بارے ميں ہم سے بات كريں اور ضمناََہميں دھمكياں بھى ديں اور كہيں كہ اب زيادہ باتيں بند كرو اور جو كچھ تم كرسكتے ہو كرلو اور دير نہ كرو ،اس طرف اشارہ كرتے ہوئے كہ ہم نہ تو تمہارے دلائل كو كچھ سمجھتے ہيں نہ تمہارى دھميكوں سے ڈرتے ہيں اور نہ اس سے زيادہ ہم تمہارى بات سن سكتے ہيں۔ انبيا ء الہى كے لطف ومحبت اور ان كى وہ گفتگو جو صاف وشفاف اور خوشگوار پانى كى طرح ہو تى ہے اس طرزعمل كا انتخاب انتہائي ہٹ دھرمى تعصب اور جہالت كى ترجمانى كرتا ہے۔
قوم نوح عليہ السلام كى اس گفتگو سے ضمناً يہ بھى اچھى طرح سے واضح ہوتاہے كہ آپ نے ان كى ہدايت كے لئے بہت طويل مدت تك كوشش كى اور انہيں ارشاد وہدايت كے لئے آپ نے ہرموقع سے استفادہ كيا، آپ نے اس قدر كوشش كى كہ اس گمراہ قوم نے آپ كى گفتار اور ارشادات پر اكتاہٹ كا اظہار كيا۔
حضرت نوح عليہ السلام كے بارے ميں قرآن حكيم ميں جوديگر تفصيل آئي ہے اس سے بھى يہ حقيقت اچھى طرح سے واضح ہوتى ہے ، يہ مفہوم تفصيلى طور پر بيان ہوا ہے:” پروردگارا : ميں نے اپنى قوم كو دن رات تيرى طرف بلايا ليكن ميرى اس دعوت پر ان ميں فرار كے علاوہ كسى چيزكا اضافہ نہيں ہوا ميں نے جب انہيں پكارا تاكہ تو انہيں بخش دے، توانہوں نے اپنى انگلياں اپنے كانوں ميں ٹھونس ليں اور اپنے لباس اپنے اوپر لپيٹ لئے انہوں نے مخالفت پر اصراركيا اورغرور تكبركا مظاہرہ كيا ميں نے پھر بھى انہيں دعوت دى ،ميں نے پيہم اصرار كيا مگر انہوں نے كسى طرح بھى ميرى باتوں كى طرف كان نہ دھرے ”
۔ نوح آيات 5 تا13
حضرت نوح عليہ السلام نے اس بے اعتنائي، ہٹ دھرمى اوربے ہودگى كا يہ مختصر جواب ديا : خدا ہى چاہے تو ان دھمكيوں اور عذاب كے وعدوں كو پورا كرسكتا ہے ”۔ سورت ہو دآيت33
ليكن بہرحال يہ چيز ميرے اختيار سے باہر ہے اور ميرے قبضہ قدرت ميں نہيں ہے ميں تو اس كا رسول ہوں اور اس كے حكم كے سامنے تسليم ہوں، لہذا سزا اور عذاب كى خواہش مجھ سے نہ كر و، ليكن يہ جان لو كہ جب عذاب كا حكم آپہنچے گاتو پھر تم اس كے احاطہ قدرت سے نكل نہيں سكتے اور كسى پناہ گا ہ كى طرف فرار نہيں كر سكتے ”۔ سورت ہو دآيت33
معاشرے كو پاك كرنے كا مرحلہ
قرآن مجيد ميں حضرت نوح عليہ السلام كى سرگذشت بيان ہوئي ہے اس كے در حقيقت مختلف مراحل ہيں ان ميں سے ہرمرحلہ متكبرين كے خلاف حضرت نوح عليہ السلام كے قيام كے ايك دور سے مربوط ہے پہلے حضرت نوح عليہ السلام كى مسلسل اور پر عزم دعوت كے مرحلے كا تذكرہ تھا جس كے لئے انہوں نے تمام تروسائل سے استفادہ كيا يہ مرحلہ ايك طويل مدت پر مشتمل تھا اس ميں ايك چھوٹا ساگروہ آپ پر ايمان لايا، يہ گروہ ويسے تو مختصر ساتھا ليكن كيفيت اور استقامت كے لحاظ سے بہت عظيم تھا۔
قرآن ميں اس قيام كے دوسرے مرحلے كى طرف اشارہ كيا گيا ہے يہ مرحلہ دور تبليغ كے اختتام كا تھا جس ميں خدا كى طرف سے معاشرے كوبرے لوگوں سے پاك كرنے كى تيارى كى جانا تھى پہلے قرآن ميں ارشاد ہوتاہے۔ ”نوح عليہ السلام كو وحى ہوئي كہ جو افراد ايمان لاچكے ہيں ان كے علاوہ تيرى قوم ميں سے كوئي ايمان نہيں لائے گا ”۔
سورت ہو دآيت21
يہ اس طرف اشارہ ہے كہ صفيںبالكل جدا ہو چكى ہيں ، اب ايمان اوراصلاح كى دعوت كا كوئي فائدئہ نہيں اور اب معاشرے كى پاكيز گى اور آخرى انقلاب كے لئے تيار ہو جانا چاہئے اس گفتگو كے آخر ميں حضرت نوح كى تسلى اور دلجوئي كے لئے فرمايا گياہے :”اب جب معاملہ يوں ہے تو جو كام تم انجام دے رہے ہو اس پر كوئي حزن وملال نہ كرو”۔
سورت ہو دآيت3
مربوطآيت سے ضمنى طور پر معلوم ہوتا ہے كہ اللہ اسرار غيب كا كچھ حصہ جہاں ضرورى ہوتا ہے اپنے پيغمبر كے اختيار ميں دے ديتا ہے جيسا كہ حضرت نوح عليہ السلام كو خبر دى گئي ہے كہ آئندہ ان ميں سے كوئي اور شخص ايمان نہيں لائے گا ،بہر حال ان گناہگار اور ہٹ دھرم لوگوںكو سزا ملنى چاہئے ، ايسى سزا جو عالم ہستى كو ان كے وجود كى گندگى سے پاك كردے اور مومنين كو ہميشہ كے لئے ان كے چنگل سے نجات دےدے، ان كے غرق ہونے كا حكم ہوچكا ہے ليكن ہر چيز كے لئے كچھ وسائل واسباب ہوتے ہيں لہذا نوح كو چاہئے كہ وہ سچے مومنين كے بچنے كے لئے ايك مناسب كشتى بنائيں تاكہ ايك تو مومنين كشتى بننے كى اس مدت ميں اپنے طريق كار ميں پختہ تر ہوجائيں اور دوسروں كے لئے بھى كا فى اتمام حجت ہوجائے۔
كشتى نوح عليہ السلام
”ہم نے نوح عليہ السلام كو حكم ديا كہ وہ ہمارے حضور ميں اور ہمارے فرمان كے مطابق كشتى بنائيں”۔( سورت ہو دآيت37)
لفظ (وحينا) سے يہ نتيجہ نكلتا ہے كہ حضرت نوح كشتى بنانے كى كيفيت اور اس كى شكل وصورت كى تشكيل بھى حكم خدا سے سيكھ رہے تھے اور ايساہى ہونا چاہئے تھا كيونكہ حضرت نوح آنے والے طوفان اور اس كى كيفيت ووسعت سے آگا ہ نہ تھے كہ وہ كشتى اس مناسبت سے بنا تے اور يہ وحى الہى ہى تھى جو بہترين كيفيتوں كے انتخاب ميں ان كى مدد گار تھى۔
آخر ميں حضرت نوح عليہ السلام كو خبردار كيا گيا ہے :” آج كے بعد ظالم افراد كے لئے شفاعت اور معافى كا تقاضانہ كرنا كيونكہ انہيں عذاب دينے كا فيصلہ ہوچكا ہے اور وہ حتماََ غرق ہوجائيں گے”۔
(سورت ہو دآيت37)
كشتى بنارہے ہو دريابھى بنائو
اب چندجملے قوم نوح عليہ السلام كے بارے ميں بھى سن ليں :وہ بجائے اس كے كہ ايك لمحہ كے لئے حضرت نوح عليہ السلام كى دعوت كو غور سے سنتے ، اسے سنجيدگى سے ليتے اور كم ازكم انہيں يہ احتمال ہى ہوتا كہ ہو سكتا ہے كہ حضرت نوح كے بار باركے اصرار اور تكرار دعوت كا سر چشمہ وحى الہى ہى ہو اور ہو سكتا ہے طوفان اور عذاب كا معاملہ حتمى اور يقينى ہى ہو، الٹا انہوں نے تمام مستكبر اور مغرور افراد كى عادت كا مظاہرہ كيا اور تمسخرواستہزاء كا سلسلہ جارى ركھا۔ ان كى قوم كا كوئي گروہ جب كبھى ان كے نزديك سے گزرتا اور حضر ت نوح اور ان كے اصحاب كو لكڑياں اور ميخيں وغيرہ مہيا كرتے ديكھتا اور كشتى بنانے ميں سرگرم عمل پاتا تو مذاق اڑاتا اور پھبتياں كستے ہوئے گزر جاتا ”۔( سورت ہو دآيت38)

كہتے ہيں كہ قوم نوح عليہ السلام كے اشراف كے مختلف گروہوں كے ہردستے نے تمسخر اور تفريح وطبع كے لئے اپناہى ايك انداز اختيار كرركھا تھا۔
ايك كہتاتھا:”اے نوح عليہ السلام دعوائے پيغمبرى كا كاروبار نہيں چل سكا تو بڑھئي بن گئے، دوسرا كہتا تھا :كشتى بنا رہے ہو؟ بڑا اچھا ہے البتہ كشتى كے لئے دريا بھى بنائو، كبھى كوئي عقلمندديكھا ہے جو خشكى كے بيچ ميں كشتى بنائے؟
ان ميں سے كچھ كہتے تھے : اتنى بڑى كشتى كس لئے بنارہے ہو اگر كشتى بنانا ہى ہے تو ذرا چھوٹى بنالو جسے ضرورت پڑے تو دريا كى طرف لے جانا تو ممكن ہو۔
ايسى باتيں كرتے تھے اور قہقہے لگا كرہنستے ہوئے گزر جاتے تھے يہ باتيں گھروں ميں ہوتيں۔كام كاج كے مراكز ميں يہ گفتگو ہوتيں گويا اب بحثوں كا عنوان بن گئي وہ ايك دوسرے سے حضرت نوح اور ان كے پيروكاروں كى كوتاہ فكرى كے بارے ميں باتيں كرتے اور كہتے : اس بوڑھے كو ديكھو آخر عمر ميں كس حالت كو جاپہنچا ہے اب ہم سمجھے كہ اگر ہم اس كى باتوں پر ايمان نہيں لائے تو ہم نے ٹھيك ہى كيا اس كى عقل تو بالكل ٹھكانے نہيں ہے۔
دوسرى طرف حضرت نوح عليہ السلام بڑى ا ستقامت اور پامردى سے اپناكام بے پناہ عزم كے ساتھ جارى ركھے ہوئے تھے اور يہ ان كے ايمان كانتيجہ تھا وہ ان كو رباطن دل كے اندھوں كى بے بنياد باتوں سے بے نيازاپنى پسند كے مطابق تيزى سے پيشرفت كررہے تھے اور دن بدن كشتى كا ڈھانچہ مكمل ہو رہا تھا كبھى كبھى سراٹھا كران سے يہ پرمعنى بات كہتے: ”اگر آج تم ہمارا مذاق اڑاتے ہو توہم بھى جلدى ہى اسى طرح تمہارا مذاق اڑائيں گے”
۔( سورت ہود ايت38)
وہ دن كہ جب تم طوفان كے درميان سرگرداں ہوكر ،سراسيمہ ہوكر ادھر ادھر بھاگو گے اور تمہيں كوئي پناہ گاہ نہيں ملے گى موجوں ميں گھرے فرياد كرو گے كہ ہميں بچالو جى ہاں اس روز مومنين تمہارى غفلت اور جہالت پر مذاق اڑائيں گے”اس روز ديكھنا كہ كس كے لئے ذليل اور رسوا كرنے والا عذاب آتا ہے اور كسے دائمى سزا دامن گير ہوتى ہے ”۔( سورت ہو دآيت39)
اس ميں شك نہيں كہ كشتى نوح كوئي عام كشتى نہ تھى كيونكہ اس ميں سچے مو منين كے علاوہ ہر نسل كے جانور كو بھى جگہ ملى تھى اور ايك مدت كے لئے ان انسانوں اور جانوروں كو جو خوراك دركار تھى وہ بھى اس ميں موجود تھى ايسى لمبى چوڑى كشتى يقينا اس زمانے ميں بے نظير تھى يہ ايسى كشتى تھى جو ايسے دريا كى كوہ پيكر موجود ميں صحيح وسالم رہ سكے اور نابود نہ ہو جس كى وسعت اس دنيا جتنى ہو، اسى لئے مفسرين كى بعض روايات ميں ہے كہ اس كشتى كا طول ايك ہزار دو سو ذراع تھااور عرض چھ سو ذراع تھا
(ايك ذراع كى لمبائي تقريباََآدھے ميڑكے برابر ہے )۔
بعض اسلامى روايات ميں ہے كہ ظہور طوفان سے چاليس سال پہلے قوم نوح عليہ السلام كى عورتوں ميں ايك ايسى بيمارى پيدا ہو گئي تھى كہ ان كے يہاں كوئي بچہ پيدا نہيں ہوتا تھا يہ دراصل ان كے لئے سزا كى تمہيد تھى۔
Advertisements
2 comments
  1. ميری مدد کيجئے ۔ ميرا دماغ بہت کمزور ہو گيا ہے ۔ آپ کيا کھاتی ہين جو اتنا زيادہ دماغ استعمال کرتی ہيں ۔ ميں بھی وہی کھانا شروع کروں

    • دماغ زیادہ استعمال کرتی تو جانے کیا کر لیتی
      دماغ ہے ہی کہاں مجھ میں

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

اردو سائبر اسپیس

Promotion of Urdu Language and Literature

سائنس کی دُنیا

اُردو زبان کی پہلی باقاعدہ سائنس ویب سائٹ

~~~ اردو سائنس بلاگ ~~~ حیرت سراے خاک

سائنس، تاریخ، اور جغرافیہ کی معلوماتی تحقیق پر مبنی اردو تحاریر....!! قمر کا بلاگ

BOOK CENTRE

BOOK CENTRE 32 HAIDER ROAD SADDAR RAWALPINDI PAKISTAN. Tel 92-51-5565234 Email aftabqureshi1972@gmail.com www.bookcentreorg.wordpress.com, www.bookcentrepk.wordpress.com

اردوادبی مجلّہ اجرا، کراچی

Selected global and regional literatures with the world's most popular writers' works

Best Urdu Books

Worlds Largest Free Online Islamic Books | Islamic Books in Urdu | Best Urdu Books | Free Urdu Books | Urdu PDF Books | Download Islamic Books | besturdubooks.net

ISLAMIC BOOKS HUB

Free Authentic Islamic books and Video library in English, Urdu, Arabic, Bangla Read online, free PDF books Download , Audio books, Islamic software, audio video lectures and Articles Naat and nasheed

عربی کا معلم

وَهٰذَا لِسَانٌ عَرَبِيٌّ مُّبِينٌ

International Islamic Library Online (IILO)

Donate Your Books at: Deenefitrat313@gmail.com ..... (Mobile: + 9 2 3 3 2 9 4 2 5 3 6 5)

Taleem-ul-Quran

Khulasa-e-Quran | Best Quran Summary

Al Waqia Magazine

امت مسلمہ کی بیداری اور دجالی و فتنہ کے دور سے آگاہی

TowardsHuda

The Messenger of Allaah sallAllaahu 3Alayhi wa sallam said: "Whoever directs someone to a good, then he will have the reward equal to the doer of the action". [Saheeh Muslim]

آہنگِ ادب

نوجوان قلم کاروں کی آواز

آئینہ...

توڑ دینے سے چہرے کی بدنمائی تو نہیں جاتی

بے لاگ :- -: Be Laag

ایک مختلف زاویہ۔ از جاوید گوندل

اردو ہے جس کا نام

اردو زبان کی ترویج کے لیے متفرق مضامین

آن لائن قرآن پاک

اقرا باسم ربك الذي خلق

پروفیسر عقیل کا بلاگ

Please visit my new website www.aqilkhan.org

AhleSunnah Library

Authentic Islamic Resources

ISLAMIC BOOKS LIBRARY

Authentic Site for Authentic Islamic Knowledge

منہج اہل السنة

اہل سنت والجماعۃ کا منہج

waqashashmispoetry

Sad , Romantic Urdu Ghazals, & Nazam

!! والله أعلم بالصواب

hai pengembara! apakah kamu tahu ada apa saja di depanmu itu?

Life Is Fragile

I don’t deserve what I want. I don’t want what I have deserve.

I Think So

What I observe, experience, feel, think, understand and misunderstand

Amna Art Studio

Maker of art and artsy things, art teacher, and loud thinker

mindandbeyond

if we know we grow

Muhammad Altaf Gohar | Google SEO Consultant, Pakistani Urdu/English Blogger, Web Developer, Writer & Researcher

افکار تازہ ہمیشہ بہتے پانی کیطرح پاکیزہ اور آئینہ کیطرح شفاف ہوتے ہیں

بے قرار

جانے کب ۔ ۔ ۔

سعد کا بلاگ

موت ہے اک سخت تر جس کا غلامی ہے نام

دائرہ فکر... ابنِ اقبال

بلاگ نئے ایڈریس پر منتقل ہو چکا ہے http://emraaniqbal.comے

Kaleidoscope

Urban desi mom's blog about everything interesting around.

تلمیذ

Just another WordPress.com site

سمارا کا بلاگ

کچھ لکھنے کی کوشش

Guldaan

Islam, Pakistan and Politics

کائنات بشیر کا بلاگ

کہنے کو بہت کچھ تھا اگر کہنے پہ آتے ۔۔۔ اپنی تو یہ عادت ہے کہ ہم کچھ نہیں کہتے

Muhammad Saleem

Pakistani blogger living in Shantou/China

Writer Meets World

Using words to conquer life.

Musings of a Prospective Shrink

sugar spice and everything nice

Aiman Amjad

think, discuss, review and express...

Pressure Cooker

Where I brew the stew to feed inner monsters...

My Blog

Just another WordPress.com site

%d bloggers like this: