نوکری


ایک بار ایک وزیر پر لوگوں نےاعتراض کیا تھا کہ دیکھو اس نے وزیر ہوتے ہی اپنے بیٹوں ،بھتیجوں،رشتہ داروں اور عزیزوں کو نوکریاں دینا شروع کر دی ہیں۔لوگوں کی طبیعتوں میں حسد اور کم ظرفی تو ہوتی ہی ہےنا۔لوگوں نے سر عام اعتراض کر نا شروع کر دیا ۔آخر وزیر موصوف کو وضاحت کرنا ہی پڑی کہ”بے روزگاروں کو روزی مہیاّا کرنا ہمارا فرض ہے۔اگر روزی پانے والےمیرے عزیز اور دوست ہیں تو اس سے اصولی پوزیشن میں کوئی فرق نہیں پڑتا۔وزیر موصوف نے خیرات کے فضائل بھی بیان کئے،اور کہا کہ دیکھئے ہر اچھی چیز ہمیشہ گھر سے ہی شروع ہوتی ہے۔بقر عید پر بھی لوگ اچھی اچھی بوٹیاں اور رانیں اپنے رشتے داروں کو ہی بھیجا کرتے ہیں۔اب میں اپنے عزیزوں اور رشتے داروں کو نوکریاں دوں گا تو میرے دیگر افسران بھی اپنے عزیزوں اور رشتہ داروں کو نوکریاں دیں گے۔یوں رفتہ رفتہ سبھی لوگ با روزگار ہو جائیں گے۔اس لئے کہ ہر کوئی کسی نا کسی کا رشتہ دار ہے۔اگر نہیں ہے تو یہ اس کا اپنا مقدر ہے۔کیوں نہیں سوچ سمجھ کر اچھی جگہ پیدا ہوا۔کسی وزیر کے کنبے میں یا کسی بااختیار خاندان میں۔۔۔
(ابن انشاء)
Advertisements
6 comments
  1. ہاہاہاہا۔۔۔۔ ابنِ انشاء نے بہت خوب کہا ہے۔ یعنی کہ ہمیں بھی سوچ سمجھ کر پیدا ہونا چاہیئے تھا۔۔۔ 🙂

    • کیا کرین گے اس عمر میں نوکری کی تلاشی لے کر؟؟؟؟

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ / تبدیل کریں )

Connecting to %s

%d bloggers like this: