حضور پاک ﷺکی انگشتری مبارک


جب حضرت محمد ﷺ نے بادشاہوں کو اسلام قبول کرنے کا دعوت نامہ بھیجنے کا قصد فرمایا تو آپ ﷺسے عرض کیا گیا کہ سلاطین اس وقت تک کسی خط کو نہیں پڑھتے جب تک اس پر کاتب کی مہر نہ ہو۔بس آپ ﷺ نے چاندی کی ایک انگوٹھی بنوائی جس پر تین سطروں میں اپنا اسم گرامی کندہ کروایا ۔ محمد ﷺ ایک سطر میں، رسول ﷺ ایک سطر میں اور اللہ ایک سطر میں نقش کروایا۔
یہ تینوں سطریں نیچے سے اوپر کو پڑھی جاتی تھیں۔محمد ﷺسب سے آخری سطر میں، رسولﷺ درمیان میں اور اللہ سب سے اوپر کندہ تھا۔نقش کی تحریر الٹی تھی،جس کے حرف مہر لگانے پر سیدھے آتے تھے۔یہ انگوٹھی آپ ﷺ کے دست مبارک میں رہی۔اور ایسی دوسری انگوٹھی بنوانے پسے منع فرما دیا۔پھر حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالٰی عنہ پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالٰی عنہ اور پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ کے ہاتھ میں رہی، حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ سےیہ انگشتری اریس کنویں میں گر گئی۔کنویں میں پانی کم ہی تھا اور پھر بھی صحابہ کرام تین دن تک تلاش کرتے رہے مگر وہ نہ مل سکی۔تو حضرت عثمان رضی اللہ تعالٰی عنہ نے ایسی دوسری انگوٹھی بنوائی۔
Advertisements
3 comments
  1. بہت خوب۔۔۔
    صرف ایک سوال۔۔۔۔۔کہ اپ نے صلی اللہ علیہ وسلم لکھنے کے لیے کونسی کیز استعمال کیں ہیں؟

    • پسندیدگی کا شکریہ
      میں مائکرو سافٹ ورد پر مضمون لکھتی ہوں
      اور علوی نستعلیق کا استعمال کرتی ہوں
      ورڈ پر
      Shft+Q
      کے استعمال سے
      صلی اللہ علیہ وسلم
      آجاتا ہے

اپنی رائے دیجئے

Fill in your details below or click an icon to log in:

WordPress.com Logo

آپ اپنے WordPress.com اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Google+ photo

آپ اپنے Google+ اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Twitter picture

آپ اپنے Twitter اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

Facebook photo

آپ اپنے Facebook اکاؤنٹ کے ذریعے تبصرہ کر رہے ہیں۔ لاگ آؤٹ /  تبدیل کریں )

w

Connecting to %s

%d bloggers like this: